دیپ جلتے رہے (قسط 25)۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر کی پگھلتی ساعتوں کے دوران، یادوں کے تسلسل میں وقفہ آیاتودیپ کی لو ماند پڑنے لگی، وبا کے بھاری دنوں میں طبیعت پیچھے جھانکنے کی طرف مائل نہ ہو تی تھی۔

دوستوں کے ساتھ ’ہم سب‘ کے قارئین بھی ہمارے بیتے حالات کے اگلے حصے کو جاننے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کے خلوص نے یاد کی چنگاری بھڑکائی تو سوچا، ساتھی کے ساتھ جیون کی تلخیص، تصویر ہو نے سے قبل پیش کر ہی دی جا ئے۔ سو دیپ ایک بار پھر جل اٹھے ہیں۔

رامش اسلام آباد میں جاب کر رہا تھا، تنہائی دور کرنے کے لیے ساتھی کی تلاش شروع ہو گئی تھی۔ ایک پیاری سی لڑکی کی تصویر کے ساتھ تفصیلات معلوم ہوئیں۔

اتفاق سے رامش میاں اسی روز شام کو پہنچے ہم لڑکی والوں کو فون کر کے چلے گئے۔ لڑکی، کی اماں کو بھی دو دن بعد عمرے پر جانا تھا۔

ڈرائنگ روم میں ایک لڑکی مسکراتے ہوئے داخل ہوئی اور ایک جگہ بیٹھ گئی۔ کمرے میں اس کے بھائی بہن امی ابا سب موجود تھے۔ لڑکی کے چہرے پر شرم و حیا اور گھبراہٹ نامی کوئی چیز نہ تھی۔ ہمیں اس کا اعتماد اچھا لگا۔

اماں بولیں آپ کا بیٹا تو بہت چھوٹا ہے۔
ہم نے کہا چھوٹا لگتا ہے پر چھبیس سال کا ہے۔ اور پھر اگر آپ نے رشتہ قبول کر لیا تو جوڑی پرفیکٹ ہے۔
دوسرے روز وہ لوگ آئے اور اگلے روز ہاں کر دی۔

رامش اور سوما کو ایک دوسرے کے نمبر دیے گئے۔ تاکہ وہ آپس میں بات چیت کر کے پھر خود طے کریں کہ انہیں زندگی ایک ساتھ گزارنا ہے کہ نہیں۔ رامش صاحب اسلام آباد چلے گئے۔

رامش اگلی بار آیا۔ ہم نے لڑکی کی ماں سے کہا شادی سے پہلے دونوں کی ملاقاتیں بھی ہو جائیں تو اچھا ہے، کہ شادی سے پہلے کے یہ دن ساری شادی شدہ زندگی میں خوش گوار یادیں مہیا کرتے ہیں۔

وہ مان گئیں۔ رامش تو اسلام آباد چلا گیا۔ دو ماہ بعد شادی طے تھی۔

تمام رسمیں کی گئیں۔ کیوں کہ خاندان کی لڑکیوں کی خواہش تھی۔ خوب ہلہ گلا ناچ گانے ہوئے۔ خیر خیریت سے رخصتی کا وقت آ گیا۔ یہ کیسی رسم ہے۔ نازوں کی پلی ایسی پیاری بیٹی، غیروں سے رشتہ جوڑ کرچھ مہینے کے اندر ان کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہیں کیا معلوم نصیب کہاں کہاں کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ رامش بہت پیارا بیٹا ہے۔ لیکن کیسا شوہر ہو گا۔ یہ لڑکی جس نے شادی سے پہلے چند گھنٹے ہی اس کے ساتھ گزارے ہیں۔ اور چند دن ہی فون پر باتیں کی ہیں۔ اب ماں باپ بہن بھائی کو چھوڑ کرگاڑی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ بھائی آنسو ضبط کیے اس کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے۔ چھوٹی بہن بلک بلک کر رورہی ہے۔ ماں کو جیسے اب احساس ہوا کہ کہیں کچھ غلط تو نہیں ہو گیا اتنی جلدی شادی کی کیا ضرورت تھی۔ کچھ دن اور جان لیتے۔

کبھی رامش کو التجا ئی نظروں سے دیکھتی ہیں کبھی مجھے۔ میں جو خوش خوش اپنے بیٹے کی تنہائی دور کرنے پر بہو کا غرارہ تھامے خوش خوش آگے بڑھ رہی تھی، آہستہ آہستہ خوشی معدوم ہوتے غبار میں تبدیل ہوگئی، جو سارے کا سارا ہماری آنکھوں میں در آیا۔ ٹشو پیپر سے آنکھوں کو بھینچ لیا۔ مگر ہونٹوں سے سسکی نکل ہی گئی۔

بہن نے چہرہ دیکھا تو ہنس پڑی۔ دیکھو باجی بھی رو رہی ہیں۔ پھر تو آنکھوں سے سمندر بہہ نکلا۔ دلہن کی اماں روتے روتے مسکرا دیں۔

احمد بھی بعض اوقات بچہ بن جاتے ہیں۔ ایک مرغا کہیں سے پکڑ لائے تھے۔ کہ بہو ہاتھ لگا دے گی تو صدقہ کر دیں گے۔ ہم نے کہا آپ کہاں مانتے ہیں ان باتوں کو۔ کہنے لگے ابا نے کیا تھا تمہارا؟ یہ رواج ہے۔ دلہن گاڑی سے اتری تو کسی کو اس رسم کا دھیان نہ رہا۔

مرغا بالکنی میں بندھا تھا۔

کام سمیٹتے صبح کا اجالا پھیل چکا تھا۔ کسی کام سے بالکنی میں گئے تو دلہن مرغے کی ٹانگ کے ساتھ الجھ رہی تھی۔ مجھے دیکھا تو بولی۔ آنٹی اس کی دونوں ٹانگیں بندھی تھیں۔ اب میں نے اس کی ایک ٹانگ باندھ دی ہے بیچارہ اب چل پھر تو سکے گا۔

ایسی حساس بچی! خدا کرے اسے زندگی کی ہر خوشی نصیب ہو۔ دل سے دعا نکلی۔

مگر ہماری یادوں کے دیپ کی لو میں پیچھے تو بہت کچھ رہ گیا جو ابھی دکھانا باقی ہے۔ جنوری کے اوائل میں چوبیسویں قسط شائع ہو ئی تھی۔ یعنی کتاب زیست سے ہم نے پندرہ سال غائب کر دیے۔ چلیں پھر سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے منقطع ہوا تھا۔

ہم وہاں پر تھے جب ایک نوجوان کنہیا ہمارے شیرخوار الہام کو سنبھالنے آتی تھی، مگر ہمارا دل بے قابو رہتا تھا۔ دل کی اسی کیفیت کو قابو کرنے کے لیے جب ہم نے گھر میں چھاپا مارا تو ا س کے میاں کو بھی موجود پایا۔

ہم نے احمد سے کہا، آپ کو معلوم تھا ہماری غیر موجودگی میں اس کا میاں آتا ہے پھر یہ بات ہمیں کیوں نہیں بتائی؟

تمہیں اعتراض ہو تا، اس لیے نہیں بتایا ویسے بھی مجھے دودن پہلے ہی معلوم ہوا میں تو سویا ہوا ہوتا ہوں۔ ان کی وضاحت پر ہم قائل ہونے کے سوا کر بھی کیا سکتے تھے۔

سردیوں کا آغاز ہوا اور کمبل کی ضرورت پڑی تو دو کمبل غائب تھے۔ شک ظاہر ہے ثمینہ پر ہی گیا، ہم اس کے میاں کے شکی پن سے خوش اور ثمینہ ہمارے میاں کے خواب خرگوش سے۔ موصوفہ آہستہ ہمارے گھر کی چیزوں کو اپنے میاں کے ہاتھوں غائب کروا رہی تھیں۔

ثمینہ کو فارغ کرنے کے بعد، مختلف خواتین کے پاس جنہوں نے گھر میں ڈے کئیر سینٹر کھول رکھے تھے، الہام کو آزمائشی طور پر مختلف سینٹرز میں ایک گھنٹے کے لیے چھوڑا یہ مختصر لمحات ماحول سے الہام کی نا پسندیدگی جانچنے کے لیے کافی تھے۔

ایک رحمدل خاتون جن کے چہرے پر ممتا کی نرمی اور ان کے پاس الہام کی خوشی صاف محسوس کی جا سکتی تھی، کے پاس اپنے بچے کو چھوڑتے ہوئے ایک گو نہ اطمینان ہوا صبح الہام خوشی خوشی تیار ہوتا رشی رامش کا لنچ باکس تیار کر کے انہیں اسکول چھوڑتے ہوئے، الہام کو گود میں لیے ان خاتون کی تیسری منزل کے فلیٹ پہنچ کر اسے ان کے حوالے کر کے کالج کی راہ لیتے۔

کالج میں ایک طالب علم جوہر مہدی اردو ادب سے غیر معمولی دل چسپی رکھتا تھا۔ کبھی کسی مماثل شعر پر ہم اٹک جاتے تو مکمل کر دیا کرتا تھا۔

ایک روز ہم نے سوال کیا کہ عہد حاضر کے شعرا کے نام بتائیں شاگردوں نے وصی شاہ، فرحت عباس شاہ، عنبرین حسیب عنبر وغیرہ کے نام لیے، جوہر مہدی نے ہاتھ کھڑا کیا جازت ملنے پر بولا۔

ایک احمد نوید ہیں وہ اس وقت کراچی میں بڑے مشہور ہیں۔

اچھا! ہم نے حیرانی سے خوش ہو کر کہا۔ مجھے خوشی ہو رہی تھی۔ اور چاہتی تھی جلد ی سے بتا دوں، کہ جس کا وہ مداح ہے، میں بیوی ہوں اس کی۔

جی مس آپ نے نام نہیں سنا ہوگا۔ وہ مشاعروں میں نہیں جاتے۔ میں نے ان کی کتاب پڑھی ہے اس لیے انہیں جانتا ہوں۔

میں انہیں بہت اچھی طرح جانتی ہوں۔ میں ان ہی کے گھر میں رہتی ہوں۔
ان کے گھر میں! آپ کرائے دار ہیں؟
میرے ہز بینڈ ہیں وہ۔ مجھے ہنسی آ گئی۔
نہیں مس یہ نہیں ہو سکتا۔
کیوں بھئی کیوں نہیں ہو سکتا۔
مس وہ تو بہت حسن پرست ہیں۔
کلاس کے سب بچے ہماراپسینے سے شرابور چہرہ دیکھ رہے تھے۔ ٹشو پیپر سے چہرہ صاف کیا۔
تو اس سے کیا ہوتا ہے۔ ہم ذرا سے جھینپے۔ یہ وقت ہم پر اکثر آتا تھا۔
مس ان کا تو ایک شعر ہے۔ جوہر نے چھت پر دیکھ کر شعر یاد کرنے کی کوشش کی۔
کیا حسن ہے، چہرے سے نکلتی ہیں شعائیں
بینائی چلی جائے اگر آنکھ ہٹا ئیں۔

پتہ نہیں یہ شعر کس کے لیے کہا ہوگا، بہت سی تھیں، سب سے ملوا چکے تھے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ وہ سب واقعی بے پناہ خوب صورت تھیں۔ نادیہ لمبے قد کی بلو آنکھوں والی، خوب پڑھی لکھی، ایک فریدہ تھی، دودھ جیسا سفید رنگ، بلا کی خوب صورت تھی۔ انچولی میں پچھلی گلی میں ہی رہتی تھی اور احمد تو تھے بھی اتنے خوب صورت، کہ لڑکیوں کا عاشق ہونا فطری بات ہوگی۔ لیکن ہماری ساس لکھنو کی ایک مرتبہ اس کے منہ سے گالی سن لی۔ احمد سے صاف منع کر دیا۔ کہ یہاں رشتہ نہیں ہوگا۔ مہناز، اس سے تو منگنی بھی ہوچکی تھی۔ لیکن احمد کو نروس بریک ڈاؤن اٹیک ہوا تو رشتہ ختم کر دیا گیا۔ اتنے حسین انسان کے ساتھ ہمیں ہی جڑنا تھا۔ اور یہ دن بھی دیکھنا تھا۔

باقی آیندہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •