الیکسی نوالنی اور روس کے کیمیائی حملوں کی تاریخ

لارنس پیٹر - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Container used to transport Navalny to Berlin, 22 Aug 20

EPA
الیکسی نوالنی کو ہنگامی طور پر جرمنی کے شہر برلن لے جایا گیا

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران کریملین پالیسیز کے کئی ناقدوں، سابق جاسوسوں، صحافیوں اور سیاستدانوں کو زہر دیا جا چکا ہے۔

برطانیہ میں دو سابق روسی سیکریٹ سروس کے اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا: الیگزینڈر لیٹوینینکو پر سنہ 2006 میں ریڈیو ایکٹو پولونیئم- 210 سے جان لیوا حملہ کیا گیا جبکہ سنہ 2018 میں سرگئے سکرپل پر زہریلے اعصاب شکن مادہ ناویچوک سے حملے کیا گیا۔

کریملن نے ان حملوں سے لا تعلقی ظاہر کی ہے۔

تازہ ترین حملے کا شکار ہونے والے الیکسی نوالنی ہیں جن پر پہلے بھی حملہ کیا جا چکا ہے۔ تاہم بہت کچھ ابھی غیر واضح ہے۔

روسیوں کے جانب سے زہر کے پراسرار حملے عموماً راز ہی بنے رہتے ہیں جو سڑکوں پر گولی مارے دینے والے پرانے طرز کے حملوں کے مقابلے میں قاتلوں کے لیے ایک اہم فائدہ ہی ہے۔

رائل یونائٹڈ سروس انسٹیٹیوٹ میں روس سے متعلق ماہر پروفیسر مارک گیلوٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘زہر کی دو شکلیں ہوتی ہیں۔ ایک قدرے لطیف اور دوسری شدید تر۔’

یہ بھی پڑھیے

روس میں پوتن کے ناقد کے جسم سے ’مہلک مادہ‘ برآمد

روس رپورٹ: برطانیہ کے لیے جاسوسی کے سخت قوانین کا مطلب کیا؟

برطانیہ میں کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی تجربہ گاہیں

‘یہ اتنی لطیف اور غیر محسوس ہوتی ہے کہ آپ اس کے ہونے سے انکار کر سکے ہیں۔ اور یہ اپنا اثر دکھانے میں وقت لگاتی ہے۔ اس میں ہر طرح کی تکلیف ہوتی ہے۔ اور زہر دینے والا دھیرے سے آنکھ دبا کر اس اقدام سے انکار کر سکتا ہے تاکہ سب کو اس کا اشارہ بھی مل جائے۔’

Navalny rally in Moscow, 29 Feb 20

Reuters
برسوں تک الیکسی نوالنی روس میں اپنے حامیوں کے ساتھ ریلیوں میں شریک ہوئے

کریملن کے لیے کانٹا

الیکسی نوالنی روسی کے مقبول ترین انسداد بد عنوانی اور حزب مخالف کے کارکن ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی سخت ویڈیوز نے لاکھوں لوگوں کی توجہ حاصل کی اور انہیں کریملن کے لیے ایک خار بنا دیا۔

انہیں زہر دینے سے قبل پرواز کو روکے رکھا گیا اور اتنی دیر تک کہ قاتل کو باآسانی ان تک رسائی مل گئی۔ 44 سالہ نوالنی 20 اگست کو سربیا کے شہر تھامزک سے اڑنے والر پرواز کے دوران ہی بیمار پڑ گئے تھے ، ان کی طبیعت اتنی خراب ہوئی کے پرواز کو اومسک کی جانب موڑنا پڑا۔

روس کی تحقیقاتی رپورٹر اور پوتن کی ناقد اینا پوٹیکوفسکایا کو سنہ 2006 میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے دعوی کیا تھا کہ انہیں سنہ 2004 میں شمالی کاسکاسس جانے والی پرواز کے دوران زہر دیا گیا اور وہ بیمار پڑ گئیں اور بے ہوش ہو گئی تھی۔

اسی طرح آہستگی سے کام کرنے والے زہر پولونیم -210 سے لیتوینینکو کو اذیت ناک موت دی گئی، ان پر حملے کے کئی ہفتوں بعد اس جان لیوا زہر کی شناخت ہوئی تھی۔ چونکہ اس سے انتہائی باریک ذرات خارج ہوتے ہیں اس لیے اسے تابکاری ماپنے والے آلے سے بھی شناخت نہیں کیا جاسکتا۔

برطانیہ کی تحقیقات سے پتا چلا کہ دو مشتبہ روسی ایجنٹس اور قاتل کئی بار کسی شک کے دائرے میں آئے بغیر ملک میں آئے اور واپس گئے۔

الیکسی نوالنی کے روس میں کئی دشمن ہیں، ان میں صرف صدر پوتن کے حامی ہی شامل نہیں جن کی جماعت یونائٹڈ رشیا پارٹی کو نوالنی نے ‘چوروں اور جرائم پیشے افراد کی جماعت’ قرار دیا تھا۔ صدر پوتن سنہ 2000 میں صدر بننے سے پہلے سویت دور میں خفیہ ادارے کے افسر تھے۔

پروفیسر مارک گیلوٹی کا کہنا ہے کہ ‘یہ کوئی منصوبہ بندی سے کیا ہوا حملہ نہیں لگتا۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ کسی طاقتور روسی کا کا اقدام ہے لیکن ضروری نہیں کہ اس میں ریاست کا دخل ہو۔’

Police at Charité hospital, 24 Aug 20

EPA
جرمنی نے برلن کے ہسپتال کے باہر سخت سکیورٹی تعینات کر رکھی ہے

اعصاب شکن علامات

برلن کے ہسپتال میں زندگی کے لیے لڑتے الیکسی نوالنی کو کوما میں رکھا گیا ہے اور ان کا ایسے زہر کا علاج کیا جا رہا ہے جو کولینیسٹریسی انہیبٹرز cholinesterase inhibitors کے گروہ سے ہے۔

ہسپتال کا کہنا ہے دیا جانا والا مخصوص زہر ابھی معلوم نہیں ہوسکا اور اس کی شناخت کے لیے ٹیسٹ لیے گئے ہیں۔ لیکن جسم میں زہر کے اثرات متعدد خود مختار لیبیرٹریز میں کیے گئے ٹیسٹوں سے ثابت ہو چکے ہیں۔

یہ اثرات فوجی استعمال میں آنے والی اعصاب شکن زہر جیسے ہیں جیسے کہ سیرن، وی ایکس یا اس سے بھی زہریلی نویچوک۔ یہ دماغ سے پھٹوں کو جانے والے کیمیائی سنگنلز میں دخل اندازی کرتے ہیں جس کی وجہ سے کھنچاؤ پیدا ہوتا ہے، سانس اکھڑتا ہے، دل کی دھڑکن متزلزل ہوتی ہے اور انسان بے ہوش ہوجاتا ہے۔

الیکسی نوالنی کی ترجمابن کِیرا یرمیش کو شبہ ہے کہ زہر ان کی چائے کی پیالی میں ڈالی گئی جو انھوں نے ٹامسک ہوئی اڈے کے کیفے میں پی۔ ان کے بقول انھوں نے پرواز سے قبل کچھ نہیں کھایا تھا۔

بدقسمتی سے یہ واقعہ لٹونینکو کے معاملہ سے مشابہ ہے جنہوں نے لندن کے ایک ہوٹل میں زہریلی چائے پی تھی۔

امریکہ میں مقیم پوتن مخالف ایک اور نامور کارکن ولادیمیر کارا مُرزا کا کہنا ہے کہ انہیں بھی سنہ 2015 اور 2017 میں الیکسی نوالنی جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان پر مبینہ زہر کا حملہ بھی اب تک ایک اسرار ہے۔

انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ‘زہر روسی سکیورٹی سروس کا پسندیدہ ہتھیار بن گیا ہے، ایک ظالمانہ ہتھیار۔’

‘اس سے گزرنا انتہائی تکلیف دہ ہے۔۔۔ پہلی بار زہر دیے جانے اور کوما کے بعد مجھے ایک بار پھر چلنا سیکھنا پڑا۔’

20اگست کو جب جہاز اومسک اترا تو طبی اہلکار نوالنی کی جانب لپکے اور انہیں انتہائی نگہداشت لے جایا گیا اور پھر انہیں وینٹیلیٹر پر ڈال دیا گیا۔

تحقیقات میں تاخیر

صدر پوتن کے ترجمان دمتری پیسکوف کا کہنا ہے کہ برلن کے ڈاکٹروں کی جانب سے زہر کی تشخیص حتمی نہیں ہے، اس لیے سرکاری تحقیقات کا حکم دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔ اس سے پہلے ان کا کہنا تھا کہ کریملن الیکسی نوالنی کی صحت کے لیے دعا گو ہے اور انہیں برلن جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ برلن لے جانے سے قبل اومسک میں تاخیر دراصل زہر دیے جانے کے ثبوت مٹانے کے لیے کی گئی۔

اومسک کے ڈاکٹروں پر بھی تنقید کی جا رہی ہے جنہوں نے اس معاملے کو بلڈ شوگر لیول کم ہونا قرار دیا اور انہیں اعصاب شکن زہر کی موجودگی کا علم نہیں ہو سکا۔

امریکہ میں مقیم اینستھیزیالوجسٹ (بے ہوش کرنے والا ڈاکٹر) ڈاکٹر کانسٹینٹن بیلانوف نے بی بی سی رشیئن کو بتایا کہ یہ ناکامی کافی عیجیب ہے۔ ماسکو کے زہر سے متلق ماہرین نے بھی اومسک کے ڈاکٹروں سے رابطہ کیا اور ‘یقیناً وہ اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ یہ اس مخصوص گروپ کے زہر کا اثر ہے۔’

شبہات ہیں کہ معاملے کو چھپانے کی کوشش کی گئی اور نامعلوم پولیس اہلکار فورا ہی جائے وقوع پر پہنچ گئے اور وہاں تک رسائی بند کر دی۔ ڈاکٹرز اس بات پر مُصر رہے کہ نوالنی کے پیشاب سے کسی زہر کے اثرات نہیں ملے۔

یہ معلوم ہوا ہے کہ اومسک میں ایٹروپائن کا انتظام کیا گیا تھا جو کہ ایک اعصاب شکن زہر کا تریاق ہے۔

سینٹ پیٹرسبرگ میں انتہائی نگہداشت کے ماہر میخیل فریمڈرمین کا کہنا ہے کہ ‘زہر دیے جانے کے کیس میں ایٹروپائن کو طویل وقت تک نسوں کے ذریعے مریض کو لگایا جاتا ہے اور شاید اومسک میں ایسا کرنا ممکن نہ ہوا ہو۔ ‘ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں میڈیکل کا ڈیٹا بھی جاری نہیں کیا گیا۔

Pellet found in corpse of Georgi Markov

PA Media
جیورجے مارکوف کی بائوپسی میں پتا چلا کہ یہ باریک سا پلیٹس تہا جس میں ریکن موجود تھا

کیمیائی مواد کی درجہ بندی

کیمیائی ہتھیاروں اور زہروں کے برطانوی ماہر پروفیسر ایلٹیئر ہے کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اعصاب شکن مادے فاسفورس والے نامیاتی مرکبات میں ‘انتہائی زہریلے’ درجے پر ہوتے ہیں۔

ممکنہ زہروں کی ایک بڑی تعداد استعمال کیے جانے والے زہر کی شناخت کے عمل کو مشکل بنا دیتی ہے۔ کیڑے مار ادویات اور کچھ طبی معالجوں میں چند نسبتا ہلکے فاسفورس والے نامیاکتی مرکبات استعمال ہوتے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘کسی کو جان سے مارنے کے لیے اس کی بہت کم مقدار بھی کافی ہوتی ہے جو کسی بھی مشروب میں حل ہو سکتی ہے۔’

تاہم ایک قاتل کے نقطہِ نظر سے اس میں کافی فائدے ہیں۔ پروفیسر ہے بتاتے ہیں ‘ایک سادہ خون کا ٹیسٹ یہ نہیں بتا سکتا کہ کون سا زہر استعمال ہوا۔ آپ کو مزید نفاست سے ٹیسٹ کرنے ہوتے ہیں، جس کے لیے کافی مہنگے آلات استمعال ہوتے ہیں۔ کئی ہسپتالوں کی لیبارٹریز میں یہ مہارت نہیں ہوتی۔’

برطانیہ میں یہ سہولت صرف پروٹان ڈاؤن نامی انتہائی سکیورٹی کی حامل کیمیائئ اور حیاتیاتی تحقیقاتی سنٹر کے پاس ہے۔

برطانیہ اور روس دونوں ہی کیمیائی ہتھیاروں کے عالمی کنونشب کے 190 دستخط کنندگان میں شامل ہیں۔ اس کنونش کے تحت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہے اور تریاق بنانے اور حفاظتی آلات کی تیاری کے لیے بہت کم مقدار میں کیمیائی مواد کے استعمال کی اجازت ہے۔

پروفیسر ہے نے بتایا کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد روس نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کا ایک بڑا ذخیرہ بین الاقوامی نگرانی میں تلف کیا جس کی مقدار 40000 ٹن کے برابر تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15490 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp