کراچی: دو دن سے بجلی، موبائل سروس معطل، سندھ اور بلوچستان میں مون سون کی مزید بارشوں کی پیشگوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارش، کراچی

EPA
کراچی سمیت پاکستان کے بعض علاقوں میں طوفانی بارش کے بعد سول انتظامیہ اور فوج کی جانب سے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں لیکن محکمہ موسمیات نے آئندہ دو روز میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کر دی ہے۔

سندھ کے کئی علاقوں میں مون سون بارشوں سے لوگوں کے گھر، کاروبار اور زندگیاں متاثر ہوئی ہیں وہیں گذشتہ دو روز سے بجلی، گیس اور موبائل سروس جیسی بنیادی ضروری کی عدم دستیابی کے مسائل بھی موجود ہیں۔

کراچی میں بعض جگہوں پر رابطے منقطع ہونے سے لوگ اپنے خاندان اور دوست احباب سے کٹ کر رہ گئے ہیں۔ لوڈشیڈنگ اور نیٹ ورک کی بندش کو بارش کے اثرات سے جوڑا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر علی حید زیدی کا کہنا ہے کہ کراچی میں ان کے علاقے میں جمعرات سے بجلی نہیں آئی۔ الیکٹرک نے گذشتہ روز کے سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ سڑکوں اور گلیوں سے پانی ہٹائیں تاکہ بجلی بحال کی جاسکے۔ ’بجلی کی بحالی میں اربن فلڈنگ سب سے بڑی مشکل ہے۔‘

صحافی زبیر خان کے مطابق سنیچر کو نو محرم کے جلوسوں کے دوران کراچی کے بعض علاقوں میں سکیورٹی خدشات کے باعث سکیورٹی موبائل سروس معطل کی گئی ہے۔ جبکہ کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال، امدادی کارروائیاں جاری

کراچی میں طوفانی بارش سے تباہی، مختلف حادثات میں کم از کم 23 افراد ہلاک

’اگر آپ یہ ٹویٹ پڑھ رہے ہیں تو۔۔۔‘، پانی میں پھنسے افراد کی مدد کے لیے شہری میدان میں

کراچی ہنگامی صورتحال: شہری کیا احتیاطی تدابیر اختیار کر سکتے ہیں؟

بارش، کراچی

EPA

کراچی سے بجلی اور موبائل سروس کیوں غائب؟

سوشل میڈیا پر بعض اطلاعات کے مطابق ڈیفنس، منظور کالونی، کلفٹن سرجانی ٹاوؤن، ملیر، ریلوے پولیس لائن، ایف سی ایریا، ایف بی ایریا، مسلم ٹاؤن اور پاک کالونی سمیت کراچی کے کئی علاقوں میں دو دن سے بجلی نہیں آئی۔

لیکن بات یہیں تک محدود نہیں۔ بجلی کے علاوہ موبائل سروس کی معطلی کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔

حسین شیخ نامی صارف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’کراچی میں بارش کو بولو نہ برسے لوگوں کو پریشانی۔ سگنل بند، بجلی بند، دفاتر بند، سب کچھ بند سمجھے۔‘

موبائل نیٹ ورک کمپنیز جیز اور یوفون نے سوشل میڈیا پر صارفین کی شکایات کے جواب میں لکھا کہ بارش کے باعث نیٹ ورک متاثر ہوا ہے۔ دونوں کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیمیں ترجیحی بنیادوں پر یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

عبدالوہاب نے لکھا کہ ’کراچی میں 48 گھنٹوں سے بجلی، پانی، گیس نہ ہی موبائل کے سگنل ہیں۔‘

اس حوالے سے بعض لوگوں نے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ممکن ہے نو اور دس محرم کے جلوسوں کی سکیورٹی کے لیے کچھ جگہوں پر موبائل نیٹ ورکس معطل کیے گئے ہوں۔

رہبر نامی صارف لکھتے ہیں کہ ’کراچی میں شدید بارش اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کے باعث شہر میں موبائل فون سروس بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔۔۔ موبائل ٹاورز پر موجود جنریٹر میں ایندھن ختم ہوگیا ہے۔‘

’کراچی کب ان اندھروں سے نکلے گا؟‘

صحافی زبیر خان کے مطابق کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں محرم کے جلوس نکلنے کا سلسلہ صبح سے شروع ہوچکا ہے اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر جلوسوں والے مقامات کے اردگرد کے علاقوں میں موبائل نیٹ ورک بند رکھے جائیں گے۔

دوسری طرف کے الیکٹرک کے مطابق ’کراچی کے جن علاقوں میں ابھی بھی پانی کھڑا ہے، جن میں زیادہ تر کراچی کے نشیبی علاقے ہیں، وہاں پر بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سامنا ہے۔۔۔ جن علاقوں سے پانی نکل چکا ہے وہاں بحالی کا کام کر دیا گیا ہے یا جاری ہے۔‘

لیکن بعض افراد نے محکمہ موسمیات کی پیشگوئیوں پر عدم اعتماد بھی ظاہر کیا ہے۔

امتیاز چانڈیو نے طنزیہ لکھا کہ ’محکمہ موسمیات کی پیش گوئی سے بہتر ہے کسی بزرگ مچھیرے کو نوکری دے دیں، وہ آسمان کا رنگ دیکھ کر بتائے گا کہ بارش ہوگی یا نہیں۔‘

’مزید اربن فلڈنگ کا خدشہ‘

محکمہ موسمیات نے تمام اداروں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہفتہ سے پیر کے دوران سندھ اور بلوچستان میں مزید مون سون بارشیں‘ ہوسکتی ہیں جس دوران ’زیریں سندھ کے نشیبی علاقے دوبارہ زیر آب آنے کا خدشہ‘ موجود ہے۔

کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، میرپور خاص اور بدین میں اتوار اور پیر کو موسلا دھار بارش کے باعث مزید اربن فلڈنگ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ سبی، قلات، خضدار، لسبیلہ اور ڈیرہ غازی خان کے ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے انھیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ وفاقی حکومت امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں صوبے کی مدد کرے گی۔

کم از کم 23 افراد ہلاک

کراچی پولیس کے مطابق جمعرات کو شہر کے مختلف علاقوں میں بارش کی وجہ سے پیش آنے والے حادثات میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 23 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کراچی پولیس تعلقات عامہ کے دفتر کے مطابق جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب شرقی ضلع کے علاقے سچل میں تین افراد انتہائی تیز پانی میں بہہ گئے تھے۔ تاہم پولیس کے مطابق ابھی بھی مختلف واقعات میں بہہ جانے والے افراد کی لاشیں ملنے کا عمل جاری ہے جن کو مختلف سرد خانوں میں رکھا جارہا ہے۔

بارش، کراچی

Reuters

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق کراچی پولیس کے پبلک ریلیشن آفس کا کہنا ہے کہ ابھی پولیس اس صورتحال میں نہیں ہے کہ وہ ہلاک ہونے والوں یا جمعے کے روز ملنے والی لاشوں کے حوالے سے اعداد و شمار بتا سکے۔

جبکہ ایدھی سروس کے سربراہ فیصل ایدھی کے مطابق جمعے کو انھیں کراچی سے آٹھ لاشیں ملی ہیں۔ فیصل ایدھی کا کہنا ہے کہ ان کے ادارے کے مرتب کردہ ریکارڈ کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کے دوران 26 اگست کو 17 افراد، 27 اگست کو 24 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 28 اگست کو آٹھ افراد کی لاشیں ملی ہیں۔

ایدھی کے ریکارڈ کے مطابق شہر میں بارش کے باعث سیلابی پانی میں ڈوب کر، دیواریں اور چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے کے مختلف حادثات میں 49 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں رواں سال اگست کے دوران 70 فیصد بارشیں ہوئی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15378 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp