سیاسی تصوف – خصوصی تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مسیحی تصوف، اسلامی تصوف۔ ۔ ۔ مذہب کے دائرے میں یہ عناوین قدیم سے قائم ہیں۔ ان دنوں تصوف کی ایک نئی قسم سامنے آئی ہے، جسے تفہیم مدعا کے لیے ہم سیاسی تصوف کہہ لیتے ہیں۔ اس سلسلے کے آغاز کا سہرا نون لیگ کے سر ہے۔ جناب شہباز شریف سید الطائفہ ہیں۔

تصوف سے دلچسپی تو خان صاحب کو ہے مگر ان کی سیاست میں اس کے عملی مظاہر کم ہی دیکھنے کو ملے۔ مزار کا سجدہ یا عقد ثالث کو ہم صوفیانہ وارداتوں میں شمار کر سکتے ہیں مگر ان کا تعلق نجی زندگی سے ہے۔ سیاست میں وہ صوفی نہیں۔ ان کی سیاست اقتدار کی سیاست اور ان تمام اوصاف سے متصف ہے جن سے یہ سیاست ہمیشہ سے عبارت رہی ہے۔ اقتدار کی سیاست میں تو آپ کسی پر ترس نہیں کھاتے، وہ سگا بھائی یا بیٹا ہی کیوں نہ ہو۔ تصوف تو باپ کے قاتلوں کو معاف کرنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔

صوفیانہ سیاست اگر کسی کے مقدر میں لکھی تھی تو وہ نون لیگ ہے۔ راہ سلوک کا ایک مسافر جن جن گھاٹیوں اور مراحل سے گزرتا ہے، اس کے مظاہر آپ کو یہاں ملیں گے۔ اس راہ میں مرشد تربیت کے لیے مختلف اعمال تجویز کرتا ہے۔ جو کامیابی سے ان مراحل سے گزر جاتا ہے، اسے وصال یار نصیب ہوتا ہے اور پھر وہ مرحلہ آتا ہے کہ من تو شدم، تومن شدی۔ یا غالب کی زبان میں ’اصل شہود و شاہد و مشہود ایک ہے‘ ۔

مثال کے طور پر مرشد کسی سالک کو چپ کا روزہ تجویز کرتا ہے۔ وہ ہر ظلم سہتا اور حرف شکایت زبان پر نہیں لاتا۔ وہ کہیں اپنا دفاع نہیں کرتا۔ لوگ الزام لگائیں، جیل بھیجیں، سنگ باری کریں، وہ سب کچھ برداشت کرتا ہے کہ مرشد کا حکم یہی ہوتا ہے۔ اسے گلیوں میں پا بجولاں چلایا جائے تو اف نہیں کرتا۔ نون لیگ میں آپ کو بعض ایسے مسافران راہ سلوک ملیں گے جنہوں نے چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے۔ ہر ظلم سہ اور دیکھ رہے ہیں مگر چپ ہیں۔

اعتکاف یا مراقبہ بھی تصوف کی روایت ہے۔ یہاں کچھ صوفی وہ ہیں جو معتکف ہیں۔ گرد و پیش سے بے نیاز خلوت نشین۔ ایسی تنہائی کہ نیپ بھی چاہے تو انہیں تلاش نہیں کر سکتی۔ جیسے کسی خلائی مخلوق نے انہیں اپنی آغوش میں لے رکھا ہو۔ زمینی قوتیں جتنا زور لگائیں، انہیں دیکھ نہ سکیں۔ اس اعتکاف میں صرف کارکنان قضا و قدر ہی کو ان تک رسائی ہوتی ہے۔ تصوف میں اس طرح کے اعتکاف اور مراقبے خانقاہوں میں ہوتے ہیں۔ مسیحی روایت میں راہب اسی طرح تیار ہوتے ہیں۔ سیاسی راہب کے لیے یہ آسانی ہے مرشد چاہے تو گھر کو خانقاہ بنا دے۔ ایسے صوفی اس وقت آپ کو نون لیگ میں ملیں گے۔

تصوف میں منازل سلوک طے کرتے کرتے لوگ ایک ایسی منزل تک جا پہنچتے ہیں جہاں ان کے منہ سے نکلے الفاظ، اگر شریعت و دین کے ظاہری پیمانے پر پورا نہ اتریں تو انہیں گوارا کیا جاتا ہے اور انہیں مرفوع القلم سمجھا جاتا ہے۔ ان کے کلام کو ’شطحات‘ کہتے ہیں۔ بعض بزرگ اس کیفیت کو ’جمع الجمع‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔ گویا انہیں استثنا مل جا تا ہے۔ جیسے منصور کا نعرہ ’انا الحق‘ یا ایک بزرگ کا قول ’سبحانی، ما اعظم شانی‘ ۔ نون لیگ میں بھی بعض لوگوں کی زبان سے ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں جسے سیاست کی لغت میں گورا نہیں کیا جاتا۔ وہ سیاست کے معلوم حقائق سے متصادم ہوتی ہیں۔ یہاں لیکن قابل قبول ہیں کہ انہیں شطحات کے دائرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

صوفیا میں ایک طبقہ وہ ہوتا ہے جو ملامتی کہلاتا ہے۔ وہ اس پر خوش ہوتا ہے کہ لوگ اسے برا کہیں۔ وہ ایک ایسی شہرت کے ساتھ جیتا ہے جو اس کا اصل تعارف نہیں ہو تا۔ وہ کسی پر اپنی حقیقت ظاہر نہیں کرتا۔ لوگ اس کے منہ پر اس پر اس کی توہین کرتے ہیں مگر وہ مسکراتا رہتا ہے۔ کسی الزام کی تردید نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک اصل اہمیت اس کی ہے کہ وہ اپنے محبوب کی نظر میں کیسا ہے۔ وہ رائے عامہ کے خوف سے نکل جاتا ہے۔ اگر اسے ناچ کر یار منانا پڑے تو اس کے لیے یہ باعث عار نہیں ہوتا۔

کچھ صوفی مجذوب ہوتے ہیں۔ اپنی ذات سے بے نیاز، مشاہدہ حق میں جذب۔ استغراق کا یہ عالم کہ ستر کی پرواہ نہ عالم ناسوت کی اسیری۔ جذب و مستی ایسی کہ کم نظر دنیا دار اس کا ادراک نہیں کر پاتے۔ ان کے مقام کی معرفت کسی صاحب مقام کو حاصل ہوتی ہے۔ پیر ہی پیر کو پہچان سکتا ہے۔ نون لیگ میں ایسے مجذوب بھی پائے جاتے ہیں۔ خلق خدا کی باتوں سے بے نیاز، اپنی سیاست میں مستغرق۔

تصوف میں مجرد رہنے کی بھی بہت اہمیت ہے۔ شیخ علی ہجویری کے الفاظ میں تو طریقۂ تصوف کی بنا ہی تجرد پر استوار ہے۔ اس کی شرح یہ ہے کہ بیوی زندگی میں داخل ہوتی ہے تو دنیا میں گم ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ یوں احتیاط کا تقاضا ہے کہ خطرہ مول نہ لیا جائے۔ نون لیگ میں ’مجرد‘ بھی بہت ہیں۔ سیاست میں ہیں لیکن سیاست سے لاتعلق۔ خدمت قائد ان کی پہلی و آخری ترجیح ہے۔ اس کے سہارے کبھی سینٹ میں پہنچ جاتے ہیں اور کبھی کسی اسمبلی میں۔ ان کو کیا پڑی کہ سیاست سے نکاح کریں۔ لاٹھیاں کھائیں اور جیلوں میں سڑیں۔ یوں احتیاطاً مجرد رہتے ہیں۔

میرا خیال ہے اتنا بیان کفایت کرتا ہے، یہ بتانے کے لیے کہ اس وقت نون لیگ نے سیاست میں تصوف کو متعارف کرا دیا ہے اور اس کی عملی شہادت بھی پیش کر دی ہے۔ کچھ اور نشانیوں کو بھی ذکر کیا جا سکتا ہے جو ان سیاسی صوفیوں میں پائی جاتی ہیں لیکن طوالت کلام کے خوف سے انہیں چھوڑ رہا ہوں۔ سیاست میں یہ مسلک پہلے کسی نے اختیار نہیں کیا۔ آپ نے کسی کو چپ کا روزہ رکھے دیکھا ہے؟ کسی کو معتکف پایا ہے؟ کسی سیاسی راہب سے آپ کی ملاقات ہوئی؟

اب سیاست کا معاملہ یہ ہے کہ اس کا مزاج صوفیانہ نہیں، مجاہدانہ ہے۔ یہ خلوت میں نہیں، جلوت میں نمو پاتی ہے۔ اس میں خاموشی نہیں، کلام معتبر ہے۔ یہ تجرد کو پسند نہیں کرتی، ’نکاح‘ کا مطالبہ کرتی ہے۔ سماجی عقد، جسے عمرانی معاہدہ بھی کہتے ہیں، سیاست و ریاست کی اساس ہے۔ اس میں ’شطحات‘ کو گورا نہیں کیا جاتا۔ ایک ایک جملہ پہلے تولا اور پھر بولا جاتا ہے، ورنہ آپ کے الفاظ برسوں آپ کا پیچھا کرتے ہیں۔

سیاست میں ملامتی گروہ کے لیے بھی کوئی جگہ نہیں۔ اس میں جارحیت ہے۔ یہاں اپنے کارنامے گنوائے جاتے ہیں۔ دس کو سو بنا کر پیش کیا جا تا ہے۔ ایک ہسپتال کی تعمیر کے عوض، عوام سے وزارت عظمیٰ کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ دوسروں کی کمزوریوں پر سیاست کی بنیاد رکھی جاتی ہے۔ یہاں تو ہر کوئی دوسروں کی ملامت کا ہدف ہے۔ سیاست دوسروں کی عیب شماری کا نام ہے، یاد محبوب میں اختر شماری کا نہیں۔ سیاست میں اگر کوئی خود ملامتی ہو جائے تو ہلاک ہو جائے۔

میں سمجھ نہیں سکا کہ کیا سوچ کر نون لیگ نے سیاسی تصوف کا دھرم اختیار کیا ہے؟ یہ طفلان مکتب بھی نہیں کہ برسوں سے اس دشت کے سیاح ہیں۔ یہ جانتے ہیں کہ سیاست میں عزیمت ہے یا پھر سازش۔ قوت بازو سے اپنی جگہ بنائیں یا محلاتی سازشوں سے۔ اس وقت اگر نون لیگ زندہ ہے تو اس عزیمت کے سبب جس کا مظاہرہ، نواز شریف اور مریم نواز نے کیا، یہاں تک کہ انہوں نے بھی سیاسی تصوف کو اپنا لیا۔

اقبال نے توجہ دلائی تھی کہ صوفی کی طریقت میں صرف مستی احوال ہے۔ زندگی کو مستی کردار کی ضرورت ہوتی ہے۔ سیاست بھی اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ یہاں حرکت ہے، ٹھہراؤ نہیں۔ یہاں مزاحمت ہے، پسپائی نہیں۔ سیاست صوفیوں کی خانقاہ نہیں، مجاہدوں کی رزم گاہ ہے۔ یہاں مراقبہ نہیں، مقابلہ ہوتا ہے۔ سیاست تصادم کا نام نہیں کہ یہ حکمت سے عاری نہیں ہوتی۔ مزاحمت لیکن تصادم نہیں ہے۔ یہ ختم ہو جائے تو سیاست بھی دم توڑ دیتی ہے۔
سیاست کے میدان میں کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ ممولے میں شہباز سے ٹکرانے کا حوصلہ ہو۔ سیاسی تصوف شہباز کو بھی ممولہ بنا دیتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply