پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: ساؤتھمپٹن میں سیریز برابر کرنے کے لیے پاکستان کا مقابلہ انگلینڈ اور موسم دونوں سے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شان مسعود

Reuters
شان مسعود سے پاکستان کو اس ٹیسٹ میچ میں مانچسٹر ٹیسٹ کی پہلی اننگز جیسی کارکردگی کی امید ہے

پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا دوسرا کرکٹ میچ جمعرات سے ساؤتھمپٹن میں کھیلا جا رہا ہے اور پاکستان کے کپتان اظہر علی نے سیریز میں ایک مرتبہ پھر ٹاس جیت کر بلے بازی کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان کو ٹیسٹ سیریز برابر کرنے کا چیلنج درپیش ہے اور اب اس کا مقابلہ انگلش ٹیم اور موسم دونوں سے ہے۔

میچ کا تفصیلی سکور کارڈ

اس میچ کے بارش سے متاثر ہونے کا شدید خطرہ ہے اور موسم کی پیشگوئی کرنے والے اداروں کے مطابق اگلے سات دن کے دوران ساؤتھمپٹن میں روزانہ بارش کا امکان ہے۔

اس ٹیسٹ میچ کے لیے انگلش ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں اور ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے آل راؤنڈر بین سٹوکس اور فاسٹ بولر جوفرا آرچر یہ میچ نہیں کھیل رہے۔

یہ بھی پڑھیے

بین سٹوکس پاکستان کے خلاف اگلے دو ٹیسٹ نہیں کھیلیں گے

۔۔۔اور اظہر علی کی جیب بھی خالی تھی

انگلینڈ نے مانچسٹر ٹیسٹ جیت لیا

کیا 24 برس بعد پاکستان انگلینڈ میں ٹیسٹ سیریز جیت پائے گا؟

پہلے کرکٹ ٹیسٹ میں سٹوکس کی کارکردگی خاص نہیں رہی تھی اور فتح کے بعد انگلش کرکٹ بورڈ نے اعلان کیا تھا کہ سٹوکس پاکستان کے خلاف کھیلی جانے والی ٹیسٹ سیریز کے باقی دو میچوں میں اپنی گھریلو وجوہات کی وجہ سے حصہ نہیں لے سکیں گے۔

سٹوکس کی جگہ انگلش ٹیم میں زیک کرالی جبکہ آرچر کی جگہ سیم کرن کو شامل کیا گیا ہے۔

پاکستانی ٹیم میں بھی ایک تبدیلی کی گئی ہے اور بلے بازی کے شعبے کو مضبوط کرتے ہوئے مڈل آرڈر بلے باز فواد عالم کو لیگ سپنر شاداب خان کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ فواد عالم تقریباً 11 برس کے بعد پاکستان کی جانب سے کسی ٹیسٹ میچ میں میدان میں اتریں گے۔

محمد عباس، بین سٹوکس

Reuters
انگلش ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے آل راؤنڈر بین سٹوکس یہ میچ نہیں کھیل رہے

تین میچوں کی سیریز میں انگلینڈ کو فی الوقت ایک صفر سے برتری حاصل ہے۔ یہ برتری اسے مانچسٹر ٹیسٹ میں فتح کے نتیجے میں حاصل ہوئی تھی۔

اولڈ ٹریفرڈ میں کھیلے گئے اس ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ نے دوسری اننگز میں جوس بٹلر اور کرس ووکس کی ذمہ دارانہ بلے بازی کی بدولت تین وکٹوں سے فتح حاصل کی تھی۔

پاکستان نے انگلینڈ کو جیتنے کے لیے 277 رنز کا ہدف دیا تھا جو انگلینڈ نے کھیل کے چوتھے دن سات وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔

میچ کے دوران ایک وقت ایسا آیا کہ انگلینڈ کی نصف ٹیم پویلین لوٹ گئی جبکہ جیت کے لیے ڈیڑھ سو سے زائد رنز درکار تھے۔ تاہم اس کے بعد چھٹی وکٹ کے لیے کرس ووکس اور جوس بٹلر کی طویل شراکت داری انگلینڈ کو جیت کی طرف لے گئی۔ ووکس 84 جبکہ بٹلر 75 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے مگر اس وقت تک دونوں اپنی ٹیم کو فتح کے بہت قریب لے آئے تھے۔

پاکستان کے کپتان اظہر علی نے میچ کے اختتام پر شکست کی بڑی وجہ اس پارٹنرشپ کو قرار دیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15983 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp