کاکوری ٹرین ڈکیتی کیس: جب چند نوجوانوں نے برطانوی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی دلوانے کے لیے اس صدی کے اوائل میں متعدد تحریکیں چلیں اور سینکڑوں افراد نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔

بعض افراد نے مادر وطن کی آزادی کے لیے اپنی جان کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا اور تختہِ دار پر اجل کو لبیک کہا۔

برصغیر کی جدوجہد آزادی کی تاریخ میں کاکوری ٹرین ڈکیتی کا واقعہ ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ تاریخی واقعہ نو اگست 1925 کو پیش آیا تھا جب انڈیا میں کاکوری کے قریب سہارن پور سے لکھنو جانے والی ٹرین کو روک کر اس میں موجود سرکاری خزانہ لوٹ لیا گیا تھا۔

انڈین ری پبلکن ایسوسی ایشن کے صرف دس نوجوان اس وقوعہ کے لیے ذمہ دار تھے۔

ان نوجوانوں کے نام تھے: پنڈت رام پرشاد بسمل، راجندر لاہڑی، روشن سنگھ، اشفاق اللہ خان، سچندر ناتھ بخشی، چندر شیکھر آزاد، بنارسی لال، بنواری لال، بھوپندر سانیال اور پریم کشن کھنہ۔

نو اگست 1925 کو نصف کے قریب شب گزر چکی تھی۔ آسمان پر سیاہ بادل چھائے ہوئے تھے، ہلکی ہلکی پھوار پڑ رہی تھی، چاند کی دو تاریخ تھی اس لیے سرشام سے ہی اندھیرا تھا۔

ایسے میں جب سہارن پور سے لکھنؤ جانے والی 8 ڈاؤن پسنجر ٹرین کاکوری سٹیشن کے پلیٹ فارم پر آکر رکی تو چند مسافر ٹرین سے اترے اور چند لوگ ٹرین میں جلدی جلدی سوار ہوگئے۔

کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ تھوڑی دیر میں ایک ہنگامہ برپا ہونے والا ہے جو ہندوستان میں برطانوی حکومت کو ہلا کر رکھ دے گا اور برصغیر کی جنگ آزادی کی تاریخ میں اولوالعزمی اور جاں بازی کا ایک ایسا نقش ابھرے گا جو آزادی کی تاریخ میں ہمیشہ عقیدت و احترام کی نظر سے دیکھا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے

جب ہندوستان کے مسلمان سکتے میں آگئے

انگریزوں نے ہندوستان کو کل کتنا مالی نقصان پہنچایا؟

’سرفروشی کی تمنا‘: کیا یہ لڑکیاں ہی تبدیلی لائیں گی؟

فیض فیسٹیول پر بِسمل عظیم آبادی کی نظم پڑھنے والی طالبہ

جو لوگ ٹرین کے مختلف ڈبوں میں سوار ہوئے ان میں اشفاق اللہ خان، سچندر ناتھ بخشی، پنڈت رام پرشاد بسمل اور راجندر لاہڑی کے علاوہ انڈین ری پبلکن ایسوسی ایشن کے چھ دیگر ارکان شامل تھے۔

ٹرین کاکوری کی حدود سے نکلی ہی تھی کہ ایک ویران سی جگہ پر زنجیر کھینچ کر اسے روک لیا گیا۔ چند آدمی تیزی کے ساتھ نیچے اترے اور انھوں نے ٹرین کے دونوں جانب پوزیشن سنبھال لی۔

ٹرین کا گارڈ اور ڈرائیور ان کے نشانے پر تھے۔ چند فائروں کی آواز فضا میں گونجی اور ٹرین میں مسافروں اور عورتوں بچوں کی چیخ پکار کا ہنگامہ برپا ہوگیا۔

اچانک فضا میں ایک دبنگ آواز گونجی اور اعلان ہوا کہ کوئی شخص ٹرین سے اترنے اور کوئی حرکت کرنے کی کوشش نہ کرے۔

’ہم ڈاکو نہیں انقلابی ہیں، ہم کسی مسافر کو نقصان نہیں پہنچائیں گے ۔صرف ٹرین میں جانے والا سرکاری خزانہ لوٹیں گے اور چلے جائیں گے۔‘

گروپ کے چند نوجوان گارڈ کے ڈبے تک پہنچ گئے اور اسے محاصرے میں لے لیا۔ گارڈ کو نیچے اتار لیا گیا۔ تین چار آدمیوں نے اس ڈبے میں گھس کر اس تجوری کو نیچے گرا دیا جس میں سرکاری خزانہ موجود تھا۔ گارڈ نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی۔

نوجوانوں نے تجوری کو چھینی، ہتھوڑے اور پھرکلہاڑی سے توڑ ڈالا۔ انھوں نے سارا خزانہ سمیٹ کر گٹھڑیوں میں باندھ لیا اس کے بعد گارڈ کو روک کر ڈرائیور کو گاڑی لے جانے کا حکم دیا۔

یہ سارا مرحلہ طے کرنے میں 45 منٹ صرف ہوئے۔

برطانوی استعمار اور اس کے آہنی نظام پر تاریخی ضرب لگ چکی تھی۔ نوجوان خزانے کی گٹھریوں کو سر پر رکھ کر پیدل ہی چل پڑے اور لکھنو پہنچ کر اپنے خفیہ ٹھکانوں میں روپوش ہوگئے۔

اسی دوران ٹرین بھی لکھنؤ سٹیشن پہنچ چکی تھی جہاں مسافروں کی چیخ پکار سے پورا سٹیشن گونج رہا تھا۔

اگلے روز اخبارات کے ذریعے یہ خبر ملک کے طول و عرض میں پھیل گئی۔ ہر شخص کی زبان پر کاکوری میں سرکاری خزانہ لوٹنے کے بہادرانہ کارنامے کا تذکرہ تھا۔

اتر پردیش (یو پی) کی حکومت نے نہایت سرگرمی کے ساتھ معاملے کی تفتیش شروع کی۔ ابتدا میں مایوسی، ناکامی، غصے اور جھنجھلاہٹ کے سوا پولیس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

مگر ڈیڑھ ماہ کی مسلسل جستجو کے بعد 26 ستمبر 1925 کو پورے صوبے میں بیک وقت چھاپہ مارا گیا اور 44 کے لگ بھگ نوجوان گرفتار کر لیے گئے۔ مقدمہ شروع ہونے سے پہلے 16 نوجوان رہا کردیے گئے اور بقیہ 28 کو کٹہرے میں لانے کا فیصلہ کیا گیا۔

ملزمان میں سے دو افراد، بنواری لال اور بھوپندر سانیال نے اقبال جرم کرلیا اور منصوبے کی تمام تفصیلات وعدہ معاف گواہ بنائے جانے کے وعدے پر پولیس کو بیان کردیں۔

پتا چلا کہ تین ملزمان اشفاق اللہ خان، سچندر ناتھ بخشی اور چندر شیکھر آزاد کے علاوہ تمام ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ پولیس نے ان تینوں ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی ہندوستان بھر میں جال بچھا دیا اور تھوڑے ہی دن میں اشفاق اللہ خان اور سچندر ناتھ بخشی بھی گرفتار ہوگئے۔

مقدمہ شروع ہوگیا، تمام ملزمان کے حوصلے بلند تھے۔ یہ سب کے سب پڑھے لکھے نوجوان تھے جو جیل سے آتے اور جاتے وقت گیت اور غزلیں گایا کرتے تھے جن میں بیشتر ان کی اپنی کہی ہوئی ہوتی تھیں۔ ان میں سب سے مشہور غزل کا مطلع تھا:

سر فروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

21 مئی 1926 کو سیشن کورٹ میں مقدمے کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ یہ مقدمہ مارچ 1927 تک جاری رہا اور 6 اپریل 1927 کو مقدمے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔

اس فیصلے کے مطابق رام پرشاد بسمل، راجندر ناتھ لہری اور روشن سنگھ کو سزائے موت اور دیگر ملزمان کو عمر قید، پانچ سے دس سال قید کی سزائیں سنا دی گئیں۔

ان ملزمان میں اشفاق اللہ خان، سچندر ناتھ بخشی اور چندر شیکھر آزاد شامل نہیں تھے کیوں کہ وہ ابھی پولیس کے ہاتھ نہیں آئے تھے۔

چندر شیکھر آزاد آخر وقت تک پولیس کے ہاتھ نہیں آئے مگر بعد میں انھیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کرکے سزائے موت دے دی گئی۔

ملزمان نے چیف کورٹ میں سیشن کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی اس دوران ملک بھر میں حریت پسند حلقوں میں بے چینی اور بے اطمینانی کی فضا قائم رہی۔

لیجسلیٹو کونسل میں ٹھاکر من جیت سنگھ نے سزائے موت پانے والے ملزمان کی سزائیں کم کرنے کی قرارداد بھی پیش کی مگر کونسل کا اجلاس منعقد نہ ہونے کے باعث اس قرارداد پر بحث ہی نہیں ہوسکی اور جب بحث شروع ہوئی تو سارا کھیل ختم ہوچکا تھا۔

چیف کورٹ نے سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔ اس دوران اشفاق اللہ خان اور سچندر ناتھ بخشی بھی گرفتار ہوچکے تھے۔

19 دسمبر کو پنڈت رام پرشاد بسمل، اشفاق اللہ خان،راجندر ناتھ لہری اور روشن سنگھ کو یو پی کی مختلف جیلوں میں تختہ دار پر لٹکا دیا جبکہ سچندر ناتھ بخشی سمیت پانچ ملزمان کو عمر قید اور10 دیگر ملزمان کو تین سے چودہ سال قید کی سزا سنائی گئی۔

برصغیرکی تاریخ میں یہ واقعہ کاکوری ڈکیتی کیس کے نام سے معروف ہے۔ آزادی کے بعد حکومت ہند نے سزائے موت پانے والے دو حریت پسندوں رام پرشاد بسمل اور اشفاق اللہ خان کی یاد میں ایک یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔

’سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے‘

کاکوری ڈکیتی کیس کے دوران برصغیر میں ایک غزل بہت مشہور ہوئی جس کا مطلع تھا:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

تاہم اس غزل کے بارے میں عام طور پر یہ سمجھا جاتا رہا کہ اسے اس ڈکیتی کیس میں سزائے موت پانے والے مجاہد آزادی پنڈت رام پرشاد بسمل نے تخلیق کیا تھا۔

اس غلط فہمی کا سبب یہ تھا کہ پنڈت رام پرشاد بسمل کی زبان پر آخری وقت میں یہی شعر تھا اور چونکہ ان کا تخلص بھی بسمل تھا اس لیے یہ غلط فہمی مزید تقویت پاگئی۔

سال ہا سال یہ شعر انھی کے نام سے منسوب رہا۔ لیکن اس شعر پر اس وقت تنازع اٹھ کھڑا ہوا جب 1965 میں منوج کمار نے بھگت سنگھ کی زندگی پر بنائی جانے والی فلم شہید میں اس غزل کو شامل کیا۔

ایک محقق ابو محمد شبلی نے مضمون لکھ کر ثابت کیا کہ یہ غزل رام پرشاد بسمل کی نہیں بلکہ محمد حسن بسمل عظیم آبادی کی ہے، جو اس وقت حیات تھے۔

اسی زمانے میں نامور محقق قاضی عبد الودود نے بتایا کہ یہ غز ل بسمل عظیم آبادی نے 1922 کے کانگریس کے کلکتہ اجلاس میں سنائی تھی اور بعدازاں قاضی عبد الغفار کی ادارت میں شائع ہونے والے رسالے ’صباح‘ میں شائع ہوئی تھی، جس کی پاداش میں یہ رسالہ ضبط کر لیا گیا تھا۔

نامور شاعر علی سردار جعفری نے بھی قاضی عبدالودود کی تائید میں ایک مضمون تحریر کیا۔ 2008 میں ممتاز محقق محمد اقبال نے بھی اپنی کتاب ’بسمل عظیم آبادی: شخصیت اور فن‘ میں اپنی تحقیق سے یہ ثابت کیا کہ یہ غزل سید شاہ محمد حسن بسمل عظیم آبادی کی ہے۔

شاہ محمد حسن بسمل عظیم آبادی کا تعلق انڈیا کے صوبے بہار کے شہر پٹنہ کے ایک زمیندار خاندان سے تھا۔

ان کی پیدائش 1901 میں ہوئی تھی۔ وہ شاد عظیم آبادی کے شاگرد تھے اور انھوں نے 20 جون 1978 کو پٹنہ میں وفات پائی۔

ان کا شعری مجموعہ ’حکایت ہستی‘ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا، اس مجموعہ کلام میں بھی یہ غزل موجود ہے۔

بسمل عظیم آبادی کی مکمل غزل ذیل میں درج کی جاتی ہے:

سرفروشی کی تمنا اب ہمارے دل میں ہے

دیکھنا ہے زور کتنا بازوئے قاتل میں ہے

اے شہید ملک و ملت میں ترے اوپر نثار

لے تیری ہمت کا چرچا غیر کی محفل میں ہے

مرنے والو! آئو اب گردن کٹائو شوق سے

یہ غنیمت وقت ہے خنجر کف قاتل میں ہے

وقت آنے دے دکھا دیں گے تجھے اے آسماں

ہم ابھی سے کیا بتائیں کیا ہمارے دل میں ہے

اب نہ اگلے ولولے ہیں اور نہ وہ ارماں کی بھیڑ

صرف مٹ جانے کی اک حسرت دل بسمل میں ہے

۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 19365 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp