کوروناوائرس: ماہرین کہتے ہیں موٹاپا کووڈ-19 کے خطرات کو بڑھا دیتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حد سے زیادہ موٹاپا

Getty Images
یورپ کے مقابلے میں برطانیہ میں موٹاپے کی سطح کہیں زیادہ ہے

پہلے سے موجود تحقیق کے مطالعے کے بعد ماہرین کا کہنا ہے کہ وزن کی زیادتی اور موٹاپا کووڈ-19 کے نتیجے میں مہلک امراض حتٰی کہ موت کے خطرے کو بھی بڑھا دیتا ہے۔

انگلستان میں عوامی شعبۂ صحت یا پبلک ہیلتھ انگلینڈ پہلے سے موجود شواہد کے از سر نو جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ حد سے زیادہ وزن بیماری کی صورت میں انسان کو ہسپتال اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں داخلے کا باعث بنتا ہے۔

اور وزن کے تناسب سے خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں شائع کی گئی ہے جبکہ برطانوی حکومت موٹاپے پر قابو پانے کے لیے نئے اقدامات کا اعلان کرنے والی ہے۔

پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی چیف نیوٹریشنِسٹ یا ماہر تغدیہ، ایلیسن ٹیڈسٹون کا کہنا ہے کہ حالیہ شواہد بالکل واضح ہیں کہ وزن کی زیادتی یا موٹاپا کووڈ-19 کے نتیجے میں شدید امراض یا موت کے خطرے کو بڑھا دیتا ہے۔

انھوں نے کہا ’وزن کم کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، اور کووڈ-19 کے نتیجے میں لاحق امراض کے خطرے کو بھی کم کرتا ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وزن کم کرنے کے لیے اقدامات کرنے کی اس سے زیادہ قوی دلیل اور کوئی نہیں ہے۔

یورپ کے مقابلے میں برطانیہ میں موٹاپے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ یہاں تقریباً دو تہائی بالغ افراد کا وزن زیادہ ہے یا موٹاپے کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔

برطانوی شعبۂ صحت کے مطابق بالغوں کے اندر باڈی ماس انڈکس (بی ایم آئی) یعنی جسمانی کمیت کا اشاریہ اگر 25 سے 29.9 ہو تو وہ زیادہ وزن کے زمرے میں آتا ہے، جبکہ 30 سے 39.9 بی ایم آئی موٹاپے یا فربہی کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔

بی ایم آئی کا تعین کسی شخص کے کلوگرام میں وزن کو اس کے قد کے مربع میٹر سے تقسیم کرکے کیا جاتا ہے۔

موٹاپا ناپنے کا ایک اور طریقہ کمر کی جسامت ہے۔ مردوں میں 94 سینٹی میٹر اور خواتین میں 80 سینٹی میٹر سے زیادہ کمر کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد میں موٹاپے سے متعلق امراض کا خطرہ زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق وزن کم کرنے میں مدد کرکے لوگوں کو کووڈ-19 کے مہلک اثرات سے بچایا جا سکتا ہے۔

آکسفرڈ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر سوزان جیب کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ عمر رسیدہ افراد، مرد اور جنوبی ایشیائی نژاد افراد اور بعض دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والوں میں کووڈ-19 کا خطرہ زیادہ پایا گیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اس جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تمام عوامل کے علاوہ موٹاپے کی موجودگی ایک اور خطرہ ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14568 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp