پاکستانی ہندو خاندان کی انڈیا میں ہلاکت کیا خودکشی کا نتیجہ تھی؟

ناراین باریٹھ - بی بی سی ہندی راجستھان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین ریاست راجستھان میں ضلع جودھپور کی پولیس ایک ہی خاندان کے ان گیارہ افراد کی موت کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے جن کی لاشیں اتوار کی صبح ایک کھیت میں ملی تھیں۔

متاثرہ خاندان کا تعلق قبائلی بھیل برادری سے ہے۔ پاکستانی ہندووٴں کی ایک تنظیم نے اس معاملے کی کسی غیر جانبدار ایجینسی سے تفتیش کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ریاست میں حزب اختلاف بی جے پی نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔

جودھپور میں پوسٹ مارٹم کے بعد ایک ساتھ گیارہ افرد کی آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس موقعے پر پاکستان سے آنے والے ہندو بڑی تعداد میں موجود تھے۔

مزید پڑھیے:

انڈیا میں ہلاک ہونے والے ہندو خاندان نے پاکستان سے ہجرت کیوں کی تھی؟

پاکستانی ہندوؤں کی شہریت پر سیاسی رسہ کشی

متاثرہ خاندان کے سرپرست 75 سالہ بدھا رام ایک کھیت کرائے پر لے کر کاشتکاری کیا کرتے تھے۔ اسی سے ان کے خاندان کا پیٹ بھرتا تھا۔ پورا خاندان کھیت میں ہی ایک گھر بنا کر ایک ساتھ رہا کرتا تھا۔ پورے خاندان میں اب صرف ایک فرد ہی زندہ بچے ہیں جن کا نام کیول رام ہے۔ پولیس کو دیے گئے بیان کے مطابق حادثے کی رات وہ گھر سے دور جا کر سوئے ہوئے تھے۔

کیول رام کے بقول رات گھر کے تمام کام نمٹا کر گھر والے سو گئے اور وہ گھر سے دور جانوروں کی رکھوالی کے لیے چلے گئے تھے۔ اگلے روز صبح گھر پہنچ کر پتا چلا کہ سبھی افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس کو جائے وقوعہ سے کیڑے مار دوا، ایک سرنج اور انجیکشن لگاتے وقت استعمال کی جانے والی روئی ملی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بظاہر معاملہ خودکشی کا لگتا ہے کیوں کہ خاندان کی ایک خاتون تربیت یافتہ نرس کا کام کرتی تھی۔

خاندان میں اندرونی تنازع چل رہا تھا

موقعے کا جائزہ لے کر آنے والے جودھپور کے دہہی علاقے کے پولیس سربراہ راہُل بارہٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘پہلی نظر میں تو یہ خود کشی کا معاملہ لگتا ہے۔ وہاں انجیکشن لگانے میں استعمال ہونے والی اشیاء فراہم ہوئی ہے۔ مرنے والوں کے جسم پر انجیکشن کے نشانات بھی دکھائی دیتے ہیں۔’

پولیس اہلکار بارہٹ نے بتایا کہ ‘ہم سبھی نکات کو دھیان میں رکھ کر تفتیش کر رہے ہیں۔ پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ اور فورینزک معاملوں کے ماہرین کی رائے کا انتظار کر رہی ہے۔’

پولیس کے مطابق خاندان میں اندرونی جھگڑا چل رہا تھا۔ یہ بات پولیس تک بھی پہنچی تھی اور کئی ماہ سے دونوں جانب سے پولیس کے پاس بار بار شکایتیں پہنچ رہی تھیں۔’

خاندان میں زندہ بچ جان والے کیول رام اور ان کے بھائی روی کی اپنے سسرال والوں سے کشیدگی جاری تھی۔ کیول رام کی اہلیہ اور روی کی اہلیہ خالہ ذاد بہنیں ہیں۔ مرنے والوں میں کیول رام کے دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی شامل ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں جناب سے شکایتوں کے بعد پولیس نے انہیں امن قائم کرنے کی ہدایت کی تھی۔

چار صفحوں کا خط

پولیس کو جائے وقوعہ پر ایک خط ملا ہے جس میں خودکشی کی بات لکھی ہے۔ اس خط میں خاندان کے اندرونی جھگڑوں کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کے کردار پر بھی سوال کھڑے کیے گئے ہیں۔

پولسی کا کہنا ہے کہ اس خط میں سسرال والوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے اور پولیس پر بھی دھمکانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار راہل بارہٹ نے بتایا کہ ‘پولیس اس خط کی صداقت کی تفتیش کر رہی ہے۔ اس خط میں پاکستان سے انڈیا آنے کے حالات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ عام طور پر انڈیا میں رہنے والے پاکستانی ہندو اردو میں لکھتے ہیں۔ لیکن اس خط کو ہندی میں لکھا گیا ہے۔ خیال ہے کہ خاندان کے بچے ہندی پڑھ لکھ لیتے تھے۔ پولیس اس بات کی بھی تفتیش کر رہی ہے۔’

گاوٴں والوں کا کیا کہنا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ سے انڈیا آنے والے بدھا رام کے خاندان نے پہلے جودھپور میں سیمانت لوک کی پناہ گاہوں میں وقت گزارا۔ پھر کاشتکاری کے لیے زمین کرائے پر لے کر کام کرنے لگے۔

گووند بھیل خود بھی کبھی پاکستان میں رہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ‘اس واقعے نے لوگوں کو شدید صدمہ پہنچایا ہے۔ ہمیں یقین نہیں آتا کہ یہ خاندان خودکشی کر سکتا تھا۔’

بھیل نے کہا کہ متاثرہ خاندان پڑھا لکھا تھا۔ خاندان کی ایک بیٹی سندھ میں سرکاری نوکری کرتی تھی۔ وہ نرس تھی اور انڈیا آنے کے بعد نجی ہسپتال میں نوکری کر رہی تھی۔

انہوں نے سوال کیا کہ آخر ایسا تعلیم یافتہ خاندان خود کشی کیوں کرے گا؟

پاکستان سے انڈیا آنے والے بھیل برادری کے ایک اور شخص پریم چند بھیل نے کہا کہ ‘یہ بات ہماری سمجھ سے باہر ہے کہ گرمی کے باوجود سبھی لوگ ایک کمرے کے اندر سوئے اور باہر پلنگ خالی پڑیے ہیں۔ گزشتہ دنوں رکشا بندھن تک سب ٹھیک تھا اور اب یہ حادثہ پیش آ گیا۔’

انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان سے انڈیا آ کر رہنے والے ہندو افراد کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ ایک مشکل زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ پریم چند بھیل نے بتایا کہ وہ سندھ میں سانگھڑ نامی علاقے میں رہتے تھے۔ انہیں اب انڈیا کی شہریت مل چکی ہے لیکن ان کی اہلیہ اور بچوں کو اب تک شہریت نہیں ملی۔

سی بی آئی سے تفتیش کا مطالبہ

پاکستان سے آنے والے ہندووٴں کے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے والی تنظیم سیمانت لوک نے معاملے کی سی بی آئی سے تفتیش کرائے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ ہندو سنگھ سوڑھا نے بی بی سی سے کہا کہ ‘پاکستان سے انڈیا آ کر رہنے والے ہندو افراد پولیس کے خلاف شکایت کرتے رہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ کسی غیر جانبدار ادارے سے تفتیش کروائی جائے۔’

اس معاملے پر ریاست میں سیاسی رد عمل بھی سمانے آ رہا ہے۔ سابق وزر اعلیٰ وسندھرا راجے نے حکومت کو سخت تنقید کا ہدف بنایا۔ انہوں نے ٹویٹ کیا کہ ‘یہ دل دہلا دینے والا واقعہ ہے۔ معاملے کی اعلیٰ درجہ تفتیش ہونی چاہیے۔ یہ نتیجہ ہے حکومت کے لاپتہ ہونے کا۔’

ادھر راشٹری لوک تانترک پارٹی کے رہنما ہنومان بیلیوال نے بھی معاملے کی تفتیش کا مطالبہ کیا ہے۔

جبکہ ریاست کے ایک وزیر پرتاپ سنگھ نے کہا ہے کہ ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد کا اس طرح ہلاک ہو جانا بہت افسوس کی بات ہے۔ وجوہات کی تفتیش کی جائے گی۔ حکومت اس معاملے میں مکمل طور پر حساس ہے اور متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے وہ وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت سے بھی بات کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15411 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp