کتے کا گوشت کھانا چاہیے یا نہیں، جنوبی کوریا میں نئی بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کتے

Getty Images

کیا آپ اب بھی کتے کا گوشت کھاتی ہیں؟

جی ہاں میں نے یہ تجربہ کیا ہے۔ لیکن مجھے وضاحت کر لینے دیجیئے۔ میرے لیے یہ ایسے ہی ہے جیسے گائے کا گوشت اور سور اور بطخ کا گوشت۔۔۔۔

ان کے برابر بیٹھے ہوئے شخص سے جب پوچھا گیا کیا کبھی آپ ایسے شخص کے ساتھ ڈیٹ پر جائیں گے جو کتے کا گوشت کھاتا ہو تو جواب نفی میں ملا۔

ان دونوں افراد کا تعلق جنوبی کوریا سے ہے۔ جہاں کتے کا گوشت کھایا جاتا ہے اور اس کے لیے ریسٹورنٹس بھی موجود ہیں۔ لیکن نئی نسل میں کتے کو پالنے کے رجحان میں اضافہ دیکھنے کو ملا ہے اور پالتو جانوروں کو غذا کے طور پر کھانے کے عمل میں کمی دیکھی گئی ہے۔

اور حالیہ برسوں میں اب یہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے کہ وہاں کے مکین اس سوال پر کہ کیا کتے کا گوشت کھانا چاہیے منقسم نظر آتے ہیں۔

جنوبی کوریا میں اب حکومت بھی اس مطالبے کی وجہ سے دباؤ میں ہے کہ کتے کے گوشت پر پابندی عائد کی جائے۔

یہ بھی پڑھیئے

جنوبی کوریا:کتوں کا سب سے بڑا سلاٹر ہاؤس بند کر دیا گیا

کمبوڈیا: کتے کا گوشت کھانے اور فروخت کرنے پر پابندی

بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم نے اس حوالے سے مختلف رائے رکھنے والے افراد سے بات کی۔

ایک خاتون کی رائے ہے کہ گوشت کی اور بھی بہت سی اقسام ہیں اور سب پروٹین کا ذریعہ ہیں۔ ’بیف، چکن، سور بڑی ورائٹی ہے۔‘

کوریا کتے کے گوشت کا استعمال کرنے کی اجازت کیوں دے اور اس طرح کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کیوں کرے؟

اس کے حق میں رائے رکھنے والے ایک شخص نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ آج کل امریکی اثرات کی وجہ سے لوگ اس پر برا محسوس کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو وحشی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جب آپ کو کوئی دوسرا کچھ کھانے سے روکتا ہے تو لوگ اسے پسند نہیں کرتے۔

کوریا میں کتے کے گوشت کی صنعت سے متعلق قانون واضح نہیں ہے۔

کتا حکومت کی جانب سے لائیو سٹاک یعنی مال مویشی کی فہرست میں شامل ہے لیکن ملک میں کتے کے گوشت کا کاروبار کرنے سے متعلق کوئی ضابطہ موجود نہیں ہے۔

کتے کے گوشت کے استعمال سے متعلق ایک اور کوریائی خاتون کا کہنا ہے کہ ’نئی نسل کتے کو فقط پالتو جانور کے طور پر دیکھتی ہے۔ لیکن پہلے وقتوں میں کتے کو خوراک کے لیے پالا جاتا تھا جیسے خرگوش کو۔‘

وہ کہتی ہیں کہ وہ سب ہماری ثقافت کا حصہ تھا۔ بہت سے بزرگ ابھی زندہ ہیں۔ اور وہ ہماری کمیونٹی کا حصہ ہیں۔

کتے کا گوشت

Getty Images
جنوبی کوریا میں کتے کے گوشت کے کھانے بنانے والے ریستورانوں میں کمی دیکھی گئی ہے

ان کے ساتھ بیٹھے ہی ایک ساتھی کی رائے مختلف ہے وہ کہتے ہیں کہ کتے کے بچے ہمیں اچھے لگتے ہیں ہمیں گلے سے لگاتے ہیں، پیار کرتے ہیں۔

لیکن وہ سوال کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو سور اچھے لگیں گے لیکن کیا کتے اور سور سے ایک ہی جیسی محبت اور لگاؤ ہو گا؟

ان کا موقف ہے کہ میرے خیال سے دو مختلف جانوروں سے مختلف طور پر برتاؤ کرنا چاہیے۔

خیال رہے کہ سنہ 2017 سے اب تک جنوبی کوریا میں کتے کے گوشت کی دو بڑی مارکیٹں بند ہو چکی ہیں۔

دوسری جانب اب بھی سینکڑوں کتوں کو فارمز میں پالا جا رہا ہے۔

انھیں ڈاگ میٹ فارمز کہا جاتا ہے جہاں ایک پنجرے میں کئی کئی کتوں کو بند رکھا جاتا ہے۔

وہاں ان کی زندگی ایک آوارہ کتے یا پھر گھر میں پلنے والے کتے سے قدرے مختلف ہوتی ہے۔

ڈاگ فارمر ایسوسی ایشن کے صدر جو ینگ بانگ کہتے ہیں کہ ہمارا گزر بسر خطرے میں ہے۔ ہم اس کی اجازت نہیں دے سکتے کہ ہماری تجارت کو ختم کر دیا جائے۔

لیکن کتے کو خوراک کے لیے استعمال کرنے کی مخالفت کرنے والے افراد کی رائے میں یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر صبح دکانوں پر کتوں کو الٹا لٹکا دیا جاتا ہے، ان کو کاٹا جاتا ہے اور یہ عمل غلط ہے۔

کچھ کا کہنا ہے کہ ہم اس لمحے ان کی آوازیں سن رہے ہوتے ہیں۔

لیکن جو اس کے حق میں ہیں ان کی رائے میں وقت بدل رہا ہے اور جب ہم ایک دوسرے کا احترام کرتے ہیں تو ہمیں اپنے اختلافات کو بھی ختم کرنا ہوگا۔

ایک خاتون کا کہنا تھا کہ وہ کتے کا گوشت کھانے والوں کا احترام کرتی ہیں لیکن ان کی رائے میں اس انڈسٹری کے پائیدار رہنے کے لیے قانون اور ضابطہ کار وضع کیے جانا ضروری ہے۔

کتے کا گوشت بطور خوراک استعمال کرنے کو جائز قرار دینے والوں کی رائے ہے کہ صفائی کے لیے سخت اصول متعارف کیے جانے چاہیں۔

وہاں جنوبی کوریا میں ہیومن سوسائٹی انٹرنیشنل ایک رفاہی ادارہ ہے اور یہ سنہ 2014 سے کتوں کو پالنے والے افراد کے ساتھ ملکر کام کر رہا ہے۔ اور پھر ان پلے ہوئے کتوں کے لیے نیا گھر تلاش کرنے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔

یہ ادارہ اس کام کو شروع کرنے والے فارمرز کو ایک سال کی گرانٹ بھی دیتا ہے تاکہ وہ ان پالے گئے کتوں کے لیے امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ میں نیا گھر تلاش کر سکیں۔

ان کتوں کو اپنا پالتو بنانے والے افراد ان کے لیے ’ریسکیو‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے انھیں جنوبی کوریا کے ایک فارم سے ریسکیو کیا یعنی انھیں خوراک بننے سے بچایا۔

کلیئر برائٹن میں رہتی ہیں اور انھوں نے دو برس قبل جنوبی کوریا کے ایک میٹ فارم سے ایک کتے کو ریسکیو کیا جس کا نام انھوں نے ہینری رکھا ہے۔

وہ بتاتی ہیں کہ ہینری کے ساتھ پہلی ملاقات بہت جذباتی تھی۔

پنجرے میں بند بہت سارے کتے، جنھیں رفع حاجت کے لیے باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ پنجرے کے نیچے بنے سوراخوں کے نیچے تعفن اور گٹر کا منظر تھا۔

کلیئر بتاتی ہیں کہ اس ماحول سے نکلنے کے بعد نئے ماحول میں ایڈجسٹ ہونے اور لوگوں پر اعتبار کرنے میں ہینری کو ایک طویل وقت لگا لیکن ابتدائی طور پر سب سے پہلا مرحلہ یہ تھا کہ اسے کچھ بھی کرنے دیا جائے کھلی جگہ پر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14568 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp