شوبز ڈائری: ’لوگ پاگل سمجھیں گے اور کام نہیں ملے گا‘

نصرت جہاں - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا کی شوبز انڈسٹری میں رواں ہفتے ٹی وی اداکار سمیر شرما کی مبینہ خود کشی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔

44 سالہ سمیر ٹی وی ڈرامہ سیریل ’یہ رشتے ہیں پیار کے‘ میں اہم کردار میں نظر آئے تھے۔ شوبز میں خود کشیوں نی بات نھیں۔

حال ہی میں سوشانت سنگھ راجپوت کی مبینہ خودکشی یا موت نے جہاں بالی وڈ کو ہلا کر رکھ دیا وہیں انڈسٹری کی چکا چوند کے پیچھے چھپی مایوسیاں، پریشر، اضطراب اور پریشانیوں کو بھی اُجاگر کیا اور ساتھ ہی کئی سوالوں کو بھی جنم دیا۔

کیا ستاروں اور روشنیوں سے جگمگاتی یہ دنیا اندر سے اتنی ویران اور اندھیری ہے کہ کچھ لوگ موت کے اندھیروں کو گلے لگانا پسند کرتے ہیں؟

سنہ 1964 میں اداکار گرودت کی موت سے لے کر سوشانت سنگھ کی موت تک ’خودکشی‘ کرنے والے ٹی وی اور فلمی اداکاروں یا اداکاراؤں کی فہرست کافی لمبی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس کی کئی جوہات بتائی جا رہی ہیں جیسا کہ پیسے کی کمی، کام کا کم یا بالکل نہ ملنا، مقابلے بازی اور کامیابی حاصل کرنے کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کا ڈر یا خوف اور اس سے پیدا ہونے والا ڈپریشن۔

یہ بھی پڑھیے

بالی وڈ میں اقربا پروری کا سرغنہ کون ہے

کارتک آرین کی ممّی کو کیسی بہو چاہیے؟

سشانت سنگھ کی آخری فلم کی ریلیز آج، تاپسی پنو کنگنا کے نشانے پر

اداکار شمع سکندر نے بی بی سی اردو کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا ’سب سے ضروری ہے کہ ذہنی صحت پر کُھل کر بات کی جانی چاہیے اور اس کے ساتھ جو وہم وابستہ ہیں انھیں ختم کیا جائِے۔ مثلاً ’اگر لوگوں کو پتا چلا تو کیا ہو گا؟ لوگ پاگل سمجھیں گے؟ یا کام نہیں ملے گا؟ جیسی باتیں۔‘

شمع کا کہنا ہے کہ خودکشی کے واقعات صرف بالی وڈ میں ہی نہیں دوسرے شعبوں میں بھی ہوتے ہیں مگر یہ اور بات ہے کہ میڈیا میں بالی وڈ کے بارے میں باتیں زیادہ ہوتی ہیں۔

وہ کہتی ہیں کہ شو بِز کے لوگوں پر کئی طرح کے دباؤ ہوتے ہیں۔ ان پر مسلسل سب کی نظر ہوتی ہے اور وہ لوگوں کے میعار پر کھرا اترنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ دوسرا سب سے اہم مسئلہ ذہنی امراض، ڈپریشن اور اضطراب ہے۔

ان کے مطابق لوگوں کو چاہیے کہ اس بارے میں وہ اپنے والدین یا دوستوں سے بات کریں اور ذہنی صحت کے اچھے ماہرین سے رابطہ کریں۔

کورونا وائرس کے سبب آج کل ٹی وی انڈسٹری کے لوگوں کے پاس کام نہیں، جو عموماً یومیہ اجرت پر ہوتے ہیں تو مالی پریشانیاں بھی دباؤ کا بڑا سبب بنتی ہیں۔

اگر کام نہیں تو پیسہ بھی نہیں۔ ماہر نفسیات سونالی گپتا نے حال ہی میں الجزیرہ کی ویب سائٹ کے ساتھ بات چیت مہیں کہا تھا کہ ایک ایسی انڈسٹری جہاں پہلے ہی اتنی غیر یقینی ہو وہاں مستقبل کا کوئی خاکہ تیار نہیں کیا جا سکتا جس سے لوگوں میں اضطراب بڑھ جاتا ہے۔

شمع سکندر

BBC

سوشل میڈیا کے ذریعے بڑھتا دباؤ ایک وجہ بتایا جا رہا ہے جہاں مشہورشخصیات پر ہر لمحہ کڑی نظر رکھی جاتی ہے۔

یہ ایک ایسی انڈسٹری ہےجہاں کبھی آپ بلندیوں پر ہیں اور سب آپ کو جانتے اور چاہتے ہیں لیکن کامیابی کی سیڑھیاں اترتے وقت آپ خود کو تنہا محسوس کرتے ہیں۔ اب سوشل میڈیا کے اس دور میں لوگ آپ کو تنہا نہیں چھوڑتے۔ جس کی مثال یہ ہے کہ ابھشیک بچن کو ’کامیاب باپ کا ناکام بیٹا‘ کہہ کر پکارا جاتا ہے تو فردین خان کے بڑھے ہوئے وزن پر انھیں ٹرول کیا جاتا ہے تو کہیں پرینکا چوپڑہ کو ان کے لباس پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

حالانکہ سوشانت سنگھ کی موت کا معاملہ جو ڈپریشن اور ذہنی پریشانی سے شروع ہوا تھا اب ہر دن کے ساتھ ایک نیا انکشاف کر رہا ہے۔ لیکن ان کی موت نے بالی وڈ کے اُن سیاہ پہلوؤں کو اجاگر ضرور کیا ہے جن کے بارے میں پہلے شاید ہی کبھی اتنی کھل کر بات کی گئی ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15411 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp