‘اسے کہتے ہیں رنگے ہاتھوں پکڑے جانا’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز لاہور میں شجرکاری مہم میں شرکت کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار سے سوال پوچھا گیا کہ نیب بغیر ثبوت کے دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو بھی گرفتار کرتا رہا ہے اور پیشی کے لیے بلاتا رہا ہے تو کیا آپ پیش ہوں گے۔ اس سے پہلے کے وزیرِ اعلٰی اس کا جواب دیتے، ان کے ساتھ موجود پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ان کے کان میں سرگوشی کی کہ نیب کے خلاف کوئی بات نہیں کرنی۔ ان کی یہ سرگوشی مائیکروفون نے پکڑ لی جو سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو میں سنی جا سکتی ہے۔ اسی ویڈیو کہ حوالے سے یہ تنقید سامنے آ رہی ہے کہ پنجاب کے وزرا وزیرِاعلٰی کو ڈکٹیشن دیتے ہیں۔ تاہم اس کے بعد وزیرِاعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے جواب دیا تھا کہ جب انہوں نے کچھ غلط نہیں کیا تو انہیں کوئی خوف نہیں وہ نیب کے سامنے ضرور پیش ہوں گے۔ پیر کے روز سیف سٹی اتھارٹی کے دورہ کے موقع پر وزیرِاعلٰی پنجاب سے اس حوالے سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے سوال کیا کہ ان کی گزشتہ ویڈیو پر تنقید کی جا رہی ہے کہ وزیرِاعلٰی خود جواب نہیں دیتے، انہیں ڈکٹیشن دی جاتی ہے تو اس کے ردِ عمل میں ان کا کہنا تھا کہ ’ایسی کوئی بات نہیں، میں یہاں کھڑا ہوں آپ نے جو پوچھنا ہے پوچھیں، میں جواب دوں گا۔‘

نون لیگ کی پنجاب اسمبلی میں رکن ثانیہ عاشق نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی پریس کانفرنس کا اُس حصے کی وڈیو ٹویٹ کی اور اس وڈیو کے ساتھ اپنے پیغام میں فیاض الحسن چوہان کے الفاظ دہرائے ’نیب کے خلاف نہیں بولنا’ اور ہنس ہنس کر آنسو آجانے والی اموجی شیئر کی۔

اس وڈیو پر عابد توصیف نامی ایک صارف نے طنزاً کہا کہ ‘چوہان صاحب کی آنکھ میں کسی چیز کا بال پڑ گیا تھا بس اور کوئی بات نہیں’

پریس کانفرنس کی وڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی ارشد وحید نے کہا ‘اسے کہتے ہیں رنگے ہاتھوں پکڑے جانا۔’

بی بی سی اردو نے پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان سے اُن کا موقف جاننے کے لیے متعدد بار اُن سے رابطہ کرنے کی کوشش کی مگر اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں

’اداکارہ نرگس سے میں معافی مانگتا ہوں‘

تضحیک آمیز بیان: عوامی ردعمل کے بعد فیاض چوہان کی معذرت

بزدار کو بخش دو

پنجاب کے لیے نون لیگ کی سیکرٹری اطلاعات عظمی زاہد بخاری نے کہا کہ ‘ نیب کے خلاف نہیں بولنا، وزیر اطلاعات کا مشورہ، ظاہر ہے ان کو تو بیلنسنگ ایکٹ کے لیے بلایا گیا ہے، اصل تکلیف تو مریم نواز سے ہے، بیچارے’۔

اکرم جاوید نے ٹویٹ کی ‘ کٹھ پتلیوں کی اصلیت ۔۔۔ اور کیا وزیر اعلیٰ بنایا ہے جسے بچوں کی طرح کان میں بتاتے رہتے ہیں ساتھ والے۔’

مگر جہاں اس پر لوگوں نے مذاق اُڑایا وہیں کچھ لوگوں نے وزیر اعلی اور صوبائی وزیر اطلاعات کا دفاع بھی کیا۔

عظیم افضل نے لکھا ‘ جمہوریت میں کوئی مشورہ نہیں دیتا کیا ؟’

محمد احسان اللہ نے فیض الحسن چوہان کے مشورے کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ’ وہ ٹھیک کہ رہے ہیں کیونکہ یہ پاکستان کے آئین کے خلاف ہے۔’

عمیر حسین ملک نے بھی اس بارے میں اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ‘اپنی منفی سوچ دور رکھیں، یہ پریس کانفرنس میں عام ہوتا ہے جب صحافی شہ سرخی کی خاطر ایسے مشکل سوال کرتے ہیں۔’

ایک اور صارف کے مطابق اس کا ایک قانونی پہلو بھی ہے اور اس بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ’عمدہ مشورہ! وہ مشیر ہیں کے نہیں؟ اور یہ بھی کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے اس پر تبصرہ توہین عدالت ہے ایک اسی بات جو میڈیا کو سیکھنی چاہیے۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15373 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp