انڈیا: ایودھیا میں مندر کی تیاری عروج پر، مسجد کی تعمیر سست روی کا شکار

سمیر آتماج مشر - صحافی، انڈیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کے تاریخی شہر ایودھیا میں پانچ اگست کو رام مندر کی تعمیر کے لیے بھومی پوجن یعنی زمین کی پوجا کی تیاریاں زور زور سے جاری ہیں۔

یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی سمیت تقریباً دو سو مہمان یہاں پہنچیں گے اور کورونا بحران کے باوجود اس موقع کو عالی شان بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ اترپردیش کے وزیراعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ان تیاریوں کا جائزہ لیا ہے۔

دوسری جانب ایودھیا سے تقریبا 25 کلومیٹر دور دھنی پور گاؤں کی حالت اترپردیش کے دوسرے کورونا متاثرہ دیہاتوں کی طرح ہی ہے۔

گاؤں میں کچھ مریضوں میں کورونا وائرس پائے جانے کے بعد گاؤں کے کچھ حصوں میں نقل و حرکت بند ہے جبکہ گاؤں کے باقی حصوں میں کافی چہل پہل ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بابری مسجد تنازع:’کچھ سوال جن کا جواب کسی کے پاس نہیں‘

بابری مسجد کی کہانی، تصویروں کی زبانی

ایودھیا کیس: فیصلے کے دن کے مناظر

خیال رہے کہ بابری مسجد اور رام مندر تنازعے پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اترپردیش حکومت نے عدالت عظمیٰ کے حکم کے تحت دھنی پور گاؤں میں مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ اراضی سنی وقف بورڈ کو دی ہے۔ یہ اراضی محکمہ زراعت کے 25 ایکڑ فارم ہاؤس کا حصہ ہے جہاں اس وقت دھان کی فصل لگی ہے۔

کسی کو دلچسپی نہیں

دھنی پور میں مسجد کی تعمیر کے لیے ریاستی حکومت نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر زمین تو دے دی لیکن چھ ماہ گزرنے کے بعد نہ تو زمین کے بارے میں اور نہ ہی مسجد کی تعمیر کے لیے کوئی جوش و خروش ہے۔ ابھی تک صرف وقف بورڈ والے محکمہ محصولات کے ساتھ محض زمین دیکھنے آئے ہیں۔

سنی وقف بورڈ کے چیئرمین ظفر احمد فاروقی نے کہا: ’زمین ملنے کے بعد ہم کچھ طے کرتے اس سے پہلے لاک ڈاؤن شروع ہو گیا۔ ابھی اس کی صحیح پیمائش بھی ٹھیک سے نہیں کی جا سکی۔ اب بقر عید بھی سر پر ہے اور پانچ تاریخ کو وہاں بھومی پوجن بھی ہے۔ اب جو کچھ ہو گا وہ اس کے بعد ہی ہو گا۔‘

ظفر فاروقی بھی اعتراف کرتے ہیں کہ لوگوں میں مسجد کے بارے میں کوئی خاص جوش و جذبہ نہیں۔ ایودھیا قصبے کے تمام مسلمانوں نے پہلے ہی یہ کہہ کر اپنی ناراضگی ظاہر کر دی ہے کہ 25 کلومیٹر دور دیہات میں زمین دینے سے کیا فائدہ ہے؟

عدم دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ مسلم طبقہ سے وابستہ بیشتر لوگوں نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ مسجد کے بجائے وہاں ہسپتال، سکول، کالج، لائبریری جیسی کوئی چیز بنا دی جائے۔

دھنی پور گاؤں کے سربراہ راکیش کمار یادو کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان کا گاؤں مسلم اکثریتی گاؤں ہے لیکن مسجد کی تعمیر کے بارے میں کوئی جوش نہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب گاؤں میں مسجد کے لیے زمین دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو بہت سے لوگ خوش تھے کہ اس کی وجہ سے ان کے گاؤں کو بین الاقوامی سطح پر پہچان مل گئی ہے۔

زمین پر چاول کی کاشت ہو رہی ہے

گاؤں کے سربراہ راکیش کمار یادو کہتے ہیں ’جب اعلان ہوا تھا تو ہر کوئی دیکھنے آیا تھا لیکن اس کے بعد کوئی پوچھنے نہیں آیا۔ زمین ابھی بھی وہیں پڑی ہے، ابھی ویسی ہی ہے۔ خالی پڑی تھی تو دھان کی کھیتی ہو رہی ہے۔ جب پیمائش ہو جائے گی تو یہ زمین وقف بورڈ کو دے دی جائے گی۔ ہمارے گاؤں میں کسی کو اس میں دلچسپی نہیں کہ مسجد کب بنے گی یہ کس طرح تعمیر ہو گی۔‘

ایودھیا میں بابری مسجد کی زمین کے مالکانہ حق کی قانونی لڑائی لڑنے والے ایک اہم فریق حاجی محبوب کا کہنا ہے کہ ’اتنی دور زمین دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایودھیا کے مسلمان وہاں جا کر نماز نہیں پڑھ سکتے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں زمین نہیں چاہیے لیکن اگر دینا ہی ہے تو یہ ایودھیا اور شہر میں ہی دینی چاہیے تھی۔‘

دوسری جانب بابری مسجد کے ایک اہم فریق اقبال انصاری بھی دھنی پور میں مسجد کے لیے اراضی دینے کو مسترد کرتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں ’بابری مسجد ایودھیا میں تھی اور اس کے لیے زمین بھی ایودھیا میں دی جانی چاہیے تھی۔ جہاں پہلے سے ہی ایک مسجد ہے جسے وسیع کیا جاسکتا ہے۔ اگر حکومت ایودھیا میں زمین فراہم نہیں کرتی تو لوگ گھروں میں بھی نماز پڑھ لیں گے۔ 25-30 کلومیٹر دور زمین دینے کا کیا مطلب ہے؟ کسی کو دھنی پور کی مسجد کے بارے میں کیا دلچسپی ہو گی؟ اسی طرح آس پاس بہت سی مساجد ہیں۔‘

بورڈ کا فیصلہ یا مسلمانوں کا فیصلہ

خیال رہے کہ دھنی پور گاؤں میں جہاں حکومت نے زمین دینے کی تجویز منظور کی ہے وہ جگہ مسلم آبادی کے قریب ہے اور قریب ہی ایک درگاہ ہے جہاں ہر سال میلہ لگتا ہے۔ دھنی پور گاؤں بھی مسلم اکثریتی ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ گردونواح میں بہت سی مساجد ہیں لیکن بابری مسجد تنازع کے تاریخی فیصلے کے بعد تعمیر ہونے والی مسجد دیگر مساجد سے کچھ مختلف ہونی چاہیے لیکن مقامی لوگوں کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے تمام اراکین نے بھی ریاستی حکومت کے فیصلے کی مخالفت کی اور سنی وقف بورڈ پر اسے قبول نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا لیکن سنی وقف بورڈ نے زمین کی حکومتی پیشکش کو قبول کیا اور اب وہاں مسجد بنانے کی تیاری کریں گے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے سینئر رکن مولانا یاسین عثمانی کا کہنا ہے ’سنی وقف بورڈ مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی، یہ حکومت کا ادارہ ہے۔ ہم بورڈ سے درخواست کر رہے تھے کہ وہ زمین نہ لیں لیکن اگر بورڈ نے زمین لے لی ہے تو اسے مسلمانوں کا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ یہ صرف بورڈ کا فیصلہ ہے۔‘

ادھر ایودھیا میں بھومی پوجن کی تیاریاں زور زور سے شروع ہیں۔ شری رام جنم بھومی ٹرسٹ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پانچ اگست کو ملک اور بیرون ملک مقیم رام کے تمام عقیدت مند دیپ یعنی دیا جلائیں۔ ایودھیا میں بھی اس دن ہر ایک سے اپنے گھروں میں دیپ جلانے کی اپیل کی گئی ہے اور بھومی پوجن پروگرام کو عظیم الشان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تاریخی طور پر چھ دسمبر سنہ 1992 کو ہندوؤں کے ایک بڑے ہجوم نے تقریبا ساڑھے چار سو سال قدیم بابری مسجد کو مسمار کردیا تھا۔ اس وقت یوپی میں کلیان سنگھ کی سربراہی میں بی جے پی کی حکومت تھی اور اس واقعے کے بعد ریاستی حکومت کو برخاست کردیا گیا تھا۔

اس وقت انڈیا کے وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ نے اس واقعے کو وحشیانہ کارروائی قرار دیتے ہوئے مسجد کی تعمیر نو کا وعدہ کیا تھا لیکن اس کے بعد سے سات نومبر سنہ 2019 تک یہ معاملہ عدالتوں کا چکر لگاتا رہا۔

گذشتہ سال نو نومبر کو چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے تنازعے کے حل کے طور پر متفقہ فیصلہ دیا تھا۔

اس کے تحت ایودھیا کی 2.77 ایکڑ پوری متنازع اراضی کو رام مندر کی تعمیر کے لیے دیا گیا اور مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ ایکڑ اراضی دوسری جگہ پر مسلمانوں کو دینے کا فیصلہ بھی سنایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14584 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp