انڈیا کی ’ٹرین ڈپلومیسی‘: آخر بنگلہ دیش پر اتنی مہربانیاں کیوں؟

سروج سنگھ - بی بی سی ہندی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا بنگلہ دیش تعلقات

Getty Images
27 جولائی کو انڈیا نے بنگلہ دیش کو دس لوکوموٹیوز بطور تحفہ بھیجے ہیں جبکہ ٹرین کے ذریعے باہمی تجارت کے آغاز کا بھی اعلان کیا ہے

اصل دوست کی پہچان مشکل گھڑی میں ہی ہوتی ہے۔ یہ بات دو افراد کے درمیان دوستی اور دو ممالک کے درمیان دوستی پر بھی لاگو ہوتی ہے۔

کورونا کے دوران اس پریشانی کی گھڑی میں میڈیا کے بعض حلقوں میں ایسی خبریں شائع ہوئی ہیں کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کی دوستی کے درمیان پاکستان اور چین آ رہے ہیں۔ لیکن کیا حال ہی میں شروع کی گئی انڈیا کی ’ٹرین ڈپلومیسی‘ بنگلہ دیش سے تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرے گی۔

اس ضمن میں 12 جولائی کو انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش کے صوبہ گنٹور سے انڈیا نے بنگلہ دیش کو مال گاڑی کے ذریعے خشک مرچ کی پہلی کھیپ بھیجی، اس کے بعد 18 جولائی کو ریاست مہاراشٹر کے ناسک ضلع سے ایک ٹرین میں پیاز بھر کر بھیجا گیا۔ اور پھر دس دن کے بعد یعنی 27 جولائی کو ایک بار پھر دس ڈیزل لوکوموٹیو یعنی ٹرین انجن بنگلہ دیش بھیجے گئے۔

ان ڈیزل لوکوموٹیوز کا معاہدہ سنہ 2019 میں بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ کے انڈیا کے دورے کے دوران ہوا تھا۔ انڈین ریلوے کے مطابق یہ ’لوکوموٹیوز دوستی کی سوغات کے طور پر بنگلہ دیش کو دیے جا رہے ہیں تاکہ دونوں ممالک میں ریل کے ذریعے تجارت کو بڑھایا جا سکے۔‘

دس لوکوموٹیوز کو انڈیا کی جانب سے بنگلہ دیش کے حوالے کرنے کی تقریب کے اس اجلاس میں دونوں ممالک کے وزارت ریل اور وزارت خارجہ کے نمائندے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے موجود تھے۔

یہ بھی پڑھیے

چین نیپال سے الجھا انڈیا اور ادھر پاکستان بنگلہ دیش میں ’بڑھتے تعلقات‘

بنگلہ دیش اور انڈیا میں زیادہ خوش حال کون؟

50 سال کے بعد انڈیا بنگلہ دیش ریل سروس بحال

کیا بنگلہ دیشی انڈین شہریت لینا چاہیں گے؟

بی بی سی سے انڈین ریلوے کے ترجمان راجیش واجپائی نے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’سنہ 1996 میں انڈین ریلوے نے دس میٹر گیج لوکوموٹیو بنگلہ دیش کو دیے جبکہ سنہ 2001 سے 2014 کے دوران 40 مزید براڈ گیج لوکومیٹو دیے گئے تھے۔ اسی طرح سنہ 2016 اور 2017 میں انڈیا نے بنگلہ دیش کو ٹرین کی مسافر کوچیں بھی دیں تھیں۔‘

راجیش واجپائی کے مطابق ’آج جو لوکوموٹیوز(ٹرین انجن) انڈیا کی جانب سے بنگلہ دیش کو دیے گئے ہیں وہ اپنے آپ میں ایک خاص بات ہے۔ ان انجنوں کو مسافر ٹرین اور مال گاڑی دونوں ہی طرح سے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔‘

انڈیا کی مرکزی حکومت تو یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلے سے ہی بہتر تعلق قائم ہے اور ان انجنوں کو بطور تحفہ دینا دونوں ممالک میں دوستی کو مزید بہتر کرنے کے مترادف ہے۔

مغربی بنگال کی حکومت کا اعتراض

عالمی تجارت کے ماہر اور انڈیا کے ترقی یافتہ ممالک میں تحقیق و اطلاعات کے ادارے سے منسلک پروفیسر پرابیر ڈے کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال کی حکومت نے گذشتہ تین ماہ سے سڑک کے راستے دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت پر پابندی عائد کر رکھی تھی۔ اس کی وجہ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنا بتایا گیا تھا اور ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے کووڈ 19 کی وبا کے دوران دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی تجارت سے متعلق ایک علیحدہ ضابطہ کار تیار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انڈیا اور چین سے متعلق

‘کیا انڈیا چین کے جال میں پھنس چکا ہے؟’

انڈیا چین تنازع: کیا انڈیا کے مقابلے میں چین بہتر پوزیشن میں ہے؟

چین کے متعلق مودی حکومت کے بیانات میں اتنا تضاد کیوں

انڈیا، چین سرحدی تنازع سے متعلق اہم سوالات کے جواب

پروفیسر پرابیر کہتے ہیں کہ مارچ سے مئی کے ماہ تک دونوں ممالک کے درمیان سڑک کے راستے ہونے والی تجارت بالکل بند پڑی تھی اس لیے مرکزی حکومت نے ممتا بینرجی کی حکومت کی پابندیوں کو توڑنے کا یہ حل نکالا ہے۔ چونکہ ریلوے اور جہاز رانی دونوں وزارتیں مرکزی حکومت کے تحت کام کرتی ہیں اس لیے حکومت نے اپنے طریقے سے ایک نئی شروعات کی ہے۔

اب تک انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان تقریباً 80 فیصد تجارت سڑک کے ذریعے پیٹرا پول-بیناپول سرحد سے ہوتی رہی ہے۔

پروفیسر پرابیر کہتے ہیں کہ مغربی بنگال کے اسی علاقے میں کورونا کے متاثرین کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔

ان کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران مرکزی حکومت نے ملک کی دیگر ریاستوں کے ذریعے بھی سامان بنگلہ دیش بھجوانا شروع کر دیا ہے کیونکہ مرکزی حکومت کا کہنا تھا کہ صرف مغربی بنگال کے راستے کو استعمال کیا گیا تو کورونا کے پھیلاؤ کا خطرہ زیادہ ہے۔ مغربی بنگال کی حکومت اس اقدام کے خلاف تھی بلکہ مقامی افراد نے بھی اس کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔

پیٹراپول- بینا پول انڈیا اور بنگلہ دیش کی سرحد پر واقع ہے لیکن یہ پاکستان اور انڈیا کی سرحد پر واہگہ- اٹاری جیسا علاقہ نہیں ہے۔ یہاں دونوں جانب بہت زیادہ آبادی ہے اور دیکھنے میں یہ علاقہ نیپال کی سرحد سے متصل بہار کے رکسول علاقے جیسا ہے۔

پروفیسر پرابیر کہتے ہیں کہ مغربی بنگال کے عوام کے احتجاج کے باعث مرکزی حکومت کو بنگلہ دیش سامان بھیجنے میں مشکل کا سامنا تھا۔

انڈیا اور نیپال سے متعلق

انڈیا اور نیپال کی سرحد پر کیا ہو رہا ہے؟

لپو لیکھ تنازع: ’نیپال اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑے گا‘

نیپال انڈیا سے ناراض کیوں؟

نیپال: انڈیا ہماری زمین سے ’فوری طور پر نکلے‘

پروفیسر پرابیر بتاتے ہیں کہ اس صورتحال میں عید کے قریب مرکزی حکومت کو ایسی مشکل اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا کہ انڈیا نے جو ہری مرچ بنگلہ دیش بھیجی وہ وہاں پہنچتے پہنچتے لال ہو گئی اور پھر بنگلہ دیش نے اسے لینے سے انکار کر دیا۔ ان کے مطابق انڈیا بنگلہ دیش کو متعدد ایسی اشیا بھیجتا ہے جن کا جلدی خراب ہونے کا ڈر ہوتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ انڈیا کو متبادل راستوں کے بارے میں سوچنا پڑا۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ‘انڈیا کی لینڈ پورٹ اتھارٹی نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے لیے نیا راستہ تلاش کیا، لیکن یہاں جانوروں کی سمگلنگ بہت زیادہ ہوتی ہے اور یہ علاقہ پوری طرح سے تجارت کے اعتبار سے تیار بھی نہیں ہے۔ مغربی بنگال کی حکومت نے اس بارے بھی اعتراض ظاہر کیا جس کے بعد مرکزی حکومت نے ٹرین کے راستے کا انتخاب کیا ہے۔‘

پاکستان اور چین کی بڑھتی ہوئی قربت

لیکن ڈھاکہ یونیورسٹی میں انٹرنیشنل ریلیشنز کے پروفیسر امتیاز احمد کہتے ہیں کہ اس ’ٹرین ڈپلومیسی‘ میں سے بہت زیادہ معنی نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے اچھے تعلقات رہے ہیں اور یہ نئی ٹرین چلانا اور نئے لوکوموٹیو بنگلہ دیش کو دینا اسی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق ٹرینوں سے ایک مرتبہ میں زیادہ سامان لایا یا بھیجا جاسکتا ہے۔ اس لیے انڈیا کی حکومت اس طرح کے اقدامات کر رہی ہے۔

انڈین ریلوے نے بھی جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ ٹرین کے ذریعے سامان بھیجنے میں لاگت کم آتی ہے۔

گذشتہ چند ماہ سے دونوں ممالک کے ذرائع ابلاغ میں اس طرح کی خبریں بھی آرہی ہیں کہ بنگلہ دیش کے ساتھ چین اور پاکستان کی قربت بڑھ رہی ہے۔ 22 جولائی کو پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بنگلہ دیش کی وزیر اعظم شیخ حسینہ سے فون پر بات کی تھی۔

حال ہی میں بنگلہ دیش کے اربوں ڈالر کے منصوبے چین کو بھی ملے ہیں۔ اس کے علاوہ چین نے بنگلہ دیش کے سازو سامان کو کئی طرح کے ٹیکس سے رعایت دے کر دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت میں اضافہ کیا ہے۔

کیا انڈیا اور بنگلہ دیش کے رشتوں میں تلخی آ گئی ہے؟

اس سوال کے جواب میں پروفیسر امتیاز احمد کہتے ہیں کہ ’یہ بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی کا ہمیشہ سے حصہ رہا ہے کہ دو ممالک کے درمیان جھگڑے میں بنگلہ دیش کسی کی حمایت نہیں کرتا اور یہی وجہ ہے کہ بنگلہ دیش نے وادی گلوان میں انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔‘

کورونا کے دور میں مدد

حال ہی میں کورونا وائرس کی جو ویکسین چین میں تیار کی جا رہی ہے اس کی بنگلہ دیش میں آزمائش کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ پروفیسر امتیاز اسے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت کے طور پر نہیں دیکھتے۔ ان کے مطابق چین میں کورونا کے مریض کم ہیں اور اس لحاظ سے بنگلہ دیش سے چین نے مدد مانگی اور وہ مدد کے لیے تیار بھی ہو گیا۔

ان کے مطابق ’اس سے زیادہ اس میں معنی نہیں تلاش کرنے چاہییں۔‘

غور طلب ہے کہ گذشتہ ماہ انڈیا کا پرانا دوست مانا جانے والا نیپال بھی انڈیا کے ساتھ کئی مسائل پر الجھتا دکھائی دیا ہے۔

انڈین حکومت کے شہریت سے متعلق متنازع قانون کے مسئلے پر گذشتہ دسمبر میں بنگلہ دیش کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا۔

بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبدالمومن اور وزیر داخلہ اسد زمان خان نے اپنا انڈیا کا دورہ بھی منسوخ کر دیا تھا۔

10 لوکوموٹیو بنگلہ دیش کو دینے کے فیصلے کو انڈیا کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ’نیبر ہُڈ فرسٹ‘ یعنی ’پہلے پڑوسی‘ پالیسی کا حصہ بتایا ہے۔

انڈیا کے وزیر ریلوے پیوش گویل نے اس موقع پر کہا ’فی الحال دونوں ممالک کے درمیان ٹرین کے 8 انٹرچینج پوائنٹ ہیں جس میں چار فی الوقت کام کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باقی دو پوائنٹ جلد ہی تیار کیے جائیں گے۔ ہم ریل کے ذریعے اپنے رشتے کو 1965 کے دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں جہاں یہ آٹھ کے آٹھ پوائنٹ زیر استعمال تھے۔‘

اتنا ہی نہیں بلکہ کورونا کے دور میں ہی گذشتہ ہفتے پہلی بار انڈین ریلوے نے صابن اور تیل جیسی روز مرہ کی ضرورت کی بنیادی اشیاء سے بھرے 50 کنٹینر بھی بنگلہ دیش بھیجے تھے۔

سنہ 2019 میں بنگلہ دیش نے انڈیا سے 1 ارب ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کی تھیں جو اب تک کی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14622 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp