روس رپورٹ: برطانیہ کے لیے جاسوسی کے سخت قوانین کا مطلب کیا؟

گورڈن کوریرا - نامہ نگار برائے سکیورٹی امور

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانیہ کی انٹیلیجنس اور سکیورٹی کمیٹی (آئی ایس سی)

BBC
برطانیہ کی انٹیلیجنس اور سکیورٹی کمیٹی (آئی ایس سی) کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات کی وجہ سے روس کا اولین ہدف ہے

برطانیہ کی حکومت پر روسی مداخلت کے خطرے کا ناکافی اندازہ لگانے کا الزام عائد کرنے کے بعد برطانوی وزرا سکیورٹی قوانین کو مزید سخت کرنے پر غور کر رہے ہیں تاکہ مستقبل میں تمام غیر ملکی ایجنٹس کو برطانیہ میں اندراج کروانا پڑے۔

لیکن اس عمل کا مطلب کیا ہو گا اور اس میں کیا مشکلات ہیں؟

روس کی رپورٹ میں اثر و رسوخ اور مداخلت کی مہم کا واضح خاکہ نئی طاقتوں کے بارے میں بات کرنے کی وجہ بنا ہے۔

جولائی 2018 میں امریکی سکیورٹی ایجنسی ایف بی آئی نے واشنگٹن ڈی سی کے ایک فلیٹ پر چھاپہ مارا تھا۔ جس کے چند لمحوں بعد ہی ایک نوجوان روسی خاتون ماریہ بوٹینا کو ہتھکڑیوں میں وہاں سے لے جایا گیا تھا۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران بوٹینا نے امریکہ کے سیاسی حلقوں میں اپنی جڑیں مضبوط کر لی تھیں۔ اسلحے کے ایک کارکن کے طور پر انھوں نے بہت زیادہ تعلقات بنائے، خاص کر کے دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ اور انھیں مختلف تقریبات منعقد کروانے میں مدد دی اور پھر یہ تمام تفصیلات ماسکو بھیجیں۔

یہ بھی پڑھیے

’امریکہ سے دوستی کی وجہ سے برطانیہ روس کا اولین ہدف‘

روس نے انتخابات میں مداخلت کی تھی، یہ بات یقینی ہے: برطانوی وزیر خارجہ

برطانیہ کے ’روسی جاسوس‘ نامعلوم مواد سے زخمی

لیکن کیا وہ جاسوس تھی؟بوٹینا نے اس سے خود انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسا کچھ نہیں کر رہی تھی جسے جاسوسی سمجھا جاتا ہے یعنی خفیہ طور پر شناخت بدل کر رہنا اور راز چوری کرنا۔

وہ نہ تو خفیہ طور پر کام کر رہی تھیں اور نہ ہی کوئی اہم معلومات اکٹھی کر رہی تھیں۔

جاسوس

EPA
اب ملکوں کے خدشات کسی اہم راز یا معلومات کی چوری سے متعلق کم ہو گئے ہیں کیونکہ اس متعلق بہت سے قوانین ہیں بلکہ اب خدشات ایسی سرگرمیوں پر بڑھے ہیں جن میں صاحب اقتدار یا طاقتور افراد کو اپنے زیر اثر لایا جا سکے

البتہ امریکی حکام نے انھیں پھر بھی خطرہ سمجھا اور ایف بی آئی نے الزام عائد کیا کہ وہ روس کے مفادات کے تحفظ اور بڑھاوے کے لیے ملک میں کام کر رہی تھیں۔

سنہ 2018 کے آخر میں ان پر ’امریکی سیاست پر اقتدار اور اثر و رسوخ رکھنے والے امریکیوں کے ساتھ رابطے کے غیر روائتی طریقوں کو قائم کرنے‘ کا جرم ثابت کیا گیا۔

لیکن اگر وہ ماریہ بوٹینا آج برطانیہ میں یہ کام کر رہی ہوتی تو برطانوی حکام کے مطابق وہ اس متعلق کچھ نہیں کر سکتے تھے۔

گہرے اور خفیہ آپریشنز

امریکہ میں ایک غیر ملکی ایجنٹ رجسٹریشن ایکٹ کا قانون موجود ہے جو دوسری جنگ عظیم کے دور میں بنایا گیا تھا لیکن حال ہی میں اسے دوبارہ دوسرے ممالک کی جانب سے مختلف افراد کو کسی ’متاثر کرنے والے آپریشن‘ کے لیے استعمال کیے جانے کے سدباب کے لیے قابل عمل بنایا گیا ہے۔

اس قانون کے مطابق اگر کوئی شخص (سفارتکار کے علاوہ) کسی غیر ملکی حکومت کے لیے ملک میں کام کر رہا ہے، امریکی شہری سمیت اگر وہ سرعام اس حکومت کے لیے لابی کر رہا ہے انھیں اس قانون کے تحت خود کو رجسٹر کروانے کی ضرورت ہے۔ لیکن اگر کوئی ایسا نہیں کرتا اور چھپ کر اپنا کام کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے گرفتار کیا جا سکتا ہے۔

لیکن برطانیہ کے پاس ایسا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ یہ قانون اس لیے اہم سمجھا جاتا ہے کیونکہ جسے ہم جاسوس کہتے ہیں وہ طریقہ کار اب تبدیل ہو رہا ہے۔

اب ملکوں کے خدشات کسی اہم راز یا معلومات کی چوری سے متعلق کم ہو گئے ہیں کیونکہ اس متعلق بہت سے قوانین ہیں بلکہ اب خدشات ایسی سرگرمیوں پر بڑھے ہیں جن میں صاحب اقتدار یا طاقتور افراد کو اپنے زیر اثر لایا جا سکے۔

روس رپورٹ کو دیئے گئے شواہد میں برطانوی سکیورٹی ایجنسی ایم آئی 5 کے اس وقت کے سربراہ، اینڈریو پارکر نے مسئلے کی وضاحت کی کہ اس وقت اگر ایک فرد روس کی انٹلیجنس سروس کی جانب سے خفیہ کام کرتا ہے لیکن اس کے خلاف اس وقت تک کچھ نہیں کیا جا سکتا جب تک وہ واقعتاً خفیہ مواد حاصل نہیں کرتا۔

روس

Reuters

یہ سب اس لیے اہم ہے کیوں کہ قومی سلامتی کے خطرات کے معنی اور احساس بدل رہا ہے۔ کسی سفارتخانے میں جاسوسوں کے سفارتکار بن کر جاسوسی کرنے کے نظریات اب پرانے ہو چکے ہیں۔

روس نے بہت عرصے تک اس قسم کے جاسوسوں کا استعمال کیا ہے جنھیں ’غیر قانونی‘ کہا جاتا ہے۔ اور انھیں غیر قانونی اس لیے کہا جاتا ہے کہ اگر وہ پکڑے جائیں تو انھیں سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں ہوتا۔

سویت یونین کے دور سے ہی ماسکو اس قسم کے گہرے اور خفیہ آپریشن میں مہارت رکھتا ہے جہاں انفرادی لوگوں کو، بعض اوقات جوڑوں کو نہ صرف نئی شناخت دی گئی بلکہ نئی قومیت بھی دی گئی۔ جیسا کہ سنہ 1960 میں ایک روسی کونون مولوڈی ایک کینیڈین کاروباری شخصیت گورڈن لونسڈیل بن گیا تھا اور سنہ 2000 میں روسی لیڈیا گورویا امریکی شہر نیو جرسی میں رہنے والی سنڈی مرفی بن گئی تھی۔

مرفی کو ایسے ایک غیر قانونی گروہ سمیت امریکہ سے سنہ 2010 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک انا چاپمین بھی تھی جو لندن میں بھی مقیم رہی۔

ایف بی آئی کے مطابق وہ جاسوسوں کی اس نئی نسل کا حصہ تھی جنھیں ایف بی آئی ’اصل نام والے غیر قانونی‘ کہتا ہے۔ یہ وہ افراد تھے جو کھلے عام اپنی اصلی روسی شناختوں کو استعمال کرتے تھے لیکن رابطوں اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے خفیہ طور پر ماسکو کی انٹلیجنس سروس کے لیے کام کر رہے تھے۔

جاسوس

Getty Images
مرفی سمیت دیگر ایسے غیر قانونی گروہ کو امریکہ میں سنہ 2010 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک انا چاپمین بھی تھی جو لندن میں بھی مقیم رہی

اس گرفتاری کے واقعے کے فوری بعد برطانیہ نے ایکاٹرائن زاٹولیور نامی روسی خاتون کو ملک سے نکالنے کا فیصلہ کیا جو اس وقت پارلیمنٹ میں کام کر رہی تھی اور ان کا ایک ڈیموکریٹ رکن اور نیٹو اہلکار کے ساتھ معاشقہ چل رہا تھا۔

لیکن ایم آئی فائیو کو اس کیس میں خفت کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ان خدشات کے باوجود کہ روس ملکی سیاست میں مداخلت کر سکتا ہیں وہ اسے ملک بدر کرنے کا مقدمہ ہار گئے تھے۔

امریکی انتخابات میں سوشل میڈیا کے ذریعہ مداخلت اور یہاں تک کہ غلط شناخت کے فیس بک اکاؤنٹس کے ذریعے مظاہروں کا انعقاد بھی یہ ظاہر کرتا ہے کہ روس صرف خفیہ معلومات اکٹھا کرنے میں ہی نہیں بلکہ ملک میں رویے کو شکل دینے کی کوشش میں بھی دلچسپی رکھتا ہے۔

معلومات پر سمجھوتا

بوٹینا کا کیس روس کے 2010 میں انٹیلیجنس ہتھکنڈوں کے ارتقا کا اگلا قدم ظاہر کرتا ہے۔

کسی بھی ملک میں اپنی جاسوس بھیجنے کی بجائے روس بعض اوقات وہاں موجود روسیوں یا دوسرے افراد کا انتخاب کرسکتا ہے جو مفید رابطے رکھتے ہیں اور ان کا استعمال براہ راست انٹلیجنس سروسز کے ذریعہ چلانے کی بجائے کاروباری افراد یا چند اہم حکومتی افراد کے ذریعہ استعمال کر سکتے ہیں۔

ان افراد کے پاس یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ سیاست، کاروبار کے شعبوں میں افراد سے مل سکیں اور معلومات اکٹھی کر سکیں شاید بعض اوقات کچھ معلومات پر سمجھوتا بھی کر لیں۔ یہ افراد کسی خاص موقعے پر کوئی تقریب یا جلسہ منعقد کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ساتھ کسی خاص سمت میں براہ راست پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس طرح کی سرگرمی کو یقینی طور پر بیان کرنا مشکل ہے اور جب کسی حد کو عبور کیا جاتا ہے اور اس کے پیچھے کون ہوتا ہے یہ جاننا امریکہ میں ہمیشہ سے ایک چیلنج رہا ہے۔

برطانیہ میں اس قسم کی جاسوسی سے نمٹنے کے لیے نئے قوانین متعارف کروانے کے بارے میں گذشتہ چند مہینوں سے بحث ہوتی رہی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اب روس رپورٹ سے واقعی کچھ عملی طور پر ہونے کی ترغیب ملے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16650 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp