بیگو ایپ: کیا پاکستانی کرکٹرز بیگو پر پیسے کمانے آتے ہیں؟

کاشان اکمل اور عبدالرشید شکور - بی بی سی اردو ڈاٹ کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا وائرس کی وبا کے دوران انٹرنیٹ پر چیٹنگ ایپلیکیشن بیگو کے ذریعے پیسے کمانے والوں میں ایک عام آدمی سے لے کر فنکار، گلوکار اور کرکٹرز، سب ہی شامل ہیں۔

حال ہی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے بیگو پر پابندی کے بعد اسے استعمال کرنے والے افراد کی آمدن بھی بند ہو گئی ہے تاہم ابھی بھی بیگو صارفین اور ہوسٹس کی بڑی تعداد ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورک (وی پی این) کے ذریعے پی ٹی اے کی عائد کردہ پابندی کو نظر انداز کر کے اس ایپ کو استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

اگر ان پاکستانی کرکٹرز کی بات کی جائے جو بیگو ایپ پر ہوسٹ کے طور پر موجود ہیں تو ان میں محمد عامر، فواد عالم، کامران اکمل، عمر اکمل، سلمان بٹ، یاسر حمید، عمران فرحت، ہمایوں فرحت، سہیل تنویر، عمران نذیر، صہیب مقصود، اسد علی، عظیم گھمن، ذوالفقار بابر، احسان عادل، عبدالرزاق اور سعید اجمل سمیت دیگر متعدد موجودہ اور سابق کھلاڑی شامل ہیں۔

ان میں سے کچھ کھلاڑی کسی بھی بیگو ٹیم کا حصہ بنے بغیر کیمرے پر آ کر عوام سے ’تحفے‘ وصول کر رہے ہیں جبکہ زیادہ تر بیگو ٹیمز کی رکنیت حاصل کرنے کے بعد کانٹریکٹ اور مہینہ وار ٹارگٹ پورا کر رہے۔

یہ بھی پڑھیے

بیگو: پی ٹی اے کی پابندی کا نشانہ بننے والی ایپ کیا ہے؟

بڑا گھر نہ مہنگے کپڑے، مگر ٹک ٹاک پر وائرل

ٹک ٹاک پر پابندی سے انڈیا کو کیا حاصل ہوگا؟

کھلاڑی بیگو پر کر کیا رہے ہیں؟

یہ کھلاڑی بیگو پر گیم ’پی کے‘ کھیلتے ہیں جن میں زیادہ تر ان کے مدمقابل کوئی دوسرا کھلاڑی، فنکار یا شوبز شخصیات میں سے کوئی موجود ہوتا ہے، جس میں تین پلیئر ایک ٹیم کی صورت موجود ہوتے ہیں، اور ان کا مقابلہ دوسرے کھلاڑیوں یا فنکاروں کی ٹیم سے ہوتا ہے۔

’پی کے‘ گیم میں صارفین پیسوں کے بدلے خریدے جانے والے ’بیگو ڈائمنڈز‘ سے اپنے پسندیدہ پلیئرز کو تحائف بھیجتے ہیں جو ان کے مہینہ وار ٹارگٹ کی تکمیل کا واحد ذریعہ ہے اور اگر وہ کامیاب ہو جائیں تو انھیں بیگو کی طرف سے اس ٹارگٹ کے عوض ماہانہ تنخواہ اور کمیشن بھی وصول ہوتا ہے، جو ہزاروں سے لاکھوں کے درمیان ہے۔

تاہم مہینہ وار ڈائمنڈز کمانے کا ہدف ٹیم کے سربراہان پلیئرز کے ساتھ پہلے ہی طے کر لیتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بیگو کے ہوسٹ اور پاکستان کے نامور وکٹ کیپر بلے باز کامران اکمل نے کہا ہے کہ بیگو ان کے لیے اپنے مداحوں کے ساتھ گفتگو کا ذریعہ ہے۔

’سوشل میڈیا کے دیگر ذرائع سے ہم اپنے فینز سے اس انداز میں میل جول نہیں کر سکتے جو سہولت بیگو ہمیں دیتا ہے۔ یعنی وبا کے دوران جو لوگ خود کو گھروں تک محدود رکھے ہوئے ہیں وہ اپنے موبائل فون سے ہمیں دیکھتے ہیں، ہم سے بات کرتے ہیں۔‘

پاکستان کے معروف فاسٹ باؤلر سہیل تنویر نے بی بی سی سے بیگو کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’میں ٹریننگ کے بعد سوشل میڈیا کو ایک گھنٹہ ہمیشہ دیتا ہوں، جس میں ترجیح اپنے مداحوں سے بات کرنا ہی ہوتی ہے تاہم بیگو کے ذریعے وہ کام آسان ہو گیا ہے۔‘

پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عظیم گھمن کا بیگو پر اپنی موجودگی کے بارے میں سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ان کے لیے بیگو وقت گزارنے کا ایک ذریعہ ہے۔

’پہلے رات کے اوقات میں اپنے کزنز کے ہمراہ پب جی کھیل لیا کرتا تھا، پھر بیگو کا معلوم ہوا تو یہاں آیا اور کافی عرصہ اس کو سمجھنے میں لگا تاہم بطور ہوسٹ جوائن کرنا اور اپنے جیسے اور سینئیر کرکٹرز کے ساتھ گپ شپ لگانا، بالکل اُسی طرح لگا جیسے ہم ڈریسنگ روم میں بات کرتے ہیں۔‘

کیا کھلاڑی بیگو پر پیسے کمانے آئے ہیں؟

کامران اکمل کہتے ہیں کہ جہاں تک بیگو سے آمدن کا تعلق ہے تو وہ ان کی ترجیح نہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’میں یا دیگر کئی کھلاڑی کیمرے پر آ کر اپنے فینز سے باتیں کرتے ہیں یا تفریح کے لیے پی کے کھیلتے ہیں اور عوام اپنی محبت کے اظہار میں تحفے بھیج دیتے ہیں۔ میں قومی کرکٹ ٹیم میں شامل نہیں، کورونا کی وجہ سے پی ایس ایل ملتوی ہے اور میرے بھی اخراجات ہیں جن کی ادائیگی میں مشکل کا سامنا بھی ہے۔ لیکن بیگو مالی فائدے کا ذریعے نہیں۔‘

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ وہ ایسے کئی کھلاڑیوں کو جانتے ہیں جنھیں گھر کے اخراجات اور ضروریات بیگو تک لے کر آئی ہیں۔

’گذشتہ سال حکومت کی جانب سے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کے خاتمے کے بعد پاکستانی کرکٹرز کی بڑی تعداد بے روزگار ہے اور اتنا عرصہ کرکٹ کو دینے کے بعد وہ شاید چاہ کر بھی کچھ اور نہیں کر پائیں گے۔‘

سہیل تنویر نے اس حوالے بتایا کہ ’میں نے یہاں آنے سے پہلے بھی اس کو ذریعہ آمدن بنانے کا نہیں سوچا نہ ہی اب آئندہ ایسا کوئی منصوبہ ہے۔‘

عظیم گھمن کا کہنا تھا کہ ’میں کورونا کی وبا کے دوران خراب معاشی حالات کے شکار افراد کے لیے راشن کا سلسلہ چلا رہا تھا، جس میں رمضان کے مہینے سے کچھ پہلے سے لے کر اب تک حیدرآباد شہر کے دو ہزار سے زیادہ خاندانوں کو راشن کی مد میں معاونت فراہم کر چکے ہیں، جس میں عام لوگوں نے بھی میرا ہاتھ بٹایا۔‘

وہ کہتے ہیں ’مجھے سوشل میڈیا کے ذریعے ہی بیگو کے ایک ٹیم لیڈر نے رابطہ کیا تھا کہ میں بیگو پر ہوسٹ بن جاؤں۔ مالی فائدے کی بھی بات ہوئی تو میں نے سوچا کہ ایک ہی پلیٹ فارم سے دوسرے کرکٹرز سے گپ شپ تفریح، مداحوں سے براہ راست رابطہ بھی ہو رہا ہے اور اگر میں یہاں سے پیسے کما کر ضرورت مندوں کے لیے راشن کے سلسلے میں مدد حاصل کروں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ میں نے اس حوالے سے پی سی بی کے متعلقہ حکام کو آگاہ بھی کیا تھا۔‘

کیا کھلاڑیوں کا ایسے پیسے کمانا قانونی اور اخلاقی طور پر صحیح عمل ہے؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کھلاڑی اور کوچ عاقب جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے ‘اخلاقی طور پر تو کسی کھلاڑی کو اس طرح کی جگہ پر موجود ہی نہیں ہونا چاہیے۔‘

’جہاں تک مالی فائدے کا تعلق ہے تو کوئی کھلاڑی ڈھائی سو ڈالر سے زیادہ مالیت کا تحفہ قبول نہیں کر سکتا، اگر کوئی ایسا کرتا بھی ہے تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن کے شعبے کے علم میں لانا ضروری ہے اور اسے تحفہ دینے والے شخص سے رشتہ یا تعلق اور وجہ بتانا بھی لازم ہے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ کے اینٹی کرپشن کوڈ میں کھلاڑیوں کے تحفے لینے سے متعلق واضح ہدایات موجود ہیں۔ ان کی شق نمبر ’دو عشاریہ چار‘ کھلاڑیوں اور بورڈ سے منسلک دیگر افراد کو تحفے، رقوم، مہمان نوازی قبول کرنے کے بارے میں بورڈ کو مطلع کرنے کی ہدایت کرتی ہے اور اگر کوئی کھلاڑی ایسا نہیں کرتا تو وہ بورڈ کے قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ٹھہرے گا۔

اس شق کی ضمنی شق نمبر تین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی اپنی پیشہ ورانہ حیثیت کی وجہ سے پچیس ہزار روپے سے زیادہ مالیت کا تحفہ، رقم، مہمان نوازی، کھانا یا کسی بھی دیگر صورت میں فائدہ قبول کر کے بورڈ کی ویجیلینس اینڈ سکیورٹی کمیٹی کو فوری مطلع نہیں کرتا تو وہ غیر قانونی سرگرمی کا حصہ شمار ہو گا۔

عاقب جاوید کا کہنا ہے: ’میں ذاتی حیثیت میں اس ایپلیکشن کے بارے میں علم نہیں رکھتا لیکن جو معلومات ابھی تک مل سکی ہیں ان کے مطابق یہ ایپ استعمال کرنے والے کھلاڑیوں کو صارفین تحفے بھیج رہے ہیں جن کی مالیت کافی زیادہ ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ یہ عین ممکن ہے کہ وہ پسندیدگی کی بنیاد پر ہی یہ تحفے دے رہے ہوں اور اس کے پس پردہ کوئی اور بات نہ ہو۔

تاہم ان کے مطابق ان صارفین کے پس منظر کا کسی کو علم نہیں ہے اور پھر اس عمل کی کوئی نگرانی نہیں۔ ’ایسے پلیٹ فارم پر کھلاڑی موجود ہیں، یہ واضح طور پر بورڈ کے قوانین اور ضوابط کار کے خلاف ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ کھلاڑی جو بورڈ کے کسی کانٹریکٹ، قومی ٹیم یا پی ایس ایل کی ٹیمیوں یا کسی بھی صورت بورڈ سے منسلک ہیں اور اس طرح آمدن حاصل کر رہے ہیں، بورڈ کو چاہیے کہ نہ صرف ان کو طلب کرے بلکہ ان پر جرمانے اور سزا بھی عائد کی جائے۔‘

عاقب جاوید کا کہنا تھا ’جب ایک کھلاڑی کسی غیر اخلاقی یا غیرقانونی عمل کا حصہ بنتا ہے تو اس کا آغاز تحفے تحائف سے ہی ہوتا ہے، پھر گفتگو اور معاملات بڑھ جاتے ہیں اور پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ کھلاڑی اس طرف سے آنے والے مطالبے کا جواب ناں میں نہیں دے پاتا۔‘

’پاکستان پہلے ہی دنیا میں کرکٹ کے حوالے سے بدنام ہے، کچھ عرصے بعد کوئی نہ کوئی ایسی خبر باہر آ جاتی ہے، جس سے ملک اور کرکٹ دونوں کو نقصان پہنچتا ہے تو ایک عام آدمی، فنکار یا ایک کرکٹر کی کمائی کے انداز میں واضح فرق ہونا بہت ضروری ہے۔‘

کھلاڑی کتنے پیسے کما چکے ہیں؟

بیگو کے طریقہ کار کے مطابق صارفین کی جانب سے بھیجا جانے والا ایک بیگو ڈائمنڈ ہوسٹ تک ایک بیگو بین کی صورت میں پہنچتا ہے۔

اگر ایک کھلاڑی مہینے میں ایک لاکھ بیگو ڈائمنڈز صارفین سے تحفوں کی مد میں حاصل کرتا ہے، تو 210 بینز کے بدلے اسے ایک امریکی ڈالر ملے گا۔

یعنی ایک لاکھ بینز پر اسے تقریباً ساڑھے چار سو امریکی ڈالر ملیں گے اور اگر وہ کھلاڑی بیگو کی کسی کی ٹیم کا حصہ ہے اور اس نے مہینے میں ایک لاکھ بیگو ڈائمنڈز حدف طے کر کے حاصل کیے ہیں تو اس کا نصف ’ماہانہ تنخواہ‘ کی صورت میں اضافی حاصل ہو گا۔

اس طرح یہ رقم مہینے میں ایک لاکھ ڈائمنڈز کے عوض تقریباً چھ سو امریکی ڈالرز تک پہنچ جاتی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کھلاڑیوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر کیا کہتا ہے؟

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کے سلسلے میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو واضح ہدایات دے رکھی ہیں کہ انھیں کس طرح یہ پلیٹ فارم استعمال کرنا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عبدالرشید شکور سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میچوں کے دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے تاہم اگر میچ نہیں ہیں تو کھلاڑی سوشل میڈیا کا استعمال کر سکتے ہیں لیکن احتیاط کے ساتھ۔

’مثلاً وہ ایسی کوئی جذباتی ٹویٹ نہ کریں جس کا جواب بھی جذباتی سامنے آئے۔ یا ایسی ٹویٹ جس کے جواب سے کسی کھلاڑی کو غصہ دلانا مقصود ہو۔‘

’کھلاڑیوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ 24/7 قومی ڈیوٹی پر ہوتے ہیں۔ وہ انٹرنیشنل کرکٹرز ہیں لہذا ان کا ہر لفظ اور قدم اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ان کے ہر ٹویٹ کا فوری ردعل سامنے آتا ہے لہذا انھیں اس بارے میں بہت احتیاط کی تاکید کی جاتی ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے انھیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے۔‘

وسیم خان کا کہنا ہے کہ کھلاڑیوں کا اپنے پرستاروں سے براہ راست رابطے میں رہنا کوئی غلط بات نہیں ہے۔

’یہ دنیا کے متعدد ملکوں میں بھی عام ہے کہ کھلاڑی اپنے پرستاروں سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر براہ راست رابطے میں رہتے ہیں لیکن ہم نے اپنے کھلاڑیوں سے کہہ رکھا ہے کہ وہ سوچ سمجھ کر بات کریں اور پروفیشلزم کو ذہن میں رکھیں۔کھلاڑیوں کو یہ بھی سمجھایا جاتا ہے کہ وہ نامعلوم یا مشکوک افراد سے رابطہ اور میل جول نہ رکھیں۔‘

وسیم خان کا یہ بھی کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے سلسلے میں جو بھی گائیڈ لائن بنائی گئی ہیں وہ فی الحال سینٹرل کنٹریکٹ کرکٹرز کے لیے ہیں تاہم آئندہ ماہ پاکستان کرکٹ بورڈ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کے لیے جو کنٹریکٹ تیار کررہا ہے ان میں بھی سوشل میڈیا سے متعلق ضابطہ اخلاق کی شقیں شامل ہیں اور تمام کھلاڑی اس ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16549 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp