سمیع چوہدری کا کالم: ‘یا سکندر بخت ایک بار پھر مٹھائیاں بانٹیں گے؟’

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اظہر

Getty Images
مشرق کے عظیم موسیقار استاد نصرت فتح علی خان کہا کرتے تھے کہ انسان ساری زندگی سیکھتا ہے اور اُسی دن مر جاتا ہے جب وہ یہ سمجھ بیٹھے کہ اُس نے سب کچھ سیکھ لیا ہے۔

یہ بہت بڑا سبق ہے۔ یہ جملہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہم غلط بھی ہو سکتے ہیں۔ بھلے ہم کتنے ہی دانش مند کیوں نہ ہوں، بھلے ہمارا مشاہدہ کتنی ہی دہائیوں کا کیوں نہ ہو اور چاہے ہمارا تجربہ کتنی ہی نسلوں پہ محیط ہو، ہم پھر بھی غلط ہو سکتے ہیں۔

کچھ سال پہلے ممتاز کرکٹ رائٹر جیف لیمن نے چینل نائن کے شوخی بیاں پہ معمور کمنٹری باکس پہ کڑی تنقید کی تو اس کا لبِ لباب یہی تھا کہ ایک مخصوص کمنٹری باکس میں بیٹھے شین وارن جیسے ماضی کے نابغے نجانے کس علمی روایت کے تحت انجمن ستائشِ باہمی بن بیٹھے تھے۔

یہ جان لیجیے کہ اختلاف کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہوتا۔ اور اپنی رائے میں غلط ہونا بھی ’ٹھیک‘ ہے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم بھی پڑھیے

اظہر علی کو مصباح کے سائے سے نکلنا ہو گا!

’مصباح ٹھیک کہتے ہیں، لیکن۔۔۔‘

بارش، بابر اعظم اور محمد عرفان

ہمارے یہاں بالعموم جرنلسٹس اور بالخصوص قارئین کا بھی یہی المیہ ہے کہ ہم ایک مخصوص نظریے سے چپک کر یوں بیٹھ جاتے ہیں کہ بالآخر وہ علمی خدمت سے زیادہ شخصی خدمت کی حدود میں پیر رکھنے لگتا ہے۔ صحافت علم یا معلومات کے پھیلاؤ کا نام ہے۔ کسی ایک نظریے سے وابستگی اس کی وسعت کو تعصب میں محدود کر دیتی ہے۔

پچھلے دنوں سابق کرکٹر اور مقبول مبصر سکندر بخت نے ایک ٹی وی شو پہ کہہ ڈالا کہ کچن میں ہنڈیا بنانے والی ہمیں تکنیک مت سکھائے۔ چلیے کچن میں ہنڈیا بنانے کو ایک حقیر عمل سمجھنے کے سماجی رویّے کو بھی جانے دیجیے، یہ تو سوچیے کہ کیا سکندر بخت کا جملہ علمی و منطقی اعتبار سے درست بھی ہے؟

سکندر بخت کہتے ہیں کہ تکنیک کا تجزیہ کرنے کے لیے مبصر کا کرکٹر ہونا ضروری ہے۔ شاید وہ اس بات سے لاعلم ہیں کہ آج دنیائے کرکٹ کے ڈریسنگ رومز میں ایسے نان کرکٹرز کے انبار لگے پڑے ہیں جو خود کبھی کرکٹ نہ بھی کھیلے ہوں، محض ایک لیپ ٹاپ اور بنیادی فزکس کی مدد سے تکنیک پہ وہ وہ تجزیے کر رہے ہوتے ہیں کہ ایان چیپل بھی شاید نہ کر پائیں۔

کیونکہ ایان چیپل نے کبھی بھی مسلسل چار گھنٹے بیٹھ کر گرافکس کی مدد سے کسی کے فٹ ورک کی پیمائش نہیں کی ہو گی۔ مگر ایک کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم میں بیٹھا تجزیہ کار اپنے لیپ ٹاپ پہ آپ کو دکھا سکتا ہے کہ سیمنگ ڈلیوریز اگر مڈل سٹمپ چینل، فل لینتھ پہ پڑیں تو بابر اعظم کا دایاں پیر کس سمت میں جاتا ہے اور رن ریٹ کس شرح سے بدلتا ہے۔

یہ ہے تجزیے کی طاقت۔ اور اس کی سائنسی درستی اسے دنیا کے کسی بھی تبصرے پہ فوقیت دیتی ہے۔ تبصرہ بہر حال ایک ذاتی رائے ہے اور سائنسی جانچ کے بغیر اس کی صداقت پہ مہر ثابت نہیں کی جا سکتی۔

لیکن سکندر بخت اگر یہ جان جاتے کہ ہم سب کہیں نہ کہیں، کبھی نہ کبھی غلط بھی ہو سکتے ہیں تو شاید ون ڈے ریٹائرمنٹ پہ مصباح یہ جملہ نہ کہتے پائے جاتے کہ ’سکندر بخت اب مٹھائیاں بانٹیں۔‘

سو، اب خبر یہ ہے کہ آج شام جب بابر اعظم کی ٹیم اس ٹی ٹونٹی سیریز کا آغاز کر رہی ہو گی تو مصباح الحق کی ہیڈ کوچنگ اور چیف سلیکشن میں یہ پاکستان کا 21واں انٹرنیشنل میچ ہو گا۔

اب تک کھیلے گیے 20 میچز میں سے وہ چھ میچز جیتے، آٹھ میچز ہارے، تین بارش کی نذر ہوئے جبکہ تین میچز ڈرا ہوئے۔

اس عہدے کے انتخاب میں مصباح نے کرکٹ کی تاریخ میں غالباً پہلی بار ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کے الگ الگ کرداروں کو ضم کیا۔ مگر اعدادوشمار کی روشنی میں یہ تجربہ کچھ خاص کامیاب نظر نہیں آتا۔

اظہر

Getty Images

بالخصوص سری لنکا کے خلاف ہوم ٹی ٹونٹی سیریز میں ہی احمد شہزاد اور عمر اکمل کے انتخاب نے بیک وقت دو عہدوں پہ کام کرنے کی صلاحیت پہ سوال اٹھا دیے تھے۔

آخر ہم سب کی طرح مصباح بھی تو غلط ہو سکتے ہیں۔

اب ’ذرائع‘ یہ دعویٰ کرتے پائے جا رہے ہیں کہ اس ٹور کے اختتام پہ مصباح الحق سے چیف سیلیکٹر کا عہدہ واپس لیے جانے کا قوی امکان ہے۔ بطور ہیڈ کوچ وہ اپنا کام جاری رکھیں گے مگر چیف سیلیکٹر ایک سابق فاسٹ بولر ہوں گے۔

اس تناظر میں یہ ٹی ٹونٹی سیریز بابر اعظم سے زیادہ مصباح کے لیے اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اس سیریز میں جیت نہ صرف ان کے اعدادوشمار کو سنہرا کر سکتی ہے بلکہ اکثریتی کرکٹ شائقین میں بھی ان کا امیج ’بحال‘ ہو سکتا ہے جو سرفراز احمد کے شاداب خان کے لیے پانی لانے پہ خاصا ’مجروح‘ ہوا تھا۔

شاید یہی دباؤ تھا کہ وہ فواد عالم کو پچھلے دو میچز کی الیون میں شامل کرنے پہ مجبور ہوئے۔ مگر بطور چیف سلیکٹر ان کا یہ فیصلہ بھی شماریاتی اعتبار سے کامیاب نہ دکھائی دیا۔ فواد عالم کی تکنیک انگلش وکٹوں پہ کمزور ثابت ہوئی۔

دونوں عہدوں پہ کام کی شرط مصباح نے اس لیے عائد کی تھی کہ بطور کپتان ان کے سلیکٹرز سے معاملات تشفی بخش نہیں رہے۔ سو، وہ پورا اختیار اور پوری ذمے داری چاہتے تھے۔ اختیار ملے ایک سال ہوا تو مصباح خود ذمے داریاں بانٹنے لگے ہیں۔

اسی دورے پہ وہ یونس خان اور مشتاق احمد کو بھی ساتھ لے گئے۔ سو عین ممکن ہے کہ ’ورک لوڈ‘ کی زیادتی اب ان کی کوچنگ کے آڑے آ رہی ہو اور اس سیریز کے بعد وہ خود ہی چیف سیلیکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہونا چاہتے ہوں۔

لیکن اگر معاملہ اس ’امکان‘ سے مختلف ہے تو پھر یہ سیریز مصباح کے ’مستقبل‘ کے لیے نہایت اہم ہے۔ اس صورت میں یہ سیریز اور اس کا نتیجہ طے کرے گا کہ سکندر بخت ایک بار پھر مٹھائیاں بانٹیں گے یا ان کی اداسیاں مزید بڑھیں گی اور مصباح ہی پاکستان کرکٹ کے ’مختارِ کُل‘ رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15359 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp