کورونا کے پھیلاؤ کا خدشہ: کیا پاکستان میں اس بار اجتماعی قربانی پہلی ترجیح ہو گی؟

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مویشی منڈی

BBC
شہر کے 6 مقامات پر مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت دی گئی، حالیہ بارشوں کے باعث ان منڈیوں میں پانی کھڑا ہوگیا اور صفائی کے مسائل سامنے آئے

کامران صدیقی ہر سال مویشی منڈی جاکر گائے لاتے ہیں۔ ان کا شوق اس قدر ہے کہ دوست بھی انھیں ساتھ لے جاتے ہیں، لیکن اس مرتبہ نہ وہ خود منڈی سے جانور لائے اور نہ ہی دوستوں کے ساتھ گئے۔ انھوں نے مقامی مسجد کے زیر انتظام اجتماعی قربانی میں حصہ ڈال دیا۔

کامران کورونا وائرس کا شکار رہے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وبائی صورتحال کے پیش نظر اس سال انھوں نے بجائے خود قربانی کرنے کے حصہ ڈالنے کا فیصلہ کیا۔

اسی بارے میں

کورونا کی وبا کے دوران مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟

کورونا کے سائے تلے برطانوی مسلمانوں کا رمضان کیسا ہوگا؟

کورونا وائرس مذہبی تہواروں پر کیسے اثر انداز ہو رہا ہے؟

پاکستان میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد اس وقت دو لاکھ 76 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے ہے، جبکہ ہلاکتیں 5892 ہوچکی ہیں۔

اس حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالیں اور فلاحی ادارے ان کے مددگار بنیں۔ اسی طرح بعض مذہبی علما نے اجتماعی قربانی کی ہدایت کی ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں سپر ہائی وے پر مرکزی منڈی قائم ہے جس میں انتظامیہ کے مطابق پانچ لاکھ جانور رکھنے کی گنجائش ہے۔ گذشتہ سال اتنی ہی تعداد میں جانور فروخت کیے گئے تھے۔

حکومت سندھ کی جانب سے ایس او پیز جاری ہونے کے بعد شہر کے چھ مقامات پر مویشی منڈیاں لگانے کی اجازت دی گئی۔ حالیہ بارشوں کے باعث ان منڈیوں میں پانی کھڑا ہوگیا اور صفائی کے مسائل سامنے آئے۔

عالمگیر ٹرسٹ گذشتہ 25 سالوں سے اجتماعی قربانی کا انتظام کر رہا ہے۔ ٹرسٹ کے ترجمان شکیل دہلوی نے بی بی سی کو بتایا کہ اجتماعی قربانی کا رحجان اس مرتبہ زیادہ ہے اور اس کی ایک وجہ منڈی لگنے میں تاخیر اور غیر یقینی کی صورتحال کے ساتھ کورونا وائرس سے متعلقہ شعور اور آگاہی کی مہم ہے۔

مویشی منڈی

BBC

انھوں نے بتایا کہ وہ عیدالفطر کے بعد سے اجتماعی قربانی کی بکنگ کا آغاز کرتے ہیں اور عید قربان سے چند روز قبل یہ سلسلہ بند کردیتے ہیں۔

ان کے پاس پانچ سے ساڑھے پانچ ہزار جانوروں کی قربانی کے انتظامات یا گنجائش ہے لیکن اس بار انھوں نے قبل از وقت یعنی عید سے 20، 25 دن پہلے ہی بکنگ بند کردی تاہم دباؤ اس قدر تھا کہ مزید ایک سو جانوروں کی بکنگ کی لیکن یہ انتظام دیہی علاقوں میں کیا گیا ہے۔

فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن نے گذشتہ سال چار ہزار کے قریب جانوروں کی قربانی کی تھی۔ ادارے کے سربراہ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس پچھلے سال جیسا ہی رجحان ہے اور عام طور پر عید سے ایک دو روز قبل بکنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔

’حکومت کی ہدایات اور تاکید کے باوجود لوگ منڈیوں میں جارہے ہیں اور جانور لے کر آرہے ہیں۔ ہر گلی محلے میں جانور نظر آرہا ہے۔ پہلے لوگوں میں کچھ خوف اور خدشات موجود تھے اب وہ نظر نہیں آتے۔‘

چھیپا ویلفیئر کا بھی کچھ یہ ہی موقف ہے۔ شاہد چھیپا کے مطابق لوگوں کی آمد عید سے ایک دو روز ہوتی اس وقت تک کوئی خاص رجحان نظر نہیں آرہا ہے گذشتہ سال انھوں نے ایک ہزار جانور ذبح کیے تھے۔

جماعت اسلامی کی فلاحی تنظیم الخدمت کا دعویٰ ہے کہ اجتماعی قربانی کے رجحان میں 25 فیصد اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اجتماعی قربانی کے شعبے کے انچارج قاضی صدرالدین کا کہنا ہے کہ اس رحجان میں اضافے کی وجہ کورونا کے حوالے سے جاری مہم ہے۔

مویشی منڈی

BBC

’گذشتہ سال کراچی میں قائم ہمارے 140 سینٹرز پر 30 ہزار بڑے جانوروں کی قربانی ہوئی تھی اس سال 40 ہزار کی بکنگ ہوئی ہے اسی طرح گذشتہ سال چھوٹا جانور 40 ہزار تھا جو اس وقت 60 ہزار کے قریب متوقع ہے،۔‘

کراچی کے کئی علاقوں میں مختلف مسالک کی مساجد کی انتظامی کمیٹیاں بھی مقامی سطح پر اجتماعی قربانی کا انتظام کرتی ہیں۔

ناظم آباد گول مارکیٹ کی اماں عائشہ مسجد کی کمیٹی کے رکن اسامہ عابد کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سے غریب اور لوئر مڈل کلاس طبقہ زیادہ متاثر ہوا ہے۔ یہی طبقہ اجتماعی قربانی کرتا تھا اور انھوں نے کہا کہ باقی جو اپنے طور پر بڑے جانور لاتے تھے وہ تو ویسے ہی لیکر آئے ہیں لاکھ لاکھ ڈیڑھ لاکھ کا جانور گھر کے باہر موجود ہے۔

’گذشتہ سال ہم نے 50 گائے کاٹی تھیں۔ ابھی جب عید میں دو دن رہے گئے ہیں تو اس وقت تک 36 گائے لائی گئی ہیں حالانکہ ان کا اندازہ تھا کورونا کی موجودہ ہمارا میں یہ تعداد کم از کم بھی سو تک ہو جائے گی۔‘

کراچی میں نہ صرف شہر بلکہ گلگت، چترل، تھر اور بلوچتسان کے علاقوں میں بھی قربانی کے لیے بکنگ کی جاتی ہے جس میں بعض مدارس کے علاوہ ماضی میں کالعدم جماعۃ الدعوۃ کی فلاحی تنظیم فلاح انسانیت اور کالعدم جیش محمد کی کی الرحمت ٹرسٹ سرگرم رہی ہیں لیکن اس بار بظاہر ان کی کوئی سرگرمی نظر نہیں آرہی ہے۔

تمام مسالک کے مدارس کی تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان ایک اعلامیے میں کہہ چکی ہے کہ اجتماعی قربانی کے لیے دینی مدارس اور جامعات کو ترجیح دی جائے۔ کراچی میں قائم بڑے مدارس میں اس سال بھی اجتماعی قربانی کے انتظامات کیے جارہے ہیں۔

جامعہ بنوریہ عالمیہ سائیٹ کے ترجمان کے مطابق رواں سال پہلے کی نسبت اجتماعی قربانی کے رجحان میں اضافہ آیا ہے۔

شہر میں قائم اجتماعی قربانی کے 25 مراکز میں اس وقت تک 1180 بڑے اور 400 کے قریب چھوٹے جانوروں کی بکنگ ہوچکی ہے جبکہ گزشتہ سال سات سو کے قریب چھوٹے اور بڑے جانوروں کی اجتماعی قربانی کی گئی تھی۔

مویشی منڈی

BBC

جعفریہ ڈزاسٹر سیل کے ترجمان کہنا ہے کہ گذشتہ سال انھوں نے 250 جانور ذبح کیے تھے اس سال ان میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے، وہ خاص طور پر اونٹ کی قربانی کرتے ہیں جس کا حصہ 2500 روپے ہوتا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس میں شریک ہوں۔

’یہ گوشت کراچی کے علاوہ تھر اور کنڈیارو سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں تقیسم کیا جاتا ہے۔ حالیہ لاک ڈاؤن کی صورتحال کے بعد لوگ چاہتے ہیں زیادہ سے زیادہ متاثرہ خاندانوں تک گوشت پہنچے۔`

اجتماعی قربانی کے نرخوں میں بھی دس سے پندرہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ جامعہ بنوریہ نہ فی حصہ ایک ہزار رپے، عالم گیر ٹرسٹ نے دو ہزار رپے بڑھائے ہیں جبکہ الخدمت کا کہنا ہے کہ انھوں نے اضافہ نہیں کیا۔

پاکستان میں کئی ویب سائٹس اور موبائل ایپس موجود ہیں جہاں قربانی کے آن لائن جانور فروخت کیے جا رہے ہیں اور اس رحجان میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

عاقب مغل نے کورونا وائرس کے دوران قربانی کا آن لائن کاروبار شروع کیا، جس میں خریداری اور ڈلیوری کے علاوہ آن لائن قربانی کا عمل دیکھنے کی بھی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

عاقب کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو ایک محفوظ راستہ فراہم کر رہے ہیں وہ اس وقت تک 50 سے زائد جانور فروخت کرچکے ہیں۔

’ہماری ویب سائٹ پر جانور کے رنگ نسل، قد اور وزن کی تفصیلات سمیت ویڈیوز موجود ہوتی ہیں تاکہ خریداری کو آسانی ہو، ان کے پاس 16 ہزار سے لیکر 70 ہزار رپے کی قیمت کے چھوٹے جانور دستیاب ہیں۔‘

مویشی منڈی

BBC

سہولیات کا فقدان

کراچی میں کمشنر افتخار شاہلوانی نے فلاحی اداروں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انھیں ہدایت کی کہ اجتماعی قربانی کو فروغ دیا جائے انھیں مطلوبہ سہولیات فراہم کی جائیں گی۔

اماں عائشہ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے رکن اسامہ عابد کا کہنا ہے کہ حکومت صرف رسمی کارروائی کر رہی ہے اگر سختی کرتی تو یوں منڈیاں لگانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

الخدمت کے انچارج صدرالدین کا کہنا ہے کہ انتطامیہ کی جانب سے جگہ مختص کی جاتی جہاں قربانی ہوتی اور وہاں کے ایم سی یا ڈی ایم سیز کی گاڑیاں موجود رہتی جو آلائشیں اٹھاتیں لیکن ایسا کچھ نظر نہیں آتا۔

کراچی میں پاکستان کی سب سے بڑی چمڑے کی صنعت موجود ہے جہاں چمڑے سے بنی ہوئی جیکٹس، پرس اور دیگر مصنوعات ایکسپورٹ کی جاتی ہیں۔ عید قربان کے موقعے پر اس صنعت سے وابستہ لوگ بڑے پیمانے پر کھالوں کی خریداری کرتے ہیں۔

ماضی میں کراچی میں کھالیں جمع کرنے پر اس وقت کی مختلف سیاسی جماعتیں جیسے متحدہ قومی موومنٹ ، سنی تحریک اور دیگر اداروں میں کشیدگی بھی ہوتی رہی ہے جس کے بعد ہر سال کھالیں جمع کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق بنایا جاتا ہے۔

الخدمت کے انچارج صدرالدین کا کہنا ہے کہ اس سال کھالوں کی قیمتیں بھی گرنے کا امکان ہے اگر گائے کی کھال 15 سو روپے تھی تو اس سال 5 سو روپے میں بمشکل فروخت ہے ہوگی کیونکہ ٹرنرز کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ بند ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14568 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp