ویتنام میں کووڈ نائنٹین سے پلی دو ہلاکتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہیلتھ ورکر

Reuters
ویتنام میں گذشتہ تین ماہ سے مقامی سطح پرکورونا وائرس ایک بھی انفیکشن نہیں ہوئی تھی

ویتنام میں کوؤڈ نائنٹین کی وجہ سے پہلی بار لوگوں کی اموات ہوئی ہیں۔ ویتنام میں ابھی تک اس وبہ کی وجہ سے ایک بھی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔

ویتنام کو صحت کے شعبے میں اور اموات روکنے میں اپنی کارکردگی پر فخر تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق ستر برس کے ایک شخص، جن کا تعلق مرکزی شہر ہوئی این سے تھا، ملک میں کووڈ سے ہلاک ہونے والے پہلے شخص بنے۔

دوسری ہلاکت ایک 61 برس کے شخص کی شام کے وقت ہوئی۔.

ویتنام میں گزشتہ تین ماہ میں کورونا وائرس کی مقامی پھیلاؤ کا ایک بھی کیس سامنے نہیں آیا تھا۔ لیکن سیاحوں میں مشہور دا نانگ نامی ایک ساحلی شہر میں اس ہفتے کے شروعات میں تیزی سے کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے۔ویتنامی میڈیا کے مطابق مرنے والے دونوں مریض پہلے سے دوسری بیماریوں میں بھی مبتلا تھے۔ .

ساڑھے نو کروڑ کی آبادی والے ملک میں جب سے اس وبا کا آغاز ہوا ہے تب سے صرف 546 کیسز سامنے آئے ہیں۔دوسرے ممالک کے مقابلے میں ویتنام جو جیسے ہی اس وبا کے بارے میں آگاہ کیا گیا اس نے فوراً اپنی سرحدیں بند کر دیں اور صرف اپنے شہریوں کو ملک کے اندر واپس آنے کی اجازت دی گئی ۔

لیکن اس صورت میں بھی تمام آنے والے مسافروں کو 14 دن کے لیے قرنطینہ میں رکھا جاتا اور ٹیسٹنگ کی جاتی۔ کچھ عرصے تک تو ایسا لگا کہ ویتنام کے یہ اقدامات موثر ہیں کیونکہ اپریل کے بعد سے یہاں کوئی نیا کیس سامنے نہیں آیا تھا۔ دنیا بھر میں ویتنام کو ان کے کوؤڈ سے متعلق درست اور بر وقت فیصلوں پر سراہا گیا اور انھیں ایک سکاٹش پائلٹ کی دیکھ بال پر بھی داد دی گئی۔ اس پائلٹ کو کورونا ہوگیا تھا اور یہ دو ماہ کوما میں رہا۔ ویتنام کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

ہوئی تھو، بی بی سی نیوز ویتنام شروع میں ویتنام کے مرکزی جریدوں نے پہلے شخص کی موت پر اس کی وجہ کورونا وائرس بتائی لیکن کچھ ہی دیر بعد اس خبر کو ملک کے تقریباً تمام سرکاری خبر رساں اداروں کی ویب سائٹس سے ڈیلیٹ کردیا گیا۔ یہ خبر دوبارہ تب شائع کی گئی جب کوؤڈ پر قائم خصوصی حکومتی کمیٹی نے اس کی تصدیق کی۔اسی کمیٹی سے تعلق رکھنے والی ایک اور کمیٹی کے نائب ڈائریکٹر ڈاکٹر لونگ کوئے نے بی بی سی ویتنامیز سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس شخص کی موت دل کے دورے، گردوں کے کینسر، ہائی بلڈ پریشر اور دوسری بیماریاں لاحق ہونے کے بعد ہوا لیکن یہ شخص کورونا پازیٹیو بھی تھا۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عوامی سطح پر شرمندہ ہونے کی وجہ سے حکومت کے لیے پہلے اموات کا اعلان کرنا مشکل ثابت ہورہا تھا۔ لیکن اس خبر کی تصدیق کے بعد اب ویتنام اس وائرس کو روکنے کے لیے ایک جارحانہ حکمتِ عملی کے ذریعے روکنے کی کوششش کر رہا ہے اور اپنے تمام ذرائع استعمال کر رہا ہے تاکہ ہر مریض کا علاج کیا جاسکے۔

25 جولائی سے ابھی تک صرف دا نگنگ میں 93 کیسز سامنے آئے ہیں اور پورے شہر کو ایک بار پھر لاک ڈان میں ڈال دیا گیا ہے۔ دیگر شہروں اور علاقوں میں بھی اب پابندیاں متعارف کروائی جارہی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16549 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp