مرید عباس قتل کیس: ملزم کی ضمانت پر رہائی کے خلاف بیوہ کی سپریم کورٹ میں درخواست، فریقین کو نوٹس جاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے اینکر پرسن مرید عباس قتل کیس میں مرکزی ملزم عاطف زمان کے چھوٹے بھائی عادل زمان کی ضمانت کی منسوخی کے لیے دائر درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

مرید عباس کی بیوہ زارا عباس کی درخواست پر عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ اور ملزم عادل زمان اور دیگر فریقین کو اگست کے پہلے ہفتے میں تفصیلی جواب جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مرید عباس کی بیوہ زارا عباس کی درخواست کی سماعت جمعرات کو جسٹس فیصل عرب، جسٹس سجاد علی شاہ اور منیب اختر پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کی۔

خیال رہے کہ بول ٹی وی سے منسلک اینکر پرسن مرید عباس اور ان کے دوست خضر حیات کو گذشتہ سال نو جولائی کی شب قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس الزام میں دونوں مقتولین کے دوست عاطف زمان اور اس کے بھائی عادل زمان کو گرفتار کیا تھا۔

جس کے بعد اس دوہرے قتل میں کے ایک ملزم عادل زمان نے سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت پر رہائی حاصل کر لی تھی۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

’پیسہ ہی مرید عباس کے قتل کی وجہ بنا‘

’مرید نے اپنی محنت اور زورِ بازو پر اپنی دنیا بنائی تھی‘

مرید عباس قتل کیس: ’ملزمان سے سمجھوتہ گالی ہو گی‘

سماعت کے دوران زارا عباس کے وکیل فیصل صدیقی نے موقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ملزم عادل زمان کو ضمانت پر رہائی کا حکم دیتے وقت اہم شواہد کو نظر انداز کیا ہے۔ اس پر جسٹس سجاد علی شاہ نے سوال کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے تو کہا تھا کہ عادل زمان کا قتل میں کوئی کردار ہی نہیں۔

درخواست گزار کے وکیل نے انھیں بتایا کہ عاطف زمان نے ایک ہی پستول سے مرید عباس سمیت دو افراد کو قتل کیا اور عادل زمان دونوں افراد کے قتل کے وقت ساتھ تھا، گواہ عمر ریحان نے اپنے 161 اور 164 کے بیان میں بھی عادل زمان کی موجودگی کی تصدیق کی ہے۔

فیصل صدیقی کے مطابق عاطف زمان جب مبینہ طور پر مرید عباس پر گولیاں چلا رہا تھا تو عمر ریحان نے اس کو پکڑا اور پھر اس پربھی فائرنگ کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم سندھ ہائی کورٹ نے چشم دید گواہ کے بیانات کے بجائے مدعی کے بیان کو دیکھتے ہوئے ملزم کو ضمانت دے دی۔

مقدمے میں اب تک کیا ہوا؟

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں لگ بھگ ایک سال قبل قتل ہونے والے ٹی وی اینکر مرید عباس کے مقدمے میں ملوث ملزمان پر تاحال فردِ جرم عائد نہیں ہو سکی ہے۔

وکلا کا دعویٰ ہے کہ ملزمان کی جانب سے مرید عباس کی بیوہ کو سمجھوتے پر مجبور کرنے کے لیے تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں تاہم مرید عباس کی اہلیہ زارا عباس نے چند روز قبل بی بی سی کو بتایا تھا کہ کہ وہ اپنے شوہر کے خون کا سودا نہیں کریں گی۔

مرکزی ملزم عاطف زمان نے خودکشی کی کوشش کی تھی، جس کے بعد وہ پہلے زیر علاج رہے اور اس کے بعد کبھی ملزم اور کبھی وکلا کی عدم حاضری کی بنا پر ان پر فرد جرم عائد نہیں ہو سکی۔

اس کیس کی تیسری سماعت پر مقامی عدالت نے ملزمان کو متنبہ کیا تھا کہ وکلا کو پیش کریں ورنہ پیروی کے لیے سرکاری وکیل فراہم کیا جائے گا تاکہ مقدمہ آگے بڑھ سکے۔

عدالت کے حکم پر ملزمان کو سرکاری وکیل فراہم کیا گیا اور اس کے بعد فاضل جج کی رخصت پر ہونے کی وجہ سے سماعت آگے نہ بڑھ سکی جبکہ مارچ کے بعد کورونا وائرس کی وجہ سے ملزمان کو عدالتوں میں لانے کا سلسلہ روک دیا گیا۔

زارا عباس کے وکلا کے پینل میں شامل سماجی کارکن اور وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ تاخیری حربے اس لیے استعمال کیے جاتے ہیں کہ مدعی کو تھکایا جائے اور سمجھوتے تک بات آئے۔

زارا عباس نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ یہ ’اوپن اینڈ شٹ کیس‘ ہے اور سامنے والے فریق کی کوشش ہے کہ مدعی مقدمہ کو تھکا دیا جائے تاکہ وہ سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ سمجھتے ہوں گے کہ یہ تو خاتون ہیں، تھک جائیں گی۔ ان (ملزمان) کے وکیل نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا تھا کہ دیکھ لیجیے، آپ کو تو پتا ہے یہاں لمبے کیس چلتے ہیں۔ میں نے انھیں کہا کہ ابھی تو کیس کی شروعات ہے، آپ نے اتنی جلدی پیشکش کر دی۔ دیکھتے ہیں اس لمبے عرصے میں کون ہمت ہارتا ہے، ملزمان کو پھانسی ضرور ہو گی۔‘

زارا عباس کا کہنا تھا کہ وہ کسی بھی موڑ پر سمجھوتہ نہیں کریں گی۔

’جس پیسے کے لیے میرے شوہر کو قتل کر دیا گیا اس کے لیے اپنے شوہر کا سودا کروں گی؟ جس نے میرے بچے سے اس کا باپ اور مجھ سے میرا شوہر چھین لیا اس سے سمجھوتہ میرے لیے گالی ہو گی۔‘

قتل کیسے ہوا؟

مرید عباس کی اہلیہ زارا عباس نے بتایا تھا کہ ان کے شوہر کی چند سال قبل عاطف زمان سے ایک دوست کے ذریعے ملاقات ہوئی تھی کیونکہ مرید ٹی وی اینکر تھے اور ان کے ساتھ لوگوں کے تعلقات تھے، اس لیے عاطف زمان نے مراسم بڑھائے۔

’وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرید عباس اور عاطف کی دوستی گہری ہوتی گئی۔ ڈیفنس میں جہاں مرید عباس کا فلیٹ ہے وہاں دونوں نے ساتھ بکنگ کرائی۔‘

مرید عباس کے دوست اور ان کے قتل کے عینی شاہد عمر رحمان نے پولیس کو دیے گئے بیان میں بتایا ہے کہ ملزم عاطف زمان سے وہ مرید عباس کے توسط سے ملے تھے۔

بیان کے مطابق سنہ 2016 میں انھیں مرید عباس نے بتایا کہ انھوں نے عاطف زمان نامی شخص کے ساتھ ٹائر کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی ہے اور عاطف زمان کو 21 لاکھ روپے دیے ہیں، جو کہ عمر رحمان نے مرید عباس کو دیے ہوئے تھے۔

زارا عباس کا کہنا تھا کہ ان کی سرمایہ کاری کے بعد بہت سے لوگوں نے ان کے شوہر سے اس بارے میں بات کی جنھوں نے ان تمام لوگوں کو عاطف کے بارے میں بتایا اور پھر سرمایہ لگایا۔

’میں نے کہا کہ واش روم میں گیا ہے۔ ایک منٹ بعد میری بیگم کی کال آئی۔ میں کمرے سے باہر گیا تو دیکھا کہ عاطف اور اس کا بھائی عادل کھڑے ہیں اور عاطف نے پستول پکڑی ہوئی تھی، جس پر میں نے کہا کہ پستول کیوں پکڑی ہے، اس کو اندر رکھو، ٹھیک نہیں لگ رہا، تو اس نے کہا کہ بڑی پیمنٹ ہے اس لیے رکھی ہے۔‘

عادل زمان کی درخواست ضمانت

مرکزی ملزم عاطف زمان کی درخواست ضمانت ایڈیشنل سیشن جج نے مسترد کر دی جس کے بعد انھوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور ضمانت حاصل کر لی۔

ضمانت کے لیے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ آیف آئی آر میں درخواست گزار کا نام شامل نہیں تھا اور پراسکیوشن گواہوں کے بیان کے مطابق وہ جائے وقوع پر خالی ہاتھوں موجود تھے۔

درخواست میں مزید کہا گیا کہ مدعی زارا عباس چشم دید گواہ نہیں، انھیں فون پر عمر رحمان کی اہلیہ کی جانب سے آگاہ کیا گیا تھا جبکہ خضر حیات کے قتل کے گواہوں کے مطابق عاطف زمان فائرنگ کے بعد نامعلوم شخص سے ملے تھے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ پراسیکویشن کے گواہ عمر رحمان کے مدعی کے ساتھ تعلقات ہیں چناچہ ان کے الزام بدنیتی پر مبنی ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کی جانب سے ضمانت کی درخواست منظور کر لی گئی جس کے بعد عادل زمان نے ماتحت عدالت سے بھی ضمانت حاصل کر لی ہے۔

مرید عباس کی اہلیہ زارا عباس نے اپنے وکیل اور سماجی کارکن جبران ناصر کے ذریعے ضمانت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلینج کر دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14636 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp