چلاس میں سی ٹی ڈی کا چھاپہ: پانچ اہلکاروں سمیت سات افراد کی ہلاکت کا معاملہ کیا ہے؟

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر کے علاقے چلاس میں پیر کو انسدادِ دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک چھاپے کے دوران پانچ پولیس اہلکاروں اور دیگر دو افراد کی ہلاکت کے بعد اس حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔

گذشتہ روز کو ہلاک ہونے والے دو افراد کے لواحقین کی جانب سے شاہراہ قراقرم پر احتجاج کیا گیا جس کے بعد گلگت بلتستان کے نگران وزیرِ اعلیٰ نے واقعے کی تحقیقات کرنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیشن بھی قائم کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مظاہرین نے دیامیر کے ایس پی آفس کے باہر بھی احتجاج کیا تھا۔

گلگت بلتستان کی نگران حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق وزیر اعلیٰ نے پولیس سے واقعے سے متعلق تفصیلات طلب کر لی ہیں ’کیونکہ اس معاملے کے حقائق ابھی تک واضح نہیں۔‘

ایس پی دیامیر شیر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ مظاہرین کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اس واقعے کی تفتیش مکمل طور پر میرٹ پر ہو گی اور جو بھی قصور وار ہوا اس کے ساتھ قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، جس پر مظاہرین نے احتجاج ختم کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیوں بنایا گیا؟

ساہیوال: سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف قتل کا مقدمہ

’سی ٹی ڈی کو معلوم نہیں تھا گاڑی میں دہشت گرد کون ہے‘

ایس پی شیر خان کے مطابق پولیس واقعے کی ہر زاویے سے تحقیقات کر رہی ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق واقعے میں ایک ایس پی سمیت پانچ اہلکار ہلاک جبکہ چار زخمی ہوئے ہیں۔

چھاپے میں ہلاک ہونے والے دو دیگر افراد کی شناخت اظہار اللہ اور ان کے بہنوئی بشارت حسین کے نام سے ہوئی ہے اور متاثرہ خاندان کے مطابق دونوں اسی گھر میں رہتے تھے جہاں سی ٹی ڈی ٹیم نے چھاپا مارا۔

ہلاک ہونے والے اظہار اللہ کے رشتہ دار محمد افضل نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے کزن اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی میں پڑھ رہے تھے اور وبا کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہونے کے باعث واپس چلاس آ گئے تھے۔

کیا واقعہ پیش آیا؟

محمد افضل کے مطابق یہ واقعہ پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا اور اس وقت گھر میں بشارت حسین اور اظہار اللہ سمیت ان کی والدہ، بہن اور بھابھی بھی موجود تھیں۔

سی ٹی ڈی کا موقف رد کرتے ہوئے محمد افضل نے کہا کہ ’اظہار اللہ کی والدہ کے مطابق رات کو تقریباً دو بجے کسی نے دروازے پر دستک دی۔ چونکہ وہ اس وقت جاگ رہی تھیں اس لیے انھوں نے دروازے پر جا کر پوچھا کون ہے؟ باہر سے کسی خاتون کی آواز آئی جو کہنے لگیں کہ ہم آپ کے پڑوسی ہیں، گھر میں بیماری کا مسئلہ ہے، دروازہ کھولیے۔‘

محمد افضل نے اظہار اللہ کی والدہ کے حوالے سے مزید بتایا کہ ’دروازہ کھلنے پر دو نقاب پوش خواتین اور چار پولیس اہلکار انھیں دھکیلتے ہوئے گھر میں داخل ہو گئے اور ان سے اپنے سامان کی تلاشی دینے کا کہا۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’اظہاراللہ کی والدہ نے ان سے بحث کرنا چاہی اور کہا کہ ان کے بچے گھر میں سو رہے ہیں اور ان سے دریافت کرنے کی کوشش کی کہ آخر معاملہ ہے کیا، پھر تنگ آ کر انھوں نے پولیس اہلکاوں سے کہا کہ وہ گھر سے باہر نکل جائیں۔‘

محمد افضل بتاتے ہیں کہ ’اظہاراللہ کی والدہ کے مطابق اتنی دیر میں باہر صحن سے فائرنگ کی آوازیں آنے لگیں۔ جب باہر نکل کر دیکھا تو اظہار اللہ اور بشارت حسین دونوں خون میں لت پت پڑے تھے‘ اور ان کے مطابق ’وہاں موجود تمام پولیس اہلکار بھی زمین پر گرے ہوئے تھے۔‘

واقعے کے بعد اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی کے استاد طاہر ملک نے ایک ٹویٹ میں اپنے شاگرد اظہار اللہ کے حوالے سے لکھا کہ انھوں نے ’اظہار کو ہمیشہ مؤدب، پرامن اور ایک سنجیدہ طالب علم پایا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’گذشتہ شب گلگت کی سی ٹی ڈی پولیس نے ان کے گھر میں گھس کر انھیں دہشت گرد قرار دے کر قتل کر دیا‘۔ اس کے ساتھ انھوں نے اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

https://twitter.com/ProfTahirMalik/status/1288015632727003136

گلگت بلتستان اسمبلی کے سابق پارلیمانی سیکرٹری اور جمعیت علمائے اسلام گلگت بلتستان کے سینیئر نائب امیر حاجی رحمت خالق نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک جانب سکیورٹی اداروں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے تو دوسری جانب آپریشن کے نام پر ناحق خون بہایا گیا جو کہ ناقابل برداشت اور انتہائی قابل مذمت ہے۔‘

سی ٹی ڈی کا مؤقف

سی ٹی ڈی کے مطابق انھیں ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ کچھ اشتہاری مجرم چلاس کے علاقے رونئی کے ایک گھر میں موجود ہیں۔

گلگت بلتستان کی انسداد دہشت گردی فورس کے اے آئی جی حفیظ الرحمان نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ جب پولیس اہلکاروں نے گھر میں داخل ہو کر اندر موجود ایک شخص کی تلاشی لینا شروع کی تو اندر چھپے کم از کم تین مشتبہ افراد نے مبینہ طور پر سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کر دی جس سے پانچ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ دو پولیس خواتین اہلکار بمشکل بچ پائیں۔

اے آئی جی حفیظ الرحمان نے یہ بھی بتایا کہ یہ گھر اور اس میں رہنے والے افراد پر کچھ وقت سے نظر رکھی جا رہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ اس گھر سے اس خطے میں موجود مجرموں کو اسلحہ بھی فروخت کیا جاتا تھا۔

پولیس نے علاقے کی ناکہ بندی کر لی ہے اور ملحقہ آبادیوں اور مشکوک جگہوں پر چھاپے مارے جا رہے ہیں اور ایک سرکاری اہلکار کے مطابق پولیس نے دو مشتبہ افراد کو حراست میں بھی لیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14567 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp