ادریس خٹک: ‘میرے والد کو اغوا کیا گیا اور مجھے نہیں پتہ کیوں؟’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تالیہ کے والدین میں ان کے بچپن میں ہی علیحدگی ہو گئی تھی اور ان کے والد نے ان کی پرورش کی، وہ واحد تھے جنھوں نے تالیہ کی دیکھ بھال کی، صبح کا ناشتہ اور کھانا پکانے سے تالیہ کو سکول کے لیے تیار کرتے وقت ان کے بال سنوارنے تک سب کچھ ان کی والد نے اکیلے ہی کیا۔

20 سالہ تالیہ کہتی ہیں کہ ‘وہ واقعی ایک بہت اچھے والد تھے، شاید تمام عمر مجھے سب سے زیادہ خوف اپنے والد کو کھو دینے کا ہی تھا۔’

مگر گذشتہ برس نومبر میں ان کا یہ ڈر حقیقت بن گیا۔ ادریس خٹک کو جو ایک معروف انسانی حقوق کے کارکن ہیں دن دہاڑے ان کی کار سے اغوا کر لیا گیا اور سات ماہ تک تالیہ کو کچھ علم نہیں تھا کہ کس نے انھیں اغوا کیا ہے اور کیوں؟

اور پھر یہ معمہ ختم ہوا، پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے معاملے میں غیر معمولی اعتراف کرتے ہوئے پاکستان کی فوج نے تصدیق کی کہ 56 سالہ ادریس خٹک ان کی سکیورٹی ایجنسی کی تحویل میں ہیں اور ان پر سیکریٹ ایکٹ کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

اب یہ خیال کہ وہ کہاں ہوں گے، اور کس حال میں ہوں گے تالیہ کو رات بھر جگائے رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں اپنے والد کے غائب ہو جانے والے دن ٹرین کے سفر پر بھی افسوس ہے۔ تالیہ کو اس دن ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے جہاں وہ پڑھتی ہیں بذریعہ ٹرین کراچی کا سفر کرنا تھا۔ان کے والد کو اپنی جوان بیٹی کو اکیلے سفر کرنے پر چند اعتراضات تھے، کیونکہ یہ پاکستان میں غیر محفوظ تصور کیا جاتا ہے، مگر انھوں نے اپنے والد کو اس پر رضا مند کر لیا تھا۔

انھوں نے تالیہ سے کہا تھا کہ وہ اسے ہر گھنٹے میں ان کی خریت دریافت کرنے کے لیے فون کریں گے۔ بیچ سفر میں انھوں نے تالیہ کو بتایا کہ انھیں برے خیال آ رہے ہیں اگر وہ کہے تو وہ اسے اگلے سٹیشن سے لے لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ادریس خٹک ملٹری انٹیلیجنس کی تحویل میں، سیکریٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ

’دروازے بند نہ کرو نجانے کب میرا بیٹا آ جائے‘

’سوال فوج کے زیر انتظام حراستی مراکز کی آئینی حیثیت کا ہے‘

وہ کہتی ہیں کہ ‘مجھے اس پر بہت افسوس ہے اور میں روزانہ اس کے بارے میں سوچتی ہوں کہ اگر اس دن میں نے ہاں کہہ دیا ہوتا تو میں اس دن میں کار میں پاپا کے ساتھ ہوتی۔’

آخری مرتبہ جب تالیہ کی اپنے والد سے بات ہوئی تھی تو وہ جلدی میں لگ رہے تھے اور ان کی سانس پھولی ہوئی تھی اور انھوں نے اسے بتایا تھا کہ اگلے چند دن ان کا فون ان کے پاس نہیں ہوگا۔

پھر انھوں نے ٹیکسٹ میسجز اور ٹیلی فون کالز کا جواب دینا چھوڑ دیا۔ یہ بالکل غیر معمولی اور اچانک تھا جس نے تالیہ کو پریشان کر دیا۔

چند دن بعد وہ واپس اسلام آباد آئیں تو انھیں ایک دوست کا پیغام موصول ہوا ‘مجھے افسوس ہے تمھارے والد کو اغوا کر لیا گیا۔’

انھیں بچانے کی کوشش میں تالیہ کے خاندان والوں نے انھیں یہ خبر نہیں بتائی تھی، لیکن نیوز ویب سائٹ پر شہ سرخیوں اور ان کی والد کی تصویر نے ان کے خطرات کو یقین میں بدل دیا۔

ادریس خٹک کو سادہ لباس میں ملبوس افراد نے اسلام آباد پشاور موٹروے پر خیبرپختونخوا کے شہر صوابی انٹرچینج سے ان کی کار میں سے اغوا کیا تھا۔ ادریس خٹک کا گھر بھی صوابی میں ہی ہے۔ ان کے ڈرائیور کو جسے ان کے ساتھ ہی اٹھایا گیا تھا دو دن بعد چھوڑ دیا گیا۔ ڈرائیور نے پولیس کو بیان دیا تھا نامعلوم افراد ان کے سروں پر کپڑا ڈال کر انھیں الگ گاڑی میں لے گئے تھے۔ دو دن بعد نامعلوم افراد ادریس کے گھر آئے اور ان کا لیپ ٹاپ اور ہارڈ ڈرائوز لے کر چلے گئے۔ تالیہ بتاتی ہیں کہ خاندان کی بیشتر تصاویر اس میں تھیں۔

پھر مہینوں ان کی کوئی خبر نہیں ملی، تالیہ اور ان کی بہن شمیسا اپنے والد کی صحت کے لیے فکرمند تھی اور یہ کہ کیا انھیں ان کی ذیبطس کی روزانہ کی دوا مل رہی ہے؟ ادریس خٹک کے بھائی نے پولیس میں رپورٹ درج کروائی اور پشاور ہائی کورٹ میں درخواست جمع کروانے کی کوشش کی تاکہ وہ پولیس کو اس کی تحقیقات پر مجبور کر سکے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا، جہاں ادریس خٹک بطور محقق کام کرتے تھے، کہنا ہے کہ انھیں ‘جبری طور پر گمشدہ’ کیا گیا ہے، جسے وہ ریاستی اغوا کا نام دیتے ہیں۔

ان کے اغوا کے چھ ماہ بعد اور ان کے متعلق کچھ اطلاعات نہ ہونے پر تالیہ نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انھوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ حکومت سے جواب طلب کریں۔

تالیہ کا کہنا ہے کہ ‘میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ اگر پاپا ہوتے تو کیا کرتے اور میں جانتی ہوں کہ وہ خاموش نہ رہتے، اگر ہم میں سے کوئی ہوتا تو وہ آواز اٹھاتے۔’ وہ کہتی ہیں’ یہاں میرے والد کی طرح کے اور بھی واقعات ہیں، میرے والد وہ پہلے شخص نہیں ہیں جنھیں جبری طور پر اٹھایا گیا ہے اور نہ ہی وہ آخری ہوں گے۔ مجھے یہ سوچ پر پریشانی اور غصہ آتا ہے کہ اس بارے میں ہم زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔’

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کی ایک طویل تاریخ ہے اور ان واقعات میں اضافہ سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے دور میں سنہ 1990 کی دہائی کے آخر میں ہوا تھا۔ تاریخی طور پر غائب ہونے والے بلوچستان جیسے شورش زدہ علاقوں سے علیحدگی پسند یا جنگجو ہوا کرتے تھے یا اب حال ہی میں سندھ قوم پرست جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کارکن ہوتے ہیں۔

ادریس خٹک کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ انھیں کچھ علم نہیں ہے کہ ادریس خٹک کو کیوں اٹھایا گیا ہے، وہ حالیہ چند برسوں میں حکومت یا فوج پر تنقید نہیں کیا کرتے تھے۔ البتہ وہ بلوچستان کی سب سے بڑی جماعت نیشنل پارٹی کے ساتھ منسلک تھے۔

ملک میں ایک آزاد کمیشن برائے انسانی حقوق پاکستان (ایچ آر سی پی) کے اندازے کے مطابق اس وقت ملک میں کم از کم 2100 سیاسی کارکن یا انسانی حقوق کے کارکن لاپتہ ہیں جبکہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

ایچ آر سی پی کے حارث خلیق کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اہلخانہ کے لیے بہت تکلیف دہ ہوتا ہے، انھیں اپنے پیاروں کے بارے میں کچھ علم نہیں ہوتا۔ اور بعض اوقات تو برسوں تک کوئی اطلاع نہیں ہوتی حتیٰ کہ ان کی لاش نہ مل جائے یا کوئی قبر نہ سامنے آ جائے۔ لیکن بنیادوں طور پر یہ آئین پاکستان میں لکھے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

حارث خلیق کا کہنا ہے کہ ‘اگر ریاست خود ہی ایسی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہو گی تو ان نان سٹیٹ ایکٹرز کے خلاف کیا جواز پیش کرے گی جو اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں؟’

سنہ 2011 میں جبری گمشدگیوں کے متعلق تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کیا گیا تھا لیکن ماضی کی حکومتیں اور موجودہ حکومت ریاستی اغوا کے خلاف سزاؤں کے وعدے کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ پاکستان میں حکومت اور فوج کے قریبی تعلقات ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ ‘بار بار جبری گمشدگیوں پر سزائیں دینے کے وعدوں کے باوجود آج بھی اس کا استعمال تنقید اور اختلاف کی آواز کو دبانے کے ایک ہتھیار کے طور پر ہو رہا ہے۔’

بی بی سی نے اس پر تبصرے کے لیے پاکستان حکومت سے رابطہ کیا مگر اس بارے میں کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ادریس خٹک کے اہلخانہ اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے ایک مہم کا آغاز کیا ہے تاکہ حکام پر بین الاقوامی دباؤ ڈالا جا سکے۔ اس سلسلے میں انھوں نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی حقوق کے دفتر اور برطانیہ کے فارن اور دولت مشترکہ کے دفتر کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

پھر رواں برس جون میں، غیر معمولی طور پر ان کے اہلخانہ کو بتایا گیا کہ وہ پاکستان فوج کی ملٹری انٹیلی جنس ایجنسی کی تحویل میں ہیں اور ان پر سنہ 1923 کے سیکرٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے۔

بعدازاں ان کے خاندان کو یہ علم ہوا کے ادریس خٹک کو سیکرٹ ایکٹ کے تحت ایک فوجی مقدمے کا سامنا ہے۔ انھیں کچھ علم نہیں ہے کہ ادریس خٹک پر کیا الزامات ہیں اور ممکنہ طور پر انھیں کبھی بتایا بھی نہیں جائے گا۔ وہ اب تک ادریس خٹک سے مل نہیں پائے ہیں نہ ہی بات کر پائے ہیں۔ اور تالیہ جو روزانہ رات کو اپنے والد کو تمام دن کی کارگزاری سناتی تھی کے لیے یہ آسان نہیں ہے۔

وہ اب اپنی والدہ سے رابطے میں ہیں جو اب سوئزلینڈ میں مقیم ہیں لیکن اس کے باوجود تالیہ کا کہنا ہے کہ سب کے ساتھ ہونے کے باوجود وہ اس سے قبل کبھی اتنی تنہا نہیں ہوئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14558 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp