ناقابل یقین ذہنی صلاحیت کی مالک شنکتلا دیوی کی زندگی پر فلم

گیتا پانڈے - بی بی سی نیوز، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ریاضی کی ماہر انڈیا کی شکنتلا دیوی، جنہیں اکثر ’انسانی کمپیوٹر‘ بھی کہا جاتا ہے، ان کی زندگی پر بننے والی ایک نئی فلم جمعہ کو ایمیزون پرائم پر نمائش کے لیے ریلیز کی جا رہی ہے۔

بالی ووڈ اداکارہ ودیا بالن جنہوں نے اس فلم میں شکنتلا دیوی کا کردار نبھایا ہے، ان کے بارے میں کہتی ہیں کہ وہ ایک ’چھوٹے شہر کی انڈین لڑکی تھیں جنہوں نے پوری دنیا میں دھوم مچا دی‘۔

ریاضی میں شکنتلا دیوی کے حیران کن مہارت کی وجہ سے ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا گیا اور انہیں دنیا بھر میں شہرت بھی ملی۔

شکنتلا دیوی نامی نئی فلم کے ٹریلر کے ایک سین میں جب کمرے میں بیٹھے لوگ ودیا بالن کے کردار سے دو بڑے نمبروں کو آپس میں ضرب دینے کو کہتے ہیں تو وہ مسکرا کر پوچھتی ہیں کہ ’جواب دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں دوں؟‘

اصل زندگی میں شکنتلا دیوی کینیڈا کے ایشین ٹی وی نیٹورک کے ساتھ ایک انٹرویو میں ایسا کر چکی ہیں۔ اس انٹرویو کی ویڈیو پانچ لاکھ سے زیادہ بار دیکھی جا چکی ہے۔ یہ ویڈیو اپریل 2013 میں ان کی وفات کے بعد جاری کی گئی تھی۔ ان کا انتقال 83 برس کی عمر میں ہوا تھا۔

ودیا بالن نے بی بی سی کو بتایا کہ کردار کی تیاری کرتے ہوئے وہ ویڈیو انہوں نے بھی دیکھی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

علمِ ریاضی کیا ہے، حقیقت کا عکس یا خود ایک حقیقت؟

نجومی، ریاضی دان یا شاعر، عمر خیام کی وجہ شہرت کیا؟

ریاضی کا 50 سال پرانا سوال ایک ہفتے سے کم وقت میں حل کرنے والی طالبہ

شکنتلا دیوی

Getty Images

اس ویڈیو میں سوال پوچھنے والا شخص، جو کہ ایک کینیڈین یونیورسٹی میں ریاضی کے طالب علم تھے، کہتے ہیں کہ ’ایک کیلکولیٹر کو اس سوال کا جواب دینے میں تین منٹ لگیں گے‘۔ شکنتلا دیوی کچھ سیکنڈوں میں جواب دے دیتی ہیں۔

ممبئی سے فون پر بات کرتے ہوئے ودیا بالن نے کہا کہ ’انہوں نے کوئی باضابطہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی، لیکن وہ ریاضی کے مشکل سے مشکل سوال، اپنے ذہن میں لمحوں میں حل کر لیتی تھیں۔ سب سے تیز کمپیوٹر سے بھی تیز۔‘

اپنے انٹرویوز میں شکنتلا دیوی کہہ چکی ہیں کہ وہ، ’تین سال کی عمر سے اپنے ذہن میں ہندسوں کا حساب لگاتی آئی ہیں۔‘ وہ یہ بھی کہہ چکی ہیں کہ ان کے والد کو، جو کہ ایک سرکس آرٹسٹ تھے، ان کے فن کے بارے میں تب پتہ چلا جب وہ تاش کھیلتے ہوئے انھیں ہر بار ہرا دیتیں، اور انہیں احساس ہوا کہ اس کی وجہ ہاتھ کی صفائی نہیں بلکہ پتوں کو یاد کرنے کی ان کی صلاحیت تھی۔

شکنتلا دیوی سے جب بھی ان کے اس غیر معمولی اور حیران کن ہنر کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ ’یہ خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے، ایک مقدس تحفہ۔‘

وہ چھ سال کی تھیں جب انہوں نے انڈیا کی جنوبی ریاست کرناٹک کے شہر میسور میں، جہاں ان کی پیدائش ہوئی، پہلی بار عوامی پرفارمنس دی۔

انہوں نے خود ہی لکھنا پڑھنا سیکھا اور پھر کئی دہائیوں تک دنیا بھر میں یونیورسٹیز، تھیئٹرز، ریڈیو اور ٹی وی شوز پر ناظرین کے سامنے، اپنے ذہن میں ریاضی کے مشکل سے مشکل سوال حل کرتی رہیں۔

سن 1950 میں انہوں نے بی بی سی کے ایک ٹی وی شو میں شرکت کی تو ان کا ایک جواب شو کے میزبان کے جواب سے مختلف تھا۔ شکنتلا دیوی نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ دراصل سوال میں ہی ایک غلطی تھی۔ جب ماہرین نے سوال پر دوبارہ نظر ڈالی تو شکنتلا دیوی کی بات صحیح نکلی۔

سن 1977 میں شکنتلا دیوی نے امریکی شہر ڈیلس میں یونیویک کو شکست دی، جسے دنیا کا تیز ترین سوپر کمپیوٹر سمجھا جاتا ہے۔

اور گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں جگہ بنانے کے لیے انہوں نے لندن کے امپیریئل کالیج آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ایک ہزار لوگوں کے سامنے تیرہ تیرہ ہندسوں والے دو نمبروں کو اپنے ذہن میں ضرب دیا۔ انہیں ایسا کرنے میں 28 سیکنڈ لگے، جن میں 26 ہندسوں والا جواب پڑھنے کا وقت بھی شامل تھا۔

ودیا بالن کہتی ہیں کہ ریاضی میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ شکنتلا دیوی علم نجوم کی بھی ماہر تھیں۔ انہوں نے علم نجومِ، کھانا بنانے، ریاضی اور جرائم پر کتابیں بھی لکھیں۔ انہوں نے ستر کی دہائی میں ہم جنس پرستی کو جرم تصور کیے جانے کے خلاف بھی ایک کتاب لکھی، جب انڈیا ہی نہیں بلکہ دنیا کے زیادہ تر ممالک اور معاشروں کے لیے یہ ایک بڑی بات تھی۔

’ان کی شخصیت کے بہت سارے پہلو تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی اپنی شرائط پر جی، وہ بالکل بےخوف تھیں۔ اور یہ آج کل کی نہیں پچاس سال پرانی بات ہے۔‘

ودیا بالن کہتی ہیں کہ دو سال قبل جب فلم کی ہدایت کار انو مینن ان سے ملیں تو، ’میں نے شکنتلا دیوی کی زندگی کے اتار چڑھاؤ کے بارے میں سنا، تو میں نے کہا کہ، اُف، یہ کہانی تو فلم بننے کا ہی انتظار کر رہی ہے۔‘

ودیا بالن نے بہت سارے ویڈیوز دیکھ کر، شکنتلا دیوی پر لکھے گئے آرٹیکلز پڑھ کر، اور انوپما بینرجی کی باتیں سن کر خود کو اس فلم کے لیے تیار کیا۔ انوپما بینرجی شکنتلا دیوی کی اکلوتی بیٹی ہیں، اور وہ اپنے خاندان کے ساتھ لندن میں رہتی ہیں۔

’اس سب سے مجھے ان کی زندگی میں جھانکنے کا ایک موقع ملا۔ مجھے جو بات بہت دلچسپ لگی وہ یہ تھی کہ اکثر ہم ریاضی کے ساتھ کسی ایسے شخص کا تصور نہیں کرتے جو زندہ دل ہو، مستی کرتا ہو، لیکن شکنتلا دیوی اس تصور کو چیلینج کرتی ہیں۔

’وہ ہندسوں کے ساتھ کھیلتی تھیں، جب وہ ریاضی کا کوئی سوال حل کر رہی ہوتی تھیں تو ان کے چہرے پر مسرت، خوشی نظر آتی ہے۔ اور انہیں پرفارم کرنا بہت پسند تھا۔ یہ سب ایک ریاضی دان کے لیے بہت غیر معمولی ہے، کیونکہ ریاضی کو اکثر بورنگ اور روکھا سمجھا جاتا ہے۔‘

بورنگ اور روکھا، یہ وہ الفاظ بالکل نہیں ہیں جو آپ شکنتلا دیوی کے ساتھ جوڑ سکیں۔

1990 میں کیے جانے والے ایک مطالعے میں انسانی قابلیت پر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں محقق آرتھر آر جینسن نے ان کے لیے ان الفاظ کا استعمال کیا ’چوکس، زندہ دل، خوش مزاج اور خوش کلام‘۔

تاہم فلم ساز اور سابق رکن پارلیمان پریتیش نندی کہتے ہیں کہ ان کی زندہ دلی اور خوش مزاجی کے باوجود ان کی زندگی میں ’کافی ‘بھی تھا۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کی وجہ ان کی ذاتی زندگی تھی، مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ ان کے پاس ہنر تو تھا مگر اس سے روزی کمانے کا ذریعہ نہیں۔‘

اپنے انٹرویوز میں شکنتلا دیوی اس بارے میں بات کر چکی ہیں کہ ان کا ہنر دریافت ہونے کے بعد ان پر کس طرح گھر چلانے کی ذمہ داری آن پڑی تھی، اور پھر بڑے ہونے کے بعد ایک ایسے شخص سے شادی جو دراصل ہم جنس پرست تھے۔

پریتیش نندی کہتے ہیں کہ شکنتلا دیوی جب بھی ممبئی آتی تھیں تو ان سے ضرور ملتی تھیں۔

’وہ کبھی یہ سمجھ نہیں پائیں کہ ان کے ہنر کے پیچھے کیا تھا۔ میں ہمیشہ ان سے کہتا تھا کہ کیا آپ اپنے ذہن کے اندر جھانک کر یہ نہیں پتہ کر سکتیں کہ آپ یہ کرتی کیسے ہیں؟‘ اور وہ ہمیشہ کہتی تھیں ’بس یہ قدرتی طور پر ہو جاتا ہے۔‘

وہ بتاتے ہیں ’وہ اپنے اس ہنر کی وجہ نہیں جانتی تھیں، مگر المیہ یہ ہے کہ کسی اور نے بھی جاننے کی کوشش نہیں کی۔‘

نندی کہتے ہیں کہ وہ ہمیشہ روزی روٹی کے بارے میں فکر مند رہتی تھیں۔ وہ کہتے ہیں ’جینیئس ہونا ہی کافی نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ کہتی تھیں کہ انہیں زیادہ شوز نہیں ملتے۔ مگر تب تک ان کے ہنر کو ایک فن کے بجائے ایک عجوبے کی طرح دیکھا جانے لگا تھا۔‘

’انھیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں، ہندسوں کی جادوگری لوگ بھول چکے تھے۔ ان کا خود پر اعتماد بھی کچھ کم ہو گیا تھا۔ وہ علم نجوم کی طرف مائل ہو رہی تھیں، اور اپنا پیٹ پالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ انھوں نے سینکڑون چیزیں کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ پارلیمانی انتخابات میں بھی حصہ لیا، مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔‘

اس فلم کے بارے میں ودیا بالن کہتی ہیں ’ایسا نہیں ہے کہ جینیئس میں کوئی خامیاں نہیں ہوتیں۔ زندگی اور اس فلم، دونوں کی خوبی یہی ہے۔ سب کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ اس سب کی عکاسی ہی اس فلم کو منفرد بناتی ہے۔‘

ودیا بالن کو امید ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب عالمی وبا کی وجہ سے لوگ گھروں میں رہنے پر مجبور ہیں، یہ فلم لوگوں کا دل بہلائے گی۔

’مجھے یہ بھی امید ہے کہ اس سے ہمارے بچوں کو ریاضی سکھانے کی طریقے میں بھی تبدیلی آئے گی، بچوں میں اس کا خوف کم ہوگا اور وہ اس کی طرف راغب ہوں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14734 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp