یہ پیغام محبت ہے، جہاں تک پہنچے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم علم و شعورکے دور کے لوگ ہیں۔ ہمارے دور کا انسان سائنس اور سماجی علوم کی معراج پر تو نہیں، لیکن اس میدان میں حیرت انگیز ترقی ضرور کر چکا ہے۔ وہ اب ستاروں پر کمند ڈال رہا ہے۔ نئے سیارے ڈھونڈ رہا ہے اور نئی دنیا کی تلاش میں خلا نوردی کر رہا ہے۔ مگر بد قسمتی سے ایک طرف جہاں ہمارے ارد گرد تیزی سے علم و شعور بڑھ رہا ہے، وہاں دوسری طرف جہالت‘ تعصب، تنگ نظر قوم پرستی، نسل پرستی اور فرقہ واریت میں بھی اسی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔
مغرب میں بہت پہلے چرچ کے سیاست سے لا تعلق ہونے کے بعد سیاست میں مذہب کا کردار بہت حد تک کم ہو گیا‘ مگر ادھر صورتحال اس کے برعکس ہے۔ کئی جگہوں پر اس کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سخت حکمت عملی اپنا کر دبا دیا۔ اس کے باوجود کہیں کہیں یہ چنگاری اب بھی موجود ہے، اور اندر ہی اندر سلگ رہی ہے۔ مسلم ممالک میں جہاں مذہب کے نام پر نفرت اور تنگ نظری بڑھی ہے، وہاں مغرب میں یہ کام تنگ نظر قوم پرستی اور نسل پرستی کے نام پر ہوا ہے۔
مغرب کی سیاسی و سماجی زندگی میں آئے دن اس کے مظاہر نظر آتے ہیں۔ کئی ممالک میں تنگ نظر قوم پرستی کے نام پر نسل پرست ”زینو فوبسٹ‘‘ یعنی اجنبیوں سے خوفزدہ جماعتیں مقبول ہو رہی ہیں‘ جس کی وجہ سے مغرب و مشرق کے درمیان مختلف تنازعات و تضادات ابھر رہے ہیں، جن کو ماضی میں کچھ مغربی دانشوروں نے تہذیبوں کا تصادم قرار دیا۔ اس مغالطے کو طارق علی نے واضح کیا کہ یہ تہذیبوں کا نہیں بنیاد پرستی کا تصادم ہے۔
بنیاد پرستوں کی لڑائی کو تہذیبوں کا تصادم قرار دینے والے ان لوگوں کے خیالات کو تقویت دیتے تھے، جن کی رائے تھی کہ دنیا جس پاگل پن کی راہ پر چل نکلی ہے، اس کو تباہی و بربادی کی اسی راہ پرچلتے رہنا چاہیے‘ لیکن بے شمار لوگ ایسے بھی تھے، جنہوں نے دشمنی اور تعصب کے اس ماحول میں دنیا کی مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے درمیان محبت اور امن کا پیغام ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ یہ لوگ اس کوشش میں کامیاب رہے اور نفرت اور تنگ نظری کے اس ماحول میں جلال الدین محمد رومی کو مغرب میں ایک شاعر اور دانشور کے طور پر متعارف کرایا؛ چنانچہ اپنی موت کے سات سو سال بعد مولانا روم محبت کا پیغام لے کر ابھرے اور امریکہ میں ایک مقبول ترین شاعر بن گئے۔
مولانا رومی کو ایران، پاکستان اور ترکی وغیرہ میں بھی بہت پڑھا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ سمجھے بغیر پڑھا گیا یا پھر پڑھ کر بھلا دیا گیا‘ اور ان ملکوں میں ان کی مقبولیت سمجھ میں آتی ہے۔ ان علاقوں سے ان کا گہرا تعلق زبان، مذہب اور جنم بھومی کا ہے‘ لیکن ان کی بے پناہ مقبولیت کی ایک نئی منزل ریاست ہائے متحدہ امریکہ ٹھہری۔ اس مقبولیت کا ذکر کرتے ہوئے لکھاری ولیم ڈالریمپل نے کہا تھا ”گیارہ ستمبر کے بعد کی بن لادن کی دنیا اور تہذیبوں کے اس تصادم کی دنیا میں یہ بات ناقابل یقین ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ نوے کی دہائی میں امریکہ میں مقبول ترین شاعر رابرٹ فراسٹ، رابرٹ لویل ہیلیپ، شکسپیئر، ہومر، دانتے یا کوئی یورپی شاعر نہیں تھا بلکہ یہ ایک کلاسیکل مدرسوں کا تربیت یافتہ مسلمان مولوی مولانا رومی تھا‘‘۔
یہ بات صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ ایک اور مغربی لکھاری براڈ گوش، جس نے رومی کی سوانح لکھی ہے، کہتا ہے کہ رومی کی زندگی کا نقشہ دو ہزار پانچ سو میل پر پھیلا ہوا ہے‘ وہ محبت اور خوشی کا شاعر ہے۔ گوش لکھتا ہے: میں نے ایک بار امریکہ میں ایک گاڑی کے بمپر پر ایک سٹکر دیکھا جس پر لکھا تھا ”اچھائی اور برائی کے درمیان ایک جگہ ہے، میں تمہیں وہاں ملوں گا‘‘۔
انیس سو چھہتر میں ایک امریکی شاعر رابرٹ بلائی نے کولمین بارکس کو رومی کی آکسفورڈ کی ترجمعہ کردہ شاعری دکھاتے ہوئے کہا کہ اس کلام کو پنجرے سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ بارکس نے رومی کی شاعری کو امریکن طرز کی آزاد شاعری میں ترجمہ کر کے اسے پنجرے سے نکال دیا۔ اس وقت سے لے کر اب تک اس کے پچیس سے زائد ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ رومی پر دوسری کتابیں جیسا کہ ”رومی کے ساتھ ایک سال‘‘ ”رومی کے باپ کی روحانی ڈائری‘‘ اور ”بڑی لال کتاب‘‘ جیسی کتب سمیت اب تک دو ملین سے زائد کاپیاں چھپ چکی ہیں، اور ان کا تئیس سے زائد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔
مسلم دنیا میں رومی کی مقبولیت کسی بیان کی محتاج نہیں۔ جاوید مجددی ایک انعام یافتہ مترجم ہیں، جنہوں نے رومی کا ترجمہ کیا۔ انہوں نے صوفیانہ خیالات کو شاعرانہ انداز میں ڈھالنے کو اس کی مقبولیت کی وجہ قرار دیا۔ ان کے خیال میں رومی کی مقبولیت کی کئی وجوہ ہیں۔ ایک وجہ رومی کا عوام سے براہ راست مخاطب ہونا ہے۔ عوام نے اس بلا واسطہ تخاطب کو پسند کیا۔ دوسری وجہ ان کا پیغام ہے، جس کی وجہ سے الہامی و کشفی ادب کے قاری اس کی طرف کھنچتے ہیں۔ تیسری وجہ ان کی روزمرہ کی تشبیہات و سماں بندی ہے، اور چوتھا ان کا وحدت کا تصور ہے۔ مجددی نے رومی کی مثنوی کا ترجمہ کیا ہے، جس کو اس نے دنیا میں شاعری کا طویل ترین کام قرار دیا۔
2017 میں ہالی ووڈ کے آسکر ایوارڈ یافتہ سکرین رائٹر ڈیوڈ فرینزونی نے جلال الدین رومی پر فلم بنانے کا فیصلہ کیا۔ فرینزونی اس سے پہلے گلیڈی ایٹر جیسی کامیاب بلاک بسٹر فلم لکھ چکا تھا۔ اس نے سٹیفن جوئل برائون جیسے پروڈیوسر کے ساتھ مل کر مغربی سینما میں مولانا جلال الدین رومی کی اصل تصویر پیش کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے کہا: رومی شکسپیئرکی طرح ہے، جو امریکہ میں انتہائی مقبول ہے۔ اس کی ایک پہچان ہے، اور اس کی ایک کہانی ہے، جو لوگوں تک پہنچنی چاہیے۔
فرینزونی اور برائون کا خیال تھا کہ رومی کا کردار لیونارڈو ڈیکیپریو اور شمس تبریزی کا کردار رابرٹ ڈائونی جیسے اداکار ہی کر سکتے ہیں۔ فرینزونی نے کہا کہ فلم کی کہانی رومی کی بچپن کی ہجرت سے شروع ہو گی، جو اس کے خاندان نے منگول حملے کے خوف سے کی۔ مگر فلم کا مرکزی خیال رومی کی تعلیمات اور شمس تبریزی کے ساتھ ان کا تعلق ہی رہے گا۔ اس وقت فرینزونی نے رابرٹ برائون کے ساتھ استنبول کا دورہ بھی کیا تاکہ رومی کے بارے میں مزید مواد جمع کیا جائے۔ بنیاد پرستوں اور رجعت پسندوں نے مغربی سکرپٹ رائٹر اور پروڈیوسر کی طرف سے مولانا روم پر فلم بنانے کے اس خیال کو سخت نا پسند کیا۔
ان کا خیال تھا کہ مغربی فلمساز رومی کی جو تصویر پیش کریں گے وہ ان کی پسندیدہ تصویر سے مختلف ہو گی؛ چنانچہ اس خیال کے خلاف جو کام شروع ہوا اس میں ترکی اور ایران کی حکومتوں سے یہ مطالبہ بھی تھا کہ وہ سرکاری سطح پر رومی کے بارے میں فلم بنائیں تاکہ اس کے ذریعے رومی کی دل پسند تصویر پیش کی جائے۔ ترکی اور ایران نے مشترکہ طور پر مولانا روم پر فلم بنانے کا اعلان کیا۔ اس کا انجام کیا ہوا؟ سب جانتے ہیں۔
رومی غالباً انسانی تاریخ کا واحد شاعر ہے، جو اپنی موت سے سات سو برس بعد بھی اپنے پڑھنے والوں کو متاثر کر رہا ہے۔ امریکہ میں ان کا شمار تاریخ کے مقبول ترین شاعروں میں ہوتا ہے۔ وہ امریکہ کے سب سے زیادہ بکنے والے شاعروں میں شامل ہیں۔ ان کا کلام شادیوں کی تقریبات میں سنایا جاتا ہے۔ لوگ اس پر ناچتے ہیں۔ بروکلین کے تہہ خانوں میں موسیقار اور گلوکار یہ کلام پیش کرتے رہتے ہیں۔ یہ کلام انسٹاگرام پر بھی گردش کرتا رہتا ہے، اور نوجوانوں میں بھی بے حد مقبول ہے۔ مولانا جلال الدین رومی کی شاعری کی اس بے پناہ مقبولیت کی وجہ اس شاعری میں موجود پیغام محبت ہے۔ یہ انسانیت سے محبت کا پیغام ہے۔ یہ محبت رنگ نسل اور عقیدے سے بالا ہے، اور ہر قسم کے تعصبات سے پاک ہے۔ اس پیغام محبت کو ہمارے ہاں پھیلانے کی ضرورت سب سے زیادہ ہے۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •