ہمارا کمرۂ جماعت اور اکیسویں صدی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمانہ بہت آگے چلا گیا ہے اور ہم اسی دقیانوسی تعلیمی نظام میں سانس لے رہے ہیں جہاں استاد کو عقلِ کُل تصور کیا جاتا ہے اور جہاں طلبا کا کام تقلید ہے۔ محض تقلید۔ ہمارے سرکاری سکولوں کے کلاس روم خوف اور بوریت کے ملے جُلے احساسات کا مجموعہ ہیں۔ اکثر کلاس روم بنیادی سہولتو ں سے محروم ہیں۔ جہاں گرمیوں میں سخت گرمی اور جاڑوں میں سخت سردی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کلاس رُوم کے ماحول کا دوسرا پہلو تعلیمی اور تدریسی ہے جس میں استاد طلبا کو کوئی Creative Space مہیا نہیں کرتا۔ جہاں استاد کی رائے سے اختلاف کو گستاخی گردانا جاتا ہے اور ’مجرم‘ کی سرزنش سب کے سامنے کی جاتی ہے۔ یوں اکثر طلبا ہمیشہ کے لیے سوال کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو جاتے ہیں۔ سوال کا براہِ راست تعلق سوچنے کے عمل سے ہے۔ اس طرح طلبا پر سوچ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں۔

بدقسمتی سے ہمارے تربیتِ اساتذہ کے بیشتر پروگرام اساتذہ کے اندر کوئی ذہنی تبدیلی نہیں لارہے بلکہ یہ روایتی اور فرسودہ نظامِ تعلیم کو مزید بڑھاوا دے رہے ہیں۔ ہمارے پالیسی سازوں کو شاید یہ خبر نہیں کہ پچھلے کچھ عرصے میں معاشرے میں کئی بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ سکول کا سماجی ادارہ ’جس کے ہمراہ کبھی مذہب اور خاندان کے مضبوط سماجی ادارے چلتے تھے‘ اب تنہا رہ گیا۔ دوسری بڑی تبدیلی ایک اورسماجی ادارے کا ظہور ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے باقی تمام سماجی اداروں پر حاوی ہو گیا ہے۔

اس ادارے کا نام میڈیا ہے۔ میڈیا کی طاقت کاراز ان خصوصیات میں ہے جو اس کو دوسرے سماجی اداروں سے ممتاز بناتی ہیں۔ میڈیا کے ذریعے تھوڑے وقت میں بہت سارے لوگوں تک رسائی ممکن ہے جس میں کسی جغرافیائی سرحد کی قید بھی نہیں ہے۔ میڈیا کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں خوش نما طریقے سے پیغام دیا جاتا ہے اور سیکھنے کا عمل آسان، خو شگوار ہوتا ہے۔

اکیسویں صدی میں جہاں زندگی کے دوسرے شعبوں میں بنیادی تبدیلیاں آئی ہیں ’وہیں سکول اور کلاس روم کا بنیادی تصور بھی بدل گیا ہے۔ نصاب، درسی کتب، ذریعہ تعلیم اور تدریسی حکمتِ عملی میں جوہری تبدیلیاں آئی ہیں۔ کیا ہمارے تربیتِ اساتذہ کے پالیسی سازوں کو ان تبدیلیوں کا ادراک ہے؟ وہ زمانہ چلا گیاجب ہر مضمون کی ایک تنگ گلی ہوتی تھی‘ جس پر مسافر ساری عمر چلتے رہتے تھے۔ یہInterdisciplinary Approach کا دورہے جس میں مختلف مضامین سے کسبِِ فیض کیا جاتا ہے تاکہ ایک جامع تصویر تک رسائی ہو۔

تربیتِ اساتذہ کے پروگرامز میں اس بات کی ضرورت ہے کہ نصاب اور تدریس میں جدت لائی جائے اور کلاس روم ’جو عام حالات میں خوف اور بوریت کی علامت بن گئے ہیں‘ کو علم کے خوشنما مراکز میں تبدیل کیا جائے۔ یہ صرف اس وقت ممکن ہے جب استاد کلاس روم میں زندگی کے دھڑکتے ہوئے تجربات متعارف کرائے ’تدریسی عمل کو طلباء کی زندگیوں سے جوڑے، روایتی طریقہ تدریس کو میڈیا اور دوسرے ذرائع علم سے مربوط کرے اور تربیتِ اساتذہ کے مروجہ نصاب اور درسی کتب کے علاوہ Authentic Material کا استعمال کرے۔

Authentic Material سے مراد ایسا مواد ہے جو اصلاً تربیتِ اساتذہ کے لیے نہیں بنایا گیا‘ لیکن تربیتِ اساتذہ میں اس کا استعمال انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے طلباء کی دلچسپی میں اضافہ ہوتا ہے اور یہ دلچسپی طلباء کو Motivate کرتی ہے۔ ان Authentic Materials میں انگریزی اور اردو کی کئی کتابیں اور ایسی فلمیں شامل ہیں جن کو تعلیمی مباحث کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے مثلاً غزالی کا اپنے بیٹے کو لکھا ہوا خط جس کے بہت سے پہلوؤں پر تربیتِ اساتذہ کے کلاس رومز میں بحث ہو سکتی ہے۔

اسی طرح امریکی صدر ابراہم لنکن کا خط جو اس نے اپنے بیٹے کے استاد کے نام لکھا اور جس میں استاد سے درخواست کی کہ وہ اس کے بیٹے میں دیانت، امید اور اعتماد کی جوت جلائے اور اس میں زندگی کی اقدار اور مضبوط کردار کی بنیاد رکھے۔ تربیتِ اساتذہ کے پروگرامز میں انگریزی ادب کے کچھ ناول بھی میرے کام آئے جن کی بدولت کچھ اہم تعلیمی نکات کی وضاحت ممکن ہوئی۔ ان میں سے ایک ناول To Sir with Love تھا جس میں ایک نوجوان مارک کا تقرر لندن ایسٹ اینڈ کے ایک سکول میں ہوتا ہے جو اپنے خراب ڈسپلن کی وجہ سے جانا جاتا تھا ’جہاں پر زیادہ تعداد ان طلباء کی تھی جو دوسرے سکول سے نکالے ہوئے تھے۔

اسی لیے یہاں کوئی ٹیچر ٹکتا نہیں تھا۔ مارک کو بھی اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے اپنی مستقل مزاجی، مہربان رویے اور طلباء کی زندگی میں دلچسپی سے جلد ہی طلباء کے دل جیت لیے۔ اسی طرح جیمز ہلٹن کا لکھا ہوا معروف ناول Goodbye Mr۔ Chips بھی تربیتِ اساتذہ کے کورس میں استعمال کیا جا سکتا ہے کہ کس طرح ایک استاد کا مشفقانہ رویہ طلباء کو اس کا گرویدہ بنا دیتا ہے‘ اور کیسے استاد کی شفقت اور محبت تعلیمی عمل کو بامعنی اور مؤثر بناتی ہے۔

بانو قدسیہ کے اردو ناول راجہ گدھ میں پروفیسر سہیل کا کردار اہم ہے جو تعلیم میں نئے زاویوں کی تلاش میں رہتا ہے اور اپنے طالبِ علموں سے بھی اسی جدتِ فکر کی توقع رکھتا ہے۔ روسی ادیب چیخوف کی کہانی The School Master بھی تربیتِ اساتذہ کے پروگرامز میں استعمال ہو سکتی ہے۔ یہ کہانی ایک محنتی اور پُرعزم استاد کی کہانی ہے جو اپنے طلباء سے بے پناہ محبت کرتا ہے اور اس کا خواب ان کی کامیابی سے جڑا ہوا ہے۔ اسی طرح معروف اردو ادیب اشفاق احمد کی کہانی گڈریا ہے جس کا بنیادی کردار ایک استاد ہے جس کا نام ”داؤجی“ ہے ’جو اپنے طلباء کو محنت اور لگن سے پڑھاتا ہے اور ان کی کامیابی کے لیے بے لوث محنت کرتا ہے۔

اسی طرح غلام الثقلین کی کہانی ”زمزمۂ محبت“ بھی ایک شفیق استاد کی کہانی ہے جو اپنے طالب علموں کے دلوں میں بستا ہے۔ تربیتِ اساتذہ کے پروگرامز میں کچھ فلموں کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ فلمیں تو ان ناولوں پر مبنی ہیں جن کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ مثلاً To Sir with Love اور Mr۔ Chips Goodby۔ ایک اور فلم جو میں نے تربیتِ اساتذہ کے پروگرامز میں استعمال کی وہ Dead Poets Society ہے جس کا بنیادی کردار انگریزی ادب کا استاد جان کیٹنگ ہے۔

وہ تدریس میں غیرروایتی انداز اپناتا ہے اور مشینی انداز میں پڑھانے کے بجائے طلباء میں انگریزی ادب کے لیے محبت کے جذبات پیدا کرتا ہے، ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو اُبھارتا ہے، ان میں خودپر اعتماد کرنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے اور محض کتابی کیڑا بنانے کے بجائے ان میں صحتمند ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی لگن پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح The Freedom Writers Diary بھی ایک ایسی ہی فلم ہے۔ یہ ایک دلچسپ کہانی ہے کہ کس طرح ایک استاد اپنے شاگردوں کے ہمراہ Writing کے ذریعے خود کو اور اپنے اردگرد کے ماحول کو بدلتا ہے۔

ایک اور فلم جو تربیتِ اساتذہ پروگرامز میں استعمال کی جا سکتی ہے Stand and Deliver ہے۔ یہ ریاضی کے ایک استاد کی کہانی ہے جو ہائی سکول میں بچوں کو Calculus پڑھاتا ہے۔ Jaime اسے ایک چیلنج کے طورپر قبول کرتا ہے۔ اردو زبان کی فلموں ”تارے زمین پر“ ”تھری ایڈیٹس“ اور بلیک میں بھی بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کیسے ایک استاد کا طرزِ عمل، اس کا قول اور فعل طالبِ علموں کی زندگیوں کو بدل سکتا ہے۔ یہ چند مثالیں ہیں کہ تربیتِ اساتذہ کے پروگرامز میں کس طرح شرکاء کی دلچسپی کو بڑھایا جا سکتا ہے۔ کیسے ان میں جدتِ فکر کی جوت جگائی جا سکتی ہے تاکہ وہ تدریس کو محض نصابی کتابوں سے ہٹ کر دیکھ سکیں اور اپنے کلاس روم کو زندگی کے دھڑکتے ہوئے تجربات سے متحرک بنا سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 235 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui