ترکی کا سوشل میڈیا بل: آن لائن اظہار رائے کے خلاف کریک ڈاؤن

جو ٹائڈی - سائبر رپورٹر، بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Composite of flag and young woman with mobile phone in her hand

Getty Images

ترکی کی پارلیمان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک قانون منظور کیا ہے جس کی انسانی حقوق کے گروہوں نے یہ کہتے ہوئے مخالفت کی ہے کہ یہ اظہار رائے کی آزادی کے لیے شدید خطرہ ہے۔

یہ تبدیلیاں ایسے وقت میں کی گئی ہے جب دنیا بھر میں آن لائن مواد اور کورونا وائرس کے حوالے سے جعلی خبروں کو کنٹرول کرنے کے بارے میں بحث ہو رہی ہیں۔

نئے قانون میں سوشل میڈیا کے حوالے سے کیا ہے؟

اس قانون کے تحت ایسی تمام سوشل میڈیا فرمز جن کے دس لاکھ سے زیادہ صارفین ہیں ان کے لیے ترکی میں دفتر کھولنا لازم ہے تاکہ بوقت ضرورت حکومت کی درخواست پر مواد کو ہٹایا جا سکے۔

اگر یہ کمپنیاں ایسا کرنے سے انکار کرتی ہیں تو ان پر جرمانے عائد ہوں گے اور ان کے ڈیٹا کی رفتار کو کم کر دیا جائے گا۔

یہ تبدیلیاں تمام کمپنیوں کے چھوٹے بڑے پلیٹ فارمز پر لاگو ہوں گی جن میں فیس بک، گوگل ، ٹک ٹاک اور ٹوئٹر بھی شامل ہیں۔

اس نئے قانون کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بینڈ وڈتھ کو 95 فیصد تک کم کیا جا سکتا ہے جو انھیں تقریباً ناقابل استعمال بنا دے گا۔

اس نئی قانون سازی کے تحت سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے لیے ضروری ہو گا کہ وہ صارفین کا ڈیٹا ترکی میں سٹور کریں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ترکی کی آٹھ کروڑ 40 لاکھ کی آبادی میں کافی مقبول ہیں۔ فیس بک، انسٹاگرام، ٹوئٹر، سنیپ چیٹ اور ٹک ٹاک ملک کے لاکھوں صارفین میں بہت زیادہ پسند کیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

‘بس بہت ہوا’ ترکی کے صدر کے لیے انتباہ

آزادی کا کوڑے دان: سوشل میڈیا

کیا پوتن، اردوغان کورونا کو اقتدار مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟

اس وقت ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پڑی؟

ترک حکومت کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد سائبر کرائم سے نمٹنا اور صارفین کو بے لگام سازشی نظریات سے بچانا ہے۔

کئی ماہ سے ترک صدر رجب طیب اردوغان نے سوشل میڈیا سائٹس کو ’غیر اخلاقی‘ قرار دیتے ہوئے ان پر اپنا شکنجہ کسنے کی خواہش کو پوشیدہ نہیں رکھا۔

President of Turkey and the leader of the Justice and Development Party (AK Party) Recep Tayyip Erdogan

Getty Images
ترک صدر ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بے راہ روی کا سبب بن رہے ہیں

کیا دوسری ممالک میں بھی ایسے قوانین ہیں؟

نئے قانون پر بحث کے دوران ترک پارلیمان نے جرمنی کو آن لائن ضوابط کے لیے تقابلی جائزہ لیا ہے۔

سنہ 2017 میں جرمنی نے نیٹ ورک انفورسمنٹ ایکٹ کے نام سے قانون پیش کیا جس میں ایسے ہی اصول پیش کیے گئے تاکہ نفرت آمیز اور اشتعال انگیز مواد کو روکا جا سکے۔

جرمنی میں جو سوشل نیٹ ورک ایسے مواد کو 24 گھنٹوں میں ہٹانے میں ناکام رہتے ہیں تو ان پر پانچ کروڑ یوروز کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اس قانون میں حالیہ ترمیم کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے کہا گیا ہے کہ مشتبہ مجرموں کی تفصیل براہ راست جرمنی کی پولیس کو بھیجیں۔

پھر یہ قانون مسئلہ کیوں ہے؟

جب بات انٹرنیٹ پر پولیسنگ کی ہو تو ترکی اور جرمنی کے حکام کی تاریخ یکسر الگ رہی ہے۔

جرمنی میں آزادی اظہار کو تحفظ حاصل ہے اور اس پر جمہوری انداز میں بحث ہوتی ہے جبکہ ترکی میں آن لائن آزادی نسبتاً بہت ہی کم ہے۔

ترک عوام کو پہلے ہی سوشل میڈیا پر کڑی نگرانی کا سامنا رہتا ہے۔ کئی افراد پر اردوغان اور ان کی اہلیہ کی توہین کرنے پر فرد جرم عائد ہوئی یا غیر ملکی افواج کے حملے، یا کورونا کی وبا سے نمٹنے پر تنقید کرنے پر۔

گذشتہ ایک دہائی کے دوران ترکی کا زیادہ تر بڑا میڈیا حکومت کے زیر اختیار آ چکا ہے اور اب سوشل میڈیا اور کچھ چھوٹے ادارے تنقیدی آوازیں یا آزاد خبروں کے لیے اہم ذریعہ رہ گئے ہیں۔

لیکن آزادی رائے کے اظہار کو جانچنے کی رپورٹ (IFOD) کے مطابق ترکی میں 408000 ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا جن میں وکی پیڈیا بھی شامل ہے۔

ایمنٹسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ یہ نیا قانون ’ترکی میں آزادی اظہار پر تازہ ترین حملہ ہے۔‘

انسانی حقوق کے گروہ کے ترکی کے محقق اینڈریو گارڈنر کا کہنا ہے کہ ’اس انٹرنیٹ قانون سے ترکی کی حکومت کی جانب سے پولیسنگ اور آن لائن مواد کو سنسر کرنے کی استطاعت میں اضافہ ہو گا جو ان لوگوں کے خلاف خطرات میں اضافہ کرے گا جو کہ پہلے سے اختلاف رائے کے اظہار پر حکام کی جانب سے بے رحمانہ انداز میں نشانہ بن چکے ہیں۔ ‘

صدارتی ترجمان ابراہیم کالن نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ اس قانون سے سنسر شپ کی جائے گی۔ ان کے بقول اس کا مقصد سوشل پلیٹ فارم کے ساتھ کاروباری اور قانونی روابط پیدا کرنا ہے۔

دوسرے ملکوں میں سوشل میڈیا کو کیسے ضابطے میں لایا جاتا ہے؟

دنیا بھر کی حکومتیں سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو کے مواد سے نمٹنے کے طریقوں پر زیادہ غور کر رہی ہیں۔

چین جیسے ممالک میں اس کے لیے سخت اصول ہیں اور سائبر پولیس کے لاکھوں اہکار سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی کرتے ہیں اور سیاسی طور پر حساس پیغامات پر نظر رکھتے ہیں۔

روس اور سنگاپور میں آن لائن مواد کے حوالے سے سخت قوانین ہیں۔

ترکی کی جانب سے اس مسئلے کے حل کے طریقہ کار کو امریکہ، برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک میں یقیناً بغور دیکھا جائے گا جہاں سوشل میڈیا کے ضابطوں پر بحث گرم ہو رہی ہے۔

انسانی حقوق کے بعض گروہوں کا کہنا ہے کہ ترکی کا نیا قانون بہت سے دیگر ممالک کو بھی یہی انداز اپنانے کی راہ دکھا سکتا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے خبردار کیا ہے کہ نیا قانون ’آن لائن سنسرشپ میں ایک نئے تاریک دور‘ کا پیش خیمہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14635 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp