امریکی صدارتی انتخاب 2020: الیکشن کے دوران فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا، اعلیٰ امریکی جنرل کا بیان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارک ملی

Reuters
امریکہ میں ایک اعلیٰ جنرل نے جمعے کو کانگریس کے سامنے پیش ہوتے ہوئے بتایا کہ ان کے مطابق سال 2020 کے صدارتی انتخاب کے دوران امریکی فوج کوئی کردار ادا نہیں کرے گی اور نہ ہی نومبر کے الیکشن میں پیش آنے والے کسی تنازع کو حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارک ملی کا یہ بیان کانگریس کے اجلاس کے سرکاری دستاویزات میں سامنے آیا۔

ان سے انتخاب کے نتائج میں ممکنہ تنازع کے حوالے سے سوالات کیے گئے جس کے ردعمل میں انھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ صدارتی انتخاب کے دوران امریکی فوج اپنی غیر سیاسی پوزیشن پر قائم رہے گی۔

صدراتی انتخابات کے دونوں امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن دونوں ہی انتخابات میں ممکنہ بے ضابطگیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرمپ کی ہار یا جیت سے ڈاک کے نظام کا کیا تعلق؟

کیا چین اور امریکہ کبھی دوست بھی تھے؟

جو بائیڈن: ’میں روشنی کا اتحادی بنوں گا، اندھیرے کا نہیں‘

لیکن مائیک ملی کا کہنا تھا کہ ’انتخاب سے متعلق کسی تنازع کی صورت میں قانون کے مطابق امریکی عدالتوں اور امریکی کانگریس کو حل تلاش کرنا ہوتا ہے، نہ کہ امریکی فوج کو۔‘

’میں اس مرحلے کے دوران امریکی فوج کا کوئی کردار نہیں دیکھ رہا۔۔۔ ہم امریکہ کے آئین سے روگردانی نہیں کریں گے۔‘

رواں ماہ کے اوائل میں پینٹاگون نے کہا تھا کہ امریکی آئین کے مطابق کسی سیاسی یا انتخابی تنازع کی صورت میں فوج کی ثالثی کا بھی کوئی کردار نہیں ہے۔

روئٹرز کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کا موقف ہے کہ وہ فوج کو سیاسی بنا رہے ہیں جبکہ ان کا کردار غیر سیاسی ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں پنٹاگون کی جانب سے بارہا آئین کا حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔

ٹرمپ، ملی

AFP
جنرل مارک ملی نے صدر ٹرمپ کے ساتھ گرجا گھر کے دورے پر معافی مانگی تھی

یہ معاملہ اس وقت بھی زیر بحث آیا جب صدر ٹرمپ نے گذشتہ ماہ امریکی شہروں میں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد مظاہروں کے دوران بدامنی کو قابو کرنے کے لیے فوجی دستے تعینات کرنے کی دھمکی دی تھی۔ منی ایپلس میں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت پولیس تحویل میں ہوئی تھی۔ ایک پولیس کو نو منٹ تک جارج فلوئیڈ کی گردن دباتے ایک ویڈیو میں دیکھا گیا تھا۔

صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار جو بائیڈن نے بھی اپنی مہم میں امریکی فوج کا ذکر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں خدشہ ہے صدر ٹرمپ نومبر انتخاب ’چُرانے‘ کی کوشش کریں گے لیکن اگر ٹرمپ نے نتائج ماننے سے انکار کردیا تو ’مجھے سپاہیوں پر بھروسہ‘ ہے کہ وہ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے بےدخل کر دیں گے۔

یاد رہے کہ مارک ملی نے جون 2020 کے دوران ٹرمپ کے ساتھ ایک تباہ حال گرجا گھر کا دورہ کیا تھا۔ اس گرجا گھر کو جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کے بعد بدامنی کے دوران نقصان پہنچا تھا۔

لیکن بعد میں مارک ملی نے اپنے اس عمل پر معافی مانگ لی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تصویر سے ’یہ تاثر پیدا ہوا جیسے فوج مقامی سیاست میں ملوث ہے۔‘

’مجھے وہاں نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔ ایک تعینات فوجی افسر ہونے کی حیثیت سے یہ ایسی غلطی ہے جس سے میں نے سیکھا ہے۔ مجھے امید ہے ہم سب اس سے کچھ سیکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’ہمیں فوج کے غیر سیاسی اصول کو قائم رکھنا چاہیے جو ہمارے ملک کی بنیادوں میں شامل ہے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15378 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp