نیویارک: برونکس چڑیا گھر نے ایک انسان کو بندروں کے ساتھ رکھنے پر 114 سال بعد معافی کیوں مانگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اوٹا بینگا کو 1904 میں اس علاقے سے اغوا کیا گیا تھا جہاں اب افریقی ملک کانگو ہے۔ اغوا کر کے انھیں امریکہ لے جایا گیا اور ان کی نمائش کی گئی۔ صحافی پامیلا نیوکرک نے اس موضوع پر کافی لکھا ہے اور انھوں نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ جو کچھ اوٹا بینگا کے ساتھ ہوا اسے چھپانے کی کون کون سی کوششیں کی گئیں۔

ایک نوجوان افریقی لڑکے کو بندروں کے پنجرے میں بند کر کے عالمی سرخیوں میں آنے والے نیویارک کے برونکس چڑیا گھر نے آخرکار ایسا کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وائلڈ لائف کونزرویشن سوسائٹی نے اپنی 1906 کی اوٹا بینگا کی نمائش پر معافی مانگی ہے۔ یہ معافی ایک ایسے وقت پر مانگی جا رہی ہے جب امریکہ میں سیاہ فام شخص جارج فلائڈ کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف دنیا بھر میں امریکہ میں نسل پرستی کے حوالے سے مظاہرے ہو رہے ہیں۔

ایک ایسے وقت پر جب قومی سطح پر اپنی اقدار کا جائزہ لیا جا رہا ہے، وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کے صدر اور سی ای او کرسچن سیمپر نے کہا ہے کہ وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی کی تاریخ پر نظر ڈالنا ضروری ہے اور اپنے ادارے میں نسل پرستی کے رجحان کو بھی دیکھنا لازمی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

یادگاری سکے پر آزادی کی سیاہ فام دیوی

پاکستان کے سیاہ فام شہری: شیدی برادری کی تاریخی داستان

ناسا اپنے ہیڈ کوارٹرز کا نام اپنی پہلی سیاہ فام انجنیئر سے منسوب کرے گا

وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی نیویارک کا معروف برونکس چڑیا گھر چلاتی ہے۔ کرسچن سیمپر نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم اس واقعے کے بارے میں مکمل شفافیت اپنائے گی۔ 9 ستمبر 1906 اوٹا بینگا کی پہلی نمائش کے ایک دن بعد یورپ اور امریکہ میں زبردست شہ سرخیاں لگیں اور یہ 28 ستمبر 1906 تک جاری رہیں جب اوٹا بینگا کو رہا کر دیا گیا۔

مگر آج یہ معافی کئی سالوں تک انتظامیہ کی جانب سے ضد اور انکار کے بعد سامنے آئی ہے۔

’وہ تو چڑیا گھر کا ایک ملازم تھا‘

اس پورے واقعے سے سبق حاصل کرنے کے بجائے وائلڈ لائف کنزرویشن سوسائٹی ایک صدی تک اس پر پردہ ڈالنے میں مصروف رہی جس دوران اس نے واقعے کے بارے میں گمراہ کن کہانیوں کو یا تو سرگرمی سے آگے پھیلایا، یا پھر انھیں درست کرنے میں ناکام رہی۔

چڑیا گھر کی پرانی دستاویزات میں موجود 1906 کے ایک خط سے معلوم ہوتا ہے کہ تنقید بڑھنے پر حکام نے کہانی گھڑنے پر غور کیا کہ اوٹا بینگا اصل میں چڑیا گھر کے ملازم تھے۔

حیران کُن طور پر یہ کہانی کئی دہائیوں تک کارآمد رہی۔

اوٹا بینگا درحقیقت کون تھے؟

  • انھیں امریکی تاجر سیموئیل ورنر نے اُس وقت کے بیلجیئم کانگو سے مارچ 1904 میں پکڑا تھا۔ ان کی عمر معلوم نہیں ہے، وہ 12 یا 13 سال کے ہوسکتے ہیں۔
  • انھیں ایک بحری جہاز کے ذریعے امریکی ریاست نیو اورلینز لے جایا گیا تاکہ انھیں دیگر آٹھ نوجوان مردوں کے ساتھ اسی سال ورلڈز فیئر میلے میں نمائش کے لیے پیش کیا جا سکے۔
  • یہ میلہ سردیوں کے مہینوں میں جاری رہا اور ان تمام افراد کو مناسب کپڑوں اور چھت کے بغیر رکھا گیا۔
  • ستمبر 1906 میں نیویارک کے برونکس چڑیا گھر میں اُن کی 20 دن تک نمائش کی گئی جس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
  • مسیحی مذہبی پیشواؤں کی مداخلت سے ان کی قید ختم ہوئی اور انھیں سیاہ فاموں کے لیے مخصوص یتیم خانے ہاورڈ کلرڈ آرفن اسائلم میں بھیج دیا گیا جسے افریقی امریکی ریویرینڈ جیمز ایچ گورڈن چلایا کرتے تھے۔
  • جنوری 1910 میں وہ ریاست ورجینیا میں سیاہ فام طلبا کے لیے قائم کیے گئے مذہبی سکول لنچبرگ تھیولوجیکل سیمینری اینڈ کالج میں منتقل ہوگئے۔
  • وہاں انھوں نے دوسرے لڑکوں کو شکار کرنا اور مچھلی پکڑنا سکھایا جبکہ وہ اپنے وطن میں اپنے تجربات بھی لوگوں کو بتاتے۔
  • اطلاعات کے مطابق وہ اپنے گھر سے جدائی کے باعث ڈپریشن کے شکار ہوگئے اور مارچ 1916 میں انھوں نے اپنی چھپائی ہوئی ایک بندوق سے خودکشی کر لی۔ ممکنہ طور پر وہ اس وقت 25 سال کے قریب تھے۔

سنہ 1916 میں اوٹا بینگا کی ہلاکت کے بعد نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے مضمون نے ان کی نمائش کی کہانیوں کو ‘سنی سنائی کہانی’ قرار دیا۔

مضمون میں لکھا گیا: ‘ان کی ملازمت ہی تھی جس کی وجہ سے یہ بے بنیاد قصے گردش کرنے لگے کہ انھیں بندروں کے پنجرے میں نمائش کے لیے رکھا گیا ہے۔’

لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات تقریباً ایک دہائی قبل امریکہ اور یورپ کے اخبارات میں شامل ہونے والے متعدد مضامین سے متصادم تھی۔

تنہا نیویارک ٹائمز نے ہی اس معاملے پر ایک درجن مضامین شائع کیے تھے، جن میں سے پہلا نو ستمبر 1906 کو 1906 کو شائع ہوا تھا جس کی شہ سرخی تھی: ‘شکاری برونکس پارک کے بندروں کے ساتھ ایک ہی پنجرے میں’

اس کے بعد 1974 میں چڑیا گھر کے منتظم ولیم برجز نے دعویٰ کیا کہ اصل ماجرا کبھی معلوم نہیں کیا جا سکے گا۔

اپنی کتاب ‘دی گیدرنگ آف اینیملز’ میں وہ پوچھتے ہیں: ‘کیا اوٹا بینگا کی ‘نمائش’ کی گئی تھی جیسے کوئی نایاب اور عجیب جانور ہو؟’ یہ ایسا سوال ہے جس کا چڑیا گھر کی پرانی دستاویزات کے نگہبان کی صورت میں سب سے بہتر طور پر وہ خود ہی دے سکتے ہیں۔

وہ لکھتے ہیں: ‘یہ ناممکن لگتا ہے کہ انھیں پنجرے میں سلاخوں کے پیچھے رکھا گیا ہو تاکہ لوگ مخصوص اوقات کے دوران انھیں دیکھ سکیں۔’ اس دوران وہ زولوجیکل سوسائٹی کی پرانی دستاویزات میں یہی انکشاف کرنے والے بے تحاشہ ثبوتوں سے بالکل صرفِ نظر کر جاتے ہیں۔

اس نمائش کے بارے میں چڑیا گھر کے ڈائریکٹر کی جانب سے لکھا گیا مضمون درحقیقت زولوجیکل سوسائٹی کی اپنی اشاعت میں ہی شائع ہوا تھا۔

لیکن اس کے باوجود برجز نے لکھا: ‘اتنا وقت گزر جانے کے بعد یقین سے صرف یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس سب کے پیچھے اچھی نیت تھی کیونکہ اوٹا بینگا نیویارک کی عوام کے لیے دلچسپی کا باعث تھے۔’

‘پکڑنے والے اور قیدی کے درمیان دوستی’

ان دھوکہ دہی پر مبنی بیانیوں کو 1992 میں سیموئیل ورنر کے پوتے کی مشترکہ تصنیف سے ملی۔ یاد رہے کہ سیموئیل ورنر اصل میں 1904 کے سینٹ لوئس ورلڈز فیئر میں نمائش کے لیے لوگوں کو پکڑنے کے لیے اسلحے سے لیس ہو کر کانگو گئے تھے۔

کتاب کو مضحکہ خیز طور پر سیموئیل ورنر اور اوٹا بینگا کے درمیان دوستی کی کہانی قرار دیا گیا۔

کتاب کی اشاعت کے بعد کم از کم ایک اخباری حوالے میں سیموئیل ورنر کے پوتے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اوٹا بینگا (جنھوں نے درحقیقت اپنی قید کے خلاف سخت مزاحمت کی تھی) کو نیو یارک کے شہریوں کے سامنے کارکردگی کا مظاہرہ کرنا پسند تھا۔

چنانچہ ایک صدی سے بھی زیادہ عرصے کے لیے وہ ادارہ اور وہ افراد جنھوں نے اوٹا بینگا کا اس قدر استحصال کیا، اور ان لوگوں کے جانشینوں نے مل کر تاریخی ریکارڈز کو جھوٹے بیانیوں سے آلودہ کر کے دنیا میں پھیلا دیا۔

اور اب بھی سیمپر نے ‘کئی دن تک’ اوٹا بینگا کی نمائش کرنے کے لیے معافی مانگی ہے مگر بندروں کے پنجرے میں انھیں تین ہفتے تک قید رکھنے کے لیے نہیں۔

چڑیا گھر نے اب اس واقعے کے متعلق موجود دستاویزات کو ڈیجیٹل صورت میں انٹرنیٹ پر شائع کر دیا ہے۔ ان دستاویزات میں وہ خطوط بھی ہیں جن میں اوٹا بینگا اور انھیں قید کرنے والے افراد کی روز مرہ کی مصروفیات کا ذکر ہے۔

ان میں سے کئی خطوط کا حوالہ پہلے ہی میری کتاب سپیکٹیکل: دی ایسٹونشنگ لائف آف اوٹا بینگا میں دیا جا چکا ہے۔

اور اس کی اشاعت کے اگلے پانچ سال تک چڑیا گھر کے حکام نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر اس حوالے سے افسوس کا اظہار کرنے یا میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے انکار کیے رکھا۔

اور مجھے ویسے وہ پنجرہ دیکھنے کا موقع بھی ملا جہاں اوٹا بینگا کو رکھا گیا اور ان کی نمائش کی گئی تھی۔ اس عمارت کو اس کے بعد سے بند کر دیا گیا ہے۔

‘بندروں کے گھر میں سب سے بہترین کمرہ’

اب سیمپر کا کہنا ہے: ‘ہمیں انتہائی افسوس ہے کہ کئی لوگوں اور نسلوں کو ان اقدامات سے اور ان کی عوامی طور پر مذمت کرنے میں ہماری ناکامی سے تکلیف پہنچی ہے۔’

اس کے علاوہ انھوں نے بانی اراکین میڈیسن گرانٹ اور ہینری فیئرفیلڈ اوسبورن کی بھی مذمت کی۔ یہ دونوں افراد انسانی نسل کو ‘بہتر’ بنانے (یوجینیکس) پر یقین رکھتے تھے اور انھوں نے اوٹا بینگا کی نمائش میں براہِ راست کردار ادا کیا تھا۔

گرانٹ نے اس کے بعد ‘دی پاسنگ آف اے گریٹ ریس’ نامی کتاب بھی لکھی جس میں انتہائی نسل پرست جعلی سائنسی دعوے کیے گئے تھے۔ اس کتاب کی اوسبورن اور ایڈولف ہٹلر تک نے تعریف کی تھی۔

اوسبورن 25 سال تک امیریکین میوزیم آف نیچرل ہسٹری کے سربراہ بھی رہے جہاں انھوں نے 1921 میں دوسری عالمی یوجینیکس کانگریس منعقد کروائی۔

حیران کن بات ہے کہ سیمپر کی جانب سے ولیم ہورناڈے کا ذکر نہیں کیا گیا جو اس چڑیا گھر کے بانی ڈائریکٹر تھے، اور ملک کے صفِ اول کے ماہرِ حیاتیات، اور واشنگٹن ڈی سی میں قومی چڑیا گھر کے بھی بانی ڈائریکٹر تھے۔

ہورناڈے نے اوٹا بینگا کے پنجرے کو ہڈیوں سے بھر دیا تھا تاکہ آدم خوری کا تاثر دیا جا سکے۔ انھوں نے بے شرمی سے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ اوٹا بینگا کو ‘بندروں کے گھر میں بہترین کمرہ دیا گیا ہے۔’

کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ کنزرویشن سوسائٹی کو اب اپنی نامکمل معافی کے بعد گہرائی سے سچ بتانا چاہیے جو کہ ایک صفِ اول کے تعلیمی ادارے کے لیے عین مناسب ہوگا۔

اس کے علاوہ یہ پورا واقعہ زولوجیکل سوسائٹی کو کنزرویشن کی تحریک اور یوجینیکس سے اس کے تعلقات کے بارے میں عوام کو آگاہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

برونکس چڑیا گھر کے بانی درحقیقت آج تک پائے جانے والے نسلی برتری کے جھوٹے نظریات پھیلانے والے سب سے بااثر لوگوں میں سے تھے۔

ایک تجویز یہ بھی ہے کہ سوسائٹی کو اپنے تعلیمی ادارے کا نام اوٹا بینگا پر رکھنا چاہیے جن کی درد ناک زندگی اٹوٹ انداز میں برونکس چڑیا گھر سے منسلک ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15457 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp