انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020: پاکستان میں دہشتگردوں کی مدد، مالی معاونت کے خلاف قوانین مزید سخت

شہزاد ملک - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ نے جمعرات کو اقوام متحدہ سلامتی کونسل ترمیمی بل اور انسداد دہشتگردی ترمیمی بل سنہ 2020 کی منظوری دے دی ہے۔ بدھ کے روز قومی اسمبلی نے اسے منظور کیا تھا۔

پاکستانی حکومت کی جانب سے یہ بل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے وائٹ لسٹ میں آنے کی ایک کوشش قرار دیا ہے۔

عالمی سطح پر انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم کے حوالے سے پاکستان کے پاس 6 اگست کی ڈیڈ لائن تھی کہ وہ اس عرصے میں ان قوانین کو مزید سخت کرے۔

پاکستان کو آئندہ کس لسٹ میں رکھا جاتا ہے، اس کا فیصلہ رواں سال اکتوبر کے دوران ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان بلیک لسٹ سے بچنے کے لیے ’پُراعتماد‘

نیب قانون میں مجوزہ ترامیم پر حزبِ اختلاف کی مخالفت کی وجوہات کیا ہیں؟

ایف اے ٹی ایف: امریکہ پاکستان کی کیا مدد کر سکتا ہے؟

کیا حکومت اور حزبِ اختلاف احتساب کے معاملے میں سنجیدہ ہیں؟

انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020 کیا ہے؟

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کی منظور شدہ ترامیم ’انسداد دہشتگردی ترمیمی بل 2020‘ کو دونوں ایوانوں نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔

اس سے قبل سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ان ترامیم کی منظوری دی تھی۔

قومی اسمبلی میں حکمراں جماعت کو اکثریت حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں حکومت کے پاس اکثریت نہیں ہے او ر اُنھیں قانون سازی کے لیے اپوزیشن کا تعاون درکار ہوتا ہے۔

پاکستان کے دونوں ایوانوں میں یہ بل وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان کی بجائے پارلیمانی امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان نے پیش کیا۔

وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بل منظور ہونے پر سینیٹ کے ارکان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’انڈیا پاکستان کو اقوام متحدہ کی بلیک لسٹ میں شامل کروانا چاہتا ہے لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ پاکستان گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں آجائے۔

ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرلے لسٹ سے نکالنے یا اس کو اسی لسٹ میں یا کسی اور لسٹ میں رکھنے سے متعلق فیصلہ اس سال اکتوبر میں کرے گا۔

انسداد دہشت گردی کے قوانین میں ترمیم کے حوالے سے پاکستان کے پاس 6 اگست کی ڈیڈ لائن تھی کہ وہ اس عرصے میں ان قوانین کو مذید سخت کرے۔

جمعرات کے روز سینیٹ میں بل پیش کرنے سے قبل قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس حزب مخالف کی جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیٹر جاوید عباسی کی زیر صدارت ہوا۔

اجلاس میں دہشت گردی اور شدت پسندی میں ملوث افراد اور تنظیموں سے متعلق اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی جانب سے اثاثے ضبط کرنے یا منجمند کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے افراد اور تنظیموں پر سفری پابندی، اسلحہ لائینس منسوخ پر پابندی سے متعلق قرارداد پر عملد درآمد کے اختیار کو زیر بحث لایا گیا۔

اس اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد پر عمل درآمد سے متعلق جس بھی شخص یا اشخاص کو اتھارٹی دے گی وہ پاکستان میں موجود ہوں گے اور کوئی بیرونی شخص اس میں شامل نہیں ہوگا۔

دہشتگردوں کی مدد، مالی معاونت کے خلاف قوانین مزید سخت

انسداد دہشت گردی ایکٹ کے ترمیمی بل میں شخص کی تعریف میں ترمیم کی گئی ہے اور اس ترمیم کے تحت شخص کی تعریف فرد، قانونی شخص اور کارپوریٹ باڈی ہو گی۔

اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص جس پر اقوام متحدہ سیکورٹی کونسل کی قرارداد کا اطلاق ہوتا ہے اور وہ اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام رہتا ہے تو ایسی صورت میں جرمانے کے ساتھ سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں۔

اس ترمیم میں جرمانے کی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر پانچ کروڑ کر دی گئی جبکہ دس سال قید کی سزا بھی ہو گی۔

ایف اے ٹی ایف اہداف کی روشنی میں انسداد دہشتگردی ایکٹ اور تعزیرات پاکستان میں ترامیم متعارف کرائی گئی ہیں جس کے مطابق مشتبہ دہشتگردوں کی فہرست میں شامل افراد کے اسلحہ لائسنس منسوخ کردیے جائیں گے جبکہ ایسے افراد کو کوئی شخص یا ادارہ قرض نہیں دے سکے گا۔

اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مشتبہ دہشتگرد کو قرض دینے والے شخص کو اڑھائی کروڑ روپے جبکہ قرض دینے والے ادارے کو 5 کروڑ روپے کا جرمانہ ہوگا۔

خارجہ امور کے بارے میں سپیشل سیکرٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے بارے میں بتایا۔

اُنھوں نے کہا اقوام متحدہ کے ہی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے انسداد دہشت گردی کے بل میں ترامیم کی تجویز دی تھی۔

کمیٹی کے ارکان نے خارجہ امور کے سپیشل سیکرٹر ی سے استفسار کیا کہ کیا یہ اقوام متحدہ کے ادارے کا مطالبہ تھا یا پاکستانی قوانین میں کچھ خامیاں موجود ہیں۔ کمیٹی کے ارکان کو بتایا گیا کہ اس بارے میں اقوام متحدہ کے ادارے کی طرف سے تجاویز دی گئی تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ فنشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایشا پیسیفک ان قوانین پر عمل درآمد کی نگرانی کرتے ہیں۔اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد لازمی ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ انسداد دہشتگردی ترمیمی بل سنہ 2020 میں دہشتگردوں کی مدد اور مالی معاونت پر قوانین کو مزید سخت کیا گیا ہے۔

شدت پسندوں کی کسی بھی طرح کی معاونت پر کسی شخص یا ادارے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ بھاری جرمانے کے ساتھ جائیدادیں بھی منجمند ہوں گی۔

انسداد دہشتگری ترمیمی بل کے مطابق کسی شخص یا گروپ کو دہشتگردی کی غرض سے بیرون ملک بھیجنے میں مدد فراہم کرنے یا مالی معاونت پر بھی جرمانے ہوں گے۔

اس بل میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ کسی بھی کالعدم تنظیم یا اس سے تلعق رکھنے والے نمائندے کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد فوری منجمد کی جائے گی۔

جائیداد کی تصدیق نہ ہونے پر ان جائیداوں کی بھی قرقی کی جائے گی جو کہ عدالتی دائرہ کار سے باہر ہوں گی۔

کیا یہ ترامیم کافی ہوں گی؟

شدت پسندی اور کالعدم تنظیموں کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگار عامر رانا کا کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے تناظر میں تو بظاہر قوانین بہت سخت ہیں اور اُنھیں امید ہے کہ ایف اے ٹی ایف کے رکن ممالک اس سے خوش ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ ماضی قریب میں جماعت الدعوۃ کے رہنما حافظ سعید سمیت شدت پسندی کے واقعات میں ملوث دیگر افراد کو عدالتوں کی طرف سے جو سزائیں سنائی گئی ہیں اس سے بھی پاکستان کی کارکردگی کو سراہا جانا چاہیے۔

اُنھوں نے کہا کہ ماضی قریب میں قانون نافذ کرنے والے ادارے ملکی عدالتوں میں شدت پسندی کے واقعات میں ملوث افراد کو مجرم ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

عامر رانا کا کہنا تھا کہ اصل معاملہ اس وقت سامنے آئے گا جب ان قوانین پر عمل درآمد شروع ہوگا جس میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ آیا یہ قوانین ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کے مطابق ہیں یا ان کے مطالبے سے بھی زیادہ سخت کردیے گئے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ان قوانین پر عمل درآمد ہونے کی صورت میں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ قوانین ملکی آئین اور بنیادی انسانی حقوق کے خلاف تو نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14687 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp