ایچ ایم ایس چینلجر: وہ بحری سفر جس نے جدید سمندری تحقیق کو جنم دیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگلینڈ کے شہر ساوتھ ہیمٹن میں نیشنل اوشنگارفی سینٹر کی ڈھیوڑی میں بحری جہازوں کے مستک پر بنایا جانے والا لکڑی کا ایک مجسمہ رکھا ہوا ہے۔ انسانی قد سے اونچا یہ مجسمہ ایک نائٹ (جنگجو) کا ہے جس کی آہنی ٹوپی کی جعلی اٹھی ہوئی ہے اور جس کی گھنی اور لمبی موچھیں ہیں۔

اس جنگجو کی نظریں کہیں بہت دور جمی ہوئی ہیں۔ یہ لکڑی کا مجسمہ اس بحری جہاز کا حصہ ہے جو دنیا کے دور دراز حصوں کے ساڑھے تین سال طویل سفر پر روانہ ہوا تھا۔

اس سفر نے سمندری سائنس کو ایک نئی جہت دی، زیر سمندر عجیب و غریب دریافتیں کیں اور سمندر اور انسان کے تعلق کو بدل کر رکھ دیا۔ اس بحری جہاز کا نام ایچ ایم ایس چینلجر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

زمین آہستہ ہوگئی ہے، زلزلے بڑھیں گے: تحقیق

خواتین زیادہ لمبی عمر کیوں پاتی ہیں؟

شمسی لہریں کیوں اٹھتی ہیں، سائنسدانوں کی نئی تحقیق

یہ سفر ایک جگہ سے دوسری جگہ کا کوئی عام سفر نہیں تھا۔ دسمبر سنہ 1872 اور مئی 1876 کے درمیان بحری جہاز کے مستک پر لگا یہ مجسمہ شمال اور جنوبی بحرہ اوقیانوس اور بحر الکاہل کے وسیع حصوں کے علاوہ قطب جنوبی کے سرد پانیوں سے بھی گزرا تھا۔

اس بحری جہاز کا پیچیدہ راستہ یا روٹ بڑا سود مند ثابت ہوا۔ اس بحری جہاز کے سفر کے اختتام پر جہاز پر سوار ایک سرکردہ تاریخ طبعی کے ماہر جان مورے نے کہا کہ پندرہیوں اور سولہیوں صدی کی دریافتوں کے بعد کرۂ ارض کے بارے میں ہمارے علم میں یہ بہت بڑا اضافہ تھا۔

ایک بحری جہاز جسے جنگی بحری بیڑے میں شامل ہونے کے لیے بنایا گیا تھا اس کے لیے یہ سفر مکمل کرنا ایک بڑی کامیابی تھی۔

برطانیہ کا ولوچ ڈاج یارڈ جو اب بند ہو چکا ہے اس میں فروری 1858 میں بنائے گئے اس بحری جہاز ایچ ایم ایس چیلنجر کو لکڑی سے بنایا گیا جو بھاپ سے چلتا تھا اور اس پر توپیں بھی نصب تھیں۔ اس کی لمبائی 61 میٹر تھی۔

اس جہاز کے بنائے جانے سے صرف ایک ہفتے قبل لندن میں ایک بہت بڑا جہاز ایچ ایم ایس گریٹ ایسٹران بحری جہاز مکمل کیا گیا تھا جو 210 میٹر لمبا تھا اور دنیا میں اس کی خبر کی گونج سنی گئی۔ اس کے برعکس ایچ ایم ایس چلینجر کی خبر کہیں سنائی نہیں دی گئی۔

سنہ 1870 میں ڈیڑھ سو سال قبل اس عالمی مہم کی کہانی اس وقت شروع ہوئی جب ایڈنبرگ یونیورسٹی کے پروفیسر اور سمندری حیات کے ماہر چارلس ویویل تھامسن نے رائل سوسائٹی لندن کو اس بات پر تیار کر لیا کہ وہ بین الاقوامی سمندروں کے اس طویل سفر میں مدد فراہم کریں۔ یہ ایک انوکھا خیال تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب گہرے سمندروں کو خشکی کے سفر اور مہمات کے راستے میں ایک روکاٹ سے زیادہ تصور کیا جاتا تھا۔

سمندر کی لہروں کے نیچے جو حیات موجود تھی وہ انسان کے لیے ایک راز ہی تھی۔ چارلس ڈارون نے 40 برس قبل ایچ ایم ایس بیگل کو سمندروں کو پانی کا صحرا قرار دیا تھا۔

اس سمندری مہم کی حکومت سے بھی اجازت لی اور جو بعد میں حاصل ہو بھی گئی۔ شاہی بحریہ نے اس مہم کے لیے اپنا ایک مضبوط جہاز ایچ ایم ایس چیلنجر دینے کا فیصلہ کیا جو دس سال تک بحری جنگی مہمات میں حصہ لے چکا تھا۔ اس کے بعد پوری سنجیدگی سے تیاریاں شروع کی گئیں۔

جہاز پر لگی 17 توپوں میں سے 15 کو نکال لیا گیا تاکہ جہاز پر تجربہ گاہوں اور کام کرنے کے لیے جگہ نکالی جا سکے۔ سمندر سے حاصل کیے گئے نمونوں کو محفوظ رکھنے کے لیے سٹور بنائے گئے۔ اس کے دو سو افراد پر مشتمل عملے کا انتخاب کیا گیا جس کا کپتان جارج ناریز کو چنا گیا۔

جارج ناریز سنہ 1869 میں نہر سویز کو پہلی مرتبہ عبور کرنے والے بحری جہاز کے کپتان ہونے کا اعزا بھی حاصل کر چکے تھے۔ چھ سائنسدانوں کی ایک ٹیم بھی تیار کی گئی جس کی سربراہی ویول تھامسن کر رہے تھے۔

سنہ 1872 میں چیلنجر کی مرمت کر کے اسے اس مہم کے لیے تیار کر لیا گیا۔ سات دسمبر سنہ 1872 انگلینڈ کی جنوب مشرقی ساحل شیئرنس سے اس جہاز نے اپنی مہم کا آغاز کیا۔ اس سال برطانیہ کے موسم سرما میں ریکارڈ بارشیں ہوئیں تھیں۔

بیالیس ماہ پر محیط اس مہم کے دوران جہاز کو ایک لاکھ 27 ہزار چھ سو کلو میٹر کا سفر مکمل کرنا تھا جس دوران اس نے 362 مقامات پر رک کر سمندر کی تہ سے نمونے اکھٹے کرنے تھے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مختلف جگہوں پر سمندر کی گہرائی اور اس گہرائی میں پانی کا درجہ حرارت بھی نوٹ کرنا تھا۔

جہاز کے عملے میں شامل ایک 19 سالہ نوجوان جوزف میٹکن کے خطوط کی بدولت ہمیں اس بات کا اندازہ ہو سکا کہ چیلنجر پر ان کے دن کیسے گزرے۔

جہاز کے روانہ ہونے کے بعد انھوں نے لکھا کہ تمام سائنسدان پورے ہفتے اپنا ساز و سامان ترتیب دینے میں مصروف رہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اس ساز و سامان میں ہزاروں کی تعداد میں کانچ کی بوتلیں، چھوٹے بکسے جو لوہے کے ٹینکس میں محفوظ کیے گئے رکھے تھے تاکہ ان میں کیڑے، تتلیاں، بھنگے، پتنگے اور مختلف پودوں کے نمونے محفوظ کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ مرکزی عشرے پر ایک فوٹوگرافک لیبارٹری اور ایک ڈائی سیکشن لیبارٹری بھی بنائی گئی تھی۔

جوزف میٹکن نے لکھا کہ جہاز پر خوارک ان کی توقع سے کم رکھی گئی تھی۔ میٹکن نے مزید لکھا کہ وہ انھیں کبھی اتنی بھوک محسوس نہیں ہوئی تھی۔

اس مہم کے دوران ہونے والی دریافتیں یقینا بہت فائدہ مند رہیں۔ اس مہم کی تفصیلات پچاس جلدوں اور ساڑھے 29 ہزار صفحات پر مشتمل ایک رپورٹ میں بیان کی گئیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چار برس پر طویل اس سفر کے دوران کتنی مفید سائنسی معلومات اکھٹی کی گئیں۔

آج آن لائن پر دستیاب اس مہم میں جمع کیے گئے 4772 نمونوں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سمندری حیات کے بارے میں کتنی معلومات اکھٹی کی گئیں۔

یہ نوادرات آج برطانیہ، آئرلینڈ اور امریکہ میں پھیلے ہوئے عجائب گھروں میں موجود ہیں جن میں لندن کا نیچرل ہسٹری میوزیم اور ایکسٹر میں رائل ایلبرٹ میموریل اینڈ آرٹ گیلری بھی شامل ہے۔

ان نمونوں کے ساتھ ہی وہ اعداد و شمار اور سائنسی پیمائشیں بھی اتنی ہی اہم ہیں جو جہاز سے سمندر میں لکٹتے اپنے زمانے کے جدید ترین آلات سے حاصل کی گئی تھیں۔ ان آلات میں کانچ کے تھرمامیٹر بھی شامل تھے جو سمندر کی تہ میں پانی کا درجہ حرارت بھی ریکارڈ کرتے رہے۔

امریکہ کے شہر میساچوسٹس میں سمندری تحقیق کے لیے وقف ادارے وڈز ہول اوشن گرافی انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر جیک گیبی کا کہنا ہے یہ اعداد و شمار جو چیلنجر نے اپنی مہم کے دوران جمع کیے وہ سمندری تحقیق کے تمام شعبوں میں بنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ چیلنجر ان لمحوں کو قید کر لیا جو وقت میں کہیں گم ہو جاتے۔ چیلنجر کی رپورٹ کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ آج بھی تمام اعلیٰ تحقیقاتی کاوشوں کے لیے بہت کار آمد ہے۔

ڈاکٹر گیبی نے کہا کہ سمندروں کے درجہ حرارت کے موسمیاتی تبدیلوں پر اثر ایک ایسا موضوع ہے جس کے لیے چیلنجر سے لیے گئے اعداد و شمار بہت بیش قیمت ہیں۔ انھوں نے کہا کہ وہ ان تمام معلومات کو ڈیجیٹائز یا کمپیوٹرز پر محفوظ کرنے کا سوچ رہے ہیں۔

بے شمار دیگر گراں قدر دریافتوں کے علاوہ چینلجر نے پہلی مرتبہ میرینا گھاٹی کو بھی دریافت کیا۔ یہ گھاٹی بحرالکاہل میں ہے اور اس کی زیر سمندر گہرائی کوہ ہمالیہ کی اونچائی سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے گہرے ترین حصے کو جو 10929 میٹر گہرا ہے اس مقام کا نام اس جہاز کے نام پر چینلجر ڈیپ رکھا گیا تھا۔

اس جہاز کے سفر میں کیپ ورد آئس لینڈ، میلبرن، ہانگ کانگ اور جاپانی بندرگاہ یوکوہاما بھی شامل تھی۔ اس جہاز کا سفر جو غیر معمولی طور پر طویل تھا وہ بلا آخر مئی 1876 میں چینلجر کے واپس برطانیہ پہنچنے پر ختم ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14632 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp