ایبٹ آباد: ہسپتال میں زیر علاج مریضوں کی بینائی کیسے گئی؟

محمد زبیر - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

افسر حسین

BBC
افسر حسین ایک دن صبح اٹھے تو ان کی بینائی جا چکی تھی

’ایک انجیکشن فروری کے مہینے میں آنکھوں میں لگوایا تھا۔ اب یہ دوسرا انجیکشن تھا۔ یہ انجیکشن لگوانے کے بعد واپس پہنچا تو بہت زیادہ جھنجلاہٹ اور بے چینی ہو رہی تھی۔ میں سپورٹس مین ہوں، حوصلہ کر کے کسی نہ کسی طرح سو گیا۔ صبح سو کر اٹھا تو کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ جس پر چھوٹے بھائی کو بلایا اور ہسپتال پہنچا۔ اب چند دنوں سے ہسپتال ہی میں ہوں۔ کبھی ایک ٹیسٹ کرتے ہیں اور کبھی دوسرا مگر مجھے یہ نہیں بتاتے کہ کیا میں دوبارہ دیکھ سکوں گا یا نہیں؟‘

یہ کہنا تھا ایبٹ آباد میں قومی سطح کے سابق فٹبالر افسر حسین کا جنھوں نے عبدالقدیر خان رسرچ لیبارٹری (کے آر ایل) کی فٹ بال ٹیم کی کئی سال قیادت کرنے کے علاوہ ملکی سطح کے دیگر کلب اور ڈیپارٹمنٹ ٹیموں میں اپنے کھیل کے جوہر دکھائے تھے۔

افسر حسین کئی سال پہلے فٹ بال کو خیرباد کہہ چکے ہیں جس کے بعد اب وہ ایبٹ آباد میں ایک ایمبولینس ڈرائیور کے فرائض انجام دیتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اپنے بال بچوں کے لیے فٹ بال کا شوق قربان کر کے باعزت روزی کما رہا تھا۔ اب اگر میں دیکھ نہ سکا تو ڈرائیونگ کس طرح کروں گا۔ فٹ بال اور ڈرائیونگ کے علاوہ مجھے اور کچھ آتا بھی نہیں ہے۔‘

افسر حسین اس وقت ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے آنکھوں کے وارڈ میں زیر علاج ہیں۔ وہاں پر وہ اکیلے نہیں بلکہ ایسے ہی آٹھ دیگر مریض زیر علاج ہیں جن کو چند دن پہلے ’ایوسٹن‘ کا انجیکشن لگایا گیا تھا اور اب یہ سب مریض آنکھوں کی بینائی بالکل ختم ہونے کی شکایت کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ ابھی ان مریضوں کی بینائی جانے کی وجہ کا قانونی طور پر تعین نھیں ہوا ہے۔

مریضوں کا کہنا تھا کہ ہمیں اس وقت ایوب ٹیچنگ ہسپتال میں زیر علاج رکھا گیا ہے۔ ہمیں کہا گیا ہے کہ اس سارے واقعے کی تحقیقات ہورہی ہیں۔ جس کے بعد ہسپتال خود ہی قانونی کاروائی کرے گا۔ ہم انتظار کر رہے ہیں کہ ہسپتال کب ہمیں کچھ بتاتا ہے۔ اگر ہمیں انصاف نہ ملا تو اس کے بعد ہم قانونی کاروائی کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے شعبہ ایمرجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید سرور کا کہنا تھا کہ ہم نے میڈیکل ٹیچنگ انسٹیٹوٹ ایکٹ 2015 کے تحت تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد اسی ایکٹ کے تحت ہم اس پر قانونی کاروائی بھی کریں گے۔

ہسپتال کے ڈاکٹر کیا کہتے ہیں

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر احسن اورنگزیب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چند دن قبل ہمارے پاس آنکھوں کے وارڈ میں نو مریض آئے تھے۔ جن میں تین خواتین اور باقی چھ مرد تھے۔ یہ سب شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض تھے جس وجہ سے یہ بینائی کی کمزوری کی شکایت کر رہے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ان سب مریضوں کا مکمل معائنہ ہوا اور مختلف قسم کے ٹیسٹ ہوئے جس کے بعد ان کے لیے تجویز کیا گیا کہ ان کو ایوسٹن کے انجیکشن کا کورس کروایا جائے۔‘

ان کے مطابق ’چند دن قبل آپریشن تھیئٹر میں نو مریضوں کو انجیکشن لگایا گیا۔ یہ نو مریض آگلے دن دوبارہ ہسپتال آئے اور یہ شکایت کی کہ ہمیں بہت کم نظر آرہا ہے اور شدید تکلیف بھی ہے۔ جس کے بعد ان کو ہسپتال میں داخل کر کے علاج کیا گیا۔‘

انجیکشن بنانے والی کمپنی کیا کہتی ہے؟

روش پاکستان کے مینجنگ ڈائریکٹر فرخ ریحان نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں یہ سن کر بہت حیرانگی ہوئی ہے اور وہ شاک میں ہیں کہ ایوسٹین کو آنکھوں کے علاج کے لیئے استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا ایوسٹین کو روش پاکستان نے اینٹی کینسر کے لیئے متعارف کروایا ہے۔ اس کو کبھی بھی آنکھوں کا علاج میں استعمال کرنے کی سفارش نہیں کی گئی ہے۔ فرخ ریحان کا کہنا تھا کہ جس دوائی کو آنکھوں کے استعمال کے لیئے متعارف ہی نہیں کروایا گیا اس کو ڈاکٹر کیوں استعمال کررہے تھے۔ دوائی کے ساتھ موجود ہدایت نامے میں بڑا واضح ہے کہ یہ اینٹی کینسر ہے اور اس کو صرف اس ہی کے لیئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ڈاکٹر اس انجیکشن کا کیا استعمال کر رہے ہیں اور کیوں؟حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پشاور کے آنکھوں کے شعبہ کے پروفیسر ڈاکٹر طارق مروت جنھوں نے امریکہ سے فیلو شپ بھی کررہی ہے کا کہنا تھا کہ وہ خود گزشتہ دس سال سے پشاور میں ایوسٹین استعمال کررہے ہیں۔ اس کے اچھے نتائج ہیں۔ اس کو پورے ملک میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوسٹین پاکستان ہی میں نہیں بلکہ برطانیہ، سوئزلینڈ اور دیگر ممالک میں بھی آنکھوں کے علاج کے لیئے استعمال ہورہی ہے۔ میں خود امریکہ میں کام کرچکا ہوں۔ وہاں پر بھی اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر طارق مروت کا کہنا تھا امریکہ، برطانیہ، سوئز لینڈ کئی ممالک میں ایوسٹین اور اس کے مد مقابل ادوایات پر کی گئی سرچ موجود ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ایوسٹین کے نتائج اچھے ہیں۔ ان ہی وجوہات کی بناء پر آنکھوں کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر اس کو پاکسستان اور دنیا بھر میں استعمال کرتے ہیں۔ ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے شعبہ ایمرجنسی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر جنید سرور کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کمپنی اس کو آنکھوں کے علاج میں استعمال کرنے کی سفارش نہیں کرتی ہے۔ مگر کئی تحقیقاتی اور تحقیقاتی رپورٹوں کے مطابق ڈاکٹر اس کو بہتر سمجھتے ہوئے اس کو استعمال میں لاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سادہ سی بات ہے کہ ڈاکٹر جس بھی دوائی کو مریض کے لیے مختلف تحقیقات، اپنی تجربے کی بنیاد پر بہتر سمجھیں گے اس کو تجویز کرئیں گے۔ اب ہمارے پاس ایوسٹین کا معاملہ یہ ہے کہ ہم اس انجیکشن کے بارے میں تحقیقات کررہے ہیں کہ اس میں کوئی انفیکشن وغیرہ تو نہیں تھا۔ جس وجہ سے نو مریض متاثر ہوئے ہیں۔ مریضوں کے ساتھ ہوا کیا ہے؟

افسر حسین کا کہنا ہے کہ ’کچھ عرصے سے میں شوگر کا مریض بن چکا تھا۔ میری نظر بھی کمزور ہو رہی تھی۔ آنکھوں کے ڈاکٹر کو بتایا تو ان کا کہنا تھا کہ شوگر کے سبب نظر مزید کمزور ہوسکتی ہے۔ اس کے علاج کے لیے آنکھوں میں تین انجیکشن کا کورس کروانا ہوگا۔‘

افسر حسین کا کہنا تھا کہ ’پہلا انجیکشن فروری کے ماہ میں لگا، دوسرا مارچ میں لگنا تھا مگر لاک ڈاون کے باعث ڈاکٹروں نے جولائی کی تاریخ دے دی تھی۔ جب سے یہ دوسرا انجیکشن لگوایا ہے اس وقت سے میری دنیا اندھیر ہوچکی ہے۔‘

افسر حسین کہتے ہیں کہ ’یقین کریں مجھے اور میرے ساتھ دوسرے مریضوں کو ہر چند گھنٹوں بعد اتنی شدید تکلیف اور درد ہوتا ہے کہ ہماری چیخیں نکل جاتی ہیں۔ جس کے بعد عملہ ہمیں درد کش انجکیشن لگاتا ہے اور پھر ہم لوگ سو جاتے ہیں اور چند گھنٹے سکون سے گزرتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’جب بھی ڈاکٹر معائنے کے لیے آتے ہیں ہمارا ایک نیا ٹیسٹ لیتے ہیں۔ نئی دوائی تجویز کرتے ہیں مگر ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ ہمارے ساتھ ہوا کیا ہے تو کہتے ہیں کہ انفیکشن ہوگیا ہے جس کا علاج کر رہے ہیں۔‘

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں آنکھوں ہی کے وارڈ میں زیر علاج ایک اور بزرگ مریض کا کہنا تھا کہ ’میری قسمت خراب تھی۔ نظر کی عینک لگی ہوئی تھی مگر ہر چند دن بعد اخبار پڑھنا مشکل ہو رہا تھا۔ بیٹا ڈاکٹر کے پاس لایا تو انھوں نے کہا کہ تین انجیکشن کا کورس کرنا ہوگا۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ ’ابھی پہلا انجیکشن لگوا کر اپنے گھر پہنچا ہی تھا کہ پہلے شدید درد ہوا، اس کے بعد آہستہ آہستہ نظر آنا کم ہوئی اور چند گھنٹوں میں تو بالکل ہی کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔ سوچتا ہوں کہ اگر بینائی واپس نہ آئی تو مجھ بوڑھے کو کون سنبھالے گا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کل گیارہ مریضوں کو یہ انجیکشن لگا ہے۔ جن میں سے نو مریضوں نے بینائی کم ہونے کی شکایت کی ہے۔ ان میں سے صرف ایک مریض کو یہ انجیکشن پہلی مرتبہ لگا ہے جب کہ باقی آٹھ میں سے پانچ کو تیسری مرتبہ جبکہ تین کو دوسری مرتبہ لگا ہے۔‘

ڈاکٹر احسن اورنگزیب کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ طبی طور پر ’ہمارے علاج کا طریقہ کار غلط نہیں تھا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’اگر ہسپتال اور اس کے ماہر ڈاکٹروں کی تشخیص یا علاج میں کوئی غلطی ہوتی اور ان کی جانب سے تجویز کردہ انجیکشن غلط ہوتا تو پھر آٹھ مریضوں کو پہلے ایک یا دو انجیکشن کے دوران کوئی شکایت ہونی چاہیے تھی۔ باقی دو مریضوں کو بھی شکایت ہونی چاہیے تھی۔‘

ڈاکٹر احسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ ہم نے ماہرین کا ایک بورڈ تشکیل دے دیا ہے جو تمام حقائق کو اکٹھا کر رہا ہے۔ وہ بورڈ جلد ہی اپنی رپورٹ پیش کر دے گا۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ’بورڈ اور لیبارٹری کی رپورٹ کے بعد جو بھی قصوروار ہوا اس کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی جائے گئی۔‘

ڈاکٹر احسن اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’ابھی ان مریضوں کا علاج چل رہا ہے۔ ان کے مختلف ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔ اس موقع پر ہم ان کے مسقبل کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے۔‘

ایوسٹن کا انجیکشن کیا ہے؟

بین الاقوامی ادوایات ساز کمپنی روش پاکستان سمیت دنیا بھر میں تجارتی نام ایوسٹن سے ’بیویزسیزامیٹ‘ انجیکشن تیار کرتی ہے۔ پاکستان میں چار ملی لیٹر کے اس انجیکشن کی قیمت تقریباً 28 ہزار روپے ہے۔

عموماً یہ انجیکشن مہنگے میڈیکل سٹورز ہی پر دستیاب ہوتا ہے اور زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو مفت میں فراہم کیا جاتا ہے۔

ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے ڈپٹی ڈائریکٹر شعبہ ایمرجنسی ڈاکٹر جنید کے مطابق یہ انجیکشن زیادہ تر کینسر کے مریضوں پر استعمال ہوتا ہے۔ مگر ان کے مطابق آنکھوں کی بیماری خاص کر شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض جن کی خون سپلائی کرنے کی رگیں زیادہ اچھی طرح کام نہ کر رہی ہوں ان پر بھی اس کا استعمال فائدہ مند رہتا ہے۔

ڈاکٹر جنید کے مطابق ’ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد کے علاوہ پاکستان اور دنیا بھر میں آنکھوں کے مریضوں کے لیے طویل عرصے سے اس کا استعمال فائدہ مند پایا گیا ہے۔‘

ان کے مطابق یہ انتہائی حساس انجیکشن ہے جس کی تیاری ماہر ڈاکٹر اور فارماسسٹ کی نگرانی میں کی جاتی ہے۔ اس کو آنکھوں کے مریضوں کو لگانے کا عمل بھی آپریشن تھیئٹر میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹا موٹا آپریشن ہی ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس انجیکشن کی تیاری اور لگانے کے عمل میں معمولی سے غلطی بھی مریض کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر جنید کے مطابق اس لیے ’اس کو مریضوں پر استعمال کرتے وقت انتہائی احتیاط برتی جاتی ہے۔ یہی احتیاط ایوب ٹیچنگ ہسپتال ایبٹ آباد میں بھی برتی جاتی ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14567 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp