ڈپٹی کمشنر شکارپور کی وائرل تصاویر: ’20 سیکنڈ چھتری تھامنے پر سیکیورٹی واپس لینا سمجھ سے باہر ہے‘

ریاض سہیل - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور کے ڈپٹی کمشنر نوید الرحمان لاڑک کی ایک تصویر گذشتہ روز سے سوشل میڈیا پر زیربحث ہے جس میں وہ پانی کے کنارے پر کھڑے ہیں اور ایک پولیس اہلکار ان پر چھتری تانے کھڑا ہے۔

بظاہر ان وائرل تصاویر پر آنے والے ردعمل کے بعد نوید الرحمان لاڑک کو فراہم کیا گیا محافظ عملہ واپس لے لیا گیا ہے۔

تاہم ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ تصویر لینے کے دوران سیکیورٹی گارڈ نے محض چند سیکنڈز کے لیے چھتری تھامی تھی۔

تصویر کا پس منظر بیان کرتے ہوئے نوید الرحمان لاڑک نے بی بی سی کو بتایا کہ شیرکوٹ نہر میں گذشتہ روز شگاف پڑ گیا تھا اور وہ فوری طور پر وہاں پہنچ گئے۔ شگاف کی تصویر لینے کے دوران گارڈ نے ان پر چھتری پکڑی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

’نہ کریں سر! ڈی سی اسلام آباد کے لیے کوئی سرکاری رہائش گاہ نہیں؟‘

سی ایس ایس: ’پہلی دس پوزیشنز پر بڑا رش ہے اس دفعہ‘

پاکستانی نوجوان کے لیے نوکری ہی سب کچھ کیوں؟

ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ وہ شکارپور میں وزیراعلیٰ سندھ اور چیف سیکریٹری کے نمائندہ ہیں۔

’شکارپور میں امن امان کی صورتحال سے سب واقف ہیں۔ 20 سیکنڈ چھتری تھامنے پر سیکیورٹی واپس لینا سمجھ میں نہیں آتا۔ ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی شکارپور کو اس بارے میں معلوم کرنا چاہیے تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بارش کے پانی کی نکاسی، محکمہ روینیو کے زیر نگرانی حفاظتی بندوں کی نگرانی اور پولیو مہم کے دوران مختلف مقامات پر جانا پڑتا ہے۔ ایسی صورتحال میں سیکیورٹی واپس لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔‘

پولیس کا کام سیکیورٹی کی فراہمی ہے

ایس ایس پی شکارپور نے ڈی آئی جی پولیس لاڑکانہ عرفان بلوچ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنر کے پاس تعینات پولیس محافظ عملہ واپس لے لیا۔

ڈی آئی جی لاڑکانہ عرفان بلوچ کا کہنا ہے کہ پولیس فورس کا کام سیکیورٹی فراہم کرنا ہے اور ان سے اضافی کام نہیں لیا جاسکتا۔ ان کے مطابق اس سے فورس کا حوصلہ پست ہوتا ہے۔

عرفان بلوچ کے مطابق ڈپٹی کمشنر سے لے کر تحصیل دار تک کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے لیکن ان اہلکاروں کو اگر دوسرے کاموں کے لیے استعمال کیا جائے گا تو وہ اپنا بنیادی فرض ادا نہیں کرسکیں گے اور اس سے ان کا مورال بھی ڈاؤن ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ: ’وہ نجی گارڈ نہیں پولیس فورس ہیں۔‘

پاکستانی سوشل میڈیا پر بھی ڈپٹی کمشنر کی یہ تصاویر گذشتہ روز سے زیِر بحث ہیں۔

اوبامہ اور پیوتن اپنی چھتری خود سنبھالتے ہیں

سینیئر صحافی طلعت حسین نے ٹوئٹر پر ڈی سی کی تصاویر کے ساتھ لکھا کہ شکار پور سندھ۔ ’سرکار‘ کی طاقت دیکھیں۔ سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کیا بھی تو اس نخرے کے ساتھ کہ چھتری پولیس والے نے تھامی ہوئی ہے۔ بیوروکریسی اس ملک میں ان قوتوں میں سے ہے جو اپنے فرض کو قوم کے سر پر احسان کر کے نبھاتے ہیں۔

ایک دوسرے سینئر صحافی مرتضیٰ سولنگی نے اس ٹویٹ پر تصبرہ کرتے ہوئے روسی صدر پیوتن اور سابق امریکی صدر بارک اوبامہ کی تصاویر شیئر کیں اور ساتھ میں لکھا کہ ’جبکہ غریب پیوتن اور اوبامہ اپنی چھتریاں خود سنبھالتے ہیں۔‘

صحافی شکیل سومرو نے فیس بک پر تصویر شیئر کرکے لکھا کہ سول سرونٹ عوام کا نوکر یا خادم ہوتا ہے لیکن اس کا عوام کے ساتھ سلوک تو دیکھیں، جیسے کوئی بادشاہ ہو۔

سندھی زبان کے مصنف اور ڈرامہ نگار حفیظ کنبھر لکھتے ہیں اس عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مخلوق کیا پڑھتی ہے ان کی تربیت کیسے ہوتی ہے ، ان پندرہ کتابوں کے نصاب میں کیا تحریر ہے؟ جس کو رٹا لگا کر امتحان پاس کرکے عوام کے کندھوں پر سوار کیا جاتا ہے۔

جہاں کئی صارفین ان پر تنقید کر رہے ہیں وہیں کچھ ان دفاع میں بھی کئی آرا نظر آئیں حتیٰ کے کئی سی ایس ایس افسران خود چھتری پکڑے اپنی تصاویر بھی شئیر کر رہے ہیں۔

صحافی اور شاعر اشفاق آذر نے فیس بک پر لکھا کہ یہ بابو شکارپور کا ہے انگریز چلے گئے پیچھے انھیں چھوڑ گئے، قسمت سے دفتر سے باہر نکلتے ہیں اور چھتری بھی کوئی اور تھامتا ہے۔

جس پر زاہد کاکا نے انھیں جواب دیا کہ ’واٹس ایپ اور فیس بک پر وائرل تصویر پر آپ نے رائے قائم کی اگر شکارپور میں سے معلومات حاصل کرتے تو آپ کے خیالات مختلف ہوتے۔ اس تصویر کا پس منظر یہ ہے کہ اس نہر میں مقامی گاؤں کے لوگوں کی جانب سے بھینسیں بٹھانے کی وجہ سے شگاف پڑا تھا، ڈی سی نا صرف وہاں پہنچے بلکہ محکمہ آب پاشی کا عملہ نہ پہنچنے پر خود ریگیولیٹر بند کراکے بوریاں ڈال کر شگاف بند کرایا۔

ان کا کہنا تھا ’تصاویر میں یہ تو نہیں لکھا کہ ڈی سی اس جگہ موجود ہے (شگاف والی جگہ) جو کمزور ہے وہ خود بھی نہر میں گرسکتا تھا لیکن اس نے اس کی پرواہ نہیں کی، اسی دوران ہلکی بارش شروع ہوئی تو گارڈ دوڑتا گیا اور گاڑی سے چھتری لے آیا۔‘

عبدالسمیع سومرو کا کہنا ہے کہ ایک تصویر سے اس شخص کے رویے کی عکاسی نہیں ہوتی ہے ٹھوس شواہد کے ساتھ کوئی ویڈیو دیگر شواہد اپ لوڈ کریں۔

شکارپور کے رہائشی کچھ افراد نے سوشل فیس پر ڈپٹی کمشنر کی بعض دیگر تصاویر بھی شیئر کی ہیں اور بتایا ہے کہ انھوں نے بارش کے پانی کی نکاسی میں اہم کردار ادا کیا۔

یاد رہے کہ شکارپور شمالی سندھ کا اہم تجارتی شہر ہے، جہاں سے کسی زمانے میں کابل قندھار تک تجارت کی جاتی تھی، بلوچستان اور پنجاب جانے والی سڑکیں اس کی حدود سے گذرتی ہیں۔

مانسہرہ کے اسسٹنٹ کمشمر بھی سوشل میڈیا صارفین کے نشانے پر

شکارپور کے ڈپٹی کمشنر کی تصاویر جب سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو اس کے ساتھ اسٹنٹ کمشنر مانسہرہ کی رواں برس مارچ میں وائرل ہونے والی تصویر بھی دوبارہ شیئر کی گئیں، جس میں ایک ماتحت نے ان کے لیے چھتری اٹھائی ہوئی ہے۔

اس پر ردعمل دیتے ہوئے کئی سوشل میڈیا صارفین کا کہنا تھا کہ ’اسسٹنٹ کمشنر کا فرض عوام کی خدمت ہے لیکن یہ ایک چھتری بھی تھام نہیں سکتے، یہ سب کچھ ہمارے ٹیکس پر ہو رہا ہے۔‘

اس کے ردِعمل میں سوشل میڈیا ہر موجود کئی سرکاری افسران کا کہنا تھا کہ ایسی ایک تصویر دیکھ کر افسر کے متعلق رائے نہیں قائم کر لینی چاہیے کیونکہ کئی باہر جب آپ باہر فیلڈ میں کام کر رہے ہوتے ہیں، اس دوران لوگ ایسی چھوٹی چھوٹی نوازشات کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کئی صارفین نے انھیں مشورہ دیا کہ بہتر ہے ایسی نوازشات لینے سے پرہیز کریں کیونکہ اس سے سامراجی ذہنیت کا تاثر ملتا ہے۔

کئی سوشل میڈیا صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ سرکاری ملازمین کو ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اخلاقی ذمہ داریوں کو برقرار رکھنا چاہیے۔ اور پرانے ‘سرکاری بابو’ کلچر کو فروغ نہیں دینا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15373 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp