سنہ 1965 کی جنگ، فلمی شخصیات اور ملی نغمے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر سال اخبارات انیس سو پینسٹھ کی جنگ کی یاد میں دفاع پاکستان ایڈیشن شائع کرتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹی وی اس دور اور بعد میں بننے والے ملی نغمات نشر کرتے ہیں۔ لیکن جس طرح کسی ملک کے دفاع کے لئے فوج کی مستعدی اور تیاری کی اہمیت ہے اسی طرح ملی نغمات کی تیاری اور ان کی مختصرتاریخ کا ذکر نہایت ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر کم لکھا گیا۔ ماہ ستمبر کی آمد پر ریڈیو، ٹی وی، گلیوں بازاروں اور خریداری مراکز میں ملی نغمات سنائی دینے لگتے ہیں۔ ان سے بہت پہلے بھی مقبول ملی نغمات موجود تھے جو اب بھی گائے جاتے ہیں لیکن ان کے شاعر، موسیقار کا ذکر کم ہی ہوتا ہے۔ میں یہیں سے ابتدا کرتا ہوں۔

پاکستانی ملی نغموں کی جب بھی بات ہو گی، یا کوئی تاریخ لکھی جائے گی اس کا آ غاز گلوکارہ منور سلطانہ ( نومبر 1924 سے مئی 1995 ) کے نام سے ہو گا۔ 1946 میں قائد اعظم ؒ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے میاں بشیر احمد نے جو ترکی میں پاکستان کے پہلے سفیر بنے، ایک نغمہ لکھا جس کی دھن غلام قادر فریدی نے بنائی۔ یہ گیت گلوکارہ منور سلطانہ کی آواز میں صدا بند ہو ا اور اس کے گراموفون ریکارڈ ہز ماسٹر وائس سے جاری ہوئے۔ گیت کے بول تھے :

ملت کا پاسبان ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم، جان ہے محمد علی جناح

لوگوں کو یہ گیت مسعود رانا (جون 1938 سے اکتوبر 1995 ) کی آواز میں یاد ہو گا۔ جب کہ اسے سب سے پہلے منور سلطانہ نے گایا۔ گویا ملی نغمات کا آغاز قیام پاکستان سے بھی ایک سال قبل ہو گیا تھا۔ پھر 14 اگست کی رات 12 : 30 بجے ریڈیو پاکستان لاہور سے منور سلطانہ نے شوکت تھانوی کا لکھا او ر غلام قادر فریدی کی بنائی ہوئی دھن میں ایک گیت براہ راست گایا۔ اس وقت صدا بندی کی سہولت میسر نہیں تھی:

چاند روشن چمکتا ستارہ رہے
سب سے اونچا یہ جھنڈا ہمار ا رہے

شوکت تھانوی ( فروری 1904 سے مئی 1963 ) کا ذکر آیا تو یہ لکھنا ضروری خیال کیا کہ نوجوان نسل کو علم ہو کہ یہ صاحب کتنی جہتوں کے لئے مشہور ہیں : صحافی، ناول نگار، ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ادیب اور شاعر۔ اردو ادب کی ہر ایک صنف پر نہایت عمدہ قلم چلایا اور نام پیدا کیا۔ اسی مبارک رات 14 اگست کو نصرت فتح علی کے والد استاد فتح علی اور تایا استاد مبار ک علی کی آوازوں میں علامہ اقبال ؒ کے ساقی نامہ کا کچھ حصہ قوالی کے انداز میں بھی براہ راست نشر ہوا۔

پاکستانی فلمی صنعت کے شروع کے ایک گلوکار علی بخش ظہور (مئی 1905 سے نومبر 1975 ) نے 1951 میں ریڈیو پاکستان لاہور سے ایک ملی نغمہ : ”زندہ باد زندہ باد، پاکستان زندہ باد۔“ ریکارڈ کرایا جو کافی مقبول ہوا۔ 50 کی دہائی میں نغمہ نگار حضرت تنویرؔ نقوی ( 1919 سے 972 ) کے بولوں پر موسیقار غلام فرید قادری نے منور سلطانہ، دھنی رام اور خود اپنی آواز میں کسی فلم کے لئے یہ جنگی گیت ریکارڈ کروایا۔ مذکورہ فلم تو تیار نہ ہو سکی البتہ وہ نغمہ ریڈیو سے نشر ہوتا رہا: ”آواز دے رہا ہے زمانہ بڑھے چلو۔“ اس نغمہ کا اعجاز دیکھئے کہ 1965 کی جنگ میں صدر ایوب کی تقریر کے فوراً بعد یہ نغمہ نشر ہوا۔

چند فراموش کردہ واقعات:

13 اگست 1954 کی شب وہ یادگار گھڑی ہے جب پہلی مرتبہ ریڈیو پاکستان سے ہمارا قومی ترانہ نشر ہوا۔ ترانے کی دھن احمد جی چھاگلہ نے بنائی تھی۔ مجھ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے چھاگلہ صاحب کا وہ پیانو دیکھا اور ’چھوا‘ ہے جس پر انہوں نے قومی ترانے کو کمپوز کیا تھا۔ نہ صرف یہ بلکہ قومی ترانہ ریکارڈ کروانے والی آوازوں میں سے مندرجہ ذیل کو میں نے دیکھا اور بعض سے فیض بھی حاصل کیا:۔

احمد رشدی (اپریل 1934 سے اپریل 1983 ) ، نسیمہ شاہین، زوار حسین، نہال عبداللہ، کوکب جہاں، رشیدہ بیگم، شمیم بانو، اقبال علی، مہدی ظہیر اور اختر وصی علی وہ اشخاص ہیں جن سے مجھے تعلق خاطر رہا۔ فلمی گلوکار کی حیثیت سے احمد رشدی کو کون نہیں جانتا! نسیمہ شاہین نے بھی کراچی کی کئی فلموں میں گیت گائے۔ نہال عبد اللہ، فلمساز و گیت نگار فضل احمد کریم فاضلی کی اولین فلم

” چراغ جلتا رہا“ کے موسیقار تھے۔ مہدی ظہیر ( 1927 سے 1988 ) نے دوسری اسلامی سربراہ کانفرنس کے لئے جمیل الدین عالی ؔ ( جنوری 1925 سے نومبر 2015 ) کا خصوصی گیت ”اللہ اکبر“ سہیل رعنا کی موسیقی میں ریکارڈ کرایا تھا۔ اختر وصی علی، گلوکارہ مہناز کے والد اور آل انڈیا ریڈیو کے صف اول کے کلاسیکی موسیقی کے فنکار تھے۔ وہ اس کم تر سے بہت شفقت کرتے تھے۔

قومی اور ملی نغمات کے فروغ میں پاکستانی فلمی صنعت کی بڑی خدمات ہیں۔ یہ ناقابل تردید حقیقت ہے کہ 1970 تک اکثر مقبول ملی نغمات فلمی ہی تھے۔ 1949 میں پاکستان کی دوسری فلم ”شاہدہ“ بنائی گئی جس کے ہدایتکار لقمان تھے۔ بھارت سے پاکستان ہجرت کے تناظر میں گلوکارہ منور سلطانہ کی آواز میں گیت ریکارڈ کیا گیا: ”الوداع پیارے وطن الوداع۔“ فلم کے پہلے ملی نغمے کی صدا بندی کا اعزاز بھی منور سلطانہ ہی لے گئیں۔

مذکورہ نغمہ قتیلؔ شفائی ( دسمبر 1919 سے جولائی 2001 ) نے لکھا اور دھن ماسٹر غلام حیدر ( 1908 سے 1953 ) نے بنائی۔ 1955 میں فلم ”شرارے“ نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ اس فلم کے موسیقار فیروز نظامی ( نومبر 1910 سے نومبر 1975 ) اور گیت نگار حضرت تنویرؔ نقوی تھے۔ مذکورہ فلم میں ایک نہیں دو نہیں تین ملی نغمات تھے : پہلا ”او سفینہ ڈوبے نہ، یہاں کنارہ وہاں کنارہ۔“ آوازیں پکھراج پپو، فضل حسین اور ساتھی، دوسرا ”اے متوالے، ہمت والے۔

۔ ”آوازیں پکھراج پپو اور عنایت حسین بھٹی اور تیسرا“ اے سب کے نگہبان۔ ”آواز منور سلطانہ۔ 18 جون 1959 کو نمائش کے لئے پیش ہونے والی سیف الدین سیفؔ (مارچ 1922 سے جولائی 1993 ) کی معرکۃ الآراء پنجابی فلم“ کرتار سنگھ ”میں ان ہی کا لکھا ہو ا ملی نغمہ بہت مشہور ہوا۔ اس کی دھن موسیقار بھائیوں کی جوڑی سلیم اور اقبال المعروف سلیم اقبال نے بنائی :“ اج مک گئی اے غماں والی شام۔ ”۔ نسیم حجازی کے ناول ’آخری چٹان‘ پر مبنی فلم“ چنگیز خان ”جمعہ 24 جنوری 1958 کو نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ اس فلم کے ایک جنگی ترانے نے مقبولیت کا وہ مقام حاصل کیا کہ اسے پاک فوج کے بینڈ کی سرکاری دھن قرار دے دیا گیا۔ یہ نغمہ طفیل ؔ ہوشیار پوری نے لکھا اور موسیقار رشید عطرے تھے۔ اس کو گلوکار عنایت حسین بھٹی ( 12 جنوری 1928 سے 31 مئی 1999 ) نے ایک زبردست ولولے اور جوش کے ساتھ گایا:

اللہ کی رحمت کا سایہ
توحید کا پرچم لہرایا
اے مرد مجاہد جاگ ذرا
اب وقت شہادت ہے آیا
اللہ اکبر اللہ اکبر

سلور جوبلی فلم ”سلطنت“ جمعہ 19 اگست 1960 کو ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں موسیقار بابا جی اے چشتی ( 17 اگست 1905 سے 25 دسمبر 1994 ) کی دھن پر صوفی غلام مصطفے ٰ تبسم ( 4 اگست 1899 سے 7 فروری 1978 ) کا لکھا ہوا جنگی گیت بہت مقبول ہوا۔ اسے آئرین پروین، عنایت حسین بھٹی اور ساتھیوں نے ریکارڈ کروایا:

قدم بڑھاؤ ساتھیو قدم بڑھاؤ
تم وطن کے شیر ہو شیر ہو دلیر ہو

حب الوطنی پر مبنی فلمساز شیخ لطیف اور ہدایتکار رفیق رضوی کی سپر ہٹ فلم ”بیداری“ جمعہ 6 دسمبر 1957 کو ریلیز ہوئی۔ موسیقار استاد فتح علی خان اور نغمہ نگار فیاضؔ ہاشمی ( 1920 سے نومبر 2011 ) تھے۔ مذکورہ فلم کے تین ملی نغمات تھے جو آج تک مقبول ہیں :

آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی
جس کی خاطر ہم نے دی قربانی لاکھوں جان کی
اس ملی نغمے میں آوازیں سلیم رضا ( 7 جولائی 1932 سے 23 نومبر 1983 ) اور ساتھیوں کی ہیں۔
یوں دی ہمیں آزادی کہ دنیا ہوئی حیران
اے قائد اعظمؒ تیرا احسان ہے احسان
یہ ملی نغمہ منور سلطانہ اور ساتھیوں کی آوازوں میں ہے۔
ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
اس ملک کو رکھنا میرے بچو سنبھال کے
آواز سلیم رضا۔

؂ جمعہ 10 ستمبر 1965 کو بھارت کے ساتھ دوران جنگ میں نمائش کے لئے پیش ہونے والی سلور جوبلی فلم ”مجاہد“ کے ایک ملی نغمے نے تو مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ خلیل احمد ( 3 مارچ 1936 سے 22 جولائی 1997 ) کی موسیقی میں حمایتؔ علی شاعر ( 1926 سے 2019 ) کا یہ گیت مسعود رانا اور شوکت علی نے ریکارڈ کروایا تھا:

ساتھیو مجاہدو
جاگ اٹھا ہے سارا وطن
مسعود رانا کو اس نغمہ پر بہترین گلوکار کا نگار ایوارڈ حاصل ہوا۔

جمعہ 12 دسمبر 1969 کو فلمساز و ہدایتکار اے جے کاردار کی فلم ”قسم اس وقت کی“ ریلیز ہوئی۔ اس فلم کا ایک ملی نغمہ بہت پسند کیا گیا جسے جوشؔ ملیح آبادی ( 1898 سے 1982 ) نے لکھا اور موسیقی سہیل رعنا کی تھی :

قسم اس وقت کی جب زندگی کروٹ بدلتی ہے
ہمارے ہاتھ سے دنیا نئے سانچے میں ڈھلتی ہے

اس گیت کو مجسم جذبے اور بھرپور تاثر کے ساتھ مجیب عالم ( ستمبر 1948 سے جون 2004 ) نے ریکارڈ کرایا۔ میری رائے میں مجیب عالم کی خالص پلے بیک سنگنگ آواز تھی۔ مجھے ان کے ساتھ پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کا ایک پروگرام ”آواز و انداز“ کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔

ملی نغمات کو شاعر ایک خاص جذبے اور کیفیت میں آ کر لکھتے ہیں۔ جیسے مہدی حسن ( 1927 سے 2012 ) کی آواز میں کلیم ؔ عثمانی کا مندرجہ ذیل نغمہ جس کی دھن نثار بزمی نے بنائی :

یہ وطن تمہارا ہے، تم ہو پاسباں اس کے
یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ خواں اس کے
ان سطور کو پڑھنے والوں کی دلچسپی کے لئے اس ملی نغمے کا پس منظر بیان کرتا ہوں :

ایک مرتبہ موسیقار نثار بزمی ( 1924 سے 2007 ) کے ہاں کلیم ؔ عثمانی کا ذکر آ گیا تو انہوں نے مجھے ایک دلچسپ واقعہ سنایا۔ کہنے لگے : ”ایک رو ز فجر کے وقت کلیمؔ عثمانی ( 1928 سے 2000 ) میرے گھر آئے۔ پوچھا خیریت“ ؟ جواب دیا ”ابھی تھوڑی دیر قبل ادھ سوئی ادھ جاگی کیفیت میں مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے قائد اعظم ؒ کمرے میں غصہ کی حالت میں آئے اور کہ رہے ہیں کہ میرے ملک کا کیا خراب حال کر رکھا ہے؟ تم لوگوں نے تو مایوس ہی کیا!

ہاں! اگر کسی سے اچھی امید ہے تو وہ اس ملک کے بچے ہیں۔ بس تب سے طبیعت سخت مضطرب ہے ”۔ بزمی صاحب نے جواب دیا:“ قائدؒ نے کچھ ایسا غلط بھی تو نہیں کہا۔ سب کو آزما کے دیکھ لیا، اب ان بچوں سے ہی کوئی امید کی جا سکتی ہے۔ بس وہ کچھ ایسا لمحہ تھا کہ بے ساختہ کلیم ؔعثمانی کو ایک خیال سوجھا کہ ”تم ہو پاسباں اس کے“ ۔ بس پھر کیا تھا مکھڑا بن گیا۔ گویا بانی پاکستان اس ملک کے بچوں سے کہ رہے ہیں : ”یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اس کے۔“ ۔ اس طرح سے ریکارڈ وقت میں بے مثال طرز کے ساتھ یہ نغمہ مکمل ہوا۔ جس کو پاکستان ٹیلی وژن لاہور مرکز سے پروڈیوسر اختر وقار عظیم نے پیش کیا۔

1980 میں گلوکار محمد افراہیم کی آواز میں اسد محمد خان کا لکھا اور سہیل رعنا کی موسیقی میں پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز سے یہ ملی نغمہ نشر ہو کے عوام میں بہت مقبول ہوا:

زمیں کی گود رنگ سے امنگ سے بھری رہے
خدا کر ے خدا کرے سدا ہری بھری رہے

مسرور ؔانور ( 1944 سے 1996 ) پاکستانی فلمی صنعت کے معتبر کہانی، مکالمہ اور گیت نگار ہیں۔ 1965 کی دوسری پاک بھارت جنگ میں انہوں نے مندرجہ ذیل ملی نغمہ لکھا جو آج بھی وہی پہلی والی بے ساختگی اور کشش رکھتا ہے :

اپنی جان نذر کروں اپنی وفا پیش کروں
قوم کے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں

1971 کی تیسری پاک بھارت جنگ کے بعد ملکی حالات کو دیکھتے ہوئے قوم کے اندر نیا ولولہ اور جوش پیدا کرنے کے لئے مسرورؔ انور نے سہیل رعنا کی موسیقی میں یہ معرکۃ الآراء ملی گیت لکھا:

سوہنی دھرتی اللہ رکھے
قدم قدم آباد تجھے

اس نغمے کو شہناز بیگم نے ریکارڈ کروایا۔ یہاں مسرورؔ بھائی نے لفظ ’سوہنی‘ کو استعمال کر کے پنجابی ٹچ دیا جو عوام نے بہت پسند کیا۔ یہ ایک نئی جہت قائم ہوئی جس پر چلتے ہوئے جمیل الدین عالیؔ نے یہ نغمہ لکھا:

جیوے جیوے جیوے پاکستان
پاکستان پاکستان جیوے پاکستان

یہاں عالیؔ صاحب نے لفظ ’جیوے‘ کا استعمال بہت خوب کیا۔ اس گیت کی موسیقی اور آواز بھی سہیل رعنا اور شہناز بیگم کی تھی۔

عالیؔ صاحب نے کئی ایک ملی نغمات لکھے۔ چند کا ذکر :

” اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لئے ہیں۔“ آواز نورجہاں اور ”میرا انعام پاکستان، محبت امن ہے اور اس کا ہے پیغام پاکستان۔“ ۔ نصرت فتح علی خان کے اس ملی نغمے کو بہت پذیرائی ملی۔

مسرورؔ ؔ بھائی کے لکھے کئی ایک مشہور ملی نغمات ہیں جیسے : ”وطن کی مٹی گواہ رہنا۔“ ۔ اس کو خلیل احمد کی موسیقی میں نیرہ نور نے ریکارڈ کروایا تھا۔ ”جگ جگ جیے میرا پیارا وطن۔“ ، اسے خلیل احمد کی موسیقی میں ناہید اختر نے گایا۔

صہباؔ اختر ( 1931 سے 1996 ) نے فلموں میں کافی کم لکھا لیکن جو لکھا اعلیٰ پائے کا لکھا۔ ان کا لکھا ایک ملی گیت نہ صرف اپنے وقت کا سپر ہٹ نغمہ تھا بلکہ آج بھی نا ممکن ہے کہ 14 اگست کے موقع پر کوئی اسے بھول جائے :

میں بھی پاکستان ہوں
تو بھی پاکستان ہے

اسے 1982 میں سہیل رعنا کی موسیقی میں محمد علی شہکی نے گایا۔ صہباؔ اختر بے حد سادا انسان تھے۔ ایک تذکرہ کرتا چلوں۔ پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے لئے موسیقار کریم شہاب الدین کی دھنوں پر صہباؔ صاحب سے گیت لکھوانے تھے۔ میں اور کریم بھائی لانڈھی میں صہباؔ صاحب کے سرکاری مکان میں گئے۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ کہنے لگے آؤ میاں باہر فٹ پاتھ پر بیٹھ کر لکھتے ہیں۔ کریم بھائی نے جیب سے ماچس کی ڈبیہ نکالی۔ اس پر ردھم بجا کر ’ڈمی بول‘ اور ’لا را۔ لارا۔‘ کرنا شروع کیا۔ کچھ دیر صہباؔ صاحب خاموش رہے پھر کاغذ پر پنسل دوڑنے لگی اور گیت تیار۔

14 اگست ہو یا 6 ستمبر پاکستانی فلمی ملی نغموں کا یہ مختصر احوال ان کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ یہ دن ہماری بہت سی یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ اسی حوالے سے ہم اپنے سدا بہار ملی نغموں کا ذکر کر رہے ہیں۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے old is gold! بہرحال پرانے نغمات کی کھوج اور تحقیق کے دوران میں یہ مسلسل یہ سوچتا رہا کہ 80 کی دہائی کے بعد نئے ملی نغمات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ مجھے 90 کی دہائی میں اور اس کے بعد کوئی ایسا ملی نغمہ نہ مل سکا جو ان مذکورہ نغمات کا مقابلہ کر سکے۔ ہاں! نئی صدی میں ایک نیا رجحان ضرور تشکیل پایا کہ پرانے مقبول نغمات کو خواہ وہ فلمی ہوں یا ملی۔ ری مکس کیا جائے۔ اس طرح نئے لوگوں میں صرف

” آوازوں“ کا اضافہ ہوا۔ وہ شاعر اور موسیقار کہاں گئے جنہوں نے لا زوال شاعری اور دھنیں تخلیق کیں؟ یہ وہ شاعر اور موسیقار تھے کہ جنہیں کوئی اکیڈمی یا ادارہ راہنمائی کے لئے میسر نہ تھا۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیتوں سے بے بشمار شاہکار تخلیق کیے۔ میں سوچتا ہوں کیا آج خداداد صلاحیتوں کا فقدان ہو گیا ہے؟ یا میڈیا کی مخصوص شخصیات اپنے چہیتوں کے علاوہ کسی اور کو موقع ہی نہیں دینا چاہتیں؟ بہرحال قیام پاکستان سے منور سلطانہ کی آواز میں ملی نغموں کاجو سفر شروع ہوا وہ جاری ہی رہے گالیکن فی زمانہ ہمیں اس معیار کے نغمات بنتے نظر نہیں آتے۔ اب نہ وہ آوازیں رہیں نہ شاعر رہے اور نہ ہی موسیقار۔

جنگ ستمبر 1965 :

اب 6 ستمبر 1965 کی جانب آتے ہیں جب بھارتی فوج نے لاہور شہر پر قبضہ کی خاطر اچانک 5 اور 6 ستمبر 1965 کی درمیانی شب بین الاقوامی سرحد عبور کرتے ہوئے زور دار حملہ کیا۔ بمباں والی راوی بیدیاں کنال المعروف بی آر بی پر تعینات ہمارے سپاہیوں نے نا ممکن کو ممکن بنانے کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔ دشمن کو وہیں روک کر اس کے دانت کھٹے کر دیے۔ مٹھی بھر سپاہیوں کا یہ یہ ملکی دفاع ہماری سنہری تاریخ ہے۔ دنیا نے اس جنگ میں ایک بالکل ہی نیا ہتھیار دیکھا۔ وہ تھا قومی ولولہ! یہ ہتھیار جب جب داغا گیا کامیابی کے 100 فی صد نتائج حاصل ہوئے۔ اس ہتھیار کا استعمال کچھ یوں ہے :

صبح ریڈیو پاکستان لاہور سے بھارتی حملہ کی خبر نشر ہوئی تو اس کے فوراً بعد فلم ”چنگیز خان“ ( 1958 ) کا رزمیہ گیت

’ اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘ کا گراموفون ریکارڈ نشرہوا۔ طفیل ؔہوشیارپوری کے اس گیت کو رشید عطرے کی موسیقی میں عنایت حسین بھٹی ا ور ساتھیوں نے بہت ولولے سے صدا بند کروایا تھا۔ اس کے بعد تو پھر پاکستان کے تمام ریڈیو اسٹیشنوں سے اسی قسم کے فلمی ترانوں کے گراموفون ریکارڈ نشر ہونے لگے۔ جس طرح گئے زمانے میں فوجی لشکر میں رجز پڑھنے والے ہوتے تھے وہی کام پاکستانی فوج کے لئے شعراء، موسیقار، سازندوں اور گلوکاروں نے اپنی بہترین صلاحتیں استعمال کر کے کیا۔ یوں فلم اور ریڈیو کے فنکاروں نے جنگ میں بھر پور حصہ لیا۔ وہ بھی ایسا کہ آج تک ہمارے سامنے ماضی قریب میں ایسی کوئی اور مثال نظر نہیں آتی۔ یہی پاکستانی جنگی موسیقی کا آغاز ہے۔

6 ستمبر کو صبح صدر پاکستان ایوب خان کی تقریر نشر ہوئی جس میں بھارتی حملہ کے بارے میں بتایا گیا۔ اس تقریر کے فوراً بعد گلوکارہ منور سلطانہ، دھنی رام اور غلام فرید قادر فریدی کی آواز میں حضرت تنویر ؔنقوی کا لکھا ہوا فلمی گیت نشر ہوا:

آواز دے رہا ہے زمانہ بڑھے چلو
بڑھے چلو، بڑھے چلو، بڑھے چلو

گلوکار سلیم رضا وہ پہلے فنکار ہیں جو ریڈیو پاکستان لاہور آئے اور ملک و قوم کے لئے بلا معاوضہ اپنی خدمات پیش کر دیں۔ اس جنگ میں سب سے زیادہ نغمات ریکارڈ کروانے کا اعزاز بھی ان کو حاصل ہے۔ ان کے نغمات کی چند مثالیں : ’اے ہوا کے راہیو بادلوں کے ساتھیو پر فشاں مجاہدو۔‘ اس کے نغمہ نگار محمود شام تھے یہ پاکستان ائر فورس کو خراج تحسین ہے، ’میرے لاہور شہر دیاں خیراں۔‘ نغمہ نگار استاد دامن، ’جگ جگ نگری داتا کی۔

۔ ’نغمہ نگار قیوم نظر،‘ توحید کے متوالو! باطل کو مٹا دیں گے۔ ’نغمہ نگار حبیب جالبؔ،‘ زندہ رہے گا زندہ رہے گا سیالکوٹ تو زندہ رہے گا، زندہ قوموں کی تاریخ میں نام تیرا تابندہ رہے گا۔ ’موسیقار سلیم حسین، نغمہ نگار ناصرؔ کاظمی،‘ تو ہے عزیز ملت نشا ن حیدر۔ ’نغمہ نگار ناصرؔ کاظمی۔ یہ عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کو موسیقار، شاعر او ر گلوکار کا خراج تحسین ہے۔

پہلا جنگی ترانہ جنگ کے پہلے ہی روز ریڈیو پاکستان لاہور میں تیار ہوا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ صدر پاکستان نے ریڈیائی تقریر میں کہا تھا ”ہندوستانی حکمران ابھی نہیں جانتے کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے“ ۔ اسی جملے کو بنیاد بنا کر حمایتؔ علی شاعر نے موسیقار خلیل احمد کے ساتھ مل کر یہ گیت تیار کیا:

اے دشمن دیں تو نے کس قوم کو للکارا
لے ہم بھی ہیں صف آراء

گلوکار مسود رانا اور شوکت علی نے مذکورہ گیت کو زبردست جوش اور ولولے کے ساتھ ریکارڈ کرایا۔ جمعہ 10 ستمبر کو عین جنگ میں فلمساز ریاض بخاری اور ہدایتکار جمیل اختر کی فلم ”مجاہد“ نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ کہانی نگار ریاض شاہد تھے۔ اس فلم کا مرکزی جنگی نغمہ خلیل احمد کی موسیقی میں حمایتؔ علی شاعر نے لکھا تھا: ’ساتھیو مجاہدو جاگ اٹھا ہے سارا وطن۔‘ پاکستان کے تمام ریڈیو اسٹیشنوں سے یہ دن میں کئی کئی مرتبہ نشر ہو کر فوجی جوانوں اور عوام کے دلوں کو گرماتا تھا۔

جہاں بھی اور جب بھی جنگ ستمبر کا ذکر ہو گا وہاں ایک نام لازما لیا جائے گا۔ نورجہاں۔ یہ اس دور میں سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی گلوکارہ تھیں لیکن سلیم رضا کی طرح انہوں نے بھی ریڈیو پاکستان لاہور ہی کو اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور تمام جنگی ترانے بلا معاوضہ ریکارڈ کروائے۔ چند مثالیں :

’ میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔‘ شاعر صوفی غلام مصطفے ٰ تبسم۔ ’ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے۔‘ شاعر صوفی غلام مصطفے ٰ تبسم۔ ’یہ ہواؤں کے مسافر یہ سمندروں کے راہی۔‘ شاعر صوفی غلام مصطفے ٰ تبسم۔ ’اے وطن کے سجیلے جوانو میرے نغمے تمہارے لئے ہیں۔‘ موسیقی میاں شہر یار اور نغمہ نگار جمیل الدین عالیؔ۔ روایت کی جاتی ہے کہ یہ نغمہ ’رن کچھ‘ کے جھگڑے کے پس منظر میں بنا تھا لیکن نا معلوم وجوہات کی بنا پر اس وقت نشر نہیں کیا گیا۔

’امید فتح رکھو اور علم اٹھائے چلو۔‘ شاعر احسانؔ دانش۔ ’جاگ اے مجاہد وطن۔‘ نغمہ نگار مظفر وارثی۔ ’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن۔‘ کلام علامہ اقبال۔ روایت کی جاتی ہے صوفی تبسم کے گیت ’میریا ڈھول سپاہیا تینوں رب دیاں رکھاں۔‘ کی مقبولیت دیکھتے ہوئے ان ہی سے فرمائش کر کے پھر۔ ’میرا ماہی چھیل چھبیلا ہائے نی کر نیل نی جرنیل نی۔‘ لکھوایا گیا۔ ؒ۔

ان تمام جنگی نغمات لکھنے کے لئے ایک پس منظر ہوتا تھا جیسا کہ اولین جنگی نغمہ کو لکھنے کا محرک صدر ایوب کی تقریر کا ایک جملہ تھا۔ اسی طرح پاک بھارت کے نامور فلمی گیت نگار حضرت تنویرؔ نقوی کا مندرجہ ذیل نغمہ بھی ایک زبردست پس منظر رکھتا ہے :

رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو
یہ لہو سرخی ہے آزادی کے افسانے کی
یہ شفق رنگ لہو رنگ لائے گا شہیدوں کا لہو

شہادتوں کی عظمت سے پر اس لازوال نغمے کو لکھنے کے لئے حضرت صاحب خود اگلے مورچوں پر گئے تھے۔ جہاں انہوں نے غازیوں اور شہیدوں کو دیکھا۔ بہرحال یہ تمام نغمات فوجی سپا ہیوں اور عوام کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ نورجہاں کی ان خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان نے 18 جنوری 1966 کو تمغۂ خدمت سے نوازا اور ملکہ ء ترنم کا خطاب دیا۔

جنگ ستمبر کے جنگی نغمات میں فلمی گلوکار عنایت حسین بھٹی (م) کا بہت اہم کردار ہے۔ جنگ ستمبر 1965 کا تذکرہ جب اور جہاں بھی ہو گاعنایت حسین بھٹی کے بغیر ادھورا ہو گا۔ جنگ شروع ہو چکی تھی۔ ریڈیو پاکستان سے صدر ایوب نے قوم سے دفاعی فنڈ کے لئے عطیات کی اپیل کر رکھی تھی۔ مستند حوالوں سے معلوم ہوا کہ بھٹی صاحب نے اپنی بیگم سے کہا کہ جو کچھ نقدی اور زیور موجود ہے وہ سب عطیہ کر دو۔ ان کی بیگم نے کہا کہ ضرورت کے لئے کچھ رکھ لیں کیوں کہ جنگ طول پکڑ گئی تو پھر کیاہو گا؟

اس پر عنایت حسین بھٹی نے یہ تاریخی جملہ کہا: ”اگر خدانخواستہ ملک ہی نہ رہا تو پھر کیا ہو گا؟“ ۔ یہ کوئی خیالی بات نہیں! عنایت حسین بھٹی کے تذکروں میں یہ بات پڑھی تھی۔ اس بات کی تصدیق خود ان کے صاحب زادے ندیم عباس بھٹی نے کی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ 1965 کی جنگ ہو یا 1971 کی۔ محاذ جنگ کو توپ و تفنگ کے ساتھ ساتھ عنایت حسین بھٹی کے اس رزمیہ گیت ’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔‘ نے ہمیشہ خوب گرمایا۔ جنگ ستمبر میں پاکستانی ہوائی فوج کے اہم مرکز سرگودھا کو خراج تحسین پیش کرنے کا اعزازبھی ان ہی کو حاصل ہے۔ شاعر ناصر ؔ کاظمی کا نغمہ : ’زندہ دلوں کا گہوارہ ہے سرگودھا میرا شہر۔‘ ۔ یہ اس پوری جنگ میں سرگودھا پر واحد نغمہ تھا۔

فلمی گلوکار منیر حسین نے بھی اپنی آواز کے ساتھ دفاع پاکستان میں حصہ لیا: ’دشمن اج للکاریا ساڈے دیس دے جاں نثاراں نوں۔‘ شاعر خواجہ عطا۔ پھر ’مجاہدین صف شکن بڑھے چلو بڑھے چلو۔‘ شاعر احسان دانش اور ’زندہ ہے لاہور پائندہ ہے لاہور۔‘ شاعر قیوم نظر۔

گلوکارہ نسیم بیگم نے بھی جنگ ستمبر میں کئی ایک نغمے ریکاڑد کروائے۔ ان کا ممتاز ترین قومی اور جنگی نغمہ : ”اے راہ حق کے شہیدو وفا کی تصویرو، تمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں۔“ ہے۔ روایت کی جاتی ہے کہ مشیرؔ کاظمی کے اس نغمے کی موسیقی میاں شہریار نے ترتیب دی تھی۔ وکی پیڈیا میں بھی اسی بات کا ذکر ہے۔ لگتا ہے کہ اس گیت کو سیف الدین سیفؔ نے 1965 کی پاک بھارت جنگ کے پس منظر میں بننے والی فلم ”مادر وطن“ میں دوبارہ ریکارڈ کروایا۔

یہ فلم جمعہ 28 اکتوبر 1966 کو نمائش کے لئے پیش ہوئی۔ اس فلم کے مصنف، فلمساز اور ہدایتکارسیف الدین سیفؔ خود تھے۔ بہر حال مشیرؔ کاظمی اور نسیم بیگم کو دوام بخشنے والا یہی معرکۃ الآرا نغمہ ہے۔ ریڈیو پاکستان سے اس فلمی گیت کے گراموفون ریکارڈ کی شہرت میں موسیقار بھائیوں سلیم اقبال کا بھی برابر کا حصہ ہے۔

دوسری عالمی جبگ کے بعد ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ چونڈہ کے میدان میں لڑی گئی۔ ہمارے چند ٹینکوں نے 600 بھارتی ٹینکوں کو نہ صرف روکا بلکہ اللہ کی مدد سے پسپا بھی کیا۔ کتنے ہی پاکستانی سپاہی یہاں شہید ہوئے ہوں گے۔ اس پر قتیلؔ شفائی نے ایک اثر انگیز نغمہ لکھا جو نسیم بیگم کی آواز میں ریکارڈ ہوا:

لائی ہوں میں تمہارے لئے پیار کا پیام
اے پھول سے مجاہدو تم کو میرا سلام
اے مادر وطن اونچا ہو تیر ا نام

استاد امانت علی خان جنگی نغمات ریکارڈ کروانے میں کسی سے پیچھے نہیں رہے : ’اے شہیدان وطن تم پر سلام۔‘ شاعر اثرؔ ترابی۔ اس قومی نغمہ پر استاد امانت علی خان کو تمغۂ خدمت دیا گیا۔ احمد ندیم قاسمی نے بھی ان کے لئے نغمہ لکھا: ’وطن پاک کی عظمت کے سہارے تم ہو، مجھ کو اپنے نغموں سے بھی پیارے تم ہو۔‘

ملکہ ء موسیقی روشن آرا بیگم نے حمایتؔ علی شاعر کا نغمہ : ’اے بھائی تیرے ساتھ بہن کی ہیں دعائیں۔‘ ریکارڈ کروایا جو اپنی نظیر آپ ہے۔ اس وقت کے تمام جنگی نغمات سے ہٹ کر ملکۂ موسیقی روشن آرا بیگم نے پاک فضائیہ کے سیبر طیارے کے لئے ایک نغمہ صدا بند کروایا: ’اے پاک فضائیہ تیرے سیبر کی خیر ہو۔‘

لوک فنکار عالم لوہار کی ’جگنی پاکستان دی اے۔‘ مقبول ترین جنگی نغمہ تھا۔ اسے ڈاکٹر رشید انور نے لکھا تھا۔ صہباؔ اختر کا لکھا نغمہ : ’دنیا جانے میرے وطن کی شان۔‘ بھی عالم لوہار کے مقبول ترین گیتوں میں سے ایک ہے۔ اس کے موسیقار میرے اساتذہ لال محمد اور بلند اقبال المعروف لال محمد اقبال تھے۔ یہ گیت فلم ”آزادی یا موت“ کا ہے جو جنگ کے بعد عید الفطر پیر 24 جنوری ( 1966 ) کو نمائش کے لئے پیش ہوئی۔

ریڈیو پاکستان کراچی نے بھی جنگ ستمبر میں بھر پور حصہ لیا۔ ستار نواز، ارینجر، فلم اور ٹیلی وژن کے موسیقار جاوید اللہ دتہ نے مجھے بتایا :

” جیسے ہی جنگ کا اعلان ہوا تو بلیک آؤٹ کے لئے تمام کھڑکیوں اور روشن دانوں پر کاغذ لگانے تھے۔ وطن کے لئے کچھ بھی کر گزرنے کا ایک ولولہ ہمارے دلوں میں تھا۔ میں نے بھی یہ کام کیا۔ پھر ریڈیو اسٹیشن کو ہی اپنا ٹھکانا بنا لیا“ ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں ریکارڈ ہونے والے تمام جنگی نغمات میں ان کی بجائی ہوئی ستارہے۔ جاوید بھائی کی طرح دیگر میوزیشنوں نے بھی جنگی گیتوں کی تیاری اور ریکارڈنگوں میں جی توڑ حصہ لیا۔ واضح ہو کہ میوزشنوں کے بغیر یہ جنگی نغمات کچھ بھی اثر نہ رکھتے۔ اے کاش کوئی ان کے لئے بھی دو بول تعریف کے کہہ دیتا۔

بلیک آؤٹ میں موم بتی کی روشنی میں مسرور ؔ بھائی المعروف مسرورؔ انور نے یہ لازوال نغمہ لکھا ’اپنی جاں نذر کروں اپنی وفا پیش کروں، قوم کے مرد مجاہد تجھے کیا پیش کروں۔ ”اس کو مہدی حسن نے ریکارڈ کروایا۔ مسرورؔ بھائی کے بیٹے احمد فراز نے مجھے بتایا کہ ان کو ان کی تائی اماں نے بتایا کہ مذکورہ گیت کی دھن خو د مہدی حسن نے بنائی تھی۔

شاعر رئیس ؔ امروہوی روزانہ ایک جنگی گیت لکھتے تھے۔ جیسے :
اللہ کے وعدے پہ مجاہد کو یقین ہے
اب فتح مبین فتح مبین فتح مبین ہے
اس نغمہ کو مہدی حسن کی آواز میں ریکارڈ کیا گیا۔

ریڈیو پاکستان کراچی کے پروڈیوسر اور براڈکاسٹر عظم سرور کا کہنا ہے کہ دوران جنگ لاہور اور اس کے شہریوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا فیصلہ ہو ا لہٰذا ہم نے رئیسؔ امروہوی کو فون کیا۔ امروہوی صاحب نے فوراً ہی فی البدیہہ یہ تاریخی نغمہ فون پر لکھوا دیا۔ اسے مہدی حسن اور ساتھیوں نے ریکارڈ کروایا:

خطۂ لاہور تیرے جان نثاروں کو سلام
شہریوں کو غازیوں کو شہسواروں کو سلام

ریڈیو پاکستان کراچی سے سب سے زیادہ جنگی ترانے گلوکار تاج ملتانی نے ریکارڈ کروائے۔ ادھر جنگ چھڑی ادھر محشر ؔ بدایونی کا نغمہ استاد نتھو خان کی موسیقی میں ریکارڈ کروایا :

اپنی قوت اپنی جاں
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
ہر پل ہر ساعت ہر آن
جاگ رہا ہے پاکستان
تاج ملتانی کا سب سے یادگار ترانہ یہ ہے :
اج ہندوواں جنگ دی گل چھیڑی اکھ ہوئی حیران حیرانیاں دی
مہاراج اے کھیڈ تلوار دی اے! جنگ کھیڈ نہیں ہندی زنانیاں دی

رشید انور کے نغمے کی موسیقی استاد نتھو خان نے دی۔ پاک فضائیہ کے لئے پہلا نغمہ بھی تاج ملتانی ہی کا اعزاز ہے : ’شاہیں صفت یہ تیرے جواں اے فضائے پاک۔‘ اس کو رئیسؔ فروغ نے لکھا اور فلم کی مشہور شخصیت رفیق غزنوی نے موسیقی دی۔ مشرقی پاکستان کے لئے سہیل رعنا کی موسیقی میں ابو سعید قریشی کا نغمہ : ’آؤ چلیں اس پار مانجھی۔‘ بھی تاج ملتانی کا مقبول جنگی ترانہ ہے۔ ان کے گائے ہوئے یادگار گیتوں میں ’ہم اپنے صف شکنوں کو سلام کہتے ہیں۔‘ بھی شامل ہے۔ اس کو جون ایلیا نے لکھا تھا۔ ’تم نے جیت لی ہے جنگ یہ، اے جوانو اے جیالو۔‘ سندھی لوک گیت ہو جمالو کی دھن پر تراب نقوی نے لکھا۔ تاج ملتانی، عشرت جہاں اور ساتھیوں کی آوازوں میں بہت مشہور ہوا تھا۔

فلمی پلے بیک سنگر احمد رشدی نے بھی کراچی میں ریڈیو اسٹیشن میں بہت سے نغمات ریکارڈ کروائے جیسے : ’لالہ جی جان دیو لڑنا کیہہ جانو تسی مرلی بجاون والے جنگ تہاڈے وس دی نہیں‘ اس کو سلیم گیلانی نے لکھا تھا۔ ’ہمت سے ہر قدم اٹھانا تو ہے پاکستانی، تجھ سے ہی یہ ملک بنے گا دنیا میں لاثانی۔‘ سہیل رعنا کی موسیقی میں حمایتؔعلی شاعر نے یہ گیت فلمساز وحید مراد کی فلم ”جب سے دیکھا ہے تمہیں“ ( 1963 ) کے لئے لکھا تھا۔ یہ گیت پہلے ہی خاصا مقبول تھا لیکن جنگ ستمبر میں یہ گراموفون ریکارڈ دن میں کئی کئی مرتبہ نشر ہوتا تھا۔

پاک بحریہ نے اس جنگ میں بھارت کے مضبوط بحری اڈے دوارکا کا ہلواڑہ کر دیا تھا۔ اس پر جون ایلیا نے ایک نغمہ لکھا جسے استاد نتھوخان کی موسیقی میں احمد رشدی نے نگہت سیما اور ساتھیوں کے ہمراہ ریکارڈ کروایا۔ پاک بحریہ کے لئے یہی سب سے پہلا نغمہ تھا :

فرماں روا ئے بحر عرب پاک بحریہ
بھارت میں تیرا نام ہے بے باک بحریہ

اس نغمہ میں ایک عجیب تاثیر ہے جو آج بھی سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ یہ پورے نغمہ میں واضح محسوس ہوتی ہے۔ ان سطور کو پڑھنے والے انٹر نیٹ پر ’اصل‘ نغمہ سن کر خود اس کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ جنگ ستمبر میں پاک فضائیہ کے عالمی شہرت یافتہ غازی مجاہد، ایم ایم عالم کو مشہور فلمی شاعر مظفرؔ وارثی نے خراج تحسین پیش کیا : ’ناز ہے پاکستان کو تجھ پہ اے مشرق کے لال۔‘ اس کو گانے کا اعزاز بھی احمد رشدی کے پاس ہے۔

ریڈیو پاکستان میں ریکارڈنگ اسٹوڈیو کم پڑنے لگے تو ای ایم آئی یعنی گراموفون کمپنی آف پاکستان نے اپنی تمام سہولیات ریڈیو پاکستان کو بلا معاوضہ دے دیں۔ یہیں پر کئی تاریخی نغمات صدا بند ہوئے جیسے : ’سہیل رعنا کی موسیقی میں شاعرؔ لکھنوی کا گیت:

’ اے نگار وطن تو سلامت رہے۔‘ ۔ اس کو حبیب علی محمد نے ریکارڈ کروایا۔

گلوکارہ اقبال بانو نے بھی جنگ ستمبر میں اپنا حصہ ڈالا۔ استاد نتھو خان کی موسیقی میں صوفی غلام مصطفے ٰ تبسم کا نغمہ: ’اے جوانان وطن اے جوانان وطن، تم سے ہی ہر لحظہ خنداں ہیں گلستان وطن۔‘ بہت پسند کیا گیا۔ لال محمد اقبال کی موسیقی میں بینش سلیمی کا لکھا ہوا نغمہ بھی خاصا مقبول ہوا : ’میرے وطن کے نوجواں وطن کے گیت گائے جا۔‘

صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی یافتہ نامور گلوکار سنی بینجیمن جون المعروف ایس بی جون پاکستان کا ایک قابل فخر اثاثہ ہیں۔ اور ماشاء اللہ حیات ہیں۔ ان کی پہچان فلم ”سویرا“ ( 1959 ) کا سپر ہٹ گیت ہے : ’تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے۔‘ فیاضؔ ہاشمی کے گیت کی موسیقی ماسٹر منظور شاہ عالمی والے نے دی تھی۔ جہاں کسی گیت یا نغمے کا ذکر ہو وہاں اس کے گیت نگار اور موسیقار کا ذکر لازما کرنا چاہیے یہی میری کوشش ہوتی ہے۔ بہرحا ل میں نے جون بھائی سے جنگ ستمبر میں جنگی نغمات کی تیاری اور ریکارڈنگوں کا پوچھا۔ کہنے لگے :

” ادھر شاعر گیت لکھتے ادھر موسیقار فنکاروں کو ریہرسل کروانے لگتے اور کم سے کم وقت میں ریکارڈ کرنے کی کوشش کرتے“ ۔ جون بھائی نے جنگ ستمبر میں 8 گیت ریکارڈ کروائے۔ ان کا کہنا ہے :

” ساقی جاوید کے اس گیت کی دھن میں نے کمپوز کی تھی“ :
اے ارض وطن تو ہی بتا تیری صدا پر
کیا ہم نے کبھی فرض سے ا نکار کیا ہے
اس نغمے کے ذکر میں جون بھائی نے ایک دلچسپ بات بتلائی۔

” بھٹو صاحب کا بالکل ابتدائی دور تھا جب اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر ایک مینارٹی Minority کانفرنس منعقد ہوئی۔ بھٹو صاحب اور کوثر نیازی کے بعد مجھے روسٹرم پر بلوایا گیا۔ میں نے وہاں یہی قومی نغمہ سنایا۔ ابھی پہلا شعر ہی ادا کیا تھا کہ بھٹو صاحب نے اور دیگر حاضرین نے خوشی کا اظہار کیا اور حوصلہ بڑھایا۔ نغمہ ختم ہوا تو بھٹو صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ کس کا لکھا ہوا ہے؟ میں نے ساقی جاوید کا نام لیا۔ پھر پوچھا کہ کس نے دھن بنائی تھی۔

جب میں نے کہا کہ میں نے، تو اپنے پاس بلوایا اور کہا کہ شام کے سیشن میں بھی یہ نغمہ سنا نا ”۔ پھر جون بھائی نے شام کو بھی یہ نغمہ سنایا۔ گویا پاکستان کی اقلیتیں کہہ رہی ہیں کہ جنگ ہو یا امن! ہم نے اپنے فرائض نہایت ذمہ داری سے ادا کیے اور جنگوں میں اپنے وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کیا! جیسے اسکوارڈن لیڈر ( میجر) پیٹر کرسٹی Peter Christy جنہوں نے جنگ ستمبر میں حصہ لیا اور 6 دسمبر 1971 کو بھارتی ائر فورس کے بیس جام نگر کی اینٹ سے اینٹ بجا کر واپسی پر ملک اور قوم کی خاطر شہید ہو گئے۔

انہیں تمغہ جرات ( 1965 ) ، ستارہ جرات ( 1971 ) سے نوازا گیا۔ پھر سسل چوہدری کا نام بھلا کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔ یہ 1965 کی جنگ میں لاہور شہر کے اوپر ڈاگ فائٹ اور 6 ستمبرہلواڑہ ایر بیس کے ”رن وے“ کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ’ہلواڑہ پیٹنے‘ والے معرکہ کے ہیرو ہیں۔ ہم ان کے یوں بھی شکر گزار ہیں کہ ان کے وجہ سے نیا محاورہ ”ہلواڑہ پیٹنا“ وجود میں آیا۔

سسل چوہدری نے 1971 کی جنگ میں بھی اسکواڈرن لیڈر کی حیثیت سے حصہ لیا۔ انہیں 1965 کے معرکہ میں ستارہ جرت اور 1971 کی جنگ میں تمغہ جرت دیا گیا۔ جون بھائی کا ایک امتیاز یہ بھی ہے کہ سسل چوہدری ان کی بیٹی کے چچا سسر تھے۔ جون بھائی پر ہم جتنا بھی فخر کریں کم ہے۔ اور یقیناً یہ کرسچن برادری کے لئے بھی ایک اعزاز ہیں۔

بات جنگی موسیقی کی ہو رہی تھی اس سلسلے میں ابھی کئی ایک نام ہیں لیکن جگہ کی تنگی کے سبب تمام کا احاطہ ممکن نہیں۔ بہرحال حربیہ موسیقی جنگ ستمبر میں بہت کامیاب رہی۔ اور دنیا کو دکھا دیا کہ فوج اور قوم دونوں ملک کے دفاع میں اپنی بہترین صلاحتیں کیسے سامنے لاتے ہیں۔

پاک فوج زندہ باد پاکستان پائندہ باد

 

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •