بچوں پر سیسے کے زھریلے اثرات: متاثرہ ممالک میں انڈیا سر فہرست جبکہ پاکستان تیسرے نمبر پر

نوین سنگھ کھڈکا - ماحولیات کے نامہ نگار، بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیڈ یا سیسے کے زھریلے اثرات کے بارے میں عالمی سطح پر ایک نئی تحقیق کے مطابق سیسے سے متاثر بچوں کی تعداد کے لحاظ سے پاکستان دنیا میں تیسرے نمبر پر جبکہ انڈیا پہلے نمبر پر ہے۔

یہ رپورٹ بچوں سے متعلق اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف اور پیور ارتھ نامی ادارے نے مشترکہ طور پر تیار کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ہر تین میں سے ایک بچہ سیسے کے زہریلے اثرات کا شکار ہے جس سے ان کی صحت کو ناقابلِ علاج نقصان پہنچ سکتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا بھر میں 80 کروڑ بچے سیسے سے متاثر ہیں جن کی زیادہ تعداد ترقی پذیر ممالک میں ہے۔ اس سے پہلے اس مسئلے کو اتنے بڑے پیمانے پر نہیں دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

دہلی میں بھی میگی نوڈلز میں سیسہ

پاکستانی بچوں اور ماؤں کی خوراک میں سیسہ کی بڑھتی مقدار

’استعمال شدہ‘ کھلونے بچوں کے لیے نقصان دہ

سیسے سے متاثر بچوں کی عالمی تعداد کا لگ بھگ نصف جنوبی ایشیا میں ہے جبکہ پاکستان میں ایسے بچوں کی تعداد چار کروڑ دس لاکھ سے زیادہ ہے۔

اس رپورٹ میں یونیورسٹی آف واشنگٹن کے انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایویلوویشن کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا ہے۔

سیسے کے زہریلے اثرات بچوں کے دماغ، اعصابی نظام، دل، پھیپھڑوں اور گردوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیسہ ایک نیورو ٹوکسن ہے جس کی بہت کم مقدار بھی ذہانت میں کمی، متوجہ ہونے کے وقت میں کمی اور زندگی میں آگے چل کر پرتشدد اور مجرمانہ رویے کا باعث ہو سکتی ہے۔

‘رحمِ مادر سے لے کر پانچ برس کے بچوں کو زندگی بھر کے لیے دماغی امراض اور جسمانی معذوریوں اور یہاں تک کے ہلاک ہونے کا زیادہ خطرہ ہے۔’

سیسے کے زھر سے متاثر دوسرا بڑا خطہ افریقہ ہے جہاں نائجیریا سب سے زیادہ متاثر ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انڈیا پہلے نمبر پر جبکہ نائجیریا، پاکستان اور بنگلہ دیش دوسرے، تیسرے اور چوتھے نمبر پر ہیں۔

سیسے سے متاثر کرنے والی اشیاء

رپورٹ کے مطابق ایسی بیٹریوں کی ری سائیکلنگ جن میں سیسے کا تیزاب استعمال ہوتا ہے سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ جبکہ ای ویسٹ یعنی استعمال شدہ الیکٹرانک اشیا بعض مصالحے جن میں نقصان دہ اشیا شامل کی جاتی ہیں، عمارتوں پر کیے جانے والے رنگ اور بعض کھلونے بھی وہ ذرائع ہیں جو سیسے کے زہریلے اثرات پھیلانے کا سبب ہیں۔

رپورٹ کے مصنفین میں سے ایک نیکولس ریس نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘سنہ 2000 سے اب تک ترقی پزیر اور غریب ممالک میں گاڑیوں کی تعداد میں تین گنا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے لیڈ ایسڈ بیٹریوں کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا کام بھی بہت بڑھا ہے۔ ایسا اکثر غیر محفوظ طریقے سے کیا جاتا ہے۔’

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دنیا میں تیار ہونے والے سیسے کا 85 فیصد بیٹریاں بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے جن میں سے زیادہ تر گاڑیوں کی دوبارہ استعمال شدہ بیٹریوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔

‘اس طرح استعمال شدہ لیڈ ایسڈ بیٹریوں کا لگ بھگ نصف حصہ غیر دستاویزی معیشت میں شامل ہو جاتا ہے۔’

پاکستان میں سنہ 2017 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں حاملہ خواتین اور بچوں کے خون میں سیسے کی بڑی مقدار کے بارے میں اعداد و شمار سامنے آئے تھے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ خوراک، گھروں میں موجود گرد اور سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہونے والی گرد حاملہ خواتین اور چھوٹے بچوں کے خون میں سیسے کی بڑھی ہوئی سطح کی بڑی وجوہات ہیں۔

دو سال قبل پاکستان ہی میں ہونے والی ایک دوسری تحقیق میں عمارتوں پر کیے جانے والے رنگوں میں لیڈ یعنی سیسے کی بڑی مقدار کے بارے میں حقائق سامنے آ چکے ہیں۔

غیر سرکاری ادارے سسٹینیبل ڈولپمنٹ پالیسی انسٹیٹیوٹ سے منسلک ڈاکٹر عمران خالد کہتے ہیں کہ ‘رنگوں میں سیسے کی مقدار کو محدود کرنے والے ضوابط کے باوجود ہمیں اپنی تحقیق کے دوران سیسے کی ضرورت سے بہت زیادہ مقدار ملی۔’

انھوں نے کہا کہ پینے کے پانی میں سیسے کی موجودگی بھی ایک مسئلہ ہے۔

‘صنعتی فضلہ زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہا ہے اس کے علاوہ پانی سپلائی کرنے والے پائپوں میں بھی سیسہ شامل ہے۔’

جنوبی ایشیا میں سیسے کی آلودگی کی ایک وجہ وہ انورٹر ہیں جو لوگ بجلی کی عدم فراہمی کے باعث استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ گھروں میں اکثر بجلی معطل ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں نے انورٹر خریدے ہوئے ہیں جس سے بجلی حاصل کی جاتی ہے۔

لکھنؤ میں کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی کے بائیو کمسٹری ڈپارٹمنٹ سے منسلک ڈاکٹر عباس مہدی کہتے ہیں ‘اترپردیش میں ہمیں معلوم ہوا ایک بچے کی بیماری کی وجہ ایک انورٹر سے سیسے کا رِسنا تھا۔ بچے کے والدین کو معلوم نہیں تھا کہ گھر میں کام کرنے والی نوکرانی انورٹر سے ٹپکنے والے پانی کو کپڑے سے صاف کرتے ہوئے پورے فرش پر پھیلا دیتی تھی اور اُسی فرش پر وہ بچہ کھیلتا رہتا تھا۔’

یونیسف کے مطابق پاکستان میں چار کروڑ دس لاکھ بچوں کے خون میں سیسے کی سطح پانچ مائکرو گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ ہے۔ جبکہ عالمی ادارۂ صحت کے معیار کے مطابق یہ تشویشناک سطح ہے۔

بچوں کو خطرہ کیوں ہے؟

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ سال سے کم عمر زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے دماغوں کو پوری طرح نشو نما پانے سے پہلے ہی اتنا نقصان پہنچ سکتا ہے کہ وہ تمام عمر کے لیے ذہنی معذوریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جسم کے وزن کے تناسب سے بچے بڑوں کے مقابلے میں خوراک، مائع اور ہوا کا استعمال پانچ گنا زیادہ کرتے ہیں۔

نیکولس ریس کہتے ہیں ‘اس کا مطلب ہے کہ وہ اس زھر کو بھی زیادہ استعمال کر سکتے ہیں اگر یہ مٹی اور ہوا میں شامل ہے اور ایسی جگہ پر موجود ہے جہاں بچے بھی ہیں۔’

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بچوں کے سیسے سے متاثر ہونے کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس کی علامات عموماً بڑے ہونے تک سامنے نہیں آتیں۔

ڈاکٹر مہدی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں آگہی کا فقدان بھی ایک مسئلہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14603 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp