ہیری ہیرس: جنوبی کوریا میں امریکہ کے سفیر نے اپنی متنازع مونچھیں منڈوا دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیری ہیرس

AFP
ہیری ہیرس نے کہا ہے کہ انھوں نے موسمِ گرما میں راحت کے لیے مونچھیں کٹوائی ہیں

جنوبی کوریا میں امریکہ کے سفیر نے اپنی متنازع مونچھیں صاف کر دی ہیں۔ ان کی مونچوں سے متعلق چند ماہ پہلے جنوبی کوریا کے نو آبادیاتی ماضی کی وجہ سے ایک بحث چھڑ گئی تھی۔

ہیری ہیرس نے، جو کہ نیوی کے ایک ریٹائرڈ ایڈمرل ہیں، سیول میں ایک حجام کی دکان سے اپنے چہرے کے بال منڈوائے۔

انھوں نے کہا کہ ایسا انھوں نے موسم گرما میں راحت کے لیے کیا خاص کر اس وقت جب وہ کووڈ۔19 کے قوانین کی تعمیل کرتے ہوئے ماسک پہنیں ہوئے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ اور جنوبی کوریا کے تعلقات میں مونچھ کا تنازع

راجستھان میں مونچھیں روزگار کا ذریعہ

’مونچھیں ہوں تو ابھینندن جیسی ورنہ نہ ہوں۔۔۔‘

انھوں نے شیو کے دوران بنائے گئے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’اب میں بہت کوُل محسوس کر رہا ہوں۔‘

ہیری ہیرس کی مونچھوں پہ تنقید ان کی جاپان سے تعلق کی وجہ سے شروع ہوئی تھی، جس نے 1910 سے 1945 کے درمیان جنوبی کوریا پر قبضہ کیا ہوا تھا۔

رواں سال کے آغاز میں جنوبی کوریائی تبصرہ نگار اور سیاستدانوں نے کہا تھا کہ ’ہیری ہیرس کی مونچھیں تلخ نوآبادیاتی دور کی یاد دلا رہی ہیں کیونکہ ان کو دیکھ کر جاپان کے وہ گورنر جنرل یاد آتے ہیں جو اس قسم کی مونچھیں رکھتے تھے۔‘

https://twitter.com/USEmbassySeoul/status/1286820964332793856


ہیرس سنہ 2018 سے جنوبی کوریا میں امریکہ کے سفیر ہیں۔ جوبی کوریا، امریکہ کا ایک اہم فوجی اور اقتصادی ساتھی ہے۔

امریکہ نے شمالی کوریا کے کسی بھی حملے کو روکنے کے لیے جنوبی کوریا میں 28 ہزار فوجی تعینات کیے ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا نے 1950 میں جنوبی کوریا پر حملہ کیا تھا۔

ہیرس کے ان بیانات کی وجہ سے پہلے ہی تناؤ بڑھ گیا تھا جس میں انھوں نے جنوبی کوریا سے کہا تھا کہ وہ فوج پر زیادہ رقم خرچے اور اپنے ہمسایہ ملک شمالی کوریا سے تعلقات کے متعلق مختلف نقطۂ نظر رکھے۔

تنازعات کے اس ماحول کی وجہ سے ہیری ہیرس کی مونچھیں اور ان کا جاپانی ورثہ مزید متنازع ہو گیا تھا۔

گذشتہ دسمبر اخبار دی کوریا ٹائمز نے کہا تھا کہ ہیرس کی مونچھیں ’امریکہ کی تازہ ترین شبیہہ بن گئی ہیں جس میں وہ کوریا کی طرف توہین آمیز بلکہ جابرانہ رویہ رکھے ہوئے ہے۔‘

دوسری جنگِ عظیم کے جاپانی فوجی رہنماؤں جیسا کہ ہیدیکی توجو، ساداؤ آراکی اور شنروکو ہاتا کی ہیرس کی طرح کی ہی مونچھیں تھیں۔

ہدیکی توجو

Getty Images
دوسری جنگِ عظیم کے دوران جاپان کے وزیرِ اعظم ہدیکی توجو نے مونچھیں رکھی ہوئی تھیں

تاہم سکالرز کہتے ہیں کہ اس دور میں مونچھیں رکھنا ایک عام چیز تھی اور کئی علاقائی رہنماؤں نے اس دوران مونچھیں رکھی ہوئی تھیں، جن میں 1928 اور 1949 کے دوران چینی قومی حکومت کے رہنما چیانگ کائی شیک بھی شامل تھے۔

ہیرس نے، جو کہ ایک امریکی نیوی کے افسر اور ایک جاپانی خاتون کے بیٹے ہیں، کہا تھا کہ ان پر تنقید ان کی میراث کی وجہ سے کی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا تھا کہ ’میری مونچھیں، کسی وجہ سے، یہاں توجہ کا حصہ بنی ہوئی ہیں۔ مجھ پر میرے نسلی پس منظر کی وجہ سے اور کیونکہ میں جاپانی۔امریکی ہوں، میڈیا، خصوصاً سوشل میڈیا پر تنقید ہوتی ہے۔ ‘

ہیرس نے، جو اپنے 40 سالہ بحریہ کے کیریئر میں زیادہ تر مونچھوں کے بغیر رہے ہیں، کوریا ٹائمز کو بتایا کہ انھوں نے مونچھیں رکھنے کا فیصلہ بطور سفیر اپنی نئی زندگی شروع کرنے کی ایک علامت کے طور پر کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ مونچھیں اس وقت تک رہیں گی جب تک کوئی انھیں اس بات پر قائل نہیں کر لیتا کہ ’یہ کسی طرح ہمارے (جنوبی کوریا کے ساتھ) تعلقات کو مجروح کرتی نظر آتی ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14567 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp