سی آئی اے: چین کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں سابق امریکی انٹیلیجنس اہلکار گرفتار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے خفیہ ادارے سنٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ایک سابق افسر کو اپنے ایک رشتے دار کے ساتھ مل کر چین کے لیے جاسوسی کرنے کی سازش کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

ان کے رشتہ دار بھی سی آئی اے کے لیے کام کر چکے ہیں۔

امریکی محکمہ انصاف نے ایک بیان میں کہا کہ 67 سالہ الیگزینڈر یوک چنگ ما کو جمعے کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ان پر الزام ہے کہ انھوں نے چینی انٹلیجنس حکام کو امریکی قومی دفاع کی خفیہ معلومات افشا کیں۔

یہ واشنگٹن اور بیجنگ کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان جاسوسی کے الزام میں تازہ ترین گرفتاری ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کیا چین اور امریکہ کبھی دوست بھی تھے؟

’امریکہ کے لیے چین بھی اتنا ہی بڑا خطرہ جتنا روس’

’خفیہ معلومات چین کو دینے پر‘ امریکی سفارتی اہلکار گرفتار

مسٹر چنگ ما کو منگل کے روز عدالت میں پیش ہونا ہے اور جرم ثابت ہونے پر انھیں زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

ہم مسٹر چنگ ما کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟

مسٹر چنگ ما ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے اور ان کے پاس امریکی شہریت ہے۔ انھوں نے سنہ 1982 میں سی آئی اے کے لیے کام کرنا شروع کیا تھا۔

استغاثہ نے بتایا کہ انھوں نے سات سال بعد سی آئی اے کو چھوڑ دیا اور سنہ 2001 میں ہوائی منتقل ہونے سے قبل چینی شہر شنگھائی میں کام کرنے لگے۔

انھوں نے مسٹر چنگ ما اور ان کے رشتہ دار پر الزام عائد کیا کہ مارچ سنہ 2001 میں ہانگ کانگ میں ہونے والی ملاقاتوں کے ساتھ شروع ہونے والی ایک سازش کے تحت انھوں نے تقریباً ایک دہائی تک چین کے لیے جاسوسی کی۔

سی آئی اے کے سابق افسران پر الزام ہے کہ انھوں نے ‘سی آئی اے کے اہلکاروں، ان کے آپریشنز، اور مواصلات کو چھپانے کے طریقوں’ کے بارے میں چینی خفیہ ایجنسی کے ساتھ معلومات شیئر کیں۔

بیان میں کہا گیا کہ ہانگ کانگ میں ہونے والی ان کی میٹنگز کا کچھ حصہ ویڈیو ٹیپ پر ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں مسٹر ما کو 50 ہزار امریکی ڈالر گنتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جو انھیں خفیہ معلومات شیئر کرنے کے لیے دیے گئے تھے۔

عدالت کے دستاویزات کے مطابق ہوائی میں قیام کے دوران انھوں نے امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی میں کام تلاش کرنے کی کوشش کی تاکہ امریکی حکومت کی خفیہ معلومات تک ان کی رسائی ہو اور وہ انھیں چین کو پہنچائیں۔

سنہ 2004 میں ایف بی آئی کے ہونولولو آفس نے ماہر لسانیات کے کنٹریکٹ پر ان کی خدمات حاصل کیں اور ان پر ایسی دستاویزات کی چوری کے الزامات ہیں جن پر خفیہ درج تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ مسٹر چنگ ما کو گرفتار کرنے میں آخر اتنا وقت کیوں لگا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ جس رشتہ دار کے ساتھ مل کر مسٹر چنگ ما نے سازش کی ہے وہ اب 85 سال کے ہیں۔ ان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ وہ شنگھائی میں پیدا ہوئے تھے لیکن اب امریکی شہری ہیں۔

عدالتی دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ استغاثہ نے فی الحال ان کی گرفتاری کے لیے وارنٹ طلب نہیں کیا ہے کیونکہ وہ ‘حواس کے کمزور ہونے کے عارضے’ میں مبتلا ہیں۔

چینگدو میں امریکی سفارتخانہ بند کر دیا گیا

EPA

جاسوسی کے دوسرے معاملات کیا ہیں؟

سابق انٹیلیجنس افسران کے خلاف مقدمات کے سلسلے میں یہ تازہ ترین گرفتاری ہے۔

گذشتہ سال نومبر میں سی آئی اے کے ایک اور سابق افسر جیری چن شنگ لی کو چین کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں 19 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

کہا جاتا ہے کہ مسٹر لی نے جو معلومات فراہم کیں ان کی مدد سے چین کو 2010 اور 2012 کے درمیان مخبروں کے نیٹ ورک کو کمزور کرنے میں مدد ملی۔

اس دوران امریکی انٹلیجنس کے تقریباً 20 مخبروں کو یا تو ہلاک کر دیا گیا یا جیل بھیج دیا گیا جسے حالیہ دور میں امریکی انٹیلیجنس کی سب سے بڑئ ناکامی کے طور پر دیکھا گیا۔

مئی 2019 میں سی آئی اے کے ایک اور سابق ایجنٹ کیون میلوری کو امریکی دفاعی راز چین منتقل کرنے کی سازش کا مرتکب پائے جانے کے بعد 20 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

سابق امریکی انٹلیجنس آفیسر رون راک ویل ہینسن کو ستمبر میں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل جان سی ڈیمرز نے پیر کو اپنے ایک بیان میں کہا ‘چینی جاسوسوں کے نشانات طویل ہیں اور بدقسمتی سے سابق امریکی انٹلیجنس افسران کے ساتھ اس کے تار جڑے ہوئے ہیں جنھوں نے اپنے ساتھیوں، اپنے ملک اور اس کے آزاد خیال جمہوری اقدار کے ساتھ غداری کرتے ہوئے ایک آمرانہ کمیونسٹ حکومت کی حمایت کی۔

‘چاہے جلد یا بہ دیر ہم ان غداروں کو تلاش کریں گے اور ہم انہیں انصاف کے کٹہرے میں لائیں گے۔ وہ یہ نہ سمجھیں کہ وہ بچ جائيں گے۔’

امریکہ اور چین کے درمیان اب تناؤ کیوں زیادہ ہے؟

امریکہ اور چین کے مابین تعلقات دہائیوں کے دوران اپنی سب سے نچلی سطح پر ہیں۔

دونوں ممالک سنہ 2018 کے بعد سے شدید تجارتی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں اور رواں ماہ کے شروع میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مقبول چینی ایپ ٹک ٹاک پر پابندی لگانے کی دھمکی دی تھی۔

دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتیں عالمی وبا کورونا وائرس پر بھی ایک دوسرے سے نبرد آزما ہیں اور اس کے ساتھ ہانگ کانگ میں نئے متنازع قانون پر بھی دونوں میں شدید اختلاف ہے۔

پچھلے مہینے سنگاپور کے ایک شخص پر امریکہ میں چین کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کا جرم ثابت ہوا تھا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق بیجنگ میں پریزنٹیشن دینے کے بعد انھیں سنہ 2015 میں چینی انٹلیجنس میں بھرتی کیا گیا تھا۔ اس وقت وہ سنگاپور کی ایک معروف یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے تھے۔

ڈکسن ییو کے نام سے معروف جون وی ییو پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ امریکہ میں اپنی سیاسی مشاورت کی کمپنی کو چینی انٹلیجنس کے لیے معلومات اکٹھا کرنے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

امریکہ نے حالیہ برسوں میں چین کے خلاف معاشی جاسوسی کے الزامات بھی عائد کیے ہیں۔

محکمہ انصاف نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ محکمہ انصاف کی طرف سے دائر کیے گئے معاشی جاسوسی کے تقریباً 80 فیصد مقدمات ایسے ہیں جس سے ‘چینی ریاست کو فائدہ پہنچتا’ نظر آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17788 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp