اشتعال نہیں، صبر!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"khursheed

مواقع دستک ضرور دیتے ہیں۔ دروازہ کھولنے کا فیصلہ تو ہمیں خود کرنا ہوتا ہے۔ موقع ہاتھ سے نکل جائے تو صرف پچھتاوا باقی رہ جاتا ہے۔ آخرت کے باب میں، کیا اچھی تمثیل ہے جو متی کی انجیل میں بیان ہوئی۔
کہا گیا کہ \’آسمان کی بادشاہی‘ ان دس کنواریوں کی مثل ہے جو اپنی اپنی مشعلیں لے کر، دولہا کے استقبال کو نکلیں۔ پانچ عقل مند تھیں۔ انہوں نے مشعل کے ساتھ تیل بھی لے لیا۔ پانچ بے وقوف نکلیں۔ مشعل تو لی تیل نہ لیا۔ دولہا کو آنے میں دیر ہوئی تو سب سو گئیں۔ آدھی رات کوشور اٹھا کہ دولہا آ گیا۔ سب نے اپنی اپنی مشعلیں درست کیں۔ جن کے پاس تیل نہیں تھا، انہوں نے دوسروں سے تیل کے لیے التجا کی کہ ان کی مشعلیں بجھا چاہتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس اتنا تیل نہیں جو دو کے لیے کافی ہو۔ تم بازار سے مول لے آؤ۔
وہ بازار کو چلیں تو دولہا آ پہنچا۔ جو تیار تھیں وہ شادی کے جشن کے لیے، دولہا کے ساتھ اندر چلی گئیں۔ دوسری تیل لے کر واپس لوٹیں تو دروازہ بند ہو چکا تھا۔انہوں نے آہ وزاری کی کہ خداوند ہمارے لیے دروازہ کھول دے۔ اس نے کہا: میںتمہیں نہیں جانتا۔ انجیل میں یہ تمثیل اس جملے پر تمام ہو تی ہے: \’\’پس جاگتے رہوکیونکہ تم اس دن کو جانتے ہو نہ اس گھڑی کو‘‘۔ قرآن مجید نے بھی خبر دار کیا: \’\’اس گھڑی کا علم تو صرف اُسی کے پاس ہے‘‘۔ آخرت ہی نہیں، دنیا کا معاملہ بھی یہی ہے۔کیا معلوم کب وہ ساعت دستک دے جس کا ہمیں انتظار ہے۔
پاک بھارت تعلقات کے پس منظر میں اس گھڑی نے ایک بار دستک دی تھی جب 1999ء میں واجپائی پاکستان آئے تھے۔ چند دن پہلے یوں ہی کچھ تلاش کرتے کرتے، یو ٹیوب میں محفوظ آنجہانی واجپائی صاحب کی وہ تقریر سنی جو انہوں نے لاہور کے شاہی قلعے میں کی تھی۔سات منٹ کی اس تقریر نے تا دیر اپنے اثر میں رکھا۔ بر صغیر میں مسلم حکمرانی کی تاریخ اور اپنے عہد کے شعور کو انہوں نے کمال خوبی کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔ واجپائی نے اِس تقریر میں وہ سب اپنے طور پر کہہ دیا تھا جو آج ہم بھارتی قیادت سے کہلوانا چاہتے ہیں۔کشمیر سمیت ہر تنازعے پر مذاکرات اور پرامن تعلقات۔ ہم نے اس موقع کو گنوادیا۔ آج سترہ برس بعد ہم بھارت کو وہیں لا کھڑاکرنا چاہتے ہیں مگر اس دوران میں بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے بہہ چکا۔ بھارت کی باگ اب واجپائی اور جسونت سنگھ کے ہاتھوں سے نکل کر مودی جیسوں کے ہاتھ میں جا چکی۔ کل ایک شے بلا مانگے مل رہی تھی، آج مانگے سے بھی نہیں مل رہی۔
واجپائی نے پاکستان آ کر کشمیر پر مذاکرات کی بات کی۔ جسونت سنگھ جو بھارت کے وزیر خارجہ رہ چکے، انہوںنے کتاب لکھی کہ قائد اعظم تقسیم کے ذمہ دار نہیں تھے۔ یہ کانگرنس کی قیادت تھی جس نے انہیں اس حل کی طرف دھکیلا۔ جس قیادت کے پاس تاریخ اور اپنے عہد کا یہ شعور موجود ہو، اس کے ساتھ مذاکرات کیے جا سکتے ہیں اور مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ مودی کے ساتھ کیا یہ ممکن ہوگا؟ بظاہر تو یہ آسان نہیں لگتا۔ امکانات بھارت کے دروازے پر دستک دے رہے ہیں اور ہمارے دروازے پر بھی۔ اگرجنگ ہوتی ہے تو وہ دونوں کے امکانات کو برباد کر دے گی۔ جنگ، اس لیے کسی حکیم آ دمی کا انتخاب نہیں ہو سکتی۔ سوال یہ ہے کہ پھر لائن آف کنٹرول پر بھارت کی مسلسل اشتعال انگیزی کیوں؟
آج عالمی سطح پر بھارت کو جو تائید حاصل ہے، وہ ہمیں میسر نہیں۔ بھارت کا یہ مقدمہ کہ پاکستان دہشت گردی کی حمایت کرتا ہے، تین سال میں اپنی عالمی تائید بڑی حد تک کھو چکا۔ ضربِ عضب نے اس مقدمے کو کمزور کیا۔ تاہم ہم ابھی تک دنیا کو یہ باور کرانے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہیں کہ بطور ریاست، دہشت گردی کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ بھارت اس صورتِ حال کا بھر پور فائدہ اٹھا رہا ہے۔ دوسرا سبب جو بھارت کو جارحیت پر آمادہ کر رہا ہے، وہ امریکی قیادت میں آنے والی تبدیلی ہے۔ ٹرمپ خیالات اور مزاج، دونوں میں مودی صاحب سے قریب تر ہیں۔ یقیناً بھارت اس سے بھی فائدہ اٹھانا چاہے گا۔ تیسرا یہ کہ افغانستان کی انٹیلی جنس سروس اور سیاسی حکومت کی تائید بھی اسے میسر ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ اس تائیدی فضا میں اسے کوئی ایسا جواز مل جائے جو پاکستان کے خلاف اسے کسی جارحیت کا موقع فراہم کردے۔ وہ اپنی عسکری اور سفارتی برتری کو کام میں لائے اور یوں پاکستان کو نقصان پہنچائے۔
پاکستانی قیادت کا امتحان یہ ہے کہ وہ بھارت کو یہ موقع نہ دے۔ پاکستان نے ابھی تک براہ راست تصادم سے بچنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان کمزور ہے۔ ایک ایٹمی قوت کو کوئی احمق ہی کمزور سمجھ سکتا ہے۔ طاقت عقل مند آدمی کومزید ذمہ دار بناتی ہے، اس لیے تصادم سے گریز کی اس حکمتِ عملی کا فائدہ انشااللہ پاکستان کو پہنچے گا۔
اس کے ساتھ ایک حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ سفارتی سطح پر ہمیں بعض کامیابیاں بھی ملی ہیں جو بھارت کی سفارتی برتری کا کسی حد تک توڑ ثابت ہو سکتی ہیں۔ ایک تو روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری ہے۔ چند ماہ پہلے جب اڑی کا واقعہ ہوا تو پاک روس مشترکہ فوجی مشقیں طے پا چکی تھیں۔ بھارت نے چاہا کہ روس انہیں منسوخ کردے۔ روس اس پر آمادہ نہیں ہوا۔ اس سے بھارت کو یہ پیغام ملا کہ روس، پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھارت کے ساتھ تعلقات کا یرغمال نہیں رکھنا چاہتا۔ اب وزیراعظم نے CPECجیسے منصوبے میں روس کی شرکت کا امکان قبول کیا ہے۔ دوسری اہم کامیابی ترکی کے صدر اردوان کی کشمیر پر پاکستان کے موقف کی تائید ہے۔گزشتہ تین سال میں پاکستان کا رخ بڑی حد تک وسطی ایشیا کی طر ف بھی رہا۔ روس اور ترکی کے بڑھتے ہوئے تعلقات، اب مستقبل میں نئی صف بندی کا اشارہ دے رہے ہیں۔ اس نے پاکستان کی تنہائی کے احساس کو کم کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان اس وقت، بھارت کے ساتھ کیسے توازن قائم رکھ سکتا اور اسے مذاکرات پر آمادہ کر سکتا ہے؟
چند باتیں، میرا احساس ہے کہ اس مرحلے پر ضروری ہیں۔
1۔ فوج کی نئی قیادت اور سیاسی قیادت کو مل کر ایک خارجہ پالیسی پر اتفاق پیداکرنا ہوگا۔ یہ کام کسی تاخیر کے بغیر ہو جانا چاہیے۔ اس ضمن میں تین نکات بنیادی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات کس نہج پرآگے بڑھانے ہیں۔ دوسرا یہ کہ حقانی گروپ جیسے معاملات پرامریکہ کو کیا پیغام دینا ہے۔ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد پاک امریکہ تعلقات کو معمول پر رکھنے کے لیے یہ ضروری ہوگا۔ تیسرا یہ کہ نئی عالمی صف بندی میں پاکستان نے کیا موقف اپنانا ہے۔ اگر ان معاملات میں عسکری اور سیاسی قیادت میں ہم آہنگی پیدا ہو جا تی ہے تو فوری طورپرایک باصلاحیت وزیرِ خارجہ کا تقررکر دینا چاہیے۔
2۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کو کس طرح عالمی مسئلہ بنانا ہے۔
3۔ مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو کیسے حقِ خود ارادیت کے اصول پر مقامی تحریک ثابت کرنا اور اسے غیر ملکی مداخلت سے محفوظ بنانا ہے۔
پاکستان کو اپنی منزل کھوٹی نہیں کرنی اور اسے بھارت کی اشتعال انگیزی کا جواب حکمت سے دینا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر جانوں کا زیاں بہت افسوس ناک ہے۔ اس کی روک تھام کے لیے اقوام ِمتحدہ کے فورم کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ پاکستان بھارت کو مذاکرات کی میز تک لانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا۔ یہ اشتعال نہیں، صبر سے ہوگا۔ سترہ سال پہلے ہم نے یہ موقع گنوادیا تھا۔ اب یہ دوبارہ کب آئے گا، ہم کچھ نہیں کہہ سکتے۔\’\’پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اس دن کو جانتے ہو نہ اس گھڑی کو‘‘۔
(گزشتہ کالم میں\’بخل‘ کسی تسامح سے \’بغض‘ بن گیا۔ اس سے جملے کا مفہوم وہ نہیں رہا جو لکھاری کے دل میں تھا۔)

(بشکریہ روزنامہ دنیا)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *