کراچی میں طوفانی بارش: سوشل میڈیا صارفین شہریوں کی مدد کیسے کر رہے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کراچی

Reuters
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جمعرات کو ہونے والی طوفانی بارش کے سلسلے نے تباہی مچا دی ہے۔ شہر کے زیادہ تر علاقے زیر آب آ چکے ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں۔

کہیں بجلی بند ہے تو کہیں کئی کئی فٹ پانی گھروں میں داخل ہو گیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے صوبے بھر میں ‘رین ایمرجنسی’ نافذ ہے جبکہ صورتحال اربن فلڈنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔

اس سنگین صورتحال میں جہاں کراچی کے شہری اور سوشل میڈیا صارفین حکومتی کارکردگی پر تنقید رہے ہیں وہیں سوشل میڈیا صارفین بارش میں پھنسے کراچی کے شہریوں کی مدد کے لیے بھی اقدامات کر رہے ہیں۔

ان میں سے کوئی شہر میں ایمرجنسی سروس کے نمبرز فراہم کر رہے ہیں تو کوئی شہر کی سڑکوں پر پانی میں پھنسے شہریوں کو عارضی راحت کے لیے اپنے گھر آنے کی دعوت دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی کی ہنگامی صورتحال میں شہری کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں؟

کراچی: ’اتنی شدید بارش کبھی نہیں دیکھی، نہ رکی تو کیا بنے گا‘

کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں بارش سے تباہی، ’رین ایمرجنسی‘ نافذ

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایک مرتبہ پھر طوفانی بارش کا سلسلہ جاری ہے

BBC

کراچی کی طوفانی بارش کے بعد پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوفیہ نامی ایک سوشل میڈیا صارف نے ٹوئٹر پر شہر کے لوگوں سے ایک دوسرے کی مدد کرنے کی درخواست کی۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’اگر آپ کراچی سے تعلق رکھتے ہیں اور اس ٹویٹ کو پڑھ رہے ہیں اور آپ کے گھر میں ایک اضافی منزل موجود ہیں تو براہ مہربانی کچھ مدد ان لوگوں کی بھی کر دیں جن کے گھر زیر آب آ گئے ہیں، انھیں اس وقت تک چھت فراہم کریں جب تک کہ صورتحال واپس معمول پر نہیں آ جاتی۔‘

https://twitter.com/dafucsophie/status/1298903030834888705

اسی طرح ایک اور صارف نے لکھا کہ ’اگر آپ لوگ یہ ٹویٹ پڑھ رہے ہیں اور آپ یا کوئی جسے آپ جانتے ہیں کراچی کے علاقے کلفٹن میں تیز بارش کے باعث پھنسا ہوا ہے، وہ مجھے ٹوئٹر پر پیغام بھیج سکتا ہے اور میرے گھر بارش رکنے تک آ سکتا ہے۔۔۔ میں اسے چائے کھانا اور اگر وہ تمباکو نوشی کرتا ہے تو یقیناً سگریٹ پیش کر سکتا ہوں۔ یہ میرا گھر ہے جہاں میرے اہلخانہ بھی ہیں لہذا اگر آپ خاتون ہیں تو آپ بھی یہاں آنے کے لیے بلا جھجک رابطہ کر سکتی ہیں۔‘

https://twitter.com/AK_Forty7/status/1298939971076644865

اس ٹویٹ کے جواب میں بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے ان کے اس عمل کو سراہتے ہوئے تعریف کی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

جبکہ دیگر بہت سے سوشل میڈیا صارفین نے بھی شہر کے مخلتف علاقوں میں بارش میں پھنسے افراد کی مدد کرتے ہوئے انھیں اپنے گھر آنے کی دعوت دی۔

https://twitter.com/bonariensiswaj/status/1298935718006358017

جبکہ سوشل میڈیا پر چند ایسے ویڈیو پیغامات بھی گردش کر رہے ہیں جن میں کراچی کے صاحب حیثیت افراد شہر کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے ایسے شہریوں کی مدد کی بات کر رہے ہیں جن کے گھروں کو بارش کے باعث جزوی نقصان پہنچا ہے اور وہ اسے دوبارہ تعمیر کرنے کی استطاعات نہیں رکھتے۔

ان پیغامات میں صاحب حیثیت افراد کی جانب سے ان غریب شہریوں کے گھروں کی مرمت اور دوبارہ تعمیر کے لیے رابطہ کرنے کا کہا گیا ہے۔

جبکہ چند سوشل میڈیا صارفین سڑکوں پر گاڑیاں خراب ہو جانے کے باعث پھنسے افراد کی مدد کے لیے ہنگامی سروسز مہیا کرنے والے اداروں کے رابطہ نمبرز بھی شیئرز کر رہے ہیں۔

https://twitter.com/fursid/status/1298960348859510791?s=20

جبکہ چند صارفین انسانی ہمدردی کے تحت شدید بارش میں آن لائن کھانے منگوانے یا ڈلیوری بوائز کو بلانے سے منع کرتے دکھائے دیے۔

ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’کراچی والوں آج گھر پر کھانے یا دیگر ایشیا ضروریہ آرڈر مت کریں، اگر اس شدید بارش میں آپ کے لیے باہر جانا خطرناک ہے تو یہ گھر پر ڈیلیوری کرنے والے افراد کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔‘

https://twitter.com/marketingdude/status/1298889342790832128?s=20

جبکہ ایک اور صارف نے ٹویٹ کیا کہ ’اگر آپ کے گھر کے بار کے الیکٹرک کا عملہ یا انٹرنیٹ اور ٹیلیفون سروس کا عملہ کام کر رہا ہے تو انھیں کھانا، پانی اور عارضی چھت مہیا کریں، یہ بارش بہت شدید ہے اور وہ آپ کے لیے کام کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15453 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp