عظمت رفتہ اور عظیم مستقبل کے خواب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارا عہد دنیا میں بڑی تبدیلیوں کا عہد ہے۔ ایک بڑی تبدیلی عالمی سیاست میں رونما ہو رہی ہے۔ دنیا میں نئی صف بندیاں ہو رہی ہیں۔ یونی پولر دنیا ملٹی پولر دنیا کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ سیاسی اور معاشی افق پر نئی بڑی علاقائی اور عالمی طاقتیں ابھر رہی ہیں۔ کچھ پرانی بڑی طاقتوں کا سورج غروب ہو رہا ہے۔ یہ ایک تیز رفتار اور ہنگامہ خیز دور ہے۔ ایسے دور میں حکمران اشرافیہ اور ان کے ارد گرد منڈلاتے دانشوروں اور تجزیہ کاروں کا کام ہوتا ہے کہ وہ حالات کا ادراک کریں، اور قوموں و ملکوں کی درست سمت میں رہنمائی کریں۔ تبدیلیوں کے دور میں جو نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں ان سے استفادہ کریں، جو خطرات ہیں ان کا تدارک کریں۔ بدلتے حالات میں مستقبل کی حقیقی تصویر دیکھیں اور مستقبل کی صف بندیوں میں درست صفوں میں کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔

ہماری حکمران اشرافیہ اور بیشتر دانشوروں کی روش مگر اس کے برعکس ہے۔ وہ عوام کو خیالی باتوں میں الجھائے رکھنے کے عادی ہو چکے ہیں۔ وہ ان کو عظمت رفتہ کے فرضی قصے سنا کر خود فریبی میں مبتلا رکھتے ہیں۔ عظیم ماضی کی روشنی میں عظیم مستقبل کے خواب دکھاتے رہتے ہیں۔ آج کل اسی ”عظیم ماضی“ کی روشنی میں ایک نیا خواب دکھایا جا رہا ہے۔ خواب یہ ہے کہ مسلمانوں کا عظیم ماضی لوٹ کر آنے والا ہے، اور یہ عظمت رفتہ اب کی بار عظیم ترکی کی قیادت میں لوٹ کر آئے گی۔

یہ خواب عوام اور دانشوروں کے ایک حلقے میں مقبول ہو رہا ہے۔ یہ خواب اس طرح سنایا جاتا ہے کہ تین سال بعد 2023 میں معاہدہ لوزان ختم ہو جائے گا، اس معاہدے میں ایک خفیہ شق ہے، جس میں اس کے خاتمے کی تاریخ مقرر ہے۔ کسی کو معاہدہ پڑھنے کی توفیق و فرصت نہیں۔ کسی کو تصدیق و تردید کی حاجت نہیں ؛ چنانچہ ماضی کی ایسی بے شمار تھیوریوں کی طرح یہ تھیوری بھی مقبول ہو رہی ہے۔

اس تھیوری کا مرکزی خیال یہ ہے کہ اس معاہدے کی مدت ختم ہونے کے بعد ترکی ایک بہت بڑی اسلامی طاقت کے طور پر ابھرنا شروع ہو جائے گا۔ یہ اپنے سمندروں سے تیل و گیس کے ذخائر نکالنا شروع کر دے گا۔ یہ باسفورس کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لے کر یہاں سے گزرتے ہوئے لاکھوں بحری جہازوں سے ٹیکس وصول کرے گا، اور دنیا کی بحری تجارت کا ایک بڑا حصہ اس کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ یہ یونانیوں سے اپنے جزائر واپس لے گا۔ یہاں معاشی ترقی اور خوشحالی کا ایک ابھار آئے گا، اور یہاں خلافت عثمانیہ یا سلطنت عثمانیہ کی طرز پر ایک نئی اسلامی ایمپائر جنم لے گی، اور ترکی اسلامی و عرب دنیا کے واحد لیڈر کے طور پر بڑی طاقت بن کر ابھرے گا۔

عظمت رفتہ اور عظمت فردا کے اس قصے کا مرکزی نقطہ معاہدہ لوزان ہے۔ لوزان سوئٹزرلینڈ کا ایک خوبصورت اور پرسکون شہر ہے، جہاں یہ امن معاہدہ 24 جولائی 1923 کو ہوا تھا۔ اس معاہدے کا ایک فریق پہلی جنگ عظیم کی اتحادی قوتیں تھیں، جن میں فرانس، برطانیہ، اٹلی، روس، جاپان، یونان اور رومانیہ وغیرہ شامل تھے۔ دوسرا فریق سلطنت عثمانیہ یعنی ترکی تھا۔ یہ ایک طویل اور تفصیلی معاہدہ تھا، جس میں فریقین کے درمیان کئی امور پر اتفاق ہوا۔

اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ اس کی وجہ سے اتحادیوں اور ترکوں کے درمیان تصادم ختم ہوا اور امن کی طرف پیش قدمی شروع ہوئی۔ دوسری اہم بات یہ تھی کہ جدید ترکی کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔ اس معاہدے کی رو سے جدید ترک ریپبلک نے سلطنت عثمانیہ کے زیرنگین کئی علاقوں اور جزائر پر اپنا دعویٰ ختم کیا، اور جواب میں اتحادی قوتوں نے نئی سرحدوں کے اندر ترکی کی خود مختاری کو تسلیم کیا، ترکی سلطنت عثمانیہ کی وارث ایک جدید ریاست کے طور پر ابھرا اور اس کو ایک ریپبلک کے طور پر تسلیم کر کے عالمی برادری کا حصہ بنایا گیا۔

معاہدہ لوزان کے بارے میں ترک عوام ہمیشہ تقسیم رہے ہیں، اور تقسیم ہیں۔ کمال اتاترک کے حامیوں یعنی کمالسٹوں کا خیال ہے کہ جن حالات میں یہ معاہدہ ہوا تھا، ان کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ایک بہترین معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کی وجہ سے ترکی جنگ و جدل کا راستہ ترک کر کے امن و ترقی کے راستے پر گامزن ہوا۔ دوسری طرف دائیں بازو کی بنیاد پرست اور قدامت پسند قوتوں کا خیال ہے کہ یہ ایک بد ترین معاہدہ تھا، جس کے ذریعے ترکی کے علاقے لے کر اس کے حصے بخرے کر دیے گئے۔ اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے اور اس کو اس کی عظمت رفتہ سے محروم کر دیا گیا۔

اس معاہدے کے خلاف سخت جذبات رکھنے والوں میں صدر اردوان آگے آگے ہیں۔ ان کے خیال میں یہ معاہدہ غیرواضح اور یک طرفہ ہے یا اگر اس میں کبھی کوئی اچھی چیز تھی بھی تو اس کی اہمیت اور ضرورت اب ختم ہو گئی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ترکی دنیا کے سٹیج پر ایک اہم کھلاڑی کے طور پر دوبارہ نمودارہو، اور اسلامی ایمپائر کا کردار ادا کرے۔ اس عظیم اسلامی ایمپائر کی تھیوری یا نظریے میں اردوان کی شخصیت مرکزی ہے جو ایک ازحد پرعزم اور جاہ طلب شخص ہیں۔

وہ مصطفی کمال اتاترک سے بھی آگے جاکر نئی تاریخ رقم کرنے اور کوئی بڑا معرکہ سرانجام دینے کی خواہش رکھتے ہیں، یا کم از کم کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں کہ تاریخ انہیں اتاترک کے برابر لا کھڑا کرے۔ مگر اتاترک ترکوں کا ہیرو ہے، اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ تاریخ کی درست سمت کھڑے تھے، اور تاریخ نے ان کو عزت بخشی۔ اردوان بھی اتاترک کی عظمت کے قائل ہیں، مگر ان کے نظریات، خیالات اور وژن میں بہت فرق ہے۔ کمالسٹوں کے نزدیک اتاترک کا سب سے بڑا کارنامہ ریاست کو مذہب سے الگ کرنا تھا مگر اردوان مذہب کو ریاست اور سیاست میں لانے کے خواہشمند ہیں۔

فی زمانہ وہ مذہب کی طاقت سے آگاہ ہیں، اور شاید اسے بطور ہتھیار استعمال کرنے میں کوئی قباحت نہ سمجھتے ہوں، یا ان قباحتوں کی پوری آگہی نہ رکھتے ہوں۔ اس باب میں انہوں نے ترک قوانین، کلچر اور طرز زندگی میں کئی تبدیلیاں لانے کی کوشش کی ہے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ترکی میں جو ادب تخلیق ہو رہا ہے، جس طرح کی فلمیں، ڈرامے بنائے جا رہے ہیں، یہ سب اس نئی پالیسی کا عکس ہیں۔ اردوان ثقافتی ہی نہیں، بڑی جغرافیائی تبدیلیوں کے بھی خواہشمند ہیں۔

وہ ترکی کے ان علاقوں کو واپس لینا چاہتے ہیں، جو بقول ان کے معاہدہ لوزان کے تحت ناجائز طور پر اس سے لے لیے گئے تھے۔ اس سلسلے میں اردوان ترکی کا جو نقشہ یا جغرافیہ دکھا رہے ہیں اس کے تحت ترکی کی زمینی اور سمندری حدود یونان، بلغاریہ، آرمینیا، عراق اور شام میں اتنی اندر تک جاتی ہیں کہ ان ممالک کے لئے یہ نا قابل قبول ہو گا۔ شام کے حالیہ قضیے میں ان کی مداخلت اسی سوچ کا اظہار سمجھی جا سکتی ہے۔ اردوان کے بلند عزائم اور خواب محض ترکی تک محدود نہیں رہے۔ وہ مسلم دنیا کی رہنمائی کے بھی خواہشمند ہیں۔ ان کے ساتھ مسلمان دنیا میں کئی اپنے خوابوں کی تعبیر دیکھتے ہیں۔ حسب سابق اس معاملے میں شاید سب سے زیادہ پرجوش برصغیر کے مسلمان دکھائی دیتے ہیں۔ ترک جب خود خلافت کے خاتمے کا اعلان کر رہے تھے تو برصغیر کے مسلمان اس پر ماتم کناں تھے۔

اگر سارے نہیں تو کچھ خوابوں کے پورا ہونے کے خاصے امکانات ہیں۔ 2023 میں معاہدہ لوزان کے سو سال پورے ہونے کے موقع پر سرکاری سطح پر ترکی کی جو تصویر دکھائی جا رہی ہے، اس کے مطابق ترکی دنیا کی دس بڑی معاشی طاقتوں میں شامل ہو جائے گا۔ یہ کورونا بحران سے پہلے کی بات ہے۔ کورونا کی وجہ سے ممکن ہے تھوڑا بہت فرق پڑے، لیکن کچھ خواب تو حقیقت کا روپ دھاریں گے۔ رہا سوال برصغیر کے مسلمانوں کا تو ان کے لئے بہتر راستہ یہی ہو گا کہ اپنے آسمان کے نیچے اور اپنی دھرتی کے اوپر اپنے خواب دیکھیں، جو ان کے اپنے حالات سے مطابقت رکھتے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply