’’ مریم نواز کی للکار‘‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا کہ واقعی یہ سب کچھ ہورہا ہے۔ آسمان بھی کیسے کیسے نظارے دکھاتا ہے اور اسی دنیا میں دکھاتا ہے۔ وہی ادارہ جس کے دبدبے کا میں خود گواہ ہوں آج اس حالت کو پہنچ چکا ہے کہ اس کے افسران ڈر کے مارے گیٹ بند کر کے بیٹھ گئے۔ ملزمہ باہر کھڑی آوازیں دیتی رہی اور انہوں نے کہا نہیں آپ اندر نہیں آسکتیں۔ ثابت ہوا آپ جتنے بڑے ملزم ہی کیوں نہ ہوں اداروں میں اتنی صلاحیت نہیں رہی کہ وہ بڑے لوگوں کو پکڑ کر سزائوں پر عمل کرا سکیں۔ سب زور چھوٹے لوگوں کے لیے ہے ۔آپ اپنے ساتھ کرائے پر چند بندے لے جائیں۔ ان سے نعرے مروائیں‘ پتھرائو کروائیں تو افسران کی چھٹی ۔ کیاملک میں ریاست کی رٹ بس اتنی سی رہ گئی ہے؟

میں نے نیب کو بیس برس قبل بنتے اور اسے سیاستدانوں‘سول افسران اور شہریوں کے لیے خوف کی علامت بنتے دیکھا ۔ جب اس ادارے نے کار روائیاں شروع کیں تو کیسے بڑے بڑے لوگوں کو ایک ہی ہلے میں پکڑ کر تھانے میں بند کر دیا گیا اور پھر تین ماہ کے لیے سب بھول گئے اور نیا بندہ اٹھا لیا‘ پھر پچھلا بھول گئے اور نیا پکڑ لیا ۔ صدیق الفاروق کو جب اٹھایا گیا تھا اور سپریم کورٹ میں رٹ کی گئی تو ججوں نے اس وقت احتساب ادارے کے پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ وہ کدھر ہیں؟ تو جواب تھا کہ ہم تو انہیں ڈمپ کر کے بھول گئے ہیں ۔

ملک میں ایسا کون سا اہم بندہ تھا جسے احتساب ادارے نے نہ اٹھایا ؟جتنا عرصہ چاہا اپنے پاس رکھا ‘ جتنا چاہا ریمانڈ لیا ‘ جتنی مرضی تھی اپنی عدالت سے سزا دلوا دی‘ دل کیا تو کسی سے دو ارب روپے کی لوٹ مار کے عوض صرف پچاس کروڑ روپے لے کر پلی بارگین کر کے چھوڑ دیا ۔ یہ وہ ہاتھی تھا جس کے پائوں کے نیچے آنے سے سب ڈرتے تھے۔اس کا نام آتے ہی دہشت طاری ہوجاتی تھی۔ میں نے کتنے بیوروکریٹس کو خوفزدہ حالت میں دیکھا۔

جنرل مشرف دور میں حمزہ شہباز شریف روزانہ اس ادارے کے لاہور دفتر کے باہر گھنٹوں بیٹھے رہتے تھے اور انہیں اندر نہیں بلایا جاتا تھا ۔ گھنٹوں بٹھانے کے بعد انہیں بلا کر پھر اگلے دن دوبارہ آنے کا کہہ دیا جاتا تھا۔ حمزہ کو اس کا باپ شہباز شریف اور چچا نواز شریف جدہ جانے سے پہلے جنرل مشرف کے پاس ضامن چھوڑ گئے تھے کہ آپ کو ہمارے پیچھے سب جرمانے ادا کریں گے۔ خواجہ آصف اور چوہدری نثار علی خان کی بار بار سفارشوں کے باوجود جدہ میں نواز شریف انٹرویو دینے کو تیا رنہ ہوئے۔ بار بار کہتے تھے کہ جنرل مشرف ناراض ہوجائیں گے اگر میں نے ایک لفظ بھی بولا۔

پھر جنرل مشرف کا پروگرام بن گیا کہ احتساب اور لوٹ مار کو چھوڑیں سیاستدانوں کے خلاف مقدمات کوپارٹیاں تبدیل کروانے کے لیے استعمال کریں۔ پھر پلی بارگین کا وہ استعمال ہوا کہ اس نے ملک میں احتساب کو تباہ کر کے رکھ دیا ۔ میراخیال ہے کہ پرویز مشرف دور میں پاکستانی عوام نے کرپشن کو سیرئس لینا چھوڑ دیا تھا کیونکہ جو بھی اربوں کے فراڈ میں پکڑے جاتے وہ پلی بارگین کے ذریعے چھوٹ جاتے۔ یوں لوٹ مار کا بازار گرم ہوا اور لوگوں کا ڈر اترنا شروع ہوگیا۔ پھر افسران نے بھی مال بنانا شروع کر دیا ۔ انہوں نے سوچا ہم نے ہی مشرف کو بندے اکٹھے کرکے دیے‘ اگر ہماری وجہ سے وہ ملک کے صدر بن گئے ہیں تو ہم خود اس بہتی گنگا میں ہاتھ کیوں نہ دھوئیں؟

یوں وہ سکینڈلز سامنے آئے کہ پلی بارگین شعبے کے افسران نے مبینہ طور پر اپنے ایک ملزم ایل پی جی کنگ سے پلی بارگین کی اور ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ ملزم نے اعلیٰ افسران کے ساتھ ایل پی جی کا مشترکہ کاروبار شروع کیا اور مبینہ طور پر ہر ایک کو دس دس لاکھ ٹن کا کوٹہ دے کر ساتھ ملا لیا ۔ جن افسران نے بارگین کی تھی انہیں بھی ایل پی جی کے کوٹے ملے۔ پرویز مشرف دور کے وزیروں اور سول افسران نے بھی بیوی بچوں کے نام پر کوٹے لیے۔ جب یہ ادارہ خود اپنے ملزمان کا کاروباری پارٹنر بن گیا تو پھراس کی کیا حیثیت رہ جانی تھی؟

اس طرح احتساب ادارہ ہر حکومت کا وہ ہتھیار بنتا چلا گیا جسے وہ ہر اس بندے کے خلاف استعمال کرسکتی تھی جس سے حکومت ناخوش ہو یا اسے زیر دباؤ لانا چاہتی ہو۔اس ادارے نے بھی سمجھوتہ کر لیا کہ چلیں خیر ہے آج اپوزیشن کو ٹھوک دیتے ہیں ‘چند برسوں بعد یہ وزیرجب اپوزیشن میں ہوں گے تو اس وقت کی حکومت کے کہنے پر آج کے وزیروں کو ٹھوک دیں گے۔ بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی آخر اسے چھڑی کے نیچے آنا ہے۔ اس طرح یہ ادارہ اپنا اعتماد گنواتا چلا گیا ‘ اس کی ساکھ حکمرانوں نے اپنے اقتدار کے لیے استعمال کر لی ۔

ہر ایک نے کرپشن کے خلاف نعرہ مار کر عوام کو بیوقوف بنایا اور بڑے بڑے دعوے کیے لیکن پھر تمام دعوئوں سے ہٹ کر وہی کیا جو پرویز مشرف دور میں ہوتا تھا ۔ سب کو احتساب ادارے کی ضرورت تھی ‘اپنے مخالفین کو ٹائٹ کرنے کے لیے۔ زرداری اور گیلانی خود اس ادارے کے قیدی رہے تھے‘ لہٰذا انہوں نے اسے ختم کرنے کی بڑی کوشش کی کہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری‘ مگر ہم نے دیکھا کہ جب اس ادارے نے اپنی توپوں کا رخ شریفوں کی طرف کیا اور پی پی پی نے جسٹس دیدار شاہ کو چیئرمین بنایا تو چوہدری نثار علی خان سپریم کورٹ پہنچ گئے اور برطرف کرا کے دم لیا۔

اس کے بعد جو بھی چیئرمین آیا وہ حکمرانوں کے ہاتھ میں کھیلتا رہا کیونکہ چیئرمین لگانے کا اختیار وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے پاس تھا۔ مزے کی بات ہے کہ جب نواز شریف نے چیئرمین لگایا گیا تو اس وقت وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ دونوں خود احتساب مقدمات کے ملزم تھے۔اور یہی دو ملزم اس ادارے کا چیئرمین بھی لگا رہے تھے ۔ اسی سے اندازہ کر لیں کتنا سنگین اور سخت احتساب ہوا ہوگا۔

عمران خان کے دور میں اس ادارے کی ساکھ اور کارگردگی پر اسی طرح سوال اٹھائے گئے جیسے پرویز مشرف دور میں۔پرویز مشرف نے بھی یہ چھپانے کی کوشش نہیں کی تھی کہ وہ کرپٹ اور کرپشن کے حق میں ہیں بلکہ انہوں نے سب کو وزیر بنایا۔یہ دور بھی اگر آپ دیکھیں تواحتساب کے حوالے سے بدترین اداور میں شمار ہوگا‘ جب وزیر میڈیا پر پہلے ہی بتا دیتے ہیں کہ اب اپوزیشن کا فلاں فلاں بندہ گرفتار ہوگا۔ ادارے نے وہی پرانا کام کیا۔ عمران خان کے وزیروں کو ہاتھ نہیں لگایا اور اپوزیشن کو اندر ڈال دیا ۔ اب تو یہ تکلف بھی نہیں کرتے کہ کسی کو پتہ نہ چلے کہ احتساب ادارے کو حکومت چلا رہی ہے۔ اب شہزاد اکبر صاحب خود افسران کو گائیڈ لائن فراہم کرتے ہیں ۔ یوں رہی سہی کسر بھی پوری ہوگئی ہے۔

اب سب سمجھتے ہیں کہ اس ادارے کا مقصد احتساب نہیں بلکہ ہر حکومت کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے ۔ وزیروں کو ہاتھ نہ لگائو۔ لیکن اپوزیشن اور دیگر کو مت چھوڑو ۔مگر اس ادارے کے افسران نے خود سے دشمنی کی جب انہوں نے حکومتوں کے اشارے پر چلنا شروع کیا اور اب حالت یہ ہوگئی ہے کہ ملزم دروازے پر دستک دے رہا ہے اور افسران اندر سے کنڈی لگا کر بیٹھے ہیں ۔ احتساب ادارے نے ہر حکومت کو خوش کرنے کے چکر میں خود کو اتنا کمزور کر لیا کہ وہی ادارہ جس سے شریفوں‘ بدمعاشوں ‘سبھی کی جان جاتی تھی‘ جہاں حمزہ شہباز گھنٹوں بیٹھ کر انتظار کرتا تھا تاکہ نواز شریف پر ہونے والے پچاس کروڑ روپے جرمانے کی قسطیں جمع کرائے‘ آج وہاں مریم نواز دفتر کے باہر کھڑی للکار رہی ہے اور افسران سہمے ہوئے ‘ چھپے بیٹھے ہیں ۔یہ دن بھی دیکھنے تھے؟

بشکریہ روزنامہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •