امریکہ: دو بیٹیوں کو مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کرنے والا شخص 12 برس کی مفروری کے بعد گرفتار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Yaser Abdel Said

FBI
یاسر عبدل

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے ریاست ٹیکساس میں یاسر عبدل نامی ایک ٹیکسی ڈرائیور کو 12 برس مفرور رہنے کے بعد بلآخر گرفتار کر لیا ہے۔

پولیس کو شبہ ہے کہ یاسر عبدل نے سنہ 2008 میں اپنی دو جواں سال بیٹیوں، 17 سالہ سارہ یاسر اور 18 سالہ آمنہ یاسر، کو اپنی ہی ٹیکسی میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے وہ گذشتہ بارہ برسوں سے روپوش تھے۔

مصری نژاد یاسر عبد ل کو سنہ 2014 میں ایف بی آئی کی انتہائی مطلوب مفرور افراد کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

لڑکیوں کی والدہ پیٹریشا نے اپنی بیٹیوں کے مبینہ قاتل کی گرفتاری کا یہ کہتے ہوئے خیرمقدم کیا ہے کہ ’اب انھیں قبر میں سکون میسر ہو گا۔‘ 63 سالہ یاسر عبدل سید کو مبینہ طور پر یہ اعتراض تھا کہ ان کی ایک بیٹی سارہ یاسر ایک غیر مسلم شخص کے ساتھ ڈیٹ پر گئی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

قتل و غیرت

غیرت کے نام پر قتل یا خودکشیاں ؟

ایران میں چودہ سالہ لڑکی کا ’غیرت کے نام پر قتل‘، ملک میں غم و غصہ

مبینہ طور پر اس واقعے کے بعد یاسر عبدل نے ایک روز اپنی دونوں بیٹیوں کو کھانا کھلانے کے لالچ میں اپنی ٹیکسی میں بٹھایا اور فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ یاسر عبدل کی ٹیکساس کے علاقے جسٹن میں گرفتاری کے وقت ان کے ہمراہ ان کے دو بیٹے بھی تھے جنھیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایف بی آئی کے متشدد جرائم کی ٹاسک فورس کے سپیشل ایجنٹ میتھیو ڈی سارنو نے کہا کہ ان کے تجربہ کار تفتیش کارروں نے ہمت نہیں ہاری اور سارہ یاسر اور آمنہ یاسر کو انصاف دلانے کے لیے مسلسل محنت کر کے جواں سال لڑکیوں کے مبینہ قاتل کو گرفتار کیا ہے۔

ایف بی آئی نے اعلان کیا کہ انھوں نے یاسر کے دونوں بیٹوں اسلام اور یاسم کو ایک مفرور شخص کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

Yaser Abdel Said

FBI
یاسر عبدل

یاسر عبدل پر الزام کیا ہے؟

یکم جنوری 2008 کو ٹیکساس میں اٹھارہ سالہ سارہ اور سترہ سالہ آمنہ کے قتل کی تفتیش کا آغاز ہوا تھا.

اس روز یاسر عبدل اپنی بیٹیوں کو کھانا کھلانے کے وعدے پر اپنی ٹیکسی میں بٹھا کر ارونگ لے گئے اور بعدازاں انھیں قتل کیا۔ دونوں بہنیں متعدد گولیاں لگنے کے باعث ہلاک ہوئی تھیں۔

جواں سال بہنوں کی موت سے پہلے خاندان کے ایک فرد نے پولیس کو بتایا تھا کہ یاسر عبدل نے سارہ یاسر کے ایک غیر مسلم شخص کے ساتھ ڈیٹ پر جانے پر اسے ’جسمانی نقصان‘ پہچانے کی دھمکی بھی تھی۔

لڑکیوں کی خالہ گیل گیٹرل نے لڑکیوں کی موت کو غیرت کے نام پر قتل قرار دیا ہے۔

ارونگ پولیس نے دو جنوری 2008 کو یاسر عبدل کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

ارونگ پولیس کے سربراہ جیف سپائیوی نے کہا کہ ان کا محکمہ اسی وقت سے آمنہ اور سارہ کو انصاف دلانے کے لیے انتھک محنت کر رہا ہے۔

ایف بی آئی ایجنٹ ڈی میتھیو سارنو نے کہا کہ سارہ اور آمنہ کو انصاف دلانے کے لیے ایک قدم قریب آ گئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15398 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp