ہیمو کالانی، فرنگی راج اور آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برصغیر میں آزادی کے سفر پر نگاہ ڈالیں تو تاحدِ نظر چراغ جلتے نظر آتے ہیں۔ یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنیوں نے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چراغاں کردیا تھا۔ ان چراغوں میں نوجوانوں کا تازہ مہکتا ہوا لہو تھا ’کتنے توانا جذبے تھے جو فرنگیوں کی منہ زور طاقت سے ٹکراگئے تھے۔ چاہے وہ اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل اور ان کے ساتھی ہوں جنہوں نے کاکوری کے ریلوے سٹیشن پر انگریزوں کے خزانے کی ٹرین کو روک لیا تھا اور جو دسمبر 1929 میں پھانسی کے پھندے پر جھول گئے تھے‘ یا لائل پور کا بھگت سنگھ جسے فرنگی حکمرانوں نے 23 مارچ 1931 کو لاہور کی جیل میں پھانسی دے کر اس کی لاش کے ٹکڑے کرکے آگ لگا دی تھی یا پھر سکھر کا 19 برس کا ہیمو کالانی جس نے فرنگی راج کو اس وقت للکارا تھا جب ان کا اقتدار نصف النہار پر تھا۔

میں سکھر کے قدیم تاریخی مندر سادھو بیلا کی سیڑھیوں پر بیٹھا ہوں۔ میرے ہمراہ انعام شیخ ہیں۔ وہ سندھ کے کلچر کے انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ سکھر کی تاریخ ان کے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح ہے۔ اس روز سکھر کاآسمان نیلے رنگ میں ڈوبا ہوا تھا۔ تب میں نے انعام شیخ سے کہا تھا: یوں توسکھر کی پہچان کے کئی پہلو ہیں لیکن اس کا ایک اہم تعارف ہیمو کالانی بھی ہے جس نے 19 برس کی عمر میں پھانسی کے تختے پر کھڑے ہو کر انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا ’اور مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر جھول گیا تھا۔

 انعام شیخ نے اثبات میں سر ہلایا اور بتایا کہ سکھر میں وہ گھر اب بھی خستہ حالت میں موجود ہے جہاں 23 مارچ 1923 ء کو ہیمو کالانی نے جنم لیا تھا۔ ہیمو کالانی کا اصل نام تو راہی ہیمان تھا لیکن گھروالے اسے پیار سے ہیمو کہتے تھے۔ ہیموکو شروع سے ہی کھیلوں میں دلچسپی تھی۔ وہ باقاعدگی سے اکھاڑے میں جاتا تھا۔ اس کے علاوہ اسے تیراکی کا شوق تھا۔ ہیمو ایک مقامی سکول میں پڑھ رہا تھا‘ اور اردگرد کی صورت حال سے باخبر نہ تھا۔

اس کے چچا منگھا رام کالانی سیاسی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ اس وقت مقامی باشندوں کا سب سے بڑاخواب فرنگیوں کی حکومت سے نجات حاصل کرنا تھا۔ ہیموکے چچا منگھارام ہندوستانی آزادی کی جدوجہد کرنے والی ایک تنظیم سوراج سینا میں اہم کردار ادا کررہے تھے۔ یہ تنظیم بنیادی طور پر نوجوانوں کے لیے بنائی گئی تھی۔ یوں ہیمو اپنے بچپن کے دنوں سے ہی آزادی کی جدوجہد سے وابستہ ہوگیا۔ بھگت سنگھ ہیمو کالانی کا ہیرو تھا۔ وہ جب بھی اپنے دوستوں کے درمیان بیٹھتا بھگت سنگھ کی پھانسی کا احوال انہیں سناتا کہ کیسے بھگت سنگھ نے تختۂ دار پر کھڑے ہوکر انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگایا تھا ’اور پھر مسکراتے ہوئے پھانسی کے پھندے پر جھول گیا تھا۔

سکھر یوں بھی سیاسی طور پر ایک بیدار شہر تھا۔ 1857 کی جنگِ آزادی کے دوران یہاں بھی مزاحمت ہوئی تھی۔ ہیمو اور اس کے ساتھی آزادی کے حصول کے لیے عملی طور پر کچھ کرنا چاہتے تھے۔ پھر ایک روز ایک میٹنگ میں اس کے چچا منگھارام نے عملی کارروائیوں کے آغاز کی ہدایت کردی۔ اس کے مطابق انہیں مختلف سرکاری مقامات پربم دھماکے کرنے تھے۔ اس کے لئے منگھارام انہیں بم فراہم کرتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھاکہ سکھر میں مارشل لا کی حکومت تھی ’اورکسی بھی حکومت مخالف سرگرمی پرکڑی سزائیں دی جاتی تھیں‘ لیکن ان نوجوانوں کا جذبہ ہی کچھ اورتھا۔ سزائیں اور موت کی دھمکیاں ان کے ارادوں کوبدل نہیں سکتی تھیں۔ انہوں نے اپنی کارروائیوں کا آغاز کردیا تھا۔

اب 1942 ء کا سال شرع ہو گیا تھا۔ یہ سال ہیموکی ذاتی زندگی کے لیے بہت اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس نے اس سال میٹرک کا امتحان پاس کر لیا۔ ملکی سطح پربھی یہ سال بڑی اہمیت کا حامل تھا کیونکہ اسی سال ہندوستان چھوڑدو کی تحریک شروع ہوئی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوچکا تھا۔ جاپان کی فوجیں ہندوستان کے دروازے پر دستک دے رہی تھیں۔ انگریزوں کو مقامی لوگوں کی مدد درکار تھی جس کے لئے ضروری تھاکہ سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کواعتماد میں لیا جائے۔

 اس مقصد کے لئے کرپس مشن ہندوستان بھیجاگیا لیکن یہ مشن ناکام ہو گیا تھا ’جس کے بعد گاندھی نے وسیع پیمانے پر ”ہندوستان چھوڑ دو“ کی تحریک شروع کردی‘ جس کا مقصد برطانوی حکومت پر دباؤ ڈالنا تھاکہ وہ جنگ کے بعد آزادی کا غیر مبہم اعلان کرے۔ ’ہندوستان چھوڑ دو تحریک‘ کے اثرات ملک کے طول و عرض میں پھیل گئے تھے۔ سکھر میں بھی اس تحریک کی گونج پہنچ چکی تھی۔ ہیمو اور اس کے نوجوان ساتھی ایک نئے جذبے سے سرشار تھے۔

 وہ فرنگی حکومت کا جلد سے جلد خاتمہ چاہتے تھے۔ تب انہیں منگھارام نے اطلاع دی کہ اسلحے سے بھری فرنگیوں کی ایک ٹرین سکھر آرہی ہے۔ طے پایاکہ ٹرین کی آمد سے پہلے پٹڑی اکھاڑ دی جائے۔ یہ کام ہیمو اوراس کے ساتھیوں نے اپنے ذمے لے لیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک مشن تھا۔ اس کی مخبری یا ناکامی کی صورت میں ان کی جان جا سکتی تھی لیکن ہیمو اوراس کے ساتھی جان کی محبت سے زیادہ وطن کی اُلفت میں گرفتار تھے۔ طے ہواکہ وہ رات کے وقت ایک خاص مقام پر پٹڑی کی فش پلیٹس اُتار دیں گے۔

 یہ فش پلیٹس لوہے کے سکریوز کے ذریعے مضبوطی سے لگائی جاتی ہیں۔ ان سکریوز کو کھولنے کے لیے خاص اوزار ہوتے ہیں۔ وہ سکریوز کھولنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ رات کی خاموشی میں ذرا سی آواز بھی سنائی دیتی ہے۔ قریب ہی ایک بسکٹ فیکٹری تھی جس کے چوکیدار نے ٹھک ٹھک کی آوازیں سنیں تو وہ اس سمت دوڑا۔ اس نے ٹارچ کی روشنی میں دیکھاکہ کچھ لوگ پٹڑی اُکھاڑنے کی کو شش کررہے ہیں۔ اس کے للکارنے پر باقی دوست تو بھاگ گئے لیکن ہیمو وہیں کھڑارہا جسے چوکیدار نے پکڑلیا اور پھر پو لیس کے حوالے کر دیا۔

 ہیمو تاجِ برطانیہ کا باغی تھا۔ اسے شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ اپنے ساتھیوں کے نام بتا دے لیکن ہیمو نے اپنی زبان نہ کھولی۔ اس کا مقدمہ سپیشل ٹریبیونل میں چلایا گیا جہاں وکیلوں نے اپنی خدمات رضاکارانہ پیش کیں۔ وکیلوں کی ٹیم میں عبدالستار پیرزادہ بھی تھے۔ ہیمو کو مشورہ دیا گیاکہ وہ اپنے بیان کو بدل دے لیکن اس نے انکار کردیا اور کہا: میں نے جو کیا ’اس پر شرمندہ نہیں ہوں اور اگر مجھے موقع ملے تومیں دوبارہ وہی کام کروں گا۔

 سپیشل ٹریبیونل نے اسے بارہ سال کی سزاسنا دی۔ سپیشل ٹریبیونل کا فیصلہ جب مارشل لا ایڈمنسٹریٹر رچرڈسن کے پاس گیا‘ تو اس نے قید کی سزاکو سزائے موت میں بدل دیا۔ فرنگی حکومت ہیموکو پھانسی دے کر سب کو عبرت کا پیغام دینا چاہتی تھی۔ سزا سنتے ہوئے ہیموکے چہرے پر اطمینان تھا۔ سزاکی خبرشہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ سول سوسائٹی کی طرف سے رحم کی اپیلیں کی گئیں۔ والدہ نے روتے ہوئے ہیموسے معافی نامے پر دستخط کرنے کے لئے کہا ’لیکن ہیمو نے کسی بھی معافی کی درخواست پر دستخط کرنے سے انکارکر دیا۔

 وہ 1943 ء کا سال تھا اور جنوری کی 21 تاریخ‘ جب علی الصبح ہیمو کو سکھر جیل میں پھانسی کی کوٹھڑی سے نکال کر پھانسی گھاٹ لایا گیا۔ دیکھنے والے حیران تھے۔ اس سج دھج سے کوئی تختۂ دار پر نہیں گیا تھا۔ اس نے پھانسی کے تختے پرکھڑے ہوکر زوردار آواز میں نعرہ لگایا ”انقلاب زندہ باد“ یہ آواز پھانسی گھاٹ سے اُٹھی اور لہراتی ہوئی جیل کی چہاردیواری کو عبور کر گئی۔ اس وقت اس کی عمر صرف 19 سال تھی۔ ہیمو کی قربانی نے آزادی کے سفر کو تیز تر کر دیا اور پھر چار سال کے اندر اندر فرنگیوں کو ہندوستان چھوڑنا پڑا۔ برصغیر میں آزادی کے سفر پر نگاہ ڈالیں تو تا حدِ نظر چراغ جلتے نظر آتے ہیں۔ یہی وہ چراغ ہیں جن کی روشنیوں نے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چراغاں کر دیا تھا۔ ان چراغوں میں نوجوانوں کا تازہ مہکتا ہوا لہو تھا۔ کتنے توانا جذبے تھے جو فرنگیوں کی منہ زور طاقت سے ٹکرا گئے تھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر شاہد صدیقی

Dr Shahid Siddiqui is an educationist. Email: [email protected]

shahid-siddiqui has 235 posts and counting.See all posts by shahid-siddiqui