چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس دفعہ جہلم تک کا سفر درپیش تھا۔

میری نئی کتاب ”گمنام گاؤں کا آخری مزار“ چھپ گئی تھی۔ گگن شاہد اور امر شاہد نے شرط رکھی تھی کہ کتاب آپ کو جہلم بک کارنر پر پیش کریں گے ’ورنہ کتاب نہیں ملے گی۔

جہلم کئی حوالوں سے پہچانا جاتا ہے۔ ہزاروں سال قدیم شہر کی اپنی تاریخ ہے۔ اس شہر اور خطے کے بہادر لوگوں نے کئی جنگیں لڑی ہیں۔ افغانستان اور اٹک کی سرحد پر واقع ہونے کی وجہ سے ہر حملہ آور یہاں سے گزرا اور ان مقامی پوٹھوہاریوں کو ان سے جنگ لڑنا پڑی۔ سب سے بڑی جنگ تو پوٹھوہار کے ہیرو راجہ پورس نے سکندر کی فوج کے خلاف لڑی تھی۔ پوٹھوہاریوں کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ جو جنگ ایرانی لڑنے سے ڈر گئے تھے وہ ان پوٹھوہاریوں نے سکندر کی فوج کے خلاف لڑی۔ مان لیتے ہیں پورس ہار گیا تھا لیکن وہ ایرانی سردار دارا کی طرح میدان سے بھاگ نہیں گیا تھا۔ وہی دارا جس کا بعد میں سر قلم کرکے ایرانیوں نے سکندر کو پیش کیا اور جان بخشی کرائی۔

اس لیے جب راجہ پورس نے سکندر کی فوج کے خلاف پوٹھوہار میں جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا تو سکندر کے لئے یہ بات حیران کن تھی کیونکہ اس کا خیال تھا ’اگر ایرانی بھاگ گئے‘ تو یہ پوٹھوہاری کب ٹھہر سکیں گے؟ وہ سمجھا ’پوٹھوہاری بھی راجہ پورس کا سر اسے پیش کرکے جان بخشی کرائیں گے‘ لیکن پوٹھوہاری جنگجوؤں نے جنگ ہارنے کے باوجود سکندر کا دل جیت لیا اور سکندر نے راجہ پورس کو اپنے ساتھ بٹھا لیا۔

جنہوں نے مطالعہ پاکستان لکھا ’انہوں نے راجہ پورس کو مذاق بنا کر رکھ دیا اور پورس کے ہاتھی کا محاورہ ایجاد کرکے تذلیل کی۔ پاکستانی آج تک یہی سمجھتے ہیں پورس راجہ ہندو تھا جبکہ سکندر مسلمان لہٰذا سب ہمدردیاں سکندر کے ساتھ ہیں۔ پورس آج بھی ہمارا ہیرو نہیں ہے جو بیرونی حملہ آورں کے خلاف لڑا اور ایرانیوں کی طرح میدان سے بھاگ نہیں گیا۔

یہی بات جہلم کے ڈپٹی کمشنر نے کہی جو اتفاقاً بک کارنر پر اپنے بچوں ساتھ آئے ہوئے تھے۔ بتانے لگے: جہلم کا چارج لے کر پہلا یہی پتہ کرایا کہ یہاں کتابوں کی اچھی دکان ہے تو سب نے بک کارنر کا نام لیا۔ انہوں نے بچوں کو کہا: چلو وہاں سے کتابیں خریدتے ہیں۔ عموما ڈپٹی کمشنر کو رکھ رکھاؤ اور عوام سے فاصلہ رکھنے کا سبق دیا جاتا ہے لیکن ان صاحب کی شخصیت کو مختلف پایا۔ جو ڈپٹی کمشنر اتوار کے روز کتابوں کی دکان ڈھونڈ رہا ہو ’وہ ظاہر ہے کچھ مختلف ہی ہوگا۔

خیر گگن شاہد اور امر شاہد کتابوں کی اشاعت کو اگلے لیول تک لے گئے ہیں۔ اب تو بھارت کے ادیبوں کی بھی خواہش ہے کہ وہ جہلم سے کتابیں چھپوائیں۔ بھارت کے بڑے فلم ساز، شاعر اور ادیب گلزار نے بھی اپنی کتابیں جہلم کے ان بھائیوں کے اشاعت گھر سے چھپوائی ہیں۔ ابھی ہندوستان کے بڑے ادیب شمس الرحمن فاروقی کا شہرہ آفاق ناول ”کئی چاند سر تھے سر آسمان“ بھی چھاپا ہے اور کمال چھاپا ہے۔ گگن شاہد بتانے لگے : اس مسودے میں ڈیڑھ ہزار پروف کی غلطیاں نکالی ہیں جو پہلی اشاعت میں تھیں۔ ابھی ہندوستان کے ایک اور خوبصورت لکھاری اشعر نجمی کے رسالے ’اثبات‘ کے دو شاندار نمبرز چھاپ رہے ہیں ’جو افسانوں اور شاعری کے حوالے سے ہیں۔

لیکن گلزار صاحب نے جو عزت جہلم کو دی ہے ’وہ بہت کم لوگوں کو پتہ ہے۔

گلزار یہیں دینہ ’جہلم میں پیدا ہوئے اور ہجرت کرکے ہندوستان گئے تھے۔ وہ جسمانی طور پر رہتے تو ہندوستان میں ہیں لیکن دل اور روح ان کی دینہ میں رہتی ہے۔ وہ اب بھی گگن شاہد سے فرمائش کرتے ہیں کہ دینہ میں ایک مخصوص گڑ بنتا تھا‘ جسے وہ بچپن میں کھاتے تھے ’وہ اگر کہیں سے مل سکتا ہو تو ہندوستان بھجوا دیں۔ گلزار کی تحریروں اور شاعری میں جو اداسی اور ناسٹلجیا آپ کو ملتا ہے اس کا سلسہ دینہ سے جڑا ہوا ہے۔ مشہور فلم‘ ماچس ’کا گانا ”چھوڑ آئے ہم وہ گلیاں“ دینہ کی یاد میں لکھا گیا ہے۔

پاکستان اور بھارت کی آزادی کے بعد جو ہجرت ہوئی اس نے بہت سے المیوں کو جنم دیا۔ جو ہماری طرف آئے ان کی اپنی درد بھری کہانیاں تھیں جو یہاں سے بھارت گئے وہ اپنے ساتھ اپنے دکھ اور درد لے کر گئے۔ اس درد کا اندازہ اس وقت ہوا جب 2004 میں ایک وفد کے ساتھ بھارت گیا تو وہاں بھارتی پارلیمنٹ کی لائبریری کے دورے کے دوران لائبریرین سپرا صاحب نے پوچھا: آپ میں سے کوئی ملتان سے ہو جو سرائیکی زبان بول سکتا ہو۔ سب نے میری طرف اشارہ کیا ’تو وہ دوڑ کر میرے گلے لگ گئے۔

 کہنے لگے : کچھ بھی ہو جائے آپ شام میرے گھر میری بوڑھی ماں سے ضرور مل کر جائیں‘ جو ڈیرہ اسماعیل خان کے قریبی علاقوں سے ہجرت کرکے دلی آن بسی تھیں ’میری ماں کی آخری خواہش ہے کوئی پاکستان سے کبھی آئے جس کے ساتھ وہ بیٹھ کر ڈیرے وال زبان میں باتیں کریں۔ میرے لیے بڑا عجیب مرحلہ تھا۔ جس بندے سے میں کبھی ملا نہیں تھا وہ اصرار کر رہا تھا۔ سب دوست دیکھ رہے تھے۔

اس شام جب میں ان کے گھر گیا اور ان کی ماں سے ملا اور ہم دونوں نے سرائیکی میں گفتگو شروع کی تو سپرا صاحب سارا وقت خاموش رہے۔ ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے۔ میں حیران ہوا اور پوچھا: آپ تو یہیں دلی پیدا ہوئے ہوں گے۔ وہ بولے : جی دلی پیدا ہوا لیکن ماں سے اتنا کچھ سنا ہے ’لگتا ہے میری روح بھی وہیں ڈیرہ اسماعیل خان کے اس گاؤں میں رہتی ہے۔

پندرہ برس گزر گئے لیکن سپرا صاحب کی آنکھوں سے مسلسل برستے آنسو ابھی تک نہیں بھولے۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ دونوں ملکوں کی آزادی کی اصل قمیت ان لوگوں نے چکائی ہے جو بھارت سے اپنے گھر چھوڑ کر ہمارے ہاں آئے یا ہمارے ہاں سے بھارت گئے۔ ان لوگوں نے اپنا سب کچھ کھویا۔ اپنے گھر چھوڑے، وطن چھوڑا اور اجنبی منزلوں کو نکل کھڑے ہوئے۔

یہی کچھ گلزار کے ساتھ ہوا۔ دینہ چھوڑا تو پندرہ سولہ برس سال عمر تھی۔ ایک نوجوان لڑکے کو اپنا گاؤں اور وطن چھوڑنا پڑا تو پھر عمر بھر ان کے ذہن اور روح سے نہ نکل سکا۔ گلزار دینہ نہیں آنا چاہتے تھے۔ جب وہ پاکستان آئے تو میزبان اصرار کرکے دینہ لے گئے جس پر وہ بہت دل برداشتہ ہوئے کیونکہ یہ وہ دینہ نہیں تھا جو وہ برسوں پہلے چھوڑ گئے تھے ’جو ان کی روح میں رہتا تھا۔ گزرے برسوں میں وہ کھیت کھلیان، ندی نالے، گلیاں سب کچھ بدل گئے تھے۔ جس دینہ کی تلاش میں وہ جہلم آئے تھے وہ کب کا مرچکا تھا۔ فلم‘ ماچس ’کا مذکورہ گیت دینہ کی گلیوں، چوکھٹوں، کھیتوں‘ ندی نالوں اور کسی انجان حسینہ کے رومانس کی یاد میں لکھا گیا تھا۔

چھوڑ آئے ہیں ہم وہ گلیاں / جہاں تیرے پیروں کے / کنول کھلا کرتے تھے / ہنسے تو دو گالوں میں / بھنور پڑا کرتے تھے / تری کمر کے بل پر / ندی مڑا کرتی تھی/ ہنسی تری سن سن کے / فصل پکا کرتی تھی/ جہاں تری ایڑی سے / دھوپ اڑا کرتی تھی/ سنا ہے اس چوکھٹ پر / اب شام رہا کرتی ہے / دل درد کا ٹکڑا ہے / پتھر کی کلی سی ہے / اک اندھا کنواں ہے یا / ایک بند گلی سی ہے / ایک چھوٹا سا لمحہ ہے / جو ختم نہیں ہوتا/ میں لاکھ جلاتا ہوں / بھسم نہیں ہوتا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •