کیا یہ فلسطین کی پیٹھ میں خنجر ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ کچھ لوگوں نے یہ خبر حیرت و افسوس سے سنی۔ کچھ لوگوں نے اسے فلسطینیوں کی پیٹھ میں خنجرگھونپنے کے مترادف قرار دیا۔ کئی ایک نے اس عمل کو امت مسلمہ اور فلسطین سے دھوکا کہا ہے؛ تاہم اگر جذبات اور تعصبات سے اوپر اٹھ کر دیکھا جا سکے تو جو حقائق سامنے آتے ہیں‘ وہ بڑے تلخ ہیں، اور دنیا میں ہونے والی نئی صف بندیوں اور سٹریٹیجک مفادات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
اگر عرب اسرائیل تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو کچھ چشم کشا حقائق سامنے آتے ہیں۔ ان حقائق کی روشنی میں اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ عربوں کی فلسطین کے سوال پر پالیسی میں بے شمار نقائص رہے ہیں۔ یہ تضادات سے بھرپور ایسی پالیسی رہی ہے، جس کی بنیادیں جذبات پر کھڑی ہیں؛ چنانچہ حقائق کی دنیا میں یہ بنیادی طور پر ایک ناکام پالیسی ثابت ہوئی۔ اس پالیسی سے گاہے عربوں کے مفادات اور فلسطینی کاز‘ دونوں کو نقصان ہوا۔
عرب اسرائیل تعلقات کے باب میں عرب اقوام نے تین شرائط رکھ کر اعلان کر دیا کہ ان شرائط کے پورا کیے بغیر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اور نہ ہی اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی شرط یہ تھی کہ اسرائیل تمام مقبوضہ علاقے واپس کرے‘ فلسطین کی الگ ریاست قائم کرے اور تمام فلسطینی مہاجرین اور پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کو تسلیم کرے۔ اسرائیل پہلے دن سے یہ شرائط ماننے سے انکار کرتا رہا۔
مسلم ریاستوں نے اسرائیل کے سامنے جو تین مطالبات رکھے وہ بالکل جائز تھے‘ مگر اسرائیل سے وہ یہ مطالبات منوانے میں ناکام رہے، جس کی بڑی وجہ خود مسلم ریاستوں کے اندر عدم اتفاق، باہمی دشمنی اور اپنے اپنے طور پر اسرائیل کے ساتھ معاملات کرنے کی کوششیں تھیں۔ یہ کوششیں کبھی خفیہ اور کبھی کھلے عام ہوتی رہیں۔
امارات کے اس تازہ ترین عمل کو فلسطین کی پیٹھ میں خنجر قرار دینے والا ترکی وہ پہلا مسلم ملک تھا، جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور اس کے ساتھ تعلقات قائم کیے۔ ترکی کے ساتھ یہ تعلقات اسرائیل کے قیام کے فوراً بعد 1949 میں شروع ہوئے، جب فلسطین خون میں ڈوبا تھا، اور اس کے لاکھوں لوگوں کو ان کی زمینوں سے نکال دیا گیا تھا۔ ان کے جسم و روح پر لگنے والے زخم ابھی تازہ تھے۔ ان تعلقات میں بڑے نشیب و فراز آئے، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعلقات بہت گہرے ہو چکے تھے۔ حالیہ عشروں کے دوران ان تعلقات میں فرق آیا، مگر ناخوشگواریت کے باوجود تعلقات قائم رہے۔ کورونا بحران سے پہلے ترکی کی اسرائیل کے ساتھ تین بلین ڈالر کی تجارت تھی۔ سالانہ تقریباً 1.9 ملین اسرائیلی ترکی کی سیاحت پر آتے تھے۔
متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کو مسلمانوں سے دھوکہ قرار دینے والا ایران دوسرا مسلم ملک تھا جس نے ترکی کے بعد 1950 میں اسرائیل سے تعلقات قائم کیے تھے۔ ایران اس وقت اسرائیل کو تیل فروخت کرتا رہا، جب اس خطے میں کوئی اور ملک ایسا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ یہ تجارت کے باب میں ایران اسرائیل برآمدات کا اہم مرکز رہا اور اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے ایرانی خفیہ اداروں کو تربیت بھی فراہم کی۔ اسلامی انقلاب سے صرف دو برس قبل ایران اور اسرائیل ایک مشترکہ میزائل بنا رہے تھے، جو نیوکلیئر وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔ آیت اللہ خمینی نے 1971 میں کہا تھاکہ اسرائیل ایران کے سیاسی، معاشی اور فوجی معاملات میں اس قدر گھس چکا ہے کہ ایران عملی طور پر اس کا فوجی اڈا ہے۔
1979 کے اسلامی انقلاب کے تین ہفتے بعد اسرائیل سے تعلق ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا مگر درپردہ بہت سارے معاملات چلتے رہے۔ ایران عراق جنگ کے دوران اسرائیل سے اسلحہ خریدا جاتا رہا۔ اس جنگ کے دوران ایران نے اسرائیل سے پانچ سو ملین ڈالر کے ہتھیار خریدے۔ امریکی پابندیوں کے باوجود ایرانی تیل اسرائیل کے راستے یورپ پہنچتا رہا۔عراق کی شکست اور سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد ایران نے سب سے بڑا خطرہ امریکہ کو قرار دیا۔ اس کے بعد امریکہ ایک بڑا شیطان اور اسرائیل چھوٹا شیطان قرار پایا؛ چنانچہ چھوٹے شیطان کا مقابلہ کرنے کے لیے غزہ میں حماس اور لبنان میں حزب اللہ جیسی قوتوں کی حمایت شروع کر دی گئی۔
ترکی اور ایران کی طرح خفیہ تعلقات اور جنگ و جدل کے بعد مصر نے بھی 1980 میں اسرائیل کو باقاعدہ تسلیم کیا۔ آج مصر اور اسرائیل کے مابین فوجی اور سکیورٹی تعاون جاری ہے۔ غزہ سٹرپ کی آمدورفت کو کنٹرول کرنے کیلئے دونوں کی سکیورٹی فورسز کا تعاون ہے‘ اور دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ایک دوسرے کی مددگار ہیں۔ فلسطینیوں کی جدوجہد کے باب میں مسلم دنیا میں اہم ترین ملک اردن ہے۔ اس کی وجہ صرف اردن میں فلسطین کی بہت بڑی آبادی ہی نہیں، کئی دوسرے عناصر بھی ہیں۔
دسمبر 1948 میں فلسطینی رہنمائوں کی ایک اہم کانفرنس میں اردن کے شاہ عبداللہ اول کو فلسطین اور اردن کا بادشاہ تسلیم کرنے کا حلف اٹھایا گیا تھا اور یروشلم میں تمام مقدس مقامات کو شاہ کی تحویل میں دیا گیا تھا۔ یہ سپرداری 1967 میں ختم ہوئی۔ اس قربت، انحصار اور اعتماد کے باوجود دوسری طرف اردن کے شاہوں اور اسرائیلی رہنمائوں کے درمیاں ملاقاتیں اسرائیل کے قیام سے پہلے شروع ہو چکی تھیں۔ آج اسرائیل اور اردن کے مابین گہرا تعلق ہے۔ اسرائیل اردن کو سکیورٹی بفر کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اردن پانی اور معاشی استحکام کیلئے اسرائیل پر انحصار کرتا ہے۔
اسرائیلی بڑے اعتماد سے اردن کو ایک سٹریٹیجک پارٹنر کہتے ہیں، جس کی وہ امدادوتعاون کو تیار ہیں اور یہ سب اس حقیقت کے باوجود ہے کہ آج اردن میں تقریباً تین ملین فلسطینی پناہ گزین رہتے ہیں ۔ اس بات میں کوئی راز نہیں ہے کہ بحرین اور اسرائیل کے درمیان 1990 سے خوشگوار تعلقات ہیں؛ اگرچہ بحرین نے رسمی طور پر اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا۔ اگست 2019 میں عراق، شام اور لبنان پر اسرائیلی فوجی حملوں کے بعد بحرین اور اسرائیل کا تعلق کھل کر سامنے آیا۔ اس موقع پر بحرین کے وزیر خارجہ خالد بن احمدالخلیفہ نے اسرائیل کا دفاع کرتے ہوئے ایران کو جارح قرار دیا تھا۔
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان خفیہ مذاکرات مدت سے جاری ہیں۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں ہی امارات نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ یہ فیصلہ راتوں رات نہیں ہوا، بلکہ اس کا ایک طویل پس منظر ہے۔ اگست 2018 میں ذرائع ابلاغ نے ایک خبر دی تھی، جس پر بہت سارے لوگ یقین کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ اس خبر کے مطابق متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کے نیشنل سکیورٹی گروپ کو عرب امارات کے شہریوں کی جاسوسی کرنے کا ٹھیکہ دیا ہے۔
اس ٹھیکے کے تحت اسرائیلی گروپ نے سپائی ویئر کے ذریعے عرب امارات کے شہریوں کے فون سنے۔ یہی اسرائیل ساختہ سپائی ویئر استعمال کرنے کا الزام سعودی عرب پر بھی لگتا رہا ہے۔ فلسطین کا مقدمہ قومی آزادی کی تحریکوں کی تاریخ کا سب سے مضبوط ترین مقدمہ رہا ہے۔ یہ مقدمہ لڑتے ہوئے انہوں نے قربانی کی قابل رشک مثالیں قائم کی ہیں۔ سیاسی، سفارتی اور مسلح محاذ پر انہوں نے بے مثال جدوجہد کی۔ ایک وقت میں ایک سپر پاور سوویت یونین سمیت آدھی سے زیادہ دنیا ان کے ساتھ کھڑی تھی‘ مگر فلسطینی اس وقت تک اپنی منزل حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم ریاستوں کے اسرائیل کے ساتھ اچھے یا برے تعلقات کبھی بھی فلسطینیوں کے مفاد کے تابع نہیں رہے، بلکہ عرب حکمرانوں کے اپنے ذاتی مفادات کے تابع رہے ہیں، جن کو وہ قومی مفادات کا نام دیتے رہے۔ اگر امارات کا عمل فلسطین کی پیٹھ میں خنجر ہے تو یہ کوئی پہلا خنجر نہیں ہے، اس سے پہلے ان کی پشت پر اندر اور باہر سے کئی حملے ہو چکے ہیں۔
بشکریہ روزنامہ دنیا
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •