ٹک ٹاک: مصری انفلوئنسرز کو ’غیر مہذب‘ ویڈیوز بنانے پر دو سال قید اور جرمانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹک ٹاک

BBC

مصر میں ایک عدالت نے پانچ جوان خواتین کو سوشل میڈیا ایپ ٹک ٹاک پر ’غیر مہذب‘ ویڈیوز شیئر کرنے کے الزام میں دو، دو سال قید کی سزا سنائی ہے۔

پانچوں خواتین کو 19 ہزار ڈالر کا جرمانہ بھی کیا گیا ہے تاہم ان سب کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

یہ سزائیں مصر کی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف جاری کارروائیوں کی پہلی کڑی ہے اور آن لائن صارفین کی جانب سے ان سزاوں کے بعد پانچوں لڑکیوں کی رہائی کے لیے ایک پرزور مہم جاری ہے۔

سرکاری خبر رساں ویب سائٹ الاحرام کے مطابق قاہرہ کی ایک عدالت نے حنين حسام، مودۃ الادہم اور تین دیگر خواتین کو دو، دو سال قید اور تین لاکھ مصری پاؤنڈ جرمانے کی سزا سنائی۔

یہ بھی پڑھیے

’ٹک ٹاک ڈیڈی‘ پر بچوں کو خرچہ نہ دینے کا الزام

لاکھوں فالوورز والے انڈین ٹک ٹاک سٹارز اتنے پریشان کیوں ہیں؟

مصر میں جنسی استحصال کے واقعات کے بعد قانون میں تبدیلی

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے ایسا مواد اپ لوڈ کیا جو کہ مصر کے معاشرتی اقدار کے خلاف ہے اور ایسی فحش تصاویر اور ویڈیوز لگائیں جنھوں نے عوام کے احساسات کو مجروح کیا۔

تین خواتین جن کے نام ظاہر نہیں کیے گئے، ان پر مردوں کے ساتھ ’غیر مہذب‘ ویڈیو کالز میں حصہ لینے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں حال ہی میں ہونے والی گرفتاریوں کے بعد عدالت کی جانب سے خواتین سوشل میڈیا انفلوئینسرز کے خلاف یہ پہلی سزا ہے۔ ان گرفتاریوں میں زیادہ تر ٹک ٹاک پر مشہور خواتین کو نشانہ بنایا گیا۔

ٹک ٹاک

Getty Images

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حسام کو اپریل میں ایک تین منٹ کا کلپ پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا جس میں وہ اپنے 13 لاکھ فالوورز کو بتاتی ہیں کہ لڑکیاں ان کے ساتھ کام کر کے پیسے کما سکتی ہیں۔

ادہام کو مئی میں ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر، جہاں ان کے کم از کم 20 لاکھ فالوورز ہیں، طنزیہ ویڈیوز پوسٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا۔

ان خواتین پر اپنے مواد کے ذریعے ’فحاشی‘ پھیلانے اور ’فحاشی‘ کے لیے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا ہے تاہم یہ واضح نہیں کہ حکام کو ان کی کن ویڈیوز اور تصاویر پر تشویش ہے۔

مصر کے قانون کے تحت ’فحاشی پر اکسانے‘ کے الزام کو کئی طرح کے جرائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

پبلک پراسیکیوٹر کا دفتر اکثر اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کیسے یہ الزام ’مصر کی معاشرتی روایات اور اخلاقیات کے خلاف ہے۔‘

حالیہ مہینوں میں مصر میں ٹک ٹاک کی مقبولیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14652 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp