دلی فسادات 2020: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں انڈیا کی پولیس پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دلی فسادات، انڈیا، مسلمان، ہندو، پولیس

AFP
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ رواں سال کے اوائل میں انڈیا کے شہر دلی میں ہونے والے فسادات کے دوران پولیس کی جانب سے ’انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں۔‘

انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی بین الاقوامی تنظیم نے کہا ہے کہ پولیس نے مظاہرین پر تشدد کیا، حراست میں لیے گئے افراد پر مظالم ڈھائے اور بعض اوقات مشتعل ہندو گروہوں کے ساتھ مل کر فسادات میں حصہ لیا۔

انڈیا میں فروری کے دوران یہ ہنگامے اس وقت پیش آئے جب شہریت کے متنازع قانون کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے۔ ہندو اور مسلمان گروہوں کے درمیان چھڑپوں میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ اس سب میں انڈیا کے مسلمان بد ترین صورتحال سے دوچار رہے۔

ایمنسٹی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر دلی کی پولیس نے تاحال جواب نہیں دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

دلی میں مسلمانوں کے گھروں کو کیسے چن چن کر جلایا گیا

‘دلی میں اب بھی جے شری رام کے نعرے لگ رہے ہیں‘

انڈیا: یہ سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کیا ہیں؟

دلی میں پرتشدد ہنگامے، ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

دلی فسادات

Getty Images
دلی فسادات میں 40 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے

دلی کے فسادات پر ایمنسٹی کی تحقیقات کے نتائج ہنگاموں کے دوران پولیس کے تشدد اور شمولیت پر بی بی سی کی رپورٹنگ سے ملتے جلتے ہیں۔ رواں سال دلی فسادات کئی دہائیوں میں انڈیا کے دارالحکومت میں بدترین ہنگامے قرار دیے گئے۔ تاہم پولیس نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ایمنسٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوؤں کو بھی ان فسادات سے نقصان پہنچا لیکن اس کا بڑا ہدف مسلمان تھے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ فسادات اچانک پیش نہیں آئے۔ ان میں ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعتبار سے ہندوؤں کے مقابلے مسلمانوں کی تین گنا زیادہ نقصان پہنچا۔ مسلمانوں کی جان، مال اور کاروبار زیادہ بُری طرح متاثر ہوئے۔‘

’(ہندؤں کے نقصان کا) تناسب کم ہوسکتا ہے لیکن ہندؤں کی رہائش گاہوں اور عمارتوں کو سرے سے چھوڑا نہیں گیا۔‘

شہریت ترمیمی ایکٹ (سی اے اے) کو اس کے ناقدین مسلمان مخالف کہتے ہیں۔ گذشتہ سال اس کی منظوری کے بعد انڈیا میں بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے۔

ایسا ہی ایک مظاہرہ دلی میں اس وقت پُرتشدد ہوگیا تھا جب اس قانون کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

پُرتشدد واقعات میں مذہبی عنصر بھی شامل تھا اور دلی کے فسادات تین روز تک جاری رہے جن میں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو مشتعل گروہوں کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔

رپورٹ میں ہنگاموں کی ویڈیوز کا فارنزیک جائزہ لیا گیا جس سے اس نتیجے کو تقویت ملی کہ پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی اور مشتعل گروہوں کو کچھ علاقوں میں بڑے پیمانے پر املاک کو نقصان پہنچانے کی اجازت دی۔

رپورٹ میں یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ دائیں بازوں کے رہنماؤں نے ’نفرت انگیز تقاریر‘ کے ذریعے ہنگاموں کو بھڑکایا جبکہ پولیس نے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی۔

دوسری طرف پولیس نے انسانی حقوق کے کارکنان کو گرفتار کیا جن میں اساتذہ اور طلبہ شامل تھے اور ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ’ایک بھی ایسے سیاسی رہنما کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی جس نے ہنگاموں سے قبل لوگوں کو مشتعل کیا اور نفرت انگیز تقاریر کیں۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان الزامات پر آزاد تحقیقات کی تجویز دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ’دلی پولیس ہنگاموں کے ذمہ داران کی تحقیقات کر رہی ہے لیکن فسادات کے دوران دلی پولیس کی جانب سے ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کے خلاف اب تک کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔‘

کئی دوسری رپورٹس میں بھی فسادات کے دوران پولیس کے رویے پر سوال اٹھائے گئے ہیں۔

دلی اقلیتی کمیشن کی رپورٹ میں پولیس پر الزام لگایا گیا کہ انھوں نے مشتعل گروہوں کو یہ اجازت دی کہ وہ مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں کو نشانہ بنائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15448 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp