برطانیہ اور چین کے درمیان معاشی تعلقات کتنے گہرے ہیں؟

جسٹِن ہارپر - بزنس رپورٹر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہِنکلی پوئنٹ میں قائم جوہری توانائی کا پلانٹ

PA Media
چین کی بڑی سرمایہ کاری سے سمرسیٹ میں قائم کیا گیا ہِنکلی پوئنٹ کا جوہری توانائی کا پلانٹ

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران برطانیہ اور چین کے درمیان معاشی تعلقات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سنہ 1999 میں چین برطانوی منصوعات درآمد کرنے والا چھبیسواں بڑا ملک تھا جو کہ اب چھٹے نمر پر آ گیا ہے۔

پچھلے سال دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعاون ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا تھا جس میں انفراسٹرکچر منصوبوں اور تعلیم کا بنیادی کردار تھا۔

برطانیہ کے چینی کمپنی ہواوے کے فائیو جی نیٹ ورک کے منصوبے پر یوٹرن کے بعد لندن اور بیجنگ کے تعلقات میں تناؤ آ گیا ہے اور جن تعلقات کا دونوں ملکوں کو فائدہ ہوا وہ اب خطرے سے دو چار ہیں۔

تجارت

قومی اعدادوشمار کے دفتر کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ نے چین کو 39 ارب ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کیں اور اس طرح چین برطانوی مصنوعات کے لیے چھٹی بڑی مارکیٹ بن گیا۔ یہ ریکارڈ برآمدات تھیں۔ سنہ 2018 میں برطانیہ نے چین کو تقریباً 30 ارب ڈالر کی برآمدات کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

چینی معیشت میں سست روی عالمی معیشت کے لیے خطرہ

چین نے برطانیہ کو ہانگ کانگ کے اندرونی معاملات میں مبینہ مداخلت پر خبردار کیا ہے

ترقی پذیر ممالک چین کے ’قرض کے جال‘ میں

برطانیہ چینی مصنوعات کے لیے بھی بڑا درآمد کنندہ ہے اور گزشتہ برس 62 ارب ڈالر سے زیادہ کی درآمدات کی گئیں۔ یہ بھی ریکارڈ اضافہ ہے۔

بیجنگ میں ماہر لیزلی ینگ کا کہنا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی کشیدگی کا اثر دو طرفہ تجارت پر نہیں پڑے گا۔

ہواوے

Getty Images
برطانیہ کے چینی کمپنی ہواوے کے فائیو جی نیٹ ورک کے منصوبے پر یوٹرن کے بعد لندن اور بیجنگ کے تعلقات میں تناؤ آ گیا

ان کے مطابق ’برطانیہ اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تناؤ اقتصادیات پر اثر انداز نہیں ہو گا۔ البتہ برطانیہ میں اعلٰی تعلیم کا شعبہ اور برطانیہ کا چینی کمپنیوں کے لیے تجارتی مرکز بننا متاثر ہو گا۔‘

انفراسٹرکچر

چین برطانیہ کے انفراسٹرکچر، بشمول جوہری توانائی کے منصوبوں کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سمرسیٹ کاؤنٹی میں 25 ارب ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ہیکنی پوئنٹ نیوکلیئر پاور سٹیشن میں چینی کمپنی جنرل نیوکلیئر پاور نے بھی سرمایہ کاری کی ہے۔

سرکاری ملکیت میں چلنے والے اس چینی گروپ کو یہ اختیار بھی حاصل ہے کہ وہ سفک کے علاقے میں قائم ہونے والے ایک دوسرے پلانٹ میں 20 فیصد سرمایہ لگا سکے گا۔ اسی طرح دوسرے منصوبوں میں بھی چین سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔

برطانوی کمپنی ٹیمز واٹر اور لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ کی مالک کمپنی میں چائنا انوسٹمنٹ کارپوریش کا بالترتیب 8.7 فیصد اور 10 فیصد حصہ ہے۔

چائنا آف شور آئل کارپوریشن کے توسط سے چین کا برطانیہ کے نارتھ سی سے نکالے جانے والے تیل میں حصہ ہے۔

چین

Getty Images

چینی طلبہ

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف اکنامکس اینڈ سوشل ریسرچ کے مطابق سنہ 2006 سے برطانیہ میں چینی طلبہ کی تعداد تین گنا ہو گئی ہے۔

چینی طلبہ سے ملنے والی فیس 2.16 ارب ڈالر سالانہ ہے جو مختلف برطانوی تعلیمی اداروں کو ملتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر چین اپنے طلبہ کے برطانیہ جانے پر پابندی لگا دے تو برطانوی جامعات کو مالی مشکل کا سامنا کرنا پڑا گا تاہم برٹش کونسل کا کہنا ہے کہ سیاسی تعلقات میں وقتی تناؤ کا اثر تعلیم کے شعبے پر نہیں پڑے گا۔

چینی ملکیت

چین نے برطانیہ میں کئی بڑے صنعتی اداروں کی ملکیت کے حقوق بھی حاصل کیے ہیں جس سے برطانیہ میں اربوں ڈالر کا زرمبادلہ آیا ہے۔

مارچ میں چین کے جنگیے گروپ نے برٹش سٹیل کو خریدا جس سے توقع ہے کہ تین ہزار ملازمتیں بچ گئیں۔

چینی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ سٹیل کی پیداوار کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے 1.27 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔

دوسرے بڑے اداروں میں ٹیکسی بنانے والی کمپنی ایل ٹی آئی اور وینڈررز فٹبال کلب ہے جن کی ملکیت چینی کمپنیوں نے حاصل کی ہے۔

برٹِش سٹیل

Getty Images
چین کا جنگیے گروپ برٹِش سٹیل کی ملکیت حاصل کر رہا ہے

ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی کمپنی ہواوے نے 2005 سے برطانیہ میں وسیع پیمانے پر سرمایہ لگایا ہے۔ اگرچہ ہواوے فائیو جی نیٹ ورک کی تنصیب میں شامل نہیں ہو گی مگر ٹیلی کام کے موجودہ انفراسٹرکچر میں اس کا بہت بڑا حصہ ہے۔

ہواوے ہی سب سے زیادہ زیر بحث رہنے والی کمپنی ہے مگر اس کے علاوہ اس شعبے میں دوسری کمپنیاں بھی ہیں جن کے تعلقات چین اور برطانیہ سے ہیں۔

برطانیہ ٹیک کمپنیوں میں چین کی دلچسپی کے نتیجے میں اس نے 2017 میں چپ بنانے والی کمپنی امیجینیشن ٹیکنالوجز کی ملکیت حاصل کی۔

برطانوی کمپنیاں چین میں

اگرچہ سرمایہ کاری کا زیادہ بہاؤ چین سے برطانیہ میں ہوا ہے مگر بعض برطانوی کمپنیاں بھی ہیں جو 1.4 ارب آبادی والے چین میں کاروبار کر رہی ہیں جہاں لوگوں کے پاس خرچ کرنے کو پیسہ ہے۔

برطانوی کمپنیوں کی تجارت توانائی، کار سازی، ادویات سازی اور مالی خدمات کے شعبوں پر محیط ہے۔

گزشتہ برس جرمنی میں چینی سفیر نے خبردار کیا تھا کہ اگر جرمنی میں ہواوے کے فائیو جی نیٹ ورکس میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج جرمن کار سازوں کے لیے اچھے نہیں ہوں گے۔ ان کے اس بیان کے بعد خدشہ پیدا ہو گیا تھا کہ بیجنگ اس طرح کے ہتھکنڈے دوسرے ملکوں کے مفادات کے خلاف بھی استعمال کر سکتا ہے۔

شنگھائی میں قائم مارکیٹ انٹیلیجنس فرم ’ایمرجنگ سٹریٹجی‘ کا کہنا ہے کہ ’قومی مفاد کی بات آئے تو چینی حکمران جماعت کی جانب سے بائیکاٹ کی اپیل پر شہری عمل کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔‘

مگر چین میں برٹش چیمبر آف کامرس کے سربراہ سٹیون لِنچ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے توقع ظاہر کی کہ اس طرح کی نوبت نہیں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا ’ہمیں توقع ہے کہ برطانوی کار سازوں کو، جو چین میں گاڑیاں درآمد کرتے ہیں اور مقامی طور پر بھی تیار کرتے ہیں، برطانوی حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔‘

کاروبار کے حامی گروپ نے خبردار کیا ہے کہ برطانوی ٹیلی کام اور آئی ٹی کمپنیوں کو بھی خطرہ ہو سکتا ہے۔

مگر سٹیون لِنچ کا کہنا ہے ’سیاسی کشیدگی کے بڑھتے ہوئے ماحول کے باوجود آنے والے مہینوں کے دوران دونوں ملک ٹھوس تجارتی اور سرمایہ کارانہ تعلقات برقرار رکھ سکیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14632 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp