نیدر لینڈز میں فرنس ہالز کی قیمتی پینٹنگ تیسری مرتبہ چوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہالینڈ کے ایک گاؤں لیرڈم کے ایک چھوٹے میوزیم میں جب پچھلی مرتبہ فرنس ہالز کی پینٹنگ ’دو ہنستے لڑکے بیئر کے مگ کے ساتھ‘ چوری ہوئی تھی تو سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔

لیکن آرٹ کے چوروں سے بچنے کے لیے یہ ناکافی ثابت ہوا کیونکہ یہ پیٹنگ اب تیسری مرتبہ چُرائی جاچکی ہے۔ اس بار چور پیچھے کا دروازہ زبردستی کھول کر یہ پیٹنگ لے اُڑے۔

اسے ڈچ سنہرے دور کا ماسٹر پیس قرار دیا جاتا ہے اور اسے معروف مصور فرنس ہالز نے 1626 میں تخلیق کیا تھا۔

چوری شدہ فن پاروں کے ماہر کھوجی آرتھر برانڈ کے مطابق اسے کسی کے کہنے پر چُرایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

صادقین کے ساتھ دو خاموش گھنٹے

مویشی چرانے کا انوکھا طریقہ

پانچ بیش قیمت اشیا جو اب تک لاپتہ ہیں

فرانس میں مونا لیزا کے برہنہ سکیچ کی دریافت

’چھوٹے میوزیم کو محفوظ بنانا بہت مشکل ہے کیونکہ اس میں بہت پیسے لگتے ہیں۔ اگر وہ آپ کی چیز چرانا چاہتے ہیں تو وہ اندر آسکتے ہیں۔‘

اس پینٹنگ کو پہلی مرتبہ 1988 میں چرایا گیا تھا اور اس وقت اس کے ساتھ ایک دوسرا فن پارہ بھی شامل تھا جو جیکب وین روسڈیل کا تشکیل کردہ ہے۔

دونوں پینٹنگز تین سال بعد ڈھونڈ لی گئی تھیں۔

اس کے بعد دوبارہ ان پینٹنگز کو 2011 میں وین آردن میوزیم سے چُرایا گیا تھا اور پھر حکام کی جانب سے انھیں چھ ماہ کے اندر ڈھونڈ لیا گیا تھا۔

فرنس ہالز کی پینٹنگز میں ماہر اینا ٹمرز کے مطابق پُرانے وقتوں میں یہ پیٹنگ ’کم نمایاں مصوری کے طریقے کی بہترین مثال تھی۔۔۔ یہ بہت دلیر، شوخ اور کم نمایاں تھی۔‘

اس بار پینٹنگ کیسے چرائی گئی

پولیس کے مطابق چور میوزیم میں بدھ کو علی الصبح داخل ہوئے۔ تین بج کر 30 منٹ پر گھنٹی بجی لیکن جب تک پولیس میوزیم پہنچی چور جا چکے تھے۔

پولیس کی جانب سے اب سی سی ٹی وی ویڈیو حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وہ فن پاروں کی چوریوں کے ماہر اور فارنزیک ٹیموں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔

2011 کی چوری کے بعد سے میوزیم کی سب سے قیمتی اشیا ایک اسی جگہ پر رکھی گئی ہیں جہاں عام لوگوں کی رسائی نہیں۔ ڈچ ذرائع ابلاغ کے مطابق اسے صرف عملے کے لوگ جا کر دیکھ سکتے ہیں۔

میوزیم کے عملے کے تمام افراد نے اس چوری پر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔

لیکن آرتھر برانڈ، جو چرائے گئے فن پارے ڈھونڈنے کے ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ اس طرز کی چوری متوقع تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ افراد چرائی گئے فن پاروں کا تبادلہ قید میں کم مدت سے کر رہے ہیں۔

اس کی ایک مثال 1990 کی دہائی کے اوائل کی ہے جب منشیات کے ڈیلر کیس ہوٹمین نے معروف مصور وین گوہ کی پینٹنگ کے بدلے سزا میں نرمی کی کوشش کی تھی۔

نیپلز مافیا کے سردار نے 2002 میں ایک پیٹنگ کے بدلے سزا میں نرمی حاصل کی تھی۔

مارچ میں وین گوہ کی ایک پینٹنگ چرائی گئی اور اور یہ خیال ظاہر کیا گیا کہ بہتر سکیورٹی نہ ہونے سے ایسے مزید واقعات پیش آسکتے ہیں۔

فن پاروں کے کھوجی اسے ڈچ اور فرانس کی پولیس کی جانب سے ایک اہم پیشرفت سے بھی جوڑتے ہیں جنھوں نے جرائم پیشہ افراد کے مواسلاتی نظام کا توڑ نکال لیا ہے۔ اس کی مدد سے جرائم کے مقدمات میں پولیس کو مدد ملی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جرائم پیشہ افراد کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ڈچ حکومت اب چوری شدہ فن پارے نہیں خریدتی۔

ڈچ کے چھوٹے میوزیم ہی صرف چوروں کے نشانے پر نہیں۔

گذشتہ نومبر میں جنوبی لندن میں ڈولوچ پکچر گیلری کی دو ریمبرینٹ پینٹنگز چُرانے کی کوشش کی گئی تھی۔

چور گیلری میں داخل ہوا لیکن اس سے پہلے کہ کچھ چوری ہوتا، پولیس نے واقعے میں مداخلت کر دی تھی۔

ڈچ حکام نے بھی ماضی میں فن پارے چرانی کی کوششوں میں مداخلت کی ہے۔ لیکن چرائے گئے فن پارے کئی برسوں تک غائب رہ سکتے ہیں۔

گوسٹو کلمٹ کی پینٹنگ کی بازیابی میں 23 سال لگے تھے۔ اسے شمالی اٹلی میں ایک جدید آرٹ گیلری سے چرایا گیا تھا۔

یہ آخر کار عملے کے ایک فرد کو ملی تھی جس نے اسے گیلری کی دیوار کے ایک سوراخ سے ڈھونڈ نکالا تھا۔ صفائی کے دوران اسے ایک دھات کا بنا پینل دیوار میں نظر آیا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15455 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp