پاکستان میں غلط مقدمات میں سزا کے عوض معاوضے کا طریقہ کار کیا ہے؟

سحر بلوچ - بی بی سی اردو، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیل

Getty Images
جو افراد جھوٹے مقدمات میں اپنی زندگی کا ایک حصہ جیلوں میں گزار دیتے ہیں تو پاکستان کی کوئی بھی عدالت یا کوئی بھی قانون جیل میں گزاری جانے والی اس مدت کا ازالہ نہیں کرسکتا

اوکاڑہ سے تعلق رکھنے والے سید ضیا عباس شاہ کو تقریباً دس سال جیل میں قید کے بعد رہائی ملی اور وہ اس بنیاد پر کہ ان کے خلاف اغوا برائے تاوان کا الزام غلط تھا۔

سید ضیا پر ان کے ساتھ کاروبار کرنے والوں نے ایک جھگڑے کے بعد یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ان کے ایک ساتھی کو مبینہ طور پر اغوا کر کے تاوان مانگا تھا۔

نتیجتاً سید ضیا کو 2004 میں پہلے فیصل آباد کی ایک جیل میں رکھا گیا اور پھر وہاں سے ساہیوال جیل منتقل کردیا گیا۔

سید ضیا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’جیل میں موجود دیگر قیدیوں کے ذریعے مجھے ایسی تنظیموں کے بارے میں پتا چلا جو غلط مقدمات میں سزا پانے والے قیدیوں کی مدد کرتی ہیں۔ پھر یہ بھی بتایا گیا کہ میں سپریم کورٹ میں درخواست جمع کروا سکتا ہوں۔ درخواست جمع کرانے کے تین سال بعد پیشی ہوئی اور اس کے بعد نومبر 2012 میں مجھے باعزت بری کیا گیا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان میں جھوٹا مقدمہ دائر کرنے کی کیا سزا ہے؟

آسیہ بی بی کو کیوں بری کیا گیا؟

بیوی زندہ مگر شوہر قتل کے الزام میں جیل میں

’میں بہت خوش ہوں کہ شاہ زیب جیلانی آزاد ہیں‘

پاکستان

EPA
ایسا مقدمہ جس میں کسی ملزم کو مقامی عدالت نے موت کی سزا سنائی ہو یا سزا ہوسکتی ہو اور مقامی عدالت یا اعلیٰ عدالتوں نے اُنھیں ان الزامات سے بری کردیا گیا ہو تو ایسے مقدمے کے مدعی کو سات سال قید کی سزا ہے

لیکن قید سے باہر آنے کے سات سال بعد بھی ضیا کو ’پکی نوکری‘ نہیں مل پارہی اور اس دوران جن لوگوں کو ان کے جیل میں وقت گزارنے کے بارے میں پتا چلتا ہے وہ ان کے ساتھ کاروبار نہیں کرنا چاہتے۔

سید ضیا عباس شاہ نے اس غلط سزا کے عوض معاوضہ حاصل کرنے یا خود پر مقدمہ کرنے والوں کے خلاف کوئی درخواست نہیں دی کیوںکہ ان کے مطابق یہ عمل آسان نہیں اور طویل بھی ہے۔

غلط سزا کاٹنے کے عوض معاوضہ

وکیل

Getty Images
ملک میں ایسا کوئی قانون نہیں ہے جس میں ماتحت عدلیہ کے کسی جج کے خلاف اس کے فیصلے سے متعلق اس کا مواخذہ کیا جائے

ہائی کورٹ کی جانب سے 2017 اور 2018 میں ملک بھر میں ہونے والے سزائے موت کے مقدمات پر تحقیق کرنے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ غلط مقدمے میں پھنسے قیدی کی سزا کو بدلنے میں تقریباً گیارہ سال کا عرصہ لگتا ہے۔

اسی طرح کے ایک مقدمے کی نشاندہی جسٹس پراجیکٹ پاکستان نے کی جس میں سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی طرف سے 2008 میں معاوضے کی درخواست کی تصدیق کرتے ہوئے درخواست گزار روشن دین کے بھائی نیاز محمد کو غلط مقدمے میں قید گزارنے کے عوض یومیہ 5000 روپے دینے کا حکم جاری کیا اور صوبہ سندھ، ہوم ڈیپارٹمنٹ، سپرانٹینڈنٹ سینٹرل جیل کو مجموعی طور پر چار لاکھ دس ہزار دینے کا حکم دیا تھا۔

یہ اپنی نوعیت کا انوکھا کیس اس لیے تھا کہ ایسی مثالیں بہت کم دیکھنے میں آتی ہیں۔ کیونکہ زیادہ تر مقدمات میں درخواست گزار اپنے ساتھ ہونے والے نقصان کا ازالہ نہیں کرنا چاہتے۔

اکثر غلط مقدمات کے نتیجے میں لوگوں کی زندگی ایک طرح سے ختم ہوجاتی ہے۔ اور جب قید سے رہائی ملتی ہے، تب تک حالات تبدیل ہونے کے نتیجے میں ان تمام لوگوں کو نئے سِرے سے زندگی کا آغاز کرنا پڑتا ہے۔

اسی بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دنیا بھر میں حکومتیں غلط مقدمات میں قید ہونے والوں کو معاوضہ دیتی ہیں۔

پاکستان میں طریقہ کار کیا ہے؟

پاکستان میں اس کے دو طریقہ کار ہیں: یا تو قیدی سِول سوٹ یا مقدمہ درج کروا سکتے ہیں یا پھر فوجداری مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔

ایڈووکیٹ سندھ ہائی کورٹ فیصل صدیقی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اگر آپ کو غلط مقدمے میں پھنسایا گیا ہے تو آپ باہر نکلنے کے بعد سول کورٹ میں تمام تر نقصانات جیسے کہ نوکری کا چلے جانا، زندگی کے کئی سال خراب ہو جانا، یہ سب شامل کرسکتے ہیں اور بدنیتی کا مقدمہ درج ہوسکتا ہے۔‘

دوسرے طریقہ کار میں غلط مقدمہ بنانے والوں کے خلاف بھی مقدمہ درج ہوتا ہے۔ چاہے وہ حکومتی ارکان ہوں یا پھر کسی نجی ادارے سے منسلک۔ لیکن اس مقدمے میں دوسرے فریق کو سزا دی جاتی ہے اور معاوضہ نہیں ملتا۔

اسی طرح نیب کے قانون میں یہ لکھا ہے کہ اگر کوئی تفتیشی افسر جعلی مقدمہ بناتا ہے تو اس کو سزا مل سکتی ہے۔

اسی طرح انسدادِ دہشتگردی کے قانون میں یہ شرط موجود ہے کہ اگر کوئی پولیس افسر جعلی مقدمہ بناتا ہے تو اس کو بھی سزا مل سکتی ہے۔

اسی طرح ایسے دیگر مقدمات بھی سامنے آتے رہے ہیں جن میں قید ہونے والوں نے غلط سزاؤں کے عوض اور قانون کے تحت معاوضہ طلب کیا ہے۔

مثال کے طور پر فوجداری کا قانون (سی آر پی سی 1898) کا سیکشن 250 اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ غلط مقدمات میں سزا پانے والوں کو ایک محدود معاوضہ ملے۔ لیکن اس کا اطلاق ان مقدمات پر نہیں ہوتا جو مجسٹریٹ کے تحت چلائے جارہے ہوں۔

حالانکہ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے کئی بار سی آر پی سی کے اسی قانون کے تحت مقدمات کے غلط ثابت ہونے پر معاوضے کا اعلان کیا ہے۔

اسی طرح ایڈووکیٹ بتاتے ہیں کہ ان مقدمات میں معاوضے کا کوئی قانون نہیں ہے اور سیکشن 250 کے ذریعے بھی کچھ مقدمات میں معاوضہ ملتا ہے اور کچھ میں نہیں۔

غلط مقدمات کے عوض معاوضہ حکومت سے مانگا جاتا ہے۔ عدالت ایسے میں ضامن کے طور پر یہ دیکھ سکتی ہے کہ معاوضہ بروقت مل سکے۔ ان مقدمات کے دوران حکومت یہ کہہ سکتی ہے کہ یہ مقدمہ ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر بنایا گیا تھا جس کے پیچھے کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی۔

بیرسٹر صلاح الدین احمد کہتے ہیں کہ ’اگر بدنیتی ثابت نہیں ہوسکے گی تو معاوضہ نہیں مل سکے گا۔ اسی بنیاد پر کئی مقدمات آگے نہیں بڑھ پاتے یا پہلے ہی ختم ہوجاتے ہیں۔‘

دوسری جانب مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ نثار شاہ بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ جنھیں معاوضہ ملا ہو وہ بہت کم ہیں۔کیونکہ زیادہ تر لوگ معاوضے کے لیے مقدمہ درج ہی نہیں کرانا چاہتے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ان کے لیے یہی کافی ہوتا ہے کہ وہ قید سے باہر آگئے ہیں۔‘

تاہم ایسے تمام تر مقدمات ’ٹورٹس‘ کے قانون کے تحت چلتے ہیں جس کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں اور اکثر اوقات آسان راستہ ڈھونڈنے کے عوض لوگوں کو بتایا بھی نہیں جاتا۔

اس قانون کے تحت درخواست گزار اپنے نقصان کا معاوضہ حکونت سے طلب کر سکتے ہیں۔

لوگ معاوضے کے لیے مقدمہ کیوں نہیں دائر کرتے؟

سول سوٹ پاکستان میں بہت لمبے عرصے کے لیے چلتے ہیں۔ یعنی کم و بیش بھی اگر حساب لگا لیا جائے تو 10 سے 15 سال کا عرصہ ضرور لگ جاتا ہے۔

اور ان مقدمات کو چلانے کے لیے عدالتوں کے چکر لگانے کے ساتھ ساتھ وکیلوں کا بھی خرچہ موجود ہے۔ اور ان سب کے باوجود یہ بھی یقینی نہیں ہوتا کہ معاوضہ ملے گا۔

ایڈووکیٹ نثار شاہ نے بتایا کہ دوسری وجہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے کہیں وہ انتقام نہ لیں یا دوبارہ مقدمہ نہ درج کر دیں۔

اسی طرح جعلی یا غلط ایف آئی آر کے خلاف بھی مقدمہ ان خطرات کی بنیاد پر نہیں کیا جاتا۔

کیا درخواست گزاروں کے لیے کوئی گنجائش موجود ہے؟

بیرسٹر صلاح الدین کہتے ہیں کہ اس میں ایک ایسا طریقہ کار ہونا چاہیے کہ اگر تو کوئی قیدی رہائی پا گیا ہے تو جج کو فیصلہ سناتے ہوئے اس شخص کے ہونے والے نقصان کا معاوضہ بتا دینا یا وضح کر دینا چاہیے تاکہ کم از کم نقصانات کا ازالہ ہوسکے۔

ان کے مطابق ایسی صورتحال میں بعد میں وہی شخص اگر مزید نقصانات بیان کرنا چاہے اور اس کے خلاف مقدمہ دائر کرنا چاہے تو اس کے پاس ایسا کرنے کی گنجائش موجود ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14567 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp