نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کے چیئرمین کی تقرری: ’ان معاملات میں جو دیر یہ لوگ کرنا چاہتے ہیں وہ کر لی‘

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

علی نواز چوہان

BBC
’موجودہ حکومت نے اور تو کچھ نہ کیا اس ادارے (این سی ایچ آر) کو ہی غیر فعال کر دیا‘

’انسانی حقوق کی پاسداری نا تو سابق حکومت کی ترجیح تھی اور نہ ہی موجودہ حکومت کی۔ ہاں، نواز شریف صاحب کے حق میں یہ بات جاتی ہے کہ انھوں نے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس بنا دیا اور پاکستان پیپلز پارٹی نے سنہ 2012 میں یہ قانون منظور کروایا جس کے تحت یہ کمیشن بنا۔ اِس حکومت نے اور کچھ تو نہیں کیا لیکن ادارے کو ہی غیر فعال کر دیا۔‘

یہ کہنا ہے پاکستان میں انسانی حقوق کے قومی ادارے نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس (این سی ایچ آر) کےسابق چیئرمین جسٹس (ریٹائرڈ) علی نواز چوہان کا جو گذشتہ ڈیڑھ سال سے اپنے عہدے سے ریٹائر ہو کر گھر بیٹھے ہیں اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے یہ ادارہ، این سی ایچ آر، بھی لگ بھگ غیر فعال ہے۔

بی بی سی کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں علی نواز چوہان نے این سی ایچ آر کے مبینہ غیر فعال ہونے سے لے کر مبینہ جبری گمشدگیوں اور اوکاڑہ کے مزارعین کی جانب سے ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات پر بات کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

’سب فوج کو دے دیں گے تو ہمارے پاس کیا بچے گا‘

قومی کمیشن برائے انسانی حقوق سربراہ سے محروم

’پاک فوج اوکاڑہ فارمز کی ملکیت کے دعوے سے دستبردار‘

این سی ایچ آر کا ادارہ کب اور کیوں بنایا گیا؟

این سی ایچ آر کو تشکیل دینے کی تجویز سنہ 2012 میں ’پیرس پرنسپل‘ کے تحت دی گئی اور اس ادارے کا قیام سنہ 2015 میں عمل میں آیا۔

علی نواز چوہان کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس دوران وسائل کی کمی کے باوجود کام کیا۔ یہ وہ عمل ہے جو کہ اکثر بیوروکریسی میں دیکھا جاتا ہے کہ ایک ادارہ قائم تو کر دیتے ہیں لیکن پھر مطلوبہ فنڈنگ کے لیے بھگاتے رہتے ہیں۔‘

علی نواز چوہان

BBC

یہ کمیشن پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ملک کے آئین اور بین الاقوامی قوانین کے تحت کام کرتا ہے۔ کمیشن پاکستان کی پارلیمان کو جوابدہ ہوتا ہے جہاں اس کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹ بھی جمع کرائی جاتی ہے۔

اس کمیشن کی تشکیل چار سال کے لیے ہوتی ہے اور اراکین کا تقرر ایک ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کمیشن کے سات ارکان ہوتے ہیں تاہم سابق فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد اب کمیشن کے ارکان کی کُل تعداد چھ ہوگئی ہے۔

کچھ عرصے سے یہ ادارہ غیر فعال ہے اور علی نواز چوہان کے مطابق ادارے میں سربراہ کی تعیناتی نہ کرنا ’بدنیتی کے مترادف ہے۔‘

علی نواز چوہان نے کہا کہ حکومت کا کام اشتہارات کے ذریعے چیئرمین کے عہدے کے لیے تجاویز اکٹھا کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد مشتہر ہونے والی ہر پوسٹ کے لیے تین نام شارٹ لسٹ کر کے وزیرِ اعظم کو تجویز کیے جاتے ہیں جو اس حوالے سے چناؤ کرتے ہیں۔

جبری گمشدگیوں کا معاملہ اور اوکاڑہ کے مزارعین

جسٹس علی نواز چوہان اپنے عہدے سے ریٹائر ہونے سے پہلے جبری طور پر گمشدہ افراد سے متعلق تقریباً چالیس ایسی درخواستیں موصول کر چکے تھے جن پر کام کرنا ابھی باقی تھا۔

لاپتا

Getty Images

’یہ درخواستیں ہمیں زیادہ تر بلوچستان اور پنجاب سے موصول ہوئی تھیں۔ خیبر پختونخوا سے جبری گمشدگیوں کی درخواستیں بہت کم موصول ہوتی ہیں۔ حالانکہ پہلے سے ایک ادارہ موجود ہے، لیکن ہم آزادانہ طور پر ان تمام لواحقین کی درخواستوں پر شور مچاتے تھے، متعلقہ وزارتوں کو تنگ کرتے تھے۔ کیونکہ کسی بھی مہذب معاشرے میں آپ بغیر گرفتاری کے وارنٹ کے لوگوں کا جسمانی ریمانڈ نہیں لے سکتے اور یہ ناقابلِ برداشت ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ اگر جس ادارے سے مسئلہ ہے اور آپ شکایت کا حل بھی اسی سے کرنے کو کہتے ہیں ’تو ایسے میں شکایت کیسے حل ہو گی؟‘

کمیشن کو اب تک لگ بھگ 4203 درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ ان درخواستوں میں توہینِ مذہب، جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد کا معاملہ، ماورائے عدالت قتل، معدنیات کی کانوں میں کام کرنے والوں کے مسائل، جبری طور پر مذہب تبدیل کرنا اور تھرپارکر میں پانی کے مسائل سے متعلقہ درخواستیں شامل ہیں۔

ان 4203 درخواستوں میں سے این سی ایچ آر نے 1752 کو حل کیاہے اور اب 1066 درخواستوں پر تحقیقات جاری تھی۔

’جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد کے معاملے میں ہم کہتے رہے ہیں کہ حکومت اور آئین کا تقدس ہمارے لیے مقدم ہے لیکن کچھ ایسے شر پسند عناصر ہیں جو لوگوں کو گمشدہ کرنے میں ملوث ہیں، جن کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔ اب نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بلوچستان کے عوام اس بات سے خوش نہیں ہیں کہ جبری طور پر گمشدہ افراد کا معاملہ اب تک حل نہیں ہو سکا ہے۔‘

اوکاڑہ

BBC
اوکاڑہ فارمز

دوسری جانب، این سی ایچ آر کی طرف سے حکومت کو دی جانے والی سفارشات کی دیگر مثالیں دیکھی جائیں تو اوکاڑہ کے کسانوں اور پاکستان کی فوج کا تنازع ذہن میں آتا ہے۔

اوکاڑہ ملٹری فارمز کی 18 ہزار ایکڑ کی زمین میں سے پانچ ہزار ایکڑ زمین فوج کے پاس ہے۔ یہاں کام کرنے والے مزارعین اپنی فصلوں کی کاشت مخصوص حصہ فوج کو بٹائی کی صورت میں نہیں دینا چاہتے۔

یہ پاکستان کی تاریخ میں شاید پہلا ایسا معاملہ تھا جس پر نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے تین مختلف نشستوں میں کسانوں اور فوج کو آمنے سامنے بٹھا کر اپنا اپنا مؤقف بیان کرنے کو کہا۔

اس کارروائی کے بعد کمیشن کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ سے کئی حلقے مبینہ طور پر ناخوش بھی ہوئے۔ اس فیصلے میں کمیشن نے اوکاڑہ کے کسانوں کو بٹائی دینے کو کہا جس سے یہ تاثر گیا کہ کمیشن خود اس معاملے میں فریق بن رہا ہے۔

اوکاڑہ کے معاملے پر حتمی رپورٹ کے بارے میں علی نواز چوہان نے کہا کہ ’ہمارا فیصلہ درست تھا۔ ہم کسانوں کے ساتھ تھے اور اب بھی ہیں۔ کسان ان زمینوں کی ملکیت حاصل کرنا چاہتے تھے جو عدالت میں جائے بغیر ممکن نہیں تھا۔ لیکن اسی دوران پاکستان کی فوج نے یہ پہلی بار تسلیم کیا کہ اوکاڑہ کی زمین پر ان کا حق نہیں کیونکہ یہ زمین پنجاب حکومت کی ہے۔ دوسرا یہ کہ فصلوں کی بٹائی معاف کرائی گئی۔ اور کسانوں کے خلاف فوجداری کے مقدمات واپس لینے کو کہا گیا، جس پر فوج کے اہلکاروں نے دستخط کیے۔‘

اوکاڑہ

BBC

ادارہ غیر فعال کیوں ہے؟

اس بارے میں علی نواز چوہان نے کہا کہ ’ادارے کو جان بوجھ کر غیر فعال رکھا جا رہا ہے۔ مشکلات جان بوجھ کر پیدا کی گئیں تاکہ قوانین نہ رہیں، یا اگر ہیں تو ان پر عمل نہ کیا جا سکے۔‘

انھوں نے کہا کہ مئی 2019 میں کمیشن کا دورانیہ پورا ہو رہا تھا تو حکومت کو ہوم ورک کر لینا چاہیے تھا مگر جان بوجھ کر چئیرمین کی تعیناتی کے معاملے کو لٹکایا گیا اور بلآخر سِول سوسائٹی کی طرف سے شور مچانے پر حکومت نے اخبارات میں اشتہار دیے۔

’اشتہارات دینے کے بعد ان کو احساس ہوا کہ جو لوگ آ رہے ہیں وہ تو خاصے آزاد خیال ہیں جن کا وزارتِ انسانی حقوق کے ساتھ تصادم ہو سکتا ہے۔ کیونکہ مفاد الگ ہیں۔ کمیشن ہر جگہ آزاد ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں ایسا کرنے نہیں دیا جا رہا تھا۔‘

کمیشن کے چیئرمین کی عمر کی معیاد بڑھانے سے متعلق علی نواز چوہان نے کہا کہ ’پہلا اشتہار تو جوں کا توں چلا گیا۔ دوسرے اشتہار میں چیئرمین کی عمر بڑھا کر 65 سال کر دی گئی۔ یہ نہیں دیکھا گیا کہ قانون میں یہ شرط ہے کہ چیئرمین کو سپریم کورٹ کا جج ہونا چاہیے۔ اب عموماً جج 65 سال کی عمر میں ریٹائر ہو جاتے ہیں۔ تو قانون کے منافی جا کر عمر بڑھانے کے پیچھے ایک مقصد تھا، جو پورا ہوا۔‘

یہ معاملہ اب عدالت میں ہے اور اس کی سماعت ہونا باقی ہے۔

’یہ سب بدنیتی کے سبب کیا گیا۔ اس تمام معاملات کے دوران جو دیر یہ لوگ کرنا چاہتے تھے وہ کر رہے ہیں۔‘

علی نواز چوہان کہتے ہیں کہ ’(اس معاملے پر) کسی نے بھی آواز نہیں اٹھائی۔ حکومت نے اس بارے میں کوئی بات نہیں کی۔ ان کی خواہش ہے کہ کسی 60 سال کے بیوروکریٹ کو لے آئیں تاکہ 65 سال کے عمر کے معاملے کو بھی کور کر لیں۔ لیکن میں پھر وہی بات دہراؤں گا کہ بیورو کریٹ کا انسانی حقوق کی کمیشن میں کیا کام؟ لوگ تو ان سے بچنے کے لیے کمیشن میں جاتے ہیں، آپ وہاں انھیں کیوں بٹھانا چاہتے ہیں؟‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15540 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp