چلاس میں اظہار اللہ کی ہلاکت: ’میں اپنے بیٹے کا خون معاف نہیں کروں گی‘

محمد زبیر خان - صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں حال ہی میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ہلاک ہونے والے نوجوان اظہار اللہ کی والدہ بی بی حکیمہ کے لیے زندگی کبھی بھی آسان نہ رہی اور اب بیٹے کے جانے کے بعد وہ غم سے نڈھال ہیں۔

پیر اور منگل کی درمیانی شب انسدادِ دہشت گردی کے محکمے سی ٹی ڈی کی جانب سے چلاس میں ایک چھاپے کے دوران پانچ پولیس اہلکاروں اور دیگر دو افراد کی ہلاکت کے واقعے کا مقدمہ درج کیا گیا۔

سی ٹی ڈی کا دعویٰ ہے کہ اس کارروائی میں سی ٹی ڈی اہلکار اور گھر میں موجود شخص اظہار اللہ مفرور ہونے والے ملزمان کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے ہیں۔

اظہار اللہ اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی کے طالبعلم تھے اور وبا کی وجہ سے یونیورسٹی بند ہونے کے باعث واپس چلاس آگئے تھے۔ ان کی ہلاکت کے بعد ان کے اہلخانہ کی جانب سے انصاف کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

چلاس: ’اظہار اللہ مفرور ملزمان کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے‘، پولیس کا دعویٰ

پولیس مقابلے میں قتل ہونے والے نقیب اللہ بے قصور قرار

’کاش کسی ماں باپ کو ایسی بہادری کا مظاہرہ نہ کرنا پڑے‘

سچ کا انکاؤنٹر تو بہت پہلے ہو چکا

اظہار اللہ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کی عمر صرف چھ ماہ تھی جب ان کے والد وفات پا گئے تھے۔

اظہار کی والدہ بی بی حکیمہ کے لیے زندگی میں پہلا اور بڑا سانحہ اپنے جیون ساتھی سے محروم ہونا تھا۔ سات کم سن بچوں کی تمام تر ذمہ داریاں بی بی حکیمہ کے کندھوں پر آن پڑی تھی جس کے لیے انھوں نے دن رات محنت کی تھی۔

بی بی حکمیہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’خاوند کی وفات کے بعد صرف عدت کے دن گھر میں گزارے تھے۔ اس کے بعد میں نے محنت مزدوری شروع کردی تھی۔ کبھی کسی کے کھیتوں میں کام کرتی تو کبھی دیہاڑی پر مزدوری کرتی تھی۔ میں نے نہ دن دیکھا نہ رات دیکھی۔‘

’میں اتنا کام کرتی تھی کہ میرے ہاتھوں پر چھالے پڑ جاتے اور پاؤن سوج جاتے تھے۔ مگر مجھے نہیں یاد جب تک میرے بڑے بیٹوں نے کام کاج اور محنت مزدوری شروع نہیں کی تھی۔ اس وقت تک میں نے کبھی کوئی چھٹی کی ہو۔‘

بی بی حکیمہ سے جب بی بی سی نے رابطہ قائم کیا تو یہ اظہار اللہ کو قتل ہوئے تین دن گزر چکے تھے۔ انھوں نے بڑے تحمل سے اپنی بات شروع کی تھی۔

انھوں نے بتایا: ’مجھے اللہ نے سات اولادوں سے نوازا ہے۔ چار بیٹے اور تین بیٹیاں ایک سے بڑھ کر ایک عزیز ہے۔ ماں اپنی اولاد کے لیے سب کچھ کر جاتی ہے۔ اس کے لیے اپنی اولاد سے بڑھ کر کوئی اور نہیں ہوتا ہے۔ مگر اظہار اللہ میرا سب لاڈلا بیٹا تھا۔ یہ وہ بیٹا تھا جو اپنے بچپن سے لے کر اپنے مرنے تک سب سے بڑھ کر میرا خیال رکھتا تھا۔‘

بی بی حکیمہ کا کہنا تھا کہ ’جب میں محنت مزدوری کر کے تھک ہار کر آتی تھی تو کم عمر اظہار اللہ اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے میری ٹانگیں اور سر دباتا، مجھے پانی لا کر دیتا، میری مدد کرنے کے لیے میرے ساتھ کھانا بنانے کی کوشش کرتا۔‘

’بڑا ہو کر بھی وہ ہی میرا خیال رکھتا تھا۔ میں جب باہر جاتی اور واپس آتی تو شوق اور ضد کرکے ٹانگیں دباتا تھا۔ میرے کپڑے بھی دھوتا تھا۔ کبھی کھبار کھانا بھی پکا کر کھلاتا تھا۔ ‘

بی بی حکمیہ کا کہنا تھا کہ ’میں اپنے اظہار کا خون معاف نہیں کروں گی۔ میں روز قیامت ان کا گریبان پکڑوں گی۔‘

’ماں فکر نہ کر اچھے دن شروع ہونے والے ہیں‘

بی بی حکیمہ بات کرتے کرتے اچانک چپ سی ہوجاتی ہیں اور پھر چند لمحوں بعد کہتی ہیں کہ میری بڑی خواہش تھی کہ میرے بچے پڑھ لکھ جائیں۔ ’میں جتنی کوشش کرسکتی تھی کی مگر میرے بڑے بیٹے زیادہ نہیں پڑھ سکے۔

’ایک بیٹا چند جماعتیں پڑھ کر فوج میں بھرتی ہوگیا تھا جس کے بعد اس نے مجھے کام نہیں کرنے دیا۔ کئی سال تک فوج میں ملازمت کے بعد زخمی ہوا تو اس کو ریٹائرڈ کردیا گیا۔ اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اس نے اپنے دو بھائیوں کے ساتھ سیمنٹ کے بلاک بنانے کا کام شروع کردیا تھا۔‘

بی بی حکیمہ کے مطابق اظہار اللہ کو بچپن ہی سے پڑھنے کا شوق تھا۔

’اس کے بڑے بھائی کو بھی اس کے کے شوق کا اندازہ ہوگیا تھا جس وجہ سے وہ چھوٹے بھائی کے تمام اخرجات اٹھاتا تھا۔

’یہاں تک کہ اس کو اسلام آباد کی بڑی یونیورسٹی میں بھی بھیجا ہوا تھا۔ جب بیماری (کووڈ 19) پھیلی تو وہ اس یونیورسٹی سے واپس آگیا تھا۔ زیادہ وقت پڑھنے اور پھر میرے ساتھ گزارتا تھا۔‘

بی بی حکیمہ کا کہنا تھا کہ ’وہ اکثر مجھے کہتا تھا کہ بس مشکل کے دن اب بہت تھوڑے ہیں۔ میری تعلیم مکمل ہو تو میں نوکری کروں گا اور بھائیوں کو بھی مزدوری نہیں کرنے دوں گا۔‘

’جس رات واقعہ پیش آیا، وہ بہت دیر تک میرے پاس موجود رہا تھا۔ ہم کافی دیر تک باتیں کرتے رہے تھے۔‘

بی بی حکیمہ کا کہنا تھا کہ اظہار اللہ کے بھائیوں نے قربانی کے لیے بیل کا انتظام کیا تھا۔ اظہار اللہ بیل کی قربانی کے لیے بہت پرجوش تھا۔ کہہ رہا تھا کہ سارا کام خود کر لوں گا۔ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ان کا دکھ کوئی نہیں سمجھ سکتا کیونکہ وہ نہ صرف ان کا بیٹا بلکہ ’میری رازدار بیٹی اور دوست بھی تھا۔‘

اس سے قبل اسلام آباد کی نمل یونیورسٹی کے استاد طاہر ملک نے ایک ٹویٹ میں اپنے شاگرد اظہار اللہ کے حوالے سے لکھا تھا کہ انھوں نے ’اظہار کو ہمیشہ مؤدب، پرامن اور ایک سنجیدہ طالب علم پایا۔‘

انھوں نے بھی اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14701 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp